Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

ایک سکے کے دورخ

تقریباً دوصدیاں پہلے کشمیر کی خوبصورتی سے متاثرہوکرکچھ ہندو پنڈتوں نے مستقل رہنے کی درخواست کی تواس وقت کشمیری مسلمانوں نے اپنے حسن سلوک سے ان کو صدقِ دل سے خوش آمدیدکہااوراس طرح آہستہ آہستہ مزید ہندو پنڈت بھارت سے کشمیر میں پہنچناشروع ہوگئے۔ بدھ سنگھ جوایک لٹاپٹاجاگیر دار تھااس نے بھی اپنے کنبے کے کچھ افرادکے ساتھ کشمیر میں پناہ لی۔ ابھی وہ جوان ہی تھاکہ اس نے ایک انگریز افسر مانسٹوٹ کے پاس ملازمت حاصل کرلی۔دورانِ ملازمت دلی قیام کے دوران1812ء میں اس کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی جس کانام اس نے موہن لال رکھا۔ بدھ سنگھ ایک جہاں دیدہ شخص تھا لہٰذا جب1828ء میں انگریزنے فارسی کالج دلی میں انگلش کی کلاسیں شروع کیں توبدھ سنگھ نے اپنے بیٹے موہن لال کو وہاں داخلہ دلادیاجہاں موہن لال کے نام کے ساتھ کاشمیری کا اضافہ کر دیا گیا۔
یوں موہن لال کاشمیری ہندوستان کے ان6نوجوانوں میں شامل ہوگیاجنہوں نے انگریز راج کے شروع میں انگریزی سیکھ لی۔1831 ء کو وہ فاتح افغانستان سرالیگزانڈربرنس کے پاس ملازم ہوگیا۔موہن لال فارسی اورانگریزی زبان بولنے اورلکھنے میں کافی ماہرہوگیا تھالہٰذا اسے شروع میں بخاراکی مہم سونپی گئی۔وہ برنس کے ساتھ دہلی سے نکلا اور لدھیانہ ،پانی پت، کرنال، لاہور،پنڈدادن خان، جلالپور،راولپنڈی،پشاور،کابل اوربامیان سے ہوتاہوابخاراپہنچا۔برنس اوراس کے انگریز ساتھی جیرارڈ مقامی لوگوں کی بھیس میں اس کے ساتھ تھے۔اس مہم کا مقصد افغانستان کی دفاعی پوزیشن کاجائزہ لیناتھا۔موہن لال سفر کے دوران ڈائری لکھتارہا جومختلف ذریعوں سے انگریزسرکار تک پہنچتی رہی۔ موہن لال 1834ء کوواپس پہنچا، انگریز سرکارنے اس کی خدمات کے عوض اسے قندھارمیں اپناپولیٹیکل ایجنٹ لگادیا۔
1838ء کوانگریزنے افغانستان پرقبضے کا فیصلہ کیا،موہن لال کواس مہم کا گائیڈ مقرر کر دیا گیا۔موہن لا ل برنس کے ساتھ نکلا اور انگریزفوج کو سیدھا کابل لے گیا۔افغانوں سے جنگ ہوئی ، افغان ہارگئے کیونکہ موہن لال اس سے پہلے بہت سے غیرمسلم افغانیوں کومال ودولت سے انگریز سرکار کی حمائت کیلئے خریدچکا تھا۔انگریزوں نے شاہ شجاع کوتخت پر بٹھادیااوراس کی آڑمیں افغانستان پرحکومت کرنے لگے۔موہن لال اس سارے دور میں انگریزوں کے مفادات کیلئے کام کرتا رہا۔ موہن لال کوسازش،مکرو فریب اورجوڑتوڑکا ماہر تھا۔وہ آسانی سے مقامی لوگوں میں رچ بس جاتا اورپھران کی جڑیں کاٹ کر اپنے آقاانگریزوں کے ہاتھ میں دے دیتاتھا۔موہن لال1877ء تک زندہ رہا،اپنی باسٹھ سالہ زندگی میں اس نے برطانیہ کا سفربھی کیا، آخری عمرمیں اس نے دوسفرنامے بھی لکھے جوکسی ہندوستانی باشندے کی انگریزی زبان میں پہلی کتابیں تھیں۔
