(گزشتہ سے پیوستہ)
دنیا بھرمیں تیل کی آدھی تجارت بحرہند کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔چین کی سرمایہ کاری معاشی مقاصد رکھتی ہے یااسٹرٹیجک؟چینی منصوبے کے نتیجے میں معاشی استحکام کااندازہ لگانے کیلئے میتھیو اور جوناتھن نے تین مختلف معیاراوراصول متعارف کرائے ہیں،شپنگ لائنزکوقریب لانا، موجودہ بندرگاہوں میں فاصلے کم کرنااورملک کے اندرونی علاقوں کوبندرگاہ سے جوڑنے کیلئے سڑکوں کی تعمیر۔میتھیواورجوناتھن کے مطابق چینی منصوبے کوان تین معیارپررکھ کرجانچنے سے پتا لگاکہ اس منصوبے کومعاشی مقاصدسے جوڑنا غلط ہے۔زیک کوپرکے مطابق بحرہندمیں چینی فوجیوں کی موجودگی میں اضافہ حیرت انگیز نہیں ہے،چین بھی ابھرتی ہوئی طاقتوں کے روایتی راستے پرگامزن ہے۔چین بیرون ملک اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اپنے فوجی آپریشنزمیں توسیع کر رہا ہے۔بحرہندکے راستوں پرچینی تجارت کاانحصاربہت زیادہ ہے،یہ تجارتی راستے چین کیلئے بہت اہم ہیں،خاص کرتوانائی کی فراہمی کیلئے،اس لیے چینی حکومت کی جانب سے بحرہندمیں اپنے مفادات کاتحفظ کرناایک قدرتی امرہے۔
زیک کے خیال میں بحرہندمیں چینی فوج کی موجودگی کے سیکیورٹی اثرات ملے جلے ہوں گے۔ ان کوششوں سے خطے میں چین کے اثرو رسوخ میں اضافہ ہوجائے گا۔زمانہ امن میں قزاقوں کے خلاف آپریشنزاورخطے کی دیگرافواج سے تعاون پرچین کے بحری جہازوں کوبحرہندکی بندرگاہوں تک رسائی مل سکتی ہے،جہاں سے وہ تیل اوردیگرسپلائی کاسامان حاصل کرسکتے ہیں۔ زمانہ جنگ میں بحرہندمیں موجودچین کے بحری جہاز اور اڈے دشمن کیلئے آسان ہدف ثابت ہوں گے۔اس سب کے باوجود مستقبل میں بحرہندمیں چین کے سیاسی،معاشی اورعسکری اثرورسوخ میں اضافہ ہوگا،جس کی وجہ سے بحرہندکے حوالے سے حکمت عملی بنانے والوں میں تشویش رہے گی۔ بحرالکاہل سے مشرق وسطیٰ جانے والے اہم راستے، خلیج ہرمزاورآبنائے مالاکہ کے چیک پوائنٹس کے حوالے سے امریکااورآسٹریلیامیں تشویش پائی جاتی ہے۔ خطے میں چین کے بڑھتے اثرات سے جاپان بھی تشویش میں مبتلا ہے۔بھارت بھی بحرہندمیں چین کی جانب سے بنائی جانے والے موتیوں کی مالا(کی مانندبندرگاہیں)سے پریشان ہے۔ہمالیہ میں جاری چین اوربھارت کی طویل مسابقت کے پس منظرمیں ان بندرگاہوں کی وجہ سے خطے میں چین کونئے اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔گریگ کے مطابق میری ٹائم سلک روڈ کی وجہ سے پیداہونے والی غیریقینی صورتحال کاامریکا، جاپان،بھارت اورآسٹریلیااپنے قائم ہونے والے اتحادکے ذریعے جواب دے سکتے ہیں۔
جس کی برکراوراینڈریونے چارملکی سیکورٹی ڈائیلاگ(کواڈ)کے تاریخی کردار کا جائزہ لیا ہے۔یہ چارملکی گروپ آسٹریلیا،جاپان، بھارت اورامریکانے2004میں بحرہندمیں سونامی کے بعدانسانی مددکیلئے قائم کیاتھا۔چین کے ممکنہ ردعمل کے خدشے کی وجہ سے چاروں ممالک باقاعدہ طورپرگروپ کوفعال نہیں کرسکے تھے، مگراب چاروں ممالک نے کواڈکو 2018ء سے دوبارہ فعال کردیاہے جوتجزیہ نگاروں کے مطابق خطے میں چین کی بڑھتی معاشی اورعسکری سرگرمیوں کا جواب ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ بظاہر چاروں جمہوری ممالک کے درمیان بحرہندکوسب کیلئے کھلارکھنے کیلئے تعاون کرنے کی حکمت عملی پر اتفاق پایاجاتاہے لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی اورعسکری طاقت کوروکنے
کاپلان ہے۔’’کواڈ‘‘میں جہاں چین کی حکمت عملی میں مثبت تبدیلی کروانے کی پوری صلاحیت ہے لیکن بہت محتاط اندازمیں اقدامات کرنے کے باوجودچین کو اس کاپوراادراک ہے اورچین کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ بیانات میں الجھنے کی بجائے ٹھوس اقدامات پر بھرپور توجہ اوربعدازاں جواب دینے کی عملی صلاحیت کامظاہرہ کرنے میں سستی کامظاہرہ نہیں کرتا۔
یہ رپورٹ’’ سی ایس آئی ایس‘‘ کے ماہرین نے بحرہندکی جیوپولیٹیکل صورتحال کے حوالے سے تیارکی ہے۔ماہرین کے مطابق میری ٹائم سلک روڈمنصوبہ نہ تومکمل طورپرمعاشی منصوبہ ہے اورنہ مکمل طورپرعسکری منصوبہ ہے۔چین کی حکمت عملی تیاری کے مراحل سے گزرکرتکمیل کی طرف رواں دواں ہے۔اس رپورٹ سے امریکا ودیگر ممالک کویقینا میری ٹائم سلک روڈکے حوالے سے اپنی حکمت عملی تیار کرنے میں مدد ملی ہے۔ بظاہرتواس رپورٹ کے بعدتوقع کی جارہی تھی کہ بیجنگ کواپنی معاشی حکمت عملی کومزید واضح کرنے کیلئے زور ڈالاجاسکے لیکن سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ چین ان تمام خطرات کے سدباب کیلئے اپنے دفاعی کارڈاپنے سینے سے لگائے بیٹھا ہے اوریہ طے ہے کہ امریکااوراس کے اتحادیوں کی موجودہ پالیسیاں ہی ان کوڈبونے کیلئے کافی ہیں جس کی وجہ سے ان کے مغربی اتحادیوں نے اب تک ایران کوتنہاکرنے کی امریکی پالیسی سے خودکوالگ رکھاہواہے اوراب توبراہِ راست یورپ اورچین کے مابین بڑھتے تعلقات نے گیم کا رخ تبدیل کردیاہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ خودپاکستان نے اس منصوبے کے ساتھ کیاسلوک کیا؟ایک اہم رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ منصوبوں کی تکمیل میں طویل تاخیراور بقایاجات کی تعمیرکے درمیان،چین کے صوبہ سنکیانگ سے بلوچستان کے گوادرتک چلنے والابہت مشہور چائنا پاکستان اکنامک کوریڈورکوتیزی سے غیر فعال کرنے کیلئے پہلے کام میں سستی اوربعدازاں ’’کورونا‘‘کے غلاف میں لپیٹ کراسے روک دیا گیا، جس کی وجہ سے دونوں ممالک میں بڑھتی مایوسی نے کئی شکوک وشبہات پیداکردیئے ہیں۔ شنید یہ ہے کہ اب بیجنگ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کیلئے گروی رکھے ہوئے فنڈز جاری کرنے سے گریزاں ہے۔دریں اثنا چینی کمپنیوں نے بقایا جات کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے سی پیک منصوبوں میں بجلی کی پیداواربھی روک دی ہے۔سی پی ای سی کے قرضوں پرسودکی بلند شرح، پراجیکٹ کی بڑھتی ہوئی لاگت، کمزور پراجیکٹس، اورسی پی ای سی کے انفراسٹرکچرپر حملے بڑے مسائل ہیں جوایک سفیدہاتھی کاخواب بن گیا ہے۔ اس سے پاکستان میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے حال ہی میں اہم منصوبوں کی سست رفتاری پرعدم اطمینان کااظہارکیاہے۔
یہ منصوبہ،چین اورپاکستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کوبڑھانے کیلئے آج پہلے سے زیادہ اہم ہے لیکن دشمنوں کی طرف سے دہشت گردی کے خطرات سے متاثرہ علاقوں میں چیلنجز کاسامناہے۔بلوچستان کے علاوہ سی پیک کی تعمیراتی جگہوں کو نشانہ بنایاجارہاہے جیساکہ حال ہی میں بشام میں چینی باشندوں کولے جانے والی بس پر خودکش حملہ ایک مرتبہ پھر سیکورٹی کے خطرات کی عکاسی کرتاہے۔افغانستان کی سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے،جوتاریخی عسکریت پسندی کیلئے مشہور ہیں، سیکورٹی کے منظرنامے میں پیچیدگی پیدا کررہے ہیں۔ مزید برآں،جغرافیائی سیاسی کشیدگی اورکوریڈورکی حساس سرحدی علاقوں سے قربت مزیدمضبوط حفاظتی اقدامات میں اضافہ کرکے اوراضافی سیکورٹی فورسزکی تعیناتی اورنگرانی کے نظام کونافذ کرنے کیلئے دونوں حکومتوں نے مشترکہ پلان بھی تیارکیاہے جس پرعملدرآمد شروع ہوچکاہے۔چین کوباقاعدہ بشام حملے میں ملوث سرحدپارٹی ٹی پی کی طرف سے اس حملے میں پلان کرنے والوں،ان حملوں میں ملوث ان تمام افرادکے باقاعدہ ثبوت مہیاکئے گئے ہیں،جن کو چین نے باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل کے طورپراب افغانستان کی موجودہ حکومت سے اس کو کنٹرول کرنے کامطالبہ کیاجائے گا۔
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس پراجیکٹ پرمجرمانہ تاخیرکی فوری تحقیقات کرکے ان قومی مجرموں کی نشاندہی کرتے ہوئے ضروری ہے کہ ان کوسخت ترین سزاسناکردشمنوں کو واضح پیغام دیاجائے کہ ملکی سلامتی کیلئے ساری قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوارکی طرح تیار ہے۔ دراصل یہ ہے’’یومِ تکبیرکااصل پیغام‘‘جس کو ہم ابھی تک فراموش کئے بیٹھے ہیں۔