(گزشتہ سےپیوستہ)
یورپی یونین کے حکام بھی اس بات کو محسوس کررہے ہیں کہ چین اب روس کے ساتھ مل کر یورپ کومتاثرکرنے والے ماحول میں کام کر رہاہے۔فروری2018ء میں جرمنی کے دو تھنک ٹینکس نے بھی اپنی رپورٹس میں بتایاکہ چین اب یورپ کے معاملات پرغیر معمولی حد تک اثرانداز ہونے کی بھرپورکوشش کررہاہے۔یہ سب کچھ اس قدرواضح ہے کہ یورپی یونین کے پالیسی سازاسے کسی طورنظراندازنہیں کرسکتے۔
جرمن چانسلرنے بلقان کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے حوالے سے تشویش کا اظہارکیاہے۔میونخ سیکورٹی کانفرنس 2018ء میں جرمن وزیرخارجہ سگمار گیبریل نے چینی صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ چین ایک ایسانظام تیارکررہاہے جوہمارے نظامِ جمہوریت، انسانی حقوق اورآزادی کے اصولوں کی بنیادپر استوار نہیں۔بہرکیف،چین نے اپنی بھرپور معاشی قوت کوبروئے کارلاکر یورپ میں اختلاف رائے پیدا کردیاہے۔اب بہت سے معاملات پر تمام یورپی طاقتیں ہم آہنگ ہوکربات نہیں کر رہیں ۔ مثلامارچ2017ء میں ہنگری نے ایک ایسے مشترکہ خط پردستخط سے انکار کیا جو زیرحراست وکلاپر تشددکے حوالے سے تھا۔ جون 2017ء میں یونان نے اقوام متحدہ میں ایک ایسے بیان کی راہ مسدود کر دی،جس میں چین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کی مذمت کی گئی تھی۔ جولائی 2016ء میں یورپی یونین کے ایک ایسے بیان کو ہنگری،یونان اورکروشیانے ویٹوکیا،جس میں بحیرہ جنوبی چین میں چین کے ملکیتی دعوؤں پرتنقید کی گئی تھی۔ان تمام مثالوں سے یورپی یونین کی پالیسیوں پر اثر اندازہونے سے متعلق چین کی صلاحیت کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔
کئی شعبے ایسے ہیں جن میں یورپ اب بھی واضح طورپربرتری کاحامل ہے۔نئی ہائی ٹیکنالوجی کے حوالے سے یورپ اپنی برتری برقراررکھنے پر پوری تندہی سے کام کررہاہے اور یورپ سمجھتاہے کہ ایساکرناترقی اورسلامتی کے حوالے سے مستقبل کو محفوظ بنانے کی خاطرلازم ہے۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے یورپ بہت زیادہ محتاط ہے۔ 5۔جی ٹیکنالوجی کے حوالے سے یورپ نے واضح حکمتِ عملی تیارکررکھی ہے اوراس پرمکمل طورپر کنٹرول برقراررکھے ہوئے ہے۔
یورپی یونین پرگہری نگاہ رکھنے والے سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ہوسکتاہے کہ یورپی یونین کے حکام کواپنے آپشن بہت زیادہ پرکشش محسوس نہ ہوتے ہوں مگروقت آگیاہے کہ وہ محض تماشائی بنے رہنے کی روش ترک کریں اور میدانِ عمل میں نکلیں ۔ یورپ کواب طے کرنا پڑے گاکہ مابعدِ جدیدیت کے دورمیں سلامتی اور ترقی دونوں حوالوں سے مل جل کر کام کرنے کا طریقہ درست تھا یایہ طریقہ ترک کرناپڑے گا اور یہ بھی دیکھنا پڑے گاکہ یورپی طاقتوں کامل جل کر چلنا نئے عالمی نظام کوکسی حدتک بہتربناسکے گایا نہیں۔
تاہم چین نے یہ طے کررکھاہے کہ مستقبل میں دنیامیں سپرپاورکہلانے کیلئے جنگ اور جارحیت کی بجائے صلح جوئی سے تجارتی منڈیوں کو اپنے حق میں استعمال کرناانتہائی ضروری ہے ، اس کیلئے چینی صدرنے2014ء میں یورپی یونین کے صدر دفتر کا دور کرکے چین اوریورپی یونین کے مابین چاراہم شراکت داریاں قائم کرنے کی ٹھوس تجاویزپیش کرتے ہوئے اپنے مستقبل وژن کا تعارف کروایا جس پروہ آج بھی سختی سے قائم ہے ۔ گزرتے وقت نے چینی صدرکی پیش کردہ تجاویز کودرست ثابت کردیااور موجودہ حالات میں اس کی عملی اہمیت اوربھی اہم ہوگئی ہے۔
افغانستان سے انخلا کے فوری بعدچین نے اپنی تجاری دانشمندی سے اس خلاکوبڑی تیزی کے ساتھ پرکیاہے اوراب اس خطے میں پاکستان، ایران، افغانستان کے ساتھ تمام ملحقہ ریاستوں میں اپنی تجارتی راہداری قائم کرکے ان ملکوں کی منڈیوں میں اپنا مضبوط مقام بنالیاہے جبکہ امریکانے ایک بارپھریوکرین کے ذریعے روس کو نیچا دکھانے کیلئے اپنے کچھ یورپی اتحادیوں کی مددسے ایک نئی جنگ کاآغازکردیاہے لیکن جن مقاصدکے حصول کیلئے امریکاپرامیدتھا،وہ فی الحال خاک میں ملتے دکھائی دے رہے ہیں اورخودبین الاقوامی مالیاتی ادارے روس کی معیشت کوپہلے سے بہتر قرار دیتے ہوئے زمینی حقائق سے متفکرنظرآرہے ہیں جبکہ یوکرین کی جنگ کے آغازمیں سارے یورپ کوروس کی طرف سے گیس کی بندش کی سپلائی کاخدشہ لاحق ہوگیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ یورپ کھل کرامریکاکا ساتھ دینے سے گریزاں نظر آتا ہے۔