یہ کتابیں بدقسمتی سے شہرت نہ پاسکیں۔ 1930ء کے آخرمیں نہرو لندن کے ایک کباڑیئے کی دوکان پرکسی کام سے گئے تو وہاں انہوں نے ان کتابوں کوخریدلیا۔ان کتابوں کاجب مطالعہ کیا توموہن لال کے مشاہدات اورزبان دانی پر حیران ہوگئے۔نہرو کی تحریک پربعدازاں ہری رام گپتانے موہن لال پرپی ایچ ڈی کی۔ گپتا کا مقالہ 1943ء میں شائع ہوا، اس کادیباچہ خود نہرو نے لکھالیکن بدقسمتی سے یہ مقالہ بھی کوئی شہرت نہ حاصل کرسکا۔ساٹھ برس بعدیعنی2003ء میں یہ ایک بارپھرشائع ہوا،اس مرتبہ اس نے تہلکہ مچا دیا،دنیا موہن لال کے مشاہدات پرحیران رہ گئی۔
موہن لال1838ء سے1841ء تک کابل میں رہا تھا، اس نے انگریزوں کی حکومت بنتے اورپھربگڑتے دیکھی تھی،وہ افغانوں کامزاج شناس بھی تھالہٰذا جب اس نے کابل میں انگریزوں کے زوال کی داستان لکھی توکمال کردیا۔اس نے لکھا: افغان سب کچھ سہہ جاتے ہیں لیکن وہ بیرونی طاقتوں کوبرداشت نہیں کرتے۔افغان شراب اور جنسی بے راہروی کے ساتھ بھی سمجھوتانہیں کرتے۔انگریزاقتدار پرقابض ہوئے توانہوں نے افغانوں کے مزاج کوفراموش کردیا،انہوں نے سارے اختیاراپنے ہاتھ میں لے لئے،بادشاہ محض کٹھ پتلی بن کررہ گیا۔کابل میں شراب خانے کھولے گئے اورانگریزفوج نے سرِعام شراب نوشی شروع کردی۔انگریزوں نے بڑے بڑے مکانات اور باغات پرقبضہ کرلیا،وہ وہاں گھڑ دوڑ،کرکٹ اورڈراموں سے لطف اندوزہو نے لگے۔
وہ سردیوں میں کابل میں اسکینگ بھی کرتے تھے،شہربھرمیں قحبہ خانے کھل گئے، انگریز فوجیوں کی دست درازیاں شرفاکے گھروں تک پہنچ گئیں۔انگریز افسراوراہلکارسرداروں کی بہو بیٹیاں اٹھالاتے اوراس زیادتی پرحکومت خاموش رہتی۔انگریزوں نے شہرکے تمام اچھے مکانات ہتھیالئے یاپھرکرائے پرحاصل کرلئے۔ اناج، گھاس، گوشت اورسبزیاں بھی انگریزخریدلیتے تھے جس کے نتیجے میں افغانستان قلت اورمہنگائی کا شکارہوگیا۔افغان تین برس تک یہ ظلم سہتے رہے یہاں تک کہ 1841ء ستمبرآن پہنچا۔ تمام افغان سرداروں نے قرآن پرحلف لیتے ہوئے ایک معاہدے پردستخط کئے اوراس کے بعدانگریزوں کو چن چن کرقتل کرنا شروع کردیا۔برنس کواس کے گھرکے سب سے بڑے دروازے پرپھانسی پر لٹکا دیا گیا۔یہ بغاوت7جنوری1842ء تک جاری رہی۔تنگ آکر میجرپاٹنجرنے افغانستان چھوڑنے کا اعلان کردیا۔انگریزفوج کابل سے نکلی لیکن افغانوں نے اسے راستے میں گھیرکرقتل کر دیا۔ اس جنگ میں20ہزارانگریزمارے گئے،صرف ڈاکٹربرائیڈن بچاجوزندگی بھرافغانوں کی بربریت کی داستانیں سناتارہا۔موہن لال بھی اس جنگ میں گرفتار ہوالیکن اس نے انگریزوں کے تمام خفیہ رازاگل دیئے اوربڑی مشکل سے رہائی پائی۔
گزشتہ دنوں کشمیری پنڈتوں کی تاریخ ، موہن لال کی آب بیتی، گلوب اینڈ میل کی ایک پرانی رپورٹ اورکرسٹینالیمب کا2004ء میں لکھا ہواکالم اکٹھے پڑھنے کااتفاق ہوا،گلوب اینڈ میل نے انکشاف کیاکابل شہرگناہوں کی دلدل بن چکا ہے، شہرمیں جسم فروشی کے سینکڑوں مراکزکھل چکے ہیں،وزیراکبرخان اورشہریوں کے جدید علاقوں میں درجنوں نائٹ کلب ہیں۔افغان قانون کے مطابق شراب نوشی جرم ہے لیکن شہرمیں شراب عام ہے۔کرسٹینا لیمب نیویارک ٹائمزمیں اپنے کالم میں لکھا کہ کابل شہرمیں ایک سابق افغان عمرنے دولاکھ ڈالرسے ’’پی کاک‘‘کے نام سے ریستوران کھولاجس کاسوئمنگ پول مارٹینی شراب کے گلاس کی مانندہے،اس ریستوران میں شراب کے ساتھ حرام گوشت بھی ملتا ہے۔ برطانیہ کے باشندوں نے ایلبوروم کے نام سے کاک ٹیل باراورتھائی ریستوران بھی کھولاہے۔ پورے شہرمیں شراب اورعورت عام ہے جسے افغان پسندیدگی سے نہیں دیکھ رہے،حالت یہ ہے طالبان کے مخالف بھی آج ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں،کیاامریکانے یہ جنگ اس لئے لڑی تھی کہ وہ یہاں شراب خانے،ریستوران اوررقص گاہیں تعمیرکر سکے۔
میں نے موہن لال کی آب بیتی کوایک طرف رکھااورٹھنڈاسانس بھر کر سوچا کیا 1841ء اور2024ء میں کوئی فرق ہے؟کرسٹینا لیمب کے اسی کالم کے آخرمیں اس کاجواب مل جاتا ہے کہ ہاں ہے،1841ء میں افغانستان میں انگریز تھا اور آج وہاں امریکی اپنی گیارہ سالہ ظلم وستم کی بے شمارداستانیں چھوڑکرآئے ہیں جن کے مہلک اور مضراثرات کوزائل ہونے میں ابھی کافی وقت درکار ہوگا۔ میں نے سوچاکیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟تواس کے جواب میں کرسٹینالیمب یوں جواب دیتی ہے کہ ہاں جلدہی کیونکہ غلطیوں کے بیج سے ہمیشہ غلطیوں کے پودے نکلتے ہیں۔
میراوجدان مجھے فوری طورپراس طرف لے گیاکہ برہان وانی کی شہادت کے بعدکشمیرکی تحریک آزادی نے جب بہت زور پکڑلیااوربھارتی خفیہ ایجنسی کشمیرکی تحریک آزادی کوبدنام کرنے کیلئے امریکی صدرکلنٹن کے بھارتی دورے کے دوران بھارتی فوج کے خفیہ ادارے’’را‘‘نے 20مارچ 2000 ء کو کشمیر کی تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے چھتی سنگھ پورہ اننت ناگ میں بڑے بہیمانہ اندازمیں وہاں کے مقامی گردوارہ میں 34 سکھوں کوقتل کردیااوراس کی ساری ذمہ داری کشمیری مسلمانوں پرڈال دی تھی لیکن بعد میں خود بھارتی تین رکنی تحقیقاتی کمیشن نے بھارتی سیکورٹی فورسزکواس کاذمہ دارٹھہراتے ہوئے بھارتی بنئے کی اس خوفناک سازش کابھانڈہ پھوڑدیا۔مودی دورِحکومت میں کبھی پٹھانکوٹ اورکبھی پلوامہ میں ایسے ہی ڈرامے دہرائے گئے،اس طرح بہت سے موہن لال اپنے گھناؤنے کردارمودی کی شکل میں بے نقاب ہورہے ہیں اوردوسری طرف کشمیری پنڈتوں کواستعمال کرتے ہوئے من گھڑت واقعات سے دنیاکوگمراہ کیاگیاجس کو بھارت کے میڈیا نے خوب اچھالا۔ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ان پنڈتوں کاانخلا اس لئے بھی مقصودتھاکہ مسلمانوں کے خلاف بھارتی فوج کے ظالمانہ آپریشن میں ان کوفری ہینڈ مل سکے۔
بھارت جودنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کادعویٰ کرتاہے آخروہ دنیاکے پریس اورکیمرے کووہاں جانے کی اجازت کیوں نہیں دیتا ؟اگرچند منٹ کیلئے بڑی ناگواری کے ساتھ فرض کرلیا جائے کہ کشمیر بھارت کاحصہ ہے تووہ کون سا قانون ہے جس کے تحت بھارت نے اپنے ہی ایک لاکھ سے زائدبے گناہ شہریوں کوکشمیرمیں بے دردی سے قتل کردیاہے؟ اس کاکوئی جواب ہے کسی کے پاس؟؟کیا موہن لال اورمودی ایک ہی سکے کے دورخ ہیں؟

یہ بھی پڑھیں