Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

سپریم کورٹ کاایک فیصلہ اوراداروں کی ذمہ داری

سوشل میڈیا پرمقدس ہستیوں بالخصوص حضورﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی پانےوالے ملزم ملعون سمیع اللہ کی ضمانت منسوخ کرنےکےلئےمدعی مقدمہ مرکزی جنرل سیکرٹری تحریک تحفظ ناموس رسالت پاکستان حافظ احتشام احمد کی جانب سےدائرپٹیشن کی سماعت مورخہ 21مئی کو سپریم کورٹ میں ہوئی۔ فاضل جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں فاضل جسٹس سیدحسن اظہر رضوی اورفاضل جسٹس نعیم اخترافغان پرمشتمل سپریم کورٹ کےتین رکنی بینچ نےمذکورہ پٹیشن کی سماعت کی۔مدعی مقدمہ کی جانب سےسینئر ایڈووکیٹ کامران مرتضی سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری سےوڈیو لنک کے ذریعے عدالت عظمی کے روبرو پیش ہوئےجبکہ سرکار کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی بھی عدالت عظمی کے روبرو پیش ہوئے۔نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد شعیب اور مدعی مقدمہ بھی دوران سماعت عدالت عظمی کے روبرو پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر مدعی مقدمہ کے وکیل کامران مرتضی نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے مذکورہ ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرنے کے متعلق جن چھ وجوہات کا ذکر اپنے تفصیلی فیصلے میں کیا ہے،وہ سراسر بے بنیاد اورحقائق کے برعکس ہیں۔سندھ ہائیکورٹ نے درخواست ضمانت کی منظوری کے فیصلے میں مذکورہ ملزم کےخلاف مقدمے کےمتعلق بھی غیر ضروری آبزرویشنز دیکر مذکورہ مقدمے کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔کامران مرتضی ایڈووکیٹ کا مذکورہ کیس کے حوالے سے مزید موقف ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے مقدمہ نمبر 04/2023, مورخہ 20 جنوری 2023ء ، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کراچی میں زیرحراست ملزم سمیع اللہ کی درخواست ضمانت بعدازگرفتاری کی منظوری کامختصر فیصلہ 22 نومبر 2023 ء کوجبکہ تفصیلی فیصلہ وجوہات 22 دسمبر 2023 کو جاری کیا۔
سندھ ہائیکورٹ نےاپنےتفصیلی فیصلےمیں مذکورہ ملزم کی درخواست ضمانت کی منظوری کی وجہ یہ بیان کی کہ ملزم کےخلاف جو شواہد برآمد کئے گئے ، جس طرح برآمد کئےگئے،وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتاکہ ملزم کے بنیادی حقوقِ معطل کئے جائیں۔سندھ ہائیکورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں مذکورہ ملزم کےخلاف مقدمے کےمتعلق پانچ اعتراضات کئے ہیں۔پہلا اعتراض تفصیلی فیصلے کے پیرا نمبر 4 میں یہ کیا گیا ہے کہ مذکورہ ملزم کے خلاف مقدمے کی ابتدائی تفتیش انسپکٹر نے کی جبکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 156 اے کے تحت مذکورہ مقدمے کی تفتیش SP رینک سے کم کا افسر نہیں کر سکتا۔دوسرا اعتراض تفصیلی فیصلے کے پیرا نمبر 4 میں ہی یہ کیا گیا کہ مذکورہ ملزم کے خلاف مقدمے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 196کےتقاضے کو پورانہیں کیا گیا۔تیسرا اعتراض تفصیلی فیصلے کے پیرا نمبر 5 میں یہ کیا گیا کہ مذکورہ ملزم سے برآمد ہونے والے اس سم کی آنر شپ ٹیلی نار کمپنی سے حاصل نہیں کی گئی،جس سم نمبر پربنے واٹس ایپ اکائونٹ سے گستاخانہ مواد سینڈ کیا گیا۔چوتھا اعتراض تفصیلی فیصلے کے پیرا نمبر پانچ میں ہی یہ کیا گیاکہ ملزم سےبرآمد ہونے والے موبائل فون کو Seized نہیں کیا گیا تھا۔پانچواں اعتراض تفصیلی فیصلے کے پیرا نمبر 7 میں یہ کیا گیا کہ یہ واضح نہیں کہ جو گستاخانہ مواد مدعی مقدمہ کو موصول ہوا،وہ ملزم نے خود بنایا تھا؟چھٹا اعتراض تفصیلی فیصلے کے پیرانمبر 7 میں ہی یہ کیا گیا کہ ایف آئی اے نے اس فیس بک اور واٹس ایپ گروپ کے متعلق کوئی تحقیقات نہیں کی،جہاں یہ سارا معاملہ ہوا اورنہ ہی اس متعلق کہ فیس بک اورواٹس ایپ اکائونٹ کو دشمن ملک سےچلایا جارہا تھا ۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کے پیرانمبر4 میں جو پہلے دو اعتراضات کئے گئے ہیں،ان اعتراضات کے جوابات آسیہ مسیح کیس (کریمنل اپیل نمبر 39-ایل/2015 بعنوان آسیہ بی بی بنام سرکار وغیرہ،PLD 2019 SC 64)میں سپریم کورٹ کےفیصلےکےپیرانمبر25 میں موجود ہیں۔ہائیکورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے کے پیرا نمبر 4 میں پہلا اعتراض یہ کیا ہے کہ’’اس کیس میں ابتدائی تحقیقات انسپکٹر نے کی ہے جبکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 156 اے کا تقاضہ ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت درج ہونے والے مقدمے کی تفتیش SP رینک سے کم کا افسر نہ کرے۔‘‘ آسیہ مسیح کیس میں بھی یہی صورتحال تھی،جس کا ذکر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے پیرا نمبر 25میں کیا ہے۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں