صا حبو، اس میں کو ئی شک کی کو ئی گنجائش نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ملک میں دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کے لیے ماضی قریب میں جو آپریشن کیے اور ٹھوس منصوبہ بندی کے تحت جو اقدامات اٹھائے ان کے نتیجے میں ملک میں بہت حد تک دہشت گردی کی کارروائیاں رک گئی تھیں، ملک میں امن و امان قائم ہوگیا تھا اور اہلِ پاکستان نے سکھ کا سانس لیا تھا، لیکن افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد اب پھر دہشت گردی نے پر پرزے نکالنا شروع کر دیئے ہیں۔ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میںاضافہ اس وقت ہونا شروع ہوا ہے جب افغانستان کی طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کو چھوٹ دینا شروع کی۔ حالانکہ طالبان حکومت کے کہنے پر پاکستان ٹی ٹی پی کے لوگوں کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہوا، لیکن ٹی ٹی پی کے لوگوں نے ایسی شرائط رکھیں جو پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں تھیں، چنانچہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے۔ اصل بات یہ ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے دہشت گردی کا منبع (source) ختم کیا جائے؟ یہ تبھی ممکن ہے جب شدت پسندی کے بیانیے کو شکست دی جائے گی کیونکہ یہ بیانیہ معاشرے میں دہشت گردوں کے ہمدرد پیدا کرتا ہے، ہمدرد سہولت کاروں کو جنم دیتے ہیں اور سہولت کار دہشت گردوں کی معاونت کرتے ہیں۔ یہ چین توڑنا بہت اہم ہے۔ ہم اس چین کے آخری سرے کو تو ہتھوڑے مار رہے ہیں جب کہ اس کا سر کچلنے پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ دہشت گردی کی جنگ میں شدت پسندوں کے بیانیے کو شکست دینا ضروری ہے تو آخر اس بات کا مطلب کیا ہے؟ دہشت گردوں کا بیانیہ کیا ہے؟ یہ معاشرے میں کیسے پھیلا؟ اس کا دہشت گردی سے براہ راست کیا تعلق ہے؟ اس کو رد کرنے کے لیے ریاست نے کیا اقدامات کیے؟کسی بھی بیانیے کے تین حصے ہوتے ہیں، پیغام، پیام بر اور پیغام رسانی کا ذریعہ۔ پیغام سیاسی بھی ہو سکتا ہے، سماجی بھی اور تاریخی اور مذہبی نوعیت کا بھی۔ پیغام پہنچانے والے کا معتبر ہونا لازم ہے، اس کا کہا ہوا سند ہو، لوگ اس پر یقین کریں، وہ بااثر ہو اور پیغام پہنچانے کا اختیار رکھتا ہو۔ پیغام رسانی کے تمام ممکنہ طریقوں کے ذریعے پیغام کی رسائی ہر خاص و عام تک ممکن ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لیے اخبارات، جرائد، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے علاوہ عوامی اجتماعات پر عام میل جول اور تقاریر کے ذریعے پیغام پھیلانے کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ انتہا پسند گروہ یہ تینوں کام کرتے ہیں۔ مثلاً انتہا پسندی کا پیغام یہ ہے کہ جمہوریت کفر یہ نظام ہے، آئین اور قانون وہ ہونا چاہیے جو وہ تیار کرکے دیں۔ اس پیغام کی سند کے طور پر بے شمار تاریخی اور مذہبی حوالے بھی ڈھونڈ نکالے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو یقین ہو کہ یہ بیانیہ مستند ہے، اور اس کے بعد ان لوگوں کا کام شروع ہوتا ہے جو اس کی ترویج کرتے ہیں جیسے کہ قلم کار، تجزیہ کار، شاعر، مصنّفین وغیرہ، پھر سوشل میڈیا ٹولز پر پراپیگنڈا گروپس بنانا، عوامی اجتماعات میں شعلہ بیان تقاریر کرنا، درسگاہوں میں اس نظریے سے ہم آہنگی پیدا کرنا وغیرہ وغیرہ۔ ریاست کے سسٹم میں داخل ہوکر حکومت کی پالیسوں پر اثر انداز ہونا، پارلیمنٹ میں اپنے نظریات کے فروغ کے لیے قانون سازی کرانا، مخالفین کو دبانے کے قوانین بنوانا شامل ہیں۔ اس بیانیے کو بڑی ذہانت کے ساتھ تیار کیا جاتا ہے تاکہ کسی کو احساس نہ ہو کہ وہ سیاسی اور مالی مقاصد رکھتے ہیں۔ لوگوں کو باور کرانا کہ وہ بے غرض لوگ ہیں۔ اگر وہ اقتدار میں آئے تو غربت، ناانصافی اور لاقانونیت کا خاتمہ ہوجائے گا اور یہی ہمارے اصل مسائل ہیں جب کہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں کیونکہ تصورات اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کے پاس ملک چلانے صلاحیت نہیں ہوتی۔
دوسری طرف ریاست کا سرے سے کوئی بیانیہ نظر ہی نہیں آتا اور نہ ہی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی قیادت کا کوئی بیانیہ نظر آتا ہے، اس کی وجوہات بالکل سامنے کی ہیں۔ ہم نے ریاست کے آئین کو بیانیے کے طور پرکافی سمجھ لیا ہے۔ اصولاً یہ بات درست ہے مگر جب ریاست کے وجود کے خلاف کچھ جنگجو ہتھیار اٹھا کر برسر پیکار ہوں تو پھر محض آئین کو ریاست کا بیانیہ کہہ دینے سے کام نہیں چلتا کیونکہ یہ جنگجو گروہ اور ان کے ہمدرد آئین کے خلاف تاویلیں گھڑ کے لاتے ہیں اور اس کی بنیاد کو ہی چیلنج کرتے ہیں، ایسی صورتحال میں ریاست کو اپنا پیغام واضح انداز میں پہنچانے کی ضرورت پیش آتی ہے مگر ہمارے لیڈران میں وہ جرأت ہے نہ وژن جو اس بیانیے کو بڑھاوا دے سکیں۔
( جاری ہے)