ادھردوسری طرف آج دنیامیں غیریقینی اورعدم استحکام بڑھتاجارہاہے جس کی وجہ سے چین اور یورپی یونین کے درمیان قریبی رابطے اوراس کے نتیجے میں باہمی تجارتی فوائداور مستقبل کے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے زیادہ توجہ دی جارہی ہے اور چینی صدرکی دس سال قبل دی گئی تجاویزاورچینی وژن نے ثابت کردیاہے کہ باہمی اتفاق اورتعاون اور ملکی ترقی کیلئے اپنے ممالک کے عوام کیلئے خوشحالی کے نئے باب کھولے جاسکتے ہیں جس کیلئے غیرضروری خدشات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب چین یورپی یونین کے سب سے اہم تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے، اور اس کے برعکس عالمی تجارتی مندی کے منفی اثرات کے باوجودچین اوریورپی یونین کے مابین مجموعی تجارتی حجم2023 ء میں783بلین ڈالرتک جاپہنچا ہے جس میں دوطرفہ سرمایہ کاری کا اسٹاک 250بلین ڈالرسے تجاوزکرچکاہے۔
چین نے ثابت کیاہے کہ وہ کاروباری تعاون، سائنس اورٹیکنالوجی میں تعاون اورسپلائی میں یورپ کاقابل اعتماد،کلیدی،ترجیحی اورصنعتی شراکت داربننے کیلئے تیارہے کیونکہ دونوں فریقین باہمی کامیابی اورمشترکہ خوشحالی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اوردونوں کے مابین تعاون ڈیجیٹل معیشت،سبزترقی اورماحولیاتی تحفظ، نئی توانائی اورمصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھنے کی مکمل صلاحیت ہے۔
یورپی یونین چیمبر آف کامرس ان چائنا (ای یوسی سی سی)کی جانب سے جاری کردہ بزنس کانفیڈنس سروے2023ء کے مطابق سروے میں شامل90فیصدسے زائدیورپی کمپنیاں چین کواپنی سرمایہ کاری کی منزل بنانے اورسروے میں شامل 80فیصدسے زیادہ چینی کمپنیاں یورپ میں اپنے کاروبارکو بڑھانے کاہوم ورک مکمل کرچکی ہیں۔ چین دنیاکاسب سے بڑاترقی پذیرملک ہے اور یورپ کسی بھی دوسرے براعظم کے مقابلے میں زیادہ ترقی یافتہ ممالک کاخطہ ہے۔چین اوریورپی یونین دونوں بکھری ہوئی عالمی معیشت اورتحفظ پسندی کی بڑھتی ہوئی لہرکے سامنے محتاط رہ کرکھلے پن کے ساتھ منصفانہ مسابقت اورآزادتجارت کو برقراررکھنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔سلامتی کے تصورکو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے گریزکی پالیسی اختیارکرتے ہوئیگلوبلائزیشن کے خلاف مشترکہ مزاحمت کیلئے تیاری کے مراحل میں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ چین بیلٹ اینڈروڈانیشی ایٹو اور گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹوکے حصول کیلئے مشترکہ ہدف کے تعاقب میں یورپی یونین اوردیگریورپی ممالک کی فعال شرکت کابھی خیرمقدم کررہاہے اوریورپی یونین کی گلوبل گیٹ وے حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کیلئے بھی تیارنظرآتاہے تاکہ ترقی پذیر ممالک ترقی کے اپنے سفرکوتیزکرنے میں مدد کیلئے متعلقہ طاقتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔بدلتی ہوئی اور غیرمستحکم بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر چین اوریورپ کومزیدتعاون کی ضرورت ہے۔ دونوں فریقوں کوکثیرالجہتی پرعمل کرنے،کھلے پن اورترقی کی وکالت کرنے اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے کیلئے مل کرکام کرنا ہوگا۔انہیں مشترکہ طورپرایک مساوی اور منظم کثیرقطبی دنیاکی تعمیرکرنا ہوگی اورعالمی سطح پر فائدہ منداورجامع اقتصادی عالمگیریت کوفروغ دینا ہوگا۔
قدرت نے پاکستان کوایک بارپھرایک سنہری موقع دیاہے کہ وہ اپنے جغرافیائی وجودکی وجہ سے ان فوائدکوسمیٹ سکے اوراب تک سی پیک پراجیکٹ کی تکمیل میں مجرمانہ تاخیرکافوری ازالہ کرتے ہوئے ایسے ہنگامی اورانقلابی اقدامات اٹھائے تاکہ برادر عرب ممالک کی طرف سے آنے والی سرمایہ کاری کوبھی ایک ایسارخ میسر آجائے جس کے بعدیورپی ممالک کی سرمایہ کاری بھی پاکستان کارخ کرے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی افراتفری اوربدامنی کوختم کرنے کاسازگارماحول پیداکیاجائے اورتمام سیاسی جماعتیں کم ازکم ملکی معیشت پراتفاق کرتے ہوئے ایک ایساباہمی لائحہ عمل تیارکریں کہ ملک میں جوبھی حکومت آئے لیکن ان معاشی اہداف کوکبھی بھی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھایاجائے گا۔
بابااقبال یادآگئے:
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شایدکہ اترجائے ترے دل میں مری بات
یاوسعت افلاک میں تکبیرِمسلسل
یاخاک کے آغوش میں تسبیح ومناجات
وہ مذہب مردان خود آگاہ وخدامست
یہ مذہب ملاو جمادات ونباتات