(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان کی سیاست پر دائیں بازو پر قبضہ ہے، روش خیال اور بائیں بازو کی سیاست کرنے والی جماعتوں کو ختم کردیا گیا، پاکستان میں نظام تعلیم بھی ایسا بنایا گیا ہے، جو روشن خیالی اور لبرل ازم کو بے راہ روی قرار دیتا ہے۔ ایسے میں ریاست اور حکومت کیا بیانیہ تشکیل دے گی، اس کا اندازہ کوئی بھی لگا سکتا ہے۔ ہمارے سیکیورٹی اداروں کے افسراور جوان دہشت گردوں کے خلاف دوبدو لڑ رہے ہیں، ان کے ذہنوں میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے، وہ اپنی جان پر کھیل کر ملک اورہماری حفاظت کر رہے ہیں،انھیں بخوبی اندازہ ہے کہ دہشت گرد کس طرح شدت پسندی کے بیانیے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوںکی قیادت خود کنفیوز ہے، کسی حکومت نے نصاب تعلیم کو درست کرنے کی کوشش نہیں کی،پارلیمنٹ میں ہونے والی تقاریر سن کر اور دیکھ کر پارلیمنٹیرنز کی ذہانت اور علم کا بخوبی پتہ چل جاتا ہے۔پارلیمنٹ میں سطحی اور عامیانہ گفتگو کرنا عام ہے۔ ہر رکن اسمبلی اپنے لیڈر کی تعریف کرے گا، اپنے استحقاق کے مجروح ہونے پر واویلا کرے گا، اپنے مخالفین کو کرپٹ قرار دے گا،مجال ہے کسی نے کبھی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تقریر کی ہو، کوئی تجویز دی ہویا انتہاپسند بیانئے کو رد کیا ہو، آئین کو درست کرنے کی بات کی ہو۔ کسی یونیورسٹی یا کالج کی انتظامیہ کو توفیق نہیں ہوئی کہ انتہاپسند بیانیے کو رد کرنے اور متبادل بیانئے پرکوئی مکالمہ ہی منعقد کرائے، ریاست نے اس ضمن میں کتنے مباحثے کروائے کچھ پتہ نہیں، البتہ چند غیر سرکاری تنظیمیں اپنے طور پر یہ کام کرتی رہتی ہیں اور سرکار اپنے آپ کو ان سے یوں دور رکھتی ہے جیسے ان کے قریب جانے سے چھوت کی بیماری لگ جائے گی۔
افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی نے ٹی ٹی پی کو ایک نئی زندگی دے دی۔ ٹی ٹی پی نے طالبان کی فتح کو اپنی فتح کے طور پر منایا۔ ہمارے اندر سے اس تنظیم کو پاکستان میں اپنے نیٹ ورک کو بحال کرنے اور پھیلانے کے لیے مدد ملی ہے، اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ماضی میں ٹی ٹی پی اور دیگر مقامی عسکریت پسند دھڑوں کے ساتھ کیے گئے تمام امن معاہدے ناکام رہے ہیں۔ پاکستان نے اپنے انسداد دہشت گردی کے فوائد ضایع ہو جانے کا احساس کیے بغیر تشدد کی عدم موجودگی کو امن کی بحالی کے ساتھ تعبیر کیا۔ اسی طرح افغانستان کے ساتھ پاکستان کی 2,640 کلو میٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کو امریکی انخلا اور طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد افغانستان سے عدم تحفظ اور تشدد کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھا گیا۔ تاہم جوں جوں وقت گزرتا گیا یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سرحد پر باڑ لگانے سے ٹی ٹی پی کے سرحد پار حملوں اور افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کو نہیں روکا جا سکا۔ شورش اور دہشت گردی کے تناظر میں، مختلف گروپوں کے مابین انضمام اور اتحاد دہشت گرد تنظیموں کی ہلاکت خیزی اور لمبی عمر کے کلیدی اجزا ہیں۔ ایک عسکریت پسند گروپ جتنا زیادہ متحد ہوتا ہے، اتنا ہی زیادہ مہلک ہوتا جاتا ہے۔ ہمارے اداروں کو سب سے پہلے تو ان درندوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا ہو گا، کیوں کہ سہولت کاری اور اندرونی مدد کے بغیر کسی ریاست کو ناکام نہیں کیا جاسکتا، انتہاپسندوں کے ہمدرد اور بینفشریز جب سسٹم میں داخل ہوجائیں تو دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے میں ٹیبلٹس اور سیرپ کام نہیں کرتے، سرجری ہی کرنی پڑتی ہے لیکن یہ بہت دل گردے کا کام ہے۔ مریض سرجری پر تیار نہ ہو تو کام انتہائی کٹھن ہوجاتا ہے۔ دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں روک کر ان کا قلع قمع کرنا ملکی سالمیت کے لیے بہت ضروری ہے۔