Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

وسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل

جنوری2018ء میں برسلز کا شاندار بوزار تھیٹرتاریخی لمحات سے متعلق عوامی جمہوریہ چین کی ویڈیوکابیک ڈراپ تھا۔یہ موقع تھاچینی نئے سال کے جشن کا۔ ایک گلوکارفن کامظاہرہ کر رہا تھا اور اس کی پشت پرچلائی جانے والی ویڈیو میں چین کی کامیابیوں کونمایاں طورپرپیش کیا جارہا تھا۔ ویڈیو میں چین کے پہلے جوہری دھماکے،عالمی تجارتی تنظیم میں شمولیت، پہلے طیارہ بردار جہاز کی تیاری اور دیگرمعاملات سے دنیاکوآگاہ کیا جارہا تھا۔ حاضرین میں موجود سفارت کار،فوجی نمائندے اور دیگر حکام دم سادھے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔ سوال یہ نہیں تھاکہ وہ چین کی کامیابیوں کودیکھ کر متاثر ہورہے تھے یانہیں۔ہوسکتاہے کہ متاثر ہو بھی رہے ہوں مگراِس سے کہیں بڑھ کروہ حیرت زدہ بھی تھے اورتشویش میں بھی مبتلا تھے۔چین کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت، معیشت کے پنپتے ہوئے حجم اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت نے یورپ کے بہت سے پالیسی سازوں کوخوابِ غفلت سے جگادیاہے۔ یورپی یونین ایک زمانے سے غیراعلانیہ طور پر، مشنری اندازسے چین کے بارے میں سوچتی آئی ہے۔ چین کے مستقبل کے حوالے سے مختلف اندازے لگائے جاتے رہے ہیں مگراب اندازہ ہوتا ہے کہ بیشتر اندازے خام خیالی یاخوش فہمی پرمشتمل تھے۔
چین کی معاشی وعسکری قوت میں غیر معمولی اضافے کے ساتھ بیجنگ،واشنگٹن اور برسلز کی اسٹریٹجک تکون میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکانے چین کو اسٹریٹجک مدمقابل کے روپ میں زیادہ دیکھا ہے۔ یورپ کے بیشتر قائدین کے مطابق ٹرمپ کسی بھی وقت کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اوران پرمکمل بھروسہ نہیں کیاجاسکتاجس کے نتیجے میں بیشتر یورپی ممالک نے حکمت عملی کے حوالے سے زیادہ خودمختاری کاراستہ اختیارکیا۔ٹرمپ نے افغانستان اور شام سے فوج نکالنے کااچانک اعلان کرکے امریکاکی 17سالہ ملٹری ڈاکٹرائن کے حوالے سے یو ٹرن لے کر جیمزمیٹس نے کواستعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا کہ اب یورپ کی سلامتی کے حوالے سے معاملات پریشان کن ہوچلے ہیں۔
دسمبر2018ء میں بیجنگ نے یورپی یونین سے تعلقات کے حوالے سے وائٹ پیپرشائع کرتے ہوئے بتایاکہ کس طرح چین نے یورپی طاقتوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں مل کر کام کیا بالخصوص ہائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں۔ اب بیجنگ تائیوان اور تبت کے مسئلے پربرسلزسے کیا امید رکھتاہے اورکس طورچین نے اظہاررائے کی آزادی کیلئے خطرہ بننے والی جعلی اورمن گھڑت خبروں کے سدباب کیلئے بھی یورپی یونین کے ساتھ مل کرکام کیاہے۔