چند برسوں سے ’’میڈیا کورس‘‘ کے عنوان سے ذرائع ابلاغ کے استعمال کی ضرورت کا احساس دلانے کے علاوہ ان کی تربیت دینے کے حوالے سے بعض مقامات پر پروگرام شروع ہوگئے ہیں جو بہت خوش آئند ہیں اور ان سے دینی مدارس کے طلبہ اور اساتذہ میں اس کا احساس اور شعور بیدار ہو رہا ہے کہ آج کے دور میں میڈیا کی اہمیت کیا ہے، اس کا دائرہ کار اور طریق کار کیا ہے اور دینی مقاصد کے لیے اس کی ضرورت کیا ہے؟
وقت گزرنے اور ماحول بدلنے کے ساتھ ساتھ خطابت کا معیار اور اسلوب بھی بدلتا جا رہا ہے جس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ مثلاً ہمارے ہاں پون صدی قبل کی خطابت کا اسلوب مختلف تھا جو آج کسی طور پر بھی کارآمد نہیں ہے۔ وہ دور مولانا ابوالکلام آزادؒ کی خطابت کا دور تھا، پرشکوہ الفاظ، مشکل تراکیب اور نادر محاوروں کی حکمرانی تھی۔ لیکن آج کا اسلوب یہ نہیں ہے بلکہ اس کی بجائے آپ کو آسان الفاظ، سہل تراکیب اور عام فہم محاوروں میں بات کرنا ہوگی۔ آج آپ جتنے سادہ اور عام فہم انداز میں بات کر سکیں گے اتنے ہی اچھے خطیب شمار ہوں گے۔
پون صدی قبل کی خطابت کا یہ بھی کمال سمجھا جاتا تھا کہ آپ ایک موضوع پر کتنی لمبی گفتگو کر سکتے ہیں اور اپنے سامعین کو کتنے زیادہ عرصے تک قابو میں رکھ سکتے ہیں۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی خطابت کا ایک کمال یہ بیان کیا جاتا ہے جو فی الواقع اس دور کے لحاظ سے بڑا کمال تھا کہ وہ عشاء کے بعد بیان شروع کرتے اور فجر کی اذانیں سن کر لوگوں کو احساس ہوتا کہ شاہ جیؒ کی خطابت کے سحر میں پوری رات بیت چکی ہے۔ مگر آج لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہے اور نہ ہی وہ ذوق باقی رہا ہے، اس لیے آج کی خطابت کا کمال یہ ہے کہ آپ کتنے مختصر وقت میں کتنی جامع اور مکمل بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر آپ تھوڑے وقت میں اپنی گفتگو مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو اچھے خطیب کے طور پر آپ کا شمار ہوگا۔
اب سے پون صدی قبل کی خطابت میں الفاظ کا جادو سر چڑھ کر بولا کرتا تھا، مگر آج کی خطابت مواد کی فراوانی اور ثقاہت کا تقاضا کرتی ہے۔ آپ اگر اپنے سامعین کو اپنے موضوع کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ مستند مواد فراہم کر سکتے ہیں اور ان کی معلومات میں اضافہ کر سکتے ہیں تو ایک اچھے خطیب کا تعارف آپ کو حاصل ہو سکتا ہے۔
علمائے کرام، خطباء اور واعظین کو ایک اور تبدیلی پر بھی نظر رکھنا ہوگی کہ اب سے نصف صدی قبل تک عام لوگوں بلکہ جدید پڑھے لکھے لوگوں کے لیے بھی دینی معلومات کا واحد ذریعہ ہم ہوتے تھے۔ کسی دینی مسئلہ پر جو معلومات ہم انہیں فراہم کر دیتے تھے وہی زیادہ تر ان کا مبلغ علم ہوتا تھا، اس لیے وہ ہماری فراہم کردہ معلومات اور ان کے نتائج پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے تھے۔ لیکن آج یہ صورتحال نہیں ہے۔ انٹرنیٹ، ٹی وی، جرائد و اخبارات اور تیزی سے پھیلتے ہوئے لٹریچر کی صورت میں ان کے پاس دینی معلومات حاصل کرنے کے بہت سے متبادل ذرائع موجود ہیں اور وہ خطبہ و درس میں ہماری باتیں سن کر اپنی معلومات کے ساتھ ان کا تقابل کرتے ہیں۔ چنانچہ ہماری ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ ہم اپنی معلومات کو چیک کریں اور پورے اعتماد کے ساتھ انہیں پیش کریں، اس لیے کہ اگر ہماری فراہم کردہ معلومات دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مقابلے میں کمزور ہوں گی تو اس سے خطیب کی ثقاہت مجروح ہوگی اور اس کا اعتماد کمزور ہوگا، جو صرف خطیب کا نقصان نہیں بلکہ دینی نقصان بھی ہے۔
ہمارے ہاں ابھی تک دینی گفتگو میں مناظرے کے اسلوب کی حکمرانی ہے اور ہم عام طور پر کوئی بھی دینی بات فتوے کی زبان میں کہنے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ مناظرے اور فتوے کی اہمیت اپنے دائرے میں مسلم ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر عام پبلک کے سامنے درس اور خطبے کے طرز کی گفتگو میں ہمیں آج یہ اسلوب کام نہیں دیتا بلکہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ آج مناظرے کے اسلوب میں نہیں بلکہ بریفنگ کے انداز میں بات کرنے کی ضرورت ہے اور وہی زیادہ مؤثر بھی ہے۔ آپ اپنے سامعین پر کوئی فیصلہ اپنی طرف سے مسلط کرنے کی بجائے ان کے سامنے متعلقہ مسائل میں معلومات اس ترتیب اور مہارت کے ساتھ پیش کریں کہ وہ اسی نتیجے تک پہنچیں جو آپ ان کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ علمائے کرام اور خطباء کو اپنے دور کے حالات اور ضروریات سے باخبر رہنا چاہیے اور مختلف النوع مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے تاکہ وہ اپنے سامعین کو قائل کر سکیں۔