Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

اگلی سپرپاورکون؟

چین کی تیزرفتارترقی نے دنیابھرمیں کھلبلی مچادی ہے۔امریکہ اوریورپ کے ساتھ ساتھ روس اوردیگرعلاقائی ممالک کوبھی تشویش لاحق ہوگئی ہے۔چین کی ترقی کاگراف بلندہوتاہو ا دیکھ کرروس کوبھی کچھ کرنے کاخیال آیاہے اوراس نے اس حوالے سے بہت کچھ کرنے کی ٹھانی ہے۔روس سپرپاوربھی رہاہے اورایک بارپھراِس حیثیت کا حامل ہونے کاخواہش مندبھی ہے۔سردجنگ کے خاتمے کے بعدسے روس کوابھرنے کاکوئی ایسا موقع نہیں ملاجس سے غیرمعمولی حدتک مستفید ہوا جاسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ روسی قیادت علاقائی اورعالمی سطح پراپنے لیے بلندترکردارکی تلاش میں ہے اوراب ایسالگتاتھاکہ وہ اِس حوالے سے کسی حدتک مطمئن ہے لیکن امریکااوراس کے اتحادیوں کی جانب سے یوکرین جنگ میں اس کے وسائل تقسیم ہوکررہ گئے ہیں اوردوسری طرف چین نے ون بیلٹ،روڈ انیشئیٹیو (بی آر آئی)کے حوالے سے جو کچھ کیاہے وہ امریکا اوریورپ کے لئے توپریشانی کاباعث ثابت ہوا ہے مگرروس نے اپنے آپ کوبہتر پوزیشن میں محسوس کررہا ہے۔ جس کے بعدپیوٹن نے یہ فیصلہ کرلیاہے کہ اب چین کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے کچھ کردکھانالازم ہوگیاہے۔
ادھرچین نے نئی اقتصادی شاہراہِ ریشم کے خواب کو’’بی آرآئی‘‘ کے روپ میں شرمندہ تعبیر کرنے کی ٹھانی ہے۔ایسے میں روس بھلا کیوں کچھ نہ سوچے؟وہ بھی اپنے لیے کوئی نیا علاقائی اورعالمی کردارچاہتا ہے۔یہی سبب ہے کہ وہ چین کے ساتھ قدم ملاکربڑھ رہاہے۔مشرقی ایشیااور یوریشیا کی ترقی اورسلامتی کے حوالے سے کوئی نیا اور بامعنی کردارادا کرنا روس کے لئے ناگزیرساہوگیا ہے۔ روسی قیادت نے چینی قیادت کو متعددمواقع پریہ اعلانیہ پیغام دیاہے کہ پورے خطے کو ایک لڑی میں پرونے کے پروگرام کے حوالے سے اسے تھوڑی بہت اصلاحات کرناپڑیں گی تاکہ روس جیسے بڑے ملک کوبھی اچھی طرح کھپایاجاسکے۔ چین کے لئے بھی لازم ساہوگیاہے کہ منصوبے ہراعتبارسے جامع ہوں یعنی ان میں کوئی ایساسقم نہ ہوکہ خطے کی کسی طاقت کو زیادہ برالگے یامحسوس ہوکہ اس کے لئے آگے بڑھنے کے مواقع پیدانہیں ہوپارہے۔چین نے امریکی ترقی سے بھی خاموشی کے ساتھ مستفید ہونے کافیصلہ کیاہے۔
چین کے صدرشی جن پنگ نے2013ء میں قازقستان میں چین کے عظیم الشان منصوبے بی آرآئی کااعلان کیاتھا،جس کے بعدسے اب تک بہت کچھ تبدیل ہوچکاہے۔ ملائیشیااور پاکستان اور اس سے آگے افریقاتک چین کے متعددمنصوبے زیرتکمیل ہیں۔ بہت سے منصوبے مکمل بھی ہوچکے ہیں۔اس حوالے سے شکایات کابازاربھی گرم ہے۔چین کے حوالے سے ایک بڑی شکایت یہ ہے کہ یہ کسی بھی منصوبے میں شراکت دارملک کے مفادات کازیادہ خیال نہیں رکھتا،جس کے نتیجے میں شِکوے بڑھتے جارہے ہیں، تحفظات کا گراف بلندہورہاہے۔چین نے پورے خطے کواقتصادی طورپر ایک لڑی میں پرونے کاجوپروگرام شروع کیاہے وہ ابتدا میں غیرمعمولی حدتک مبہم تھا،اب چین میں متعدد تھنک ٹینک ابھرکرسامنے آئے ہیں،جوحکومت کومختلف حوالوں سے مشورے دے رہے ہیں۔یہ تھنک ٹینک ایک ایسے ماحول کویقینی بنانے کے لئے کام کررہے ہیں جس میں چین کے لئے مشکلات کم سے کم ہوں اور شرکت دارکو زیادہ سے زیادہ خوش رکھنے کی راہ نکالی جاسکے۔
دنیابھرمیں اِس حقیقت کوتسلیم کرنے میں عارمحسوس نہیں کی جارہی کہ چین نے جومنصوبہ شروع کیاہے،وہ دنیاکوقرضوں میں لپٹے رہنے کے ماڈل سے دورکرنے کی چندبڑی اور مثبت کوششوں میں سے ایک ہے۔امریکااوریورپ نے مل کربین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کوفروغ دیا۔امیدکی جانی چاہیے کہ چین اگرکوئی عالمی مالیاتی ادارہ قائم کرنے کی تحریک چلاتاہے تووہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گاجوآئی ایم ایف کرتارہاہے۔ آئی ایم ایف نے پسماندہ ممالک کوقرضوں کے جال میں پھنسارکھاہے۔ روس نے حال ہی میں شمال مشرقی ایشیاکی ریاستوں کوتنظیم کے پلیٹ فارم سے کچھ کرنے کی تحریک دی ہے۔
جوبائیڈن کی ایماپرامریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے نے یوکرین کے حوالے سے جوکچھ کیا،وہ امریکااوریورپ کے حوالے سے روس کی سوچ میں تبدیلی کاباعث بنا۔سابق صدر باراک اوبامانے یوکرین کے ایشوپریورپی یونین کوروس پرپابندیاں عائد کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ عمل روس کومختلف حوالوں سے تحفظات کاشکارکرنے کاباعث بنا۔ایسے میں لازم تھا کہ روس اپنے آپشنزکے لئے کسی اورطرف دیکھناشروع کرتا۔ روس نے بہت سے معاملات میں مغرب کی طرف دیکھتے رہنے کی پالیسی اپنائی تھی۔اب ان پالیسیوں پرنظرثانی کرتے ہوئے خودمختاری کی کامیاب پالیسی پرعملدرآمدشروع کر دیا ہے۔ ایسے میں روس کے لئے بالکل فطری تھا کہ سیاسی،معاشی اورعسکری معاملات میں خطے (یوریشیا) کی سب سے بڑی قوت یعنی چین کی طرف دیکھتااور اس نے ایساہی کیا اوراب خودآئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ کے مطابق یوکرین جنگ کے باوجودروس کی معیشت میں مزیدبہتری ہورہی ہے۔
یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ روسی قیادت بیشتر معاملات میں چین پربہت زیادہ انحصارکررہی ہے،جس کے نتیجے میں ایساوقت بھی آسکتا ہے کہ چین کے بغیرڈھنگ سے جینااس کے لئے ممکن نہ رہے۔چندایک شعبوں میں دونوں ممالک نے ساتھ چلنے کی اچھی خاصی گنجائش پیداکی ہے۔یہ بات محسوس کی جاسکتی ہے کہ روس اپنے لیے جگہ بناناچاہتاہے مگرساتھ ہی ساتھ وہ اس بات کا خیال بھی رکھ رہاہے کہ چین کے مقابلے میں اس کی وہی حیثیت نہ رہ جائے،جودوڈھائی عشروں کے دوران امریکا کے مقابلے میں برطانیہ کی رہی ہے!
نومبر2018ء میں پاپوانیو گنی میں(اے پی ای سی) کے رکن ممالک کااجلاس ہوا،جس میں شرکت کے لئے پیوٹن نے اپنے وزیراعظم میدو یدوف کوبھیجا۔اس اجلاس میں چین کے صدرشی جن پنگ نے امریکاکے نائب صدرسے ملاقات کی۔ خودپیوٹن نے سنگاپورمیں آسیان کے سربراہ اجلاس میں شرکت کرنا ضروری سمجھا۔ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ارکان میں ویتنام،ملائیشیا، برونائی،لاوس، فلپائن،کمبوڈیا، انڈونیشیا، سنگاپور،تھائی لینڈاور میانمار (برما) شامل تھے۔اس اجلاس میں اس نکتے پربحث ہوئی کہ روس کی سرپرستی میں قائم یوریشین اکنامک یونین)ای اے ای یو(اور آسیان کے درمیان تجارت اورسرمایہ کاری کوزیادہ سے زیادہ کس طورفروغ دیاجائے۔شنگھائی تعاون تنظیم کی طرزپر یوریشیائی ممالک کی عظیم ترشراکت داری قائم کرنے اور خطے میں ترقی کاعمل تیزکرنے کاجوعزم کیاگیاتھا،اب اس پرخاطرخواہ پیش رفت دکھائی دے رہی ہے۔
روس کسی بھی اعتبارسے اتنامضبوط تونہیں جتناچین ہے،مگرپھربھی جغرافیائی مواقعوں کی بنیادپروہ ایشیااوریورپ کے درمیان وسیع تررابطے کاکردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک کوعظیم تراقتصادی لڑی میں پرونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔جن علاقوں میں چین کے حوالے سے تاریخی اعتبارسے تحفظات پائے جاتے ہیں،ان میں روس کاکردار اہم ثابت ہوسکتاہے۔ نقشے میں دیکھنے سے اندازہ ہوتاہے کہ روس وسیع ترجغرافیائی حقیقت ہونے کی بنیادپرکتنے ممالک سے جڑاہواہے۔غیرمعمولی تزویراتی اہمیت کی بنیاد پر روس کئی ممالک سے وسیع البنیادشراکت قائم کرکے سیاسی اورمعاشی ہی نہیں،عسکری اعتبار سے بھی اپنی بات منوانے کے ساتھ ساتھ کئی ممالک کی وقعت میں اضافہ کرسکتاہے ۔
سنگاپور سربراہ اجلاس میں مفاہمت کی ایک یادداشت پربھی دستخط کیے گئے تھے،جس کی روسے تجارت اورسرمایہ کاری کو تیزی سے فروغ دیاجائے گا۔ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی قابل غورہے کہ آسیان نے پہلی بارروس سے اپنے تعلق کواسٹریٹجک پارٹنرشپ قراردیا۔مفاہمت کی جس یادداشت پردستخط کیے گئے،اس کے تحت روس اس خطے میں تجارت اور سرمایہ کاری کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے لئے مختلف شعبوں پر خاص توجہ دے رہاہے،کسٹم ڈیوٹی کے معاملات کونئی شکل دی گئی ہے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں