Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

واحدسپرپاورکاگھمنڈ

(گزشتہ سے پیوستہ)
جوبائیڈن نے اب تک ایساکچھ نہیں کیاجس سے اندازہ لگایا جاسکے کہ وہ امریکاکونئی بلندیوں پر لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔وہ بھی ٹرمپ کی طرح بظاہر اس سیاسی بصیرت سے محروم دکھائی دیئے جو کسی امریکی صدر کے لئے لازم سمجھی جاتی تھی مگراس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ وہ اپنی شخصیت کاکوئی تاثر چھوڑنے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔چند ایک معاملات میں انہوں نے’’ٹرمپ بڑھک‘‘سے ہٹ کرعمل کے میدان میں اعتدال پسندی کاثبوت دیاہے مگرمجموعی طورپر وہ اپنے اقوال واعمال سے امریکی فکرکو متاثرکرنے میں تھوڑے بہت کامیاب ضرورہوئے ہیں۔یہ بات محسوس کی جارہی ہے کہ امریکانےجن اصولوں اورطریق کارکواپناکراب تک عالمی سیاست ومعیشت میں اپنی بالادستی کسی نہ کسی طور برقراررکھی ہے انہیں جوبائیڈن نے متاثر کرنے کی کوشش کی ہے اورکسی حد تک کامیاب رہے ہیں جبکہ ٹرمپ کادعویٰ تھاکہ جوکچھ وہ سوچتا اور کرتا تھا،اس سے امریکا کی طاقت اوردولت میں غیر معمولی اضافہ ہوااورعالمی سیاست ومعیشت میں امریکی بالا دستی برقراررہی مگر درحقیقت ٹرمپ کی پالیسیوں سے امریکا کو مجموعی طورپرخاصانقصان پہنچا۔ پالیسی سازاب یہ بات شدت سے محسوس کررہے ہیں کہ دراصل ٹرمپ کے آنے کے بعدسے امریکا کی سب سے بڑی طاقت والی حیثیت متاثر ہوئی ہے اور جوکچھ وہ کہتارہا،اس کے وہ اثرات رونما نہیں ہوئے جو ہونے چاہیے تھے۔امریکیوں کواچھی طرح اندازہ ہوگیاکہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے عالمی سطح پرامریکا کی پوزیشن قابل ذکرحد تک متاثرہوئی اوراب ایسے شخص کودوبارہ ایسی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
امریکی پالیسی سازیہ دعوی بھی کرتے ہیں جس سے بڑی حدتک واضح اختلاف کیا جا سکتاہے کہ امریکانے چارنسلوں تک دنیاکو ایک ایسانظام دیاہے جس نے امن،خوش حالی، استحکام اور جمہوریت کی راہ ہموارکی ہے۔یہ بات دیگرنظام ہائے سیاست سے موازنے کی صورت میں کہی جارہی ہے۔ امریکانے عالمی سیاست ومعیشت پرجو بالادستی پائی وہ اس کی سخت قوت کانتیجہ تھی۔امریکاکے پاس بے مثال قوت تھی اوراس قوت کو بھرپور انداز سے بروئے لانے پربھی خاطرخواہ توجہ تودی گئی لیکن اپنی ظالمانہ پالیسیوں کے سبب اپنے ارد گردنفرتوں کے پہاڑبھی کھڑے کرلئے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعدامریکانے باضابطہ عالمی طاقت کی حیثیت اختیارکی۔ایسانہیں کہ سردجنگ کے زمانے میں سابق سوویت یونین کے ہوتے ہوئے امریکا کی عالمی حیثیت اتنی مضبوط تھی جسے چیلنج نہ کیاجاسکتا تھاتاہم دنیا دوواضح عالمی قوتوں کے درمیان تقسیم تھی۔بظاہرامریکانے غیرمعمولی عسکری قوت کے ذریعے پوری دنیاکواپنی مٹھی میں رکھنے کی پوری کوشش کی لیکن سردجنگ کے خاتمے کے بعدامریکاکی عسکری قوت مزید بڑھ گئی۔عالمی معیشت میں بھی اس کا حصہ اس قدر بڑھ گیاکہ ایک مرحلے پر امریکی خام قومی پیداوار عالمی خام قومی پیداوارکاپچیس فیصدتھی۔ دنیانے کسی ایک ملک کوباقی دنیا کےمقابلے میں اس قدر طاقتورکبھی نہیں دیکھالیکن امریکاکویہ مقام کبھی نہ ملتا اگر سوویت یونین افغانستان میں جارحیت کی غلطی نہ کرتااورپاکستان جیسااتحادی امریکاکی بھرپور مددنہ کرتالیکن امریکا نےاپنی سابقہ تاریخ دہراتے ہوئےپاکستان کےساتھ وہی سلوک کیا کہ جونہی سابقہ روس شکست وریخت سےدوچارہوا، امریکا نےوعدہ خلافی کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کوبیچ منجدھار میں چھوڑکرفوری طورپر پاکستان کے مخالف کیمپ کوگلے لگالیاکیونکہ بھارت نے بھی پانچ دہائیوں سے ایک وفادارساتھی روس سے آنکھیں پھیرکرامریکاکے قدموں میں پناہ لیکراپنی برہمنی روایت کوقائم رکھاجس کاحال روسی وزارتِ خارجہ نے بھرپورگلہ کا اظہار بھی کیاہے۔
لیکن قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ مکافاتِ عمل نے چندبرسوں کے دوران امریکی بالا دستی کے لئے بہت سے خطرات پیداکر دیئے ہیں۔اب چین،روس اوردیگر ممالک ابھر کر سامنے آئے ہیں مگراس کے باوجود امریکاسمجھتاہے کہ اس کی عسکری اورمعاشی قوت اب بھی اس قدرہے کہ وہ عالمی سیاست ومعیشت پرنمایاں حد تک متصرف ہے اورامریکی قیادت اب بھی دنیابھرمیں معاملات کو الٹنے اورپلٹنے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہے۔دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پرامریکاچاہتاتو ایسی حکمت عملی ترتیب دے سکتاتھاجوصرف اس کے لئے کارگر ہوتی اوراسے زیادہ سے زیادہ عسکری ومعاشی قوت سے ہمکنارکرتی مگر پالیسی سازوں نے ایک ایسابین الاقوامی نظام ترتیب دینے پرتوجہ دی جس کے ذریعے صرف امریکابھرپور استحکام سے ہمکنارنہ ہوبلکہ مجموعی طورپرتمام خطے ترقی کریں، خوشحالی پائیں اورخاص طورپرہم خیال ممالک زیادہ مستفیدہوں۔اس بین الاقوامی نظام کو چلانےکے لئےادارے معرض وجودمیں لائے گئے،پروگرامزترتیب دئیےگئے۔یوں اب تک بین الاقوامی نظام کےمعاملے میں امریکاعالمی راہنماکی حیثیت اختیارکیے ہوئے ہے۔ امریکا نے عسکری اتحاد تشکیل دیئے۔کوشش کی گئی کہ بین الاقوامی تجارتی راستوں کوزیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جائے۔یہ سب کچھ عالمی سطح پرامن برقراررکھنے کی خاطر کیا گیا،مگردرحقیقت امریکایہ چاہتاتھا کہ ایک ایسی دنیاتشکیل دی جائے جس میں وہ خود زیادہ آسانی سے ترقی واستحکام سے ہمکناررہ سکے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعدکی دنیاکواپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کی امریکی مساعی درحقیقت صرف اس مقصدکے تحت تھیں کہ عالمی سیاست ومعیشت میں اس کی بالادستی قائم ہو اورمستقل بغیرکسی چیلنج کے برقراررہے۔اسی لئے کویت عراق جنگ کے بعدجارج بش اول نے یہودی نژادہنری کسینجرکے تشکیل کردہ نیو ورلڈآرڈرپروگرام کومتعارف کرانے کے بعدامریکانے جوعالمی نظام پراس قدرزوردیاتواس کابنیادی سبب یہ ہے کہ وہ معیشت،عسکری قوت اورسفارت کاری کےمیدان میں اپنی پوزیشن زیادہ سے زیادہ مستحکم رکھنا چاہتاہے۔اس کے لئے وہ جودنیا تشکیل دینے میں مصروف ہے،اس کاواحدمقصد اکیلے ہی اس سےبھرپوراستفادہ مقصودہے تاکہ عالمی معیشت کواپنی مرضی کے مطابق چلاکرامریکا اپنی طاقت میں بے پناہ اضافہ کرکے عالمی بالادستی کویقینی بنائے۔
یہ نکتہ نظراندازنہیں کیاجاناچاہیےکہ امریکا نےعالمی سیاست ومعیشت میں اب تک جو بھی مرضی کے فیصلے کیےہیں ان کےحوالےسےاپنے اتحادیوں کے لئے زیادہ طاقت استعمال نہیں کی۔وہ اگرچاہتاتواپنی طاقت کےذریعے غیرمعمولی حدتک اپنی مرضی کے فیصلے کر سکتا تھا مگراس کے بجائے کم استحصالی اندازاختیار کرکے امریکانے ان تمام ممالک کومجوزہ مفادات میں کچھ حصہ ضروردیاجوعالمی نظام کےحوالےسے اس کےتصورات کوقبول کرنے کے لئے تیار تھے۔دیگرسپرپاورز کے مقابلے میں امریکانے طاقت کے ذریعے بات منوانے پرکم توجہ دی۔ امریکاکے بہت سے شراکت داراس امرکابرملااعتراف کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی معاملے میں امریکاکی بالادستی سے اتنانہیں ڈرتے جتنااس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں امریکامعاملات سے الگ تھلگ نہ ہوجائے اورپھران ممالک کودیگرقوتوں کے ساتھ بھی سردجنگ کاسامناکرنا پڑے!
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں