آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے جو عرب کوششیں موجود ہیں ان میں سرفہرست متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پیش پیش ہیں۔ چند دن پہلے متحدہ عرب امارات کی مسلسل کوششوں سے جنرل اسمبلی میں اقوام متحدہ کا فلسطین کو مکمل رکن بنانے کی قرارداد پیش ہوئی تھی جس کے حق میں 143ارکان نے ووٹ دیا تھا، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی سفیر جیلاد ایرڈن نے اس قرارداد کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے تھے۔ فلسطینیوں کے حقوق کے لئے آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے یقینا امارات کے صدر الشیخ محمد بن زاید النہیان کا کردار اسی طرح کا ’’اہم‘‘ ہے جس طرح سعودی ولی عہد وزیراعظم محمد بن سلمان کا کردار تاریخ میں ’’انمٹ‘‘ طور پر ’’کندہ‘‘ ہو رہا ہے۔ یہ بندوق اور اسلحہ سے فلسطین کے حصول کی دنیا سے الگ تھلگ ’’سفارت کاری‘‘ کی دنیا ہے اور ’’مذاکرات‘‘ کی دنیا ہے۔
قارئین میں سے کچھ مجھ پر اعتراض کر رہے ہیں کہ میں آزاد فلسطین ریاست کے حوالے سے اور مسلمان دنیا کے حوالے سے آج کل ایران کو نظرانداز کر رہا ہوں جبکہ سعودی عرب کو، خلیجی شیوخ کو عربوں کو زیادہ اہمیت دے رہا ہوں اور غلط کر رہا ہوں۔
ہاں ماضی میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ عرب شیعہ اور سعودی شیعہ کو مطلوب سیاسی حقوق نہ صرف دیئے جائیں بلکہ ان میں سے جو اعتدال پسند ہیں انہیں مشاورت اور حکومت میں شامل کرکے ’’سعودیت‘‘ کو استحکام دیا جائے۔ کیا میں نے الشیخ النمر معاملات کے حوالے سے اپنی ناپسندیدگی کا کئی بار اظہار نہیں کیا؟ مگر ان تمام باتوں کے ساتھ خاکسار ’’سعودیت‘‘ اور آل سعود کی قیادت و سیاست پر اصرار کرتا رہے گا۔ محمد بن سلمان سیاسی‘ سفارتی طور پر مسلمہ حقیقت ہیں جبکہ آل سعود کے وہابی عقائد بھی دوسری طرح بہت بڑی حقیقت ہیں۔
گزشتہ جمعرات کو منعقد ہونے والی منامہ (بحرین) عرب لیگ کی بہت بڑی کانفرنس کے اثرات واضح تر ہونے لگے ہیں۔ ایسا نظر اب اسرائیل کو بھی آرہا ہے کہ ابراہیمی معاہدہ اس وقت تک کالعدم رہے گا جب تک آزاد فلسطینی ریاست کاعرب لیگ کا مطالبہ قبول نہیں ہوتا جبکہ امارات ‘ البحرین وغیرہ نے جس طرح یکطرفہ طور پر معاہدہ ابراہیمی کرکے نیتن یاہو کے ہاتھوں کو‘ سیاست کو مضبوط کیا تھا‘ اسی طرح وہی امارات اور البحرین اور سعودیہ سخت گیر ہوکر آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے پر قائم و دائم ہوگئے ہیں۔ گویا معاہدہ ابراہیمی کرنے کے منفی اثرات کا ازالہ کررہے ہیں۔ اگر ازالہ ہو رہاہے تو ہمیں اسے خوش آمدید کہنا چاہیے۔
اسرائیل یا دوسرے لفظوں میں نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں منامہ عرب لیگ کانفرنس کے بعد اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔ یہ جنگی کابینہ البتہ یقین کیے بیٹھی تھی کہ غزہ سے حماس کا خاتمہ لازماً ہوگا۔ البتہ حماس کے خاتمہ کے بعد اسرائیل کو ٹیکنو کریٹ فلسطینی حکومت بنانا پڑے گی ‘ اقوام متحدہ کی افوا ج کو امن قائم کرنے کے لئے غزہ میں آنا پڑے گا یا پھر خود اسرائیل کو اپنی افوا ج کے ساتھ غزہ میں مارشل لاء لگانا پڑے گا ۔ حیرت و تعجب سے اسرائیلی جنگی کابینہ کے ایسے اعلانات‘ اقدامات پر مسکرا رہا ہوں۔ گویا وہ سعودی‘ اماراتی‘ خلیجی‘ عرب افریقی کانفرنس کے اثرات کو یا تو ہلکا لے رہے ہیں یا وقت کی آواز کو سن نہیں رہے۔ وہ شائد محمد بن سلمان کی قائدانہ سفارتی حیثیت‘ محمد بن زاید النہیان کی سرگرم سفارتی قیادت کو بھی غیر موثر کر دینے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ کیا حماس اور اہل غزہ فلسطینیوں کو نیست و نابود کر دیا جائے گا؟ اگر سوچ‘ منصوبہ یہی ہے تو محمد بن سلمان کو محمد بن زاید النہیان کو گویا اسرائیلی خود ناکام بنا رہے ہیں اور ایران کو حماس اور غزہ و فلسطینی ریاست کے حوالے یوم القدس کے حوالے سے ‘ دینی‘ مذہبی‘ جہادی جذبات نئے انداز میں پیدا کرنے کے مواقع دے رہے ہیں۔ کیا اسرائیل سعودیہ کی جگہ‘ امارات کی جگہ‘ ایران کو مسئلہ فلسطین‘ مسئلہ حماس کا نگران اعلیٰ نہیں بنا رہے؟ گویا ایران کو مضبوط تو جنگی اسرائیلی کابینہ خود بنارہی ہے؟
قائداعظمؒ‘ علامہ اقبالؒ آل انڈیا مسلم لیگ مسئلہ فلسطین کو‘ القدس معاملات کو کبھی بھی دینی‘ مذہبی مسئلہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس حوالے سے گاندھی جی بھی ان کے ہم فکر تھے‘ یہ سب مسلمان سیاستدان مسئلہ فلسطین کو انسانی عرب فلسطینی سیکولر مسئلہ سمجھتے تھے جن میں عرب مسلمان اور عرب عیسائی سب شامل ہیں۔ ان کا یہ موقف آج کل MBS اور MBZ ‘ خلیجی شیوخ ‘ افریقی عرب مالک‘ عرب لیگ سے زیادہ قریب ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودی سفیر نواف المالکی سے ملاقات کی ہے‘ بہت اچھا کیا ہے‘ پاکستانی پولیس کی سعودیہ کے تعاون و ذریعے سے بہتری‘ ارتقاء کا معاملہ سامنے آیا ‘ بہت افسوس ہوا کہ اب ہم اپنی پولیس کو بہتر بنانے میں بھی سعودی مدد لیں گے؟ سینیٹر محسن نقوی سینٹ میں سعودی عرب کو قابل اعتما د سیکورٹی‘ دفاعی ‘ عسکری ایٹمی تعاون پیش کرنے کی قرارداد پیش کریں اور سعودیہ سے نہ مالی مدد مانگیں نہ سرمایہ داری ۔ بس نیکی کرکے دریا میں ڈال دیں۔(واللہ اعلم بالصواب)