Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

اغیارکے آلہ کار

امریکی اشرافیہ اوریورپی ممالک کی سول سوسائٹی اس حقیقت کواچھی طرح جانتی ہیں کہ امریکی حکومت کی مسلط کردہ جنگ وارآن ٹیرر دراصل امریکا کاتراشاہواوہ مصنوعی غبارہ تھاجسے بےپناہ وسائل اورگوئبلز آف جرمنی کی روح سے کشید کئےہوئے مسلسل پروپیگنڈےکی غلیظ ہوا نےنجس اورظالمانہ زندگی عطاکی اورجس سے آج بھی بدستورکام لیاجارہا ہے۔یورپی حکومتوں کے لئےاپنےمفاد کے لئے یہ اصطلاح استعمال کرنا تو بعیدازقیاس نہیں ہے،بد قسمتی سے بہت سے محکوم ذہنیت کے اسلامی ممالک بھی اپنی بے کردار بداعمالیوں کے نتیجے میں اپنے خلاف ابھر نے والی احتجاجی تحاریک کوکچلنے کے لئے بے دریغ مسلح طاقت کےاستعمال کودہشت گردی کےخلاف جنگ یاامریکی پیروی میں وارآن ٹیررقراردیتےہوئے کوئی ندامت محسوس نہیں کرتے یہا ں تک کہ کشمیر، فلسطین،افغانستان اور عراق میں بھی غیرملکی تسلط اور قتل وغارت کے خلاف برسرپیکارحریت کی تحاریک اورا پنے وطن کی آزادی کے لئےجاری مسلح جدوجہدکوبھی دہشت گردی اوراسے کچلنے کےلئے ہر اقدام کوبھی وارآن ٹیرر کانام دینے میں لمحہ بھرتاخیرنہیں کی۔
16جولائی2008ء کواسپین کے دارالحکومت میڈرڈمیں منعقدہ بین الاقوامی بین المذاہب کانفرنس میں سعودی عرب کے سابق فرمانروا مرحوم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزنے خطاب کرتے ہوئے نہائت درست طورپرنشاندہی فرمائی تھی کہ انتہا پسندی اوردہشت گردی امریکی اورمغربی ممالک کی وضع کردہ تراکیب ہیں جن کااسلام سے ہرگزکوئی تعلق نہیں ہے۔ اگرچندگمراہ لوگ خودکش حملوں سمیت اسلام اورمسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لئے ایسے افعال کے مرتکب ہوئے ہیں تویہ ان کی انفرادی سوچ اورذاتی فعل ہے،حقیقت سے اسکاکوئی تعلق نہیں اورایسے افرادکوبالفعل مسلمان یااسلامی فدائین وغیرہ متعین کر لینا انتہائی غلط فیصلہ ہے ۔سہ روزہ کانفرنس میں دنیابھرسے مسلمانوں،یہودیوں،عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ممتازدانشوروں اورمذہبی قائدین نےبڑی تعدادمیں شرکت کی تھی۔اس کانفرنس کا انعقاد رابطہ عالم اسلامی کے زیراہتمام کیا گیاتھا جسکا مقصد اسلام اورمسلمانو ں کے خلاف اسلام دشمن قوتوں، امریکااور مغربی حلقوں کی طرف سے پھیلائی جانے والی شرانگیزغلط فہمیوں کاازالہ کرناتھا۔
اس کانفرنس کی اہمیت کااندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ دنیابھرکے مذاہب سے تعلق رکھنے والے نمائندہ افرادکے علاوہ 150کے قریب صحافی بھی مختلف ذرائع ابلاغ کی نمائندگی کرنے کےلئے اس کانفرنس میں موجودتھے۔ اس امرکاواضح تجزیہ کیاگیاکہ بعض طاقتور ممالک کی طرف سے کمزور اورناقابل مزاحمت ملکوں پربلااشتعال وجواز جارحانہ قبضے،بعض ملکوں کےعوام کے آئینی اور قانونی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے،انہیں آزادی سے محروم کرنے اوران کے وسائل پرقبضہ کرنے کے نتیجےمیں مزاحمت کاجوعمل شروع ہوتاہے،اسے انتہاپسندی اوردہشتگردی میں ہرگزشامل نہیں کیاجاسکتا۔یہ ان اقوام کی طرف سے اپنے آئینی اورقانونی حقوق کےحصول کی جدوجہدہے۔اس حوالے سےدنیاکی سپرطاقتوں اورخاص طورپر مغربی ملکوں کواپنی سوچ،روش اور پالیسی میں مناسب تبدیلی لاناہوگی۔
حقائق پرمبنی اس خطاب کےاختتام پرسب مذاہب کےقائدین،دانشوروں،تمام شرکا اور مبصرین نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکردادوتحسین پیش کی تھی جس کابدیہی مطلب ان حقائق کااعتراف تھاکہ بیان کردہ وضاحت احوال ان تمام گمراہ کن، اسلام مخالف موادات کی تشہیرمحض معاندانہ رویوں کی اشاعت وتبلیغ کےسوا کچھ نہیں۔غالباامریکااورکچھ مغربی ممالک کوکیمونزم کی پسپائی کے بعداپنی سرمایہ دارپالیسیوں اور استعماری قوتوں کومتحرک رکھنے کے لئے کسی ایک خودساختہ دشمن کی موجودگی وقت کی ضرورت لگتی ہے،ان کے مذموم پروگرام’’ون ورلڈون آرڈر‘‘ کاتقاضہ بھی یہی ہےلہذامشترکہ حریف کے طور پرمسلم ممالک اوراحیائے اسلام کی تحریکوں کومٹانے کے لئے خوف و دہشت اورحقارت کی فضاپیداکرناحصول مقاصدکانامعقول ذریعہ بن گیاہے۔ دہشتگردی، انتہاپسندی اورجارحیت اسلام کے ہم معنی قراردینے کےلئےامریکا اورمغرب شب وروز اپنے اس جھوٹے پروپیگنڈے کو ہوا دینے میں کوئی کسرنہیں چھوڑرہےجبکہ تمام عالمی تجزیہ نگاراس جھوٹ کاپول کھولتے ہوئے اعتراف کررہے ہیں کہ اس جاری پروپیگنڈے کاحقائق سے کوئی تعلق نہیں جبکہ اس کی سیاسی اورمعاشی وجوہات اظہرمن الشمس ہیں۔
یہ رائے اوریقین بھی کسی حدتک موجودہےکہ دہشت گردی،انتہاپسندی اوربنیادپرستی وغیرہ کاواویلامچا نے والے امیرممالک غربت اور ناداری، افلاس اور کسمپرسی کے باعث پھیلنے والی بھوک کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی آہ وبکا اور احتجاج کاگلاگھو نٹنے کی سازش کے طورپرکرارہے ہیں۔بنیادپرستی سے دہشتگردی تک کے تمام رحجانات وہی استعماری قوتیں پھیلا رہی اور استعمال کررہی ہیں جودنیابھرکے وسائل پرغاصبانہ قبضے کےذریعے پوری انسانی آبادی میں غربت اور ناداری پھیلانےکی مجرم ہیں۔اس کے خلاف کسی قسم کے صدائے احتجاج بلندہونے سے روکنے کے لئے مغربی طاقتوں کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی،مکروہ سیاسی چال اوران کے بہترین مفادمیں ہے کہ اقوام عالم کی توجہ مذہبی بنیادپرستی اورنام نہاددہشتگردی پرمرکوزرکھی جائےاوریہی وہ لائحہ عمل اورطریقہ کارہےجس کےذریعے مغربی طاقتیں اوراستعماری قوتیں دنیابھرکے معدنی ومالی ،اقتصادی اورمعاشی وسائل پراپنا جارحانہ قبضہ جاری رکھنے میں کامیاب نظرآتی ہیں۔
ان حقائق کوتسلیم نہ کرناپرلے درجے کی خود فریبی ہوگی کہ امریکی استعمارکے لئے اپنی عسکری قوت اوربرتری کومتحرک رکھنااوربیرونی دنیاکے موہوم خطرات یعنی خودساختہ دشمن کی موجودگی حصولِ مقاصدکاایک ذریعہ ہے۔مسلم ممالک پر براہ راست قبضہ اوران سے ملحق مزیدمسلم ممالک کے وسائل کااپنی جارحیت کی ترویج کے لئے استعمال ان ممالک پراپنے تسلط کواپنی عسکری قوت کاخراج ماناجائے گاجواپنے جرم ضعیفی کی سزا،مرگ مفاجات کی صورت میں اداکررہے ہیں۔ اسرائیل کاناجائزوجود عرب اورملحق افریقی مسلم ممالک کے سینے کاخنجرکے مترادف ہے،جس کومضبوط کرنے کے لئے عراق پرمکمل تسلط ،بحرین اور کویت میں امریکی چھانیوں کی تعمیرتمام عرب وعجم کی پشت میں مزید زہرآلود خنجروں کے مترادف ہی توہیں۔
اپنے ان مذموم تسلط کوتقویت دینے کے لئے گیارہ سال تک افغانستان کی اینت سے اینٹ بجادی گئی تاکہ افغانستان میں مستقل امریکی عسکری قوت کی موجودگی میں ایسی کاسہ لیس حکومت قائم کی جائے جہاں سے وسط ایشیائی مسلم ریاستوں، ایران اور پاکستان سمیت ترکی تک پورابلاک امریکی اورمغربی مفادات کے لئے کوئی خطرہ باقی نہ رہے اوراس کے ساتھ ہی خطے کی دوطاقتوں روس اورچین کے گردایک مضبوط حصار قائم کیاجاسکے جس کے لئے بھارت پہلے ہی امریکی مفادات کے لئے مکمل سپردگی کاعملی اظہار کررہا ہے۔ یہیں سے شکوک شبہات کی ابتدااورانتہاکے باعث وطن عزیزکوغیرمستحکم کرنے کے لئے سازشیں جاری ہیں اوربعض اوقات ملک میں جاری سیاسی افراتفری اور بدامنی کے سیاہ اورمنحوس بادلوں کے درمیان روشنی کی کرنیں باہمی سیاسی اختلافات اوراقتدارکی ہوس کے اندھیروں میں ہماری امیدوں کے چراغ پھڑپھڑاتے محسوس ہوتے ہیں۔
حصول اقتدارکے لئے محاذآرائی پچھلے 77 برسوں سے جاری ہے۔طالع آزمائوں نے آمرانہ اورنام نہادجمہوری نظام حکومت کے تحت برسوں اقتدار اورحاکمیت کابلاجوازاوربلااختیار جابرانہ استعمال اورملکی وسائل کابے دریغ استحصال کیاہے اورہردورکے اختتام پرقوم کوشکست خوردہ صاحبان اقتدارکے ہاتھوں قومی وسائل اورمعیشت کی تباہی کامژدہ سنایا جاتارہا ہے۔نئے ادوارکی ابتداوہی پرانے چہرے نئے نقابوں کے ساتھ کرتے چلے آرہے ہیں جن کی ترجیحات کاتعین ہمیشہ غیرملکی سرپرست قوتیں کرتی چلی آئی ہیں اوربلاشبہ آج کی ترجیح اپنے آقاؤں کی تابعداری ہے جس کے نتیجے میں پڑھے لکھے افرادجس تیزی کے ساتھ ملک کو چھوڑکربےنشان،بے گھر اور تلاشِ معاش کے لئے دربدرہورہے ہیں اور اپنے بہتر مستقبل کے لئے ایجنٹوں کاشکارہوکرآئے دن سمندروں میں مچھلیوں کی غذابن رہے ہیں،زندگی کی ہرآسائش سے محروم سینوں میں اپنے باپوں،بھائیوں اوربیٹوں کی کربناک موت کے زخم چھپائے خوشحال زندگی کی تلاش پرمجبورکردیئے گئےہیں جبکہ خودصاحبِ اقتدارملکی دولت لوٹ کربیرون ملک میں اپنی آنے والی سات نسلوں کے لئے پرتعیش محلات اورکاروبار سے لطف اندوزہورہے ہیں،ان کے کڑے احتساب کابھی توکوئی علاج ہوناچاہئے۔یہی تووہ ناسورہیں جواپنے ان مفادات کے تحفظ کے لئے اغیارکے آلہ کاربنے ہوئے ہیں۔
غیروں سے کیاگلہ ہوکہ اپنوں کے ہاتھ سے
ہے دوسروں کی آگ میرے گھر لگی ہوئی

یہ بھی پڑھیں