وائٹ پیپرمیں یہ بھی درج ہے کہ امریکاکے یکطرفہ اقدامات کے آگے بند باندھنے کیلئے یورپ کوچین کاساتھ دینا چاہیے۔ چینی قیادت نے اس وائٹ پیپرمیں یہ عندیہ بھی دیاکہ جہاں کہیں بھی امریکاکے انخلاسے خلا پیدا ہوگا،وہاں وہ اپناکرداراداکرکے خلاپرکرنے کو تیار ہے ۔ جرمی رفکن کے مطابق چین نے مابعدِجدیدیت کے لمحاتِ سعیدمیں دوعشروں تک یورپی خواب کوشرمندہ تعبیرکرنے کی کوشش کی ہے۔یورپی یونین کے بعض حکام کہتے ہیں کہ یورپی یونین جیوپالیٹکس نہیں کرتی اورجوکچھ بھی یورپی یونین کرتی ہے،اس کے سیاسی عواقب برآمد نہیں ہوتے۔یوں یورپی یونین اپنے علاقے کوبڑی طاقتوں کیلئے پلے گراونڈ کے طورپرپیش کرتی ہے۔ یورپ نے خاصی مشقت سے جوخوئے اطاعت پروان چڑھائی ہے،اس نے چین کوبھی کھل کرکھیلنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے ہیں۔ روس نے یوکرین کے حوالے سے طاقت کا غیر معمولی مظاہرہ کیااوریوکرین سے جڑے ہوئے چند اوریورپی ممالک کوبھی کسی حدتک متاثر کیا مگر یورپی یونین کے مجموعی ماحول پراس کا کچھ خاص منفی اثرمرتب نہیں ہوا۔
یورپی یونین کے حکام بھلے ہی کہتے رہیں کہ یورپی یونین کے اقدامات کے سیاسی نتائج برآمد نہیں ہوتے مگر حقیقت یہ ہے کہ اب بعض یورپی ممالک نے انفرادی سطح پراوریورپی یونین نے اجتماعی سطح پرچین کوایک بڑے حریف کے روپ میں دیکھنا شروع کردیاہے۔چین کے میڈاِن 2025ء حکمت عملی نے یورپ کی ہائی ٹیک انڈسٹری کیلئے بیداری کاکردار اداکیاہے۔
یورپ اوربھارت دونوں ہی چین کوسنجیدگی سے لے رہے ہیں۔دونوں کیلئے چین کی بڑھتی ہوئی سیاسی،عسکری اورمعاشی قوت نے ویک اپ کال کی سی حیثیت اختیارکرلی ہے۔ ایسے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیابھارت کا’’یواشکتی آدرش‘‘ اوریورپین ڈریم متصادم ہوں گے؟دسمبر2018ء میں یورپین کونسل نے ’’ای یو اسٹریٹجی آن انڈیا‘‘کے حوالے سے اخذ کیے جانے والے خیالات کو قبول کیا۔کیااِس سے یورپی یونین اوربھارت کے تعلقات کاایک نیا دورشروع ہوا؟اب تک عام خیال یہ تھاکہ یورپی یونین نے چین کو زیادہ اہمیت دی ہے اور بھارت کو مجموعی طورپرنظراندازکیا ہے۔ بھارت کے حوالے سے نئی حکمت عملی اپنانے سے یہ تاثر ابھرے گا کہ یورپی یونین بھارت کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے اورساتھ ہی ساتھ ایک ایسے نئے عالمی نظام کو پروان چڑھانے کے حق میں ہے،جواصولوں کی بنیادپرکام کرتاہو۔علاوہ ازیں یورپی یونین سلامتی سے متعلق سیٹ اپ کوبہتر بنانے کی بھی کوشش کررہی ہے لیکن مودی سرکارکی طرف سے کینیڈاکے علاوہ دیگرممالک میں خفیہ ایجنسی ’’را‘‘کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے بعدیورپی یونین کی سلامتی کے اداروں نے انڈیاسے فی الحال اپنے کئی تحفظات کا اظہارکردیاہے۔دوسری طرف ابھی یہ دیکھناباقی ہے کہ اس وائٹ پیپرکے مندرجات کی بنیاد پر چینی قیادت کس نوعیت کے اقدامات کی راہ ہموار کرتی ہے۔
فروری2017ء میں فرانس،اٹلی اور جرمنی نے یورپی یونین سے کہاکہ وہ یورپ میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کی اسکریننگ سے متعلق سفارشات مرتب کرنے کیلئے کمیشن قائم کرے۔ تینوں یورپی طاقتوں نے اگرچہ کسی ملک کا نام نہیں لیا تاہم یہ بات طے ہے کہ وہ چینی باشندوں کی طرف سے کی جانے والی براہِ راست سرمایہ کاری کے حوالے سے غیر معمولی تشویش میں مبتلا تھے۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یورپ کے بعض ممالک میں چینیوں کی سرمایہ کاری اِتنی زیادہ ہے کہ فرانس،اٹلی اورجرمنی کی تجویزپرکھل کر بحث نہیں کی جا سکی۔یورپی کونسل،یورپی کمیشن اوریورپی پارلیمان تینوں ادارے اس حوالے سے باضابطہ مذاکرات اوربحث کی منزل سے دور رہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس حوالے سے پائی جانے والی موجودہ دستاویزمیں ذرابھی دم نہیں کیونکہ اس کی ساری طاقت ختم کردی گئی ہے۔
یورپ میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کی اسکریننگ کے حوالے سے تجویزایسے وقت سامنے آئی ہے،جب یورپی یونین کے بہت سے رکن ممالک کے لوگوں کویہ شکایت ہے کہ یورپی ممالک میں توبراہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت ہے تاہم اس کے مقابلے میں چین میں سرمایہ کاری کی گنجائش دی جاتی ہے نہ کھلی منڈی تک رسائی ہی دی جاتی ہے۔ چین کے بیشتر کاروباری ادارے دراصل ریاستی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔یورپ میں چینیوں کی سرمایہ کاری 2008ء میں 70کروڑڈالرتھی۔ 2017ء میں یہ 30ارب ڈالر کی منزل تک پہنچ چکی تھی۔یونان کی بندرگاہ ’’پیراس‘‘ میں چینیوں کی سرمایہ کاری اصل بلغراداور بڈاپیسٹ سے ہوتے ہوئے باقی یورپ تک راہداری کومعرضِ وجودمیں لانے کیلئے تھی،مگراب صاف محسوس ہوتاہے کہ اس سرمایہ کاری کے شدیداثرات یونان اورہنگری محسوس کررہے ہیں۔ویسے چینیوں کی بیشترسرمایہ کاری جرمنی،فرانس اوربرطانیہ میں ہے اور زور اس بات پرہے کہ جوٹیکنالوجی امریکاسے حاصل نہ کی جاسکتی ہووہ یورپ سے حاصل کرلی جائے۔ دوطرفہ سرمایہ کاری کے حوالے سے معاملہ اس وقت زیادہ اجاگر ہواجب جرمنی کے معروف روبوٹکس میکر’’کوکا‘‘کوچینی ملکیت کے ادارے ’’میڈیا‘‘نے خریدا۔تجزیہ کاروں کومعلوم ہواکہ جرمن انجینئراب پیپلزلبریشن آرمی کیلئے روبوٹکس تیارکرتے ہیں۔ یہ کوئی اچھاسودانہیں تھا۔
اب جرمنی نے بھی براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری پرگہری نظررکھناشروع کردی ہے۔ اس بات کوسمجھنااب کچھ دشوارنہیں کہ چینی قیادت اورپوری قوم چینی خواب کوشرمندہ تعبیرکرنے کی راہ پرگامزن ہے۔یورپ کے اپنے آنگن کے نزدیک بحیرہ اسود اوربحیرہ روم میں روس کے ساتھ جنگی مشقوں کاپروگرام ہے اورساتھ ہی ساتھ بحیرہ بالٹک میں بھی مشقوں کا پروگرام ، جس کے نتیجے میں متعدد یورپی ریاستیں بھی لرزش محسوس کیے بغیرنہ رہ سکیں گی۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں