Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

بے لگام سوشل میڈیا

سوشل میڈیا میں فیس بک،واٹس ایپ،یو ٹیوب ، ایکس،انسٹاگرام وغیرہ وغیرہ شامل ہے،سوشل میڈیا کے یہ سارے ٹولز مذہب اسلام اور پاکستان کے نظریاتی تشخص پر حملہ آور ہیں، حضرت اقدس پیرومرشدحفظہ اللہ نے بالکل درست فرمایا تھا، کہ ’’اللہ تعالیٰ سوشل میڈیا کے شر سے میری اور تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے ہیں حیران نہ ہوںبہت سے مسلمان سوشل میڈیا پر اپنے گمان میں صرف خیر کے لئے جاتے ہیں خیر پڑھتے ہیں، خیر پھیلاتے ہیں وہ حیران ہوں گے کہ سوشل میڈیا کے شر سے پناہ کی دعا ہی آج کی تحریر کا نکتہ آغاز کیسے بنی؟جواب یہ ہے کہ ہم روزانہ دن اور رات کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں،چاند پر نظر پڑے تو اس کے شر سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں بلکہ مسنون دعائوں کی برکت سے ہم ساری مخلوق کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں معلوم ہوا کہ قانون الٰہی کے مطابق ہر مخلوق میں ہمارے لئے شر ہو سکتا ہے اور ہمیں اس شر سے صرف اللہ تعالیٰ ہی بچا سکتے ہیں،گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لئے خیر رکھ دی گئی ہے،یہ بات احادیث صحیحہ سے ثابت ہے مگر ہمارے دل میں موجود شر کی وجہ سے گھوڑا بھی ہمارے لئے شر کا باعث بن جاتا ہے، جب ہم اسے فخر،ریاکاری اور حرام شرطوں کے لئے پالیں ایک مقبول مجاہد میں خیر ہی خیر ہوتی ہے لیکن ہمارے نفس کے شر سے مجاہد بھی ہمارے لئے شر کا ذریعہ بن سکتا ہے مثلاً اس طرح کہ ہمارے سامنے اس کے برے عیب کھل کر ایسے سامنے آجائیں کہ ہم نعوذ باللہ جہاد سے ہی دور ہو جائیں عیب اور کمزوریاں حضرات انبیا علیہم السلام کے علاوہ ہر انسان میں ہوتی ہیں اگر وہ ہم سے پوشیدہ رہیں تو ہم کتنا فیض پا لیتے ہیں لیکن اگر وہ کھل جائیں تو ہم اس شخصیت سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے اس لئے اللہ والوں کی خوبیوں پر نظر رکھنی چاہیے ان کے عیب نہیں ڈھونڈنے چاہئیںاگر عیب نظر بھی آ جائیں تو ہم سچے دل سے استغفار کریں،اپنا دل پاک ہو گا تو اللہ والوں کے عیب بھی اس سے مٹ جائیں گے ۔
بہرحال خیر اور شر کا سلسلہ جاری ہے اور سوشل میڈیا تو آیا ہی اہل شر کی طرف سے ہے اور اس میں شر بہت غالب ہے ،اچھا تو یہ ہے کہ اہل ایمان اس بیت الخلا کی سیر سے خود کو بچائیں لیکن اگر نہیں بچ پا رہے تو کم از کم یہ دعا تو دل کی توجہ سے مانگا کریں کہ یا اللہ اس کے شر سے ہماری حفاظت فرما’سوشل میڈیا پر سرگرم ہونے کے بعد آپ کے دل میں سکون آتا ہے یا بے چینی بڑھتی ہے؟ دل میں نور محسوس ہوتا ہے یا میل کچیل کا احساس ہوتا ہے؟ دل میں خشوع ، خوف الٰہی اور گداز پیدا ہوتاہے یا تکبر، کج بحثی ، فخر اور پریشانی کے جذبات ابھرتے ہیں، دل کا میٹر ہر شخص کے سینے میں لگا ہوا ہے اسی پر دیکھ لیں کہ کیا نتیجہ نکل رہا ہے ایک صاحب رو رہے تھے کہ میرے فلاں بیان پر مجھے سوشل میڈیا پر ایسی گالیاں پڑی ہیں جو میں نے پوری زندگی میں نہیں سنی تھیں اور جو میرے فین تھے وہ بھی مجھے گالیاں دے رہے ہیں ان سے کوئی پوچھے کہ جناب آپ وہاں جاتے ہی کیوں ہیں؟ آخر کیا مجبوری ہے؟ اور اگر جاتے ہیں تو پھر یہ بات یاد رکھیں کہ وہاں جو عزت دی جاتی ہے اس کی بہت خوفناک قیمت وصول کی جاتی ہے بہرحال آج صرف یہ گزارش ہے کہ دین دار مسلمان سوشل میڈیا سے باز تو نہیں آ رہے کم از کم اس دعا کو تو اپنا معمول بنا لیں کہ یا اللہ سوشل میڈیا کے شر سے ہماری حفاظت فرما اگر یہ دعا اخلاص کے ساتھ اور مسلسل مانگی گئی تو بہت امید ہے کہ کسی نہ کسی دن زمانے کے اس دجالی فتنے سے ہمیں آزادی مل جائے گی اور جب ہم اپنے سارے اکائونٹ ختم کر کے کسی مسجد کے کونے میں بیٹھے ہوں گے تو شکر ادا کرتے ہوئے آنسوئوں کی جھڑی لگ جائے گی کہ یا اللہ کیسی غلاظت سے نجات عطا فرمائی کیسی غلامی سے آزاد فرمایا اب گویا کہ وہ ناپاک دنیا ہے ہی نہیں جہاں ہمارا وقت، ہمارا دین اور ہماری عزت ذبح ہوتی تھی اور ہر فضول شخص کی ہر بات پڑھنا اور اس کا جواب دینا ہم پر لازم تھا ۔ کئی افراد سے عرض کیا کہ غفلت کے خاتمے کے لئے چالیس دن تک روز چار ہزار بار استغفار کریں انہوں نے شروع کیا اور پھر جو حالات لکھے وہ قابل رشک ہیں کاش انتظام ہوتا تو ان تاثرات کو شائع کرتے بتایا کہ زندگی ہی بدل گئی عجیب نور، عجیب سرور، عجیب گداز اور عجیب لذتیں ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو سوشل میڈیا کے شر سے بچائے اور اپنے ذکر کی حلاوت نصیب فرمائے ا وپر عرض کیا کہ ہر سینے میں دل کا میٹر لگا ہوا ہے۔ یہ واقعی سچ ہے کہ دل جب تک زنگ اور میل سے سیاہ مردہ نہ ہو جائے وہ ہمیں ہر بات کی خیر اور شر سمجھا دیتا ہے آپ کسی کی صحبت میں بیٹھیں اور آپ کے اس دن کے معمولات میں برکت ہو جائے اور کسی اور کی صحبت میں بیٹھیں تو سارے معمولات درہم برہم ہو جائیں یہ سب دل کے فیصلے ہیں ،دل روشنی والوں سے روشنی اور تاریکی والوں سے تاریکی پکڑتا ہے دل کے خفیہ تار کسی سے جڑ جائیں تو بہت دور سے بھی اس کا فیض حاصل کر لیتا ہے دل کی دنیا بہت عجیب، طاقتور اور وسیع ہے ۔
نیوروسرجن اور ڈاکٹر کہتے ہیں کہ دماغ اصل ہے اور دل اس کا تابع وہ درست نہیں کہتے دماغ تو دل کا چھوٹا سا خادم اور مرید ہے دل کی سلطنت بہت وسیع ہے مراقبے میں جو لوگ دماغ پر محنت کرتے ہیں ان کا کام نہیں بنتا مگر جو دل پر محنت کرتے ہیں وہ صدیاں کما لیتے ہیں یوگا، آسن اور بدھ مت کے سارے مجاہدے دماغ تک محدود ہیں جبکہ مسلمان کا مراقبہ دل کی طاقت اور یکسوئی کے لئے ہوتا ہے دل بن گیا تو سب کچھ بن گیا اگر یہ بات آپ کو سمجھ آ گئی ہے تو بہت اچھا، نہیں سمجھ آئی تو دعا کردیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو زندگی عطا فرمائے اور ہمیں اور ہماری اولاد کو سوشل میڈیا کے شر سے بچائے۔ حضرت بابا فریدؒ کی خدمت میںدل کے ذریعہ ہی اللہ والوں کا فیض حاصل کیا جا سکتا ہے عقل کے ذریعہ بالکل نہیں ابھی آپ راحت القلوب پڑھ کر دیکھ لیں بہت سی باتیں مروجہ علمی معیار پر پوری نہیں اترتیں لیکن اگردل ان باتوں کی تہہ تک پہنچ جائے تو بڑا فائدہ پا لیتا ہے ویسے مسائل اور روایات میں بزرگوں کی باتوں سے علمی اختلاف کی کھلی اجازت ہے مگر دو شرطوں کے ساتھ پہلی یہ کہ اختلاف کرنے والے اہل علم ہوں اور دوسری یہ کہ اس اختلاف سے ادب میں کوئی فرق نہ آئے ۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں