(گزشتہ سے پیوستہ)
حکومت کو گرتی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد سرکاری ٹیکسز کو کم سے کم کرے تاکہ حقیقی معنوں میں تبدیلی آسکے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل کمی سے عوام کو خاصی حد تک ریلیف مل سکتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی کے باعث ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کو یہ ریلیف کتنے عرصے تک ملتا ہے۔ عالمی منڈی میں اگر تیل کی قیمتیں بڑھنا شروع ہوگئیں تو یہ ریلیف کم ہونا شروع ہوجائے گا۔ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے توانائی کی قیمتوں میں توازن اور تسلسل انتہائی ضروری ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں کی معیشت کے لیے توانائی کی قیمتوں میں ردوبدل جلد نہیں ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ملکوں میں تیل کی قیمتیں سالانہ میزانیے میں طے کی جاتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک برس تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں یکساں رہتی ہیں۔ اس طریقے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو متعین کرنا آسان ہوجاتا ہے، یوں ملکی معیشت یکساں رفتار سے آگے بڑھتی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں تو مارکیٹ میکنزم کامیاب ہے لیکن پاکستان جیسے معاشی طور پر کمزور ملک کے لیے یہ طریقہ کار زیادہ کامیاب نہیں ہے۔ ایک خبر کے مطابق مہنگائی بڑھ جانے کو ان کی نااہلی تصور کیا گیا ہے۔ بہتر عمل یہ تھا کہ جب حکومت پٹرولیم مصنوعات سستی کرنے جا رہی تھی، تو ایک مربوط پالیسی کے تحت ایسا کیا جاتا، خود حکومت ماہرین کے تعاون سے باقاعدہ ایک پالیسی مرتب کرتی، جو مارکیٹ کے مکمل جائزے اور تجزیے کی بناء پر ہوتی اور ایوان ہائے صنعت و تجارت سے بھی تعاون مانگا جاتا۔ اس سلسلے میں اشیاء خوردنی اور ضرورت بنانے والی صنعت کے کرتا دھرتا حضرات سے میٹنگز کی جاتیں اور ان سے نرخ کم کروائے جاتے، اسی طرح تھوک مارکیٹ والوں سے بات کی جاتی تو نتائج بہتر ہوتے کہ اوپر سے جب کمی ہوگی تو نیچے عوام کو ریلیف ملے گا۔
یہ کہ حکومت اگر مہنگائی کی چکی میں پستی عوام کو اگر کوئی ریلیف دینا چاہتی ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنی کمی کر دی جائے کہ عام انسان کی زندگی آسان ہوجائے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافے کے باعث غریب اور متوسط لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور مہنگائی کا سیلاب جو ملک میں ڈیرے ڈال چکا ہے اس کی شدت میں مزید تیزی آگئی ہے اس وقت وطن عزیز میں مہنگائی ایک بار پھر اپنے عروج پر دیکھنے میں آرہی ہے، اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں کچھ حد تک جو کمی ہوئی تھی تاجر کمیونٹی خاص طور پر مارکیٹ میں موجود مافیا جو روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں اتار چڑھائو اپنی مرضی سے کرتا ہے نے روزمرہ کے استعمال کی چیزوں اور دیگر اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ کردیا ہے۔ بلاشبہ مہنگائی کا یہ عفریت ملک میں غربت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ ڈالر کی اونچی اڑان کو کسی حد تک قابو میں کیا گیا تھا،لیکن جن اشیاء کی قیمتیں ڈالر کی قدر میں اضافے اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے باعث بڑھ گئی تھیں لیکن ڈالر کی قیمت کم ہونے اور پاکستانی روپے میں کسی حد تک استحکام کا ان اشیاء کی قیمتوں پر کچھ خاص اثر نہیں پڑا۔ اخباری صنعت میں کاغذ اور پلیٹس کی قیمتوں میں جو ہوش رُبا اضافہ ہوا تھا وہ آج بھی بر قرار ہے اسی طرح بہت سی اشیا کی قیمتوں میں کوئی قابل ذکر کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ جب تک ضلعی حکومتیں مہنگائی مافیا کو کنٹرول کرنے کے لیے متحرک نہیں ہوں گی، مہنگائی کے جن کو قابو نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر ضروری ہو گیا ہے کہ حکومت عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے، تاکہ ایک طرف معیشت بحران سے نکل سکے اور دوسری طرف عوام کی قوت خرید میں بھی اضافہ ہوسکے۔ بلا شبہ اس وقت عوام کی قوت خرید کافی حد تک کم ہوچکی ہے، کاروبار میں کافی حد تک مندی کا رحجان دیکھنے میں آرہا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں محدود ہونے کی وجہ سے روزگار کے مواقعے انتہائی کم ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال اور معاشی بحران کو ختم کرنے میں نگران حکومت اپنا کردار ادا کرے اور اس کے لیے ضروری ہوگا کہ عالمی مارکیٹس میں پیٹرولیم مصنوعات کی کمی کا فائدہ ملک کی عوام کو بھی دیا جائے تاکہ عوام بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