Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

توآؤمرجائیں!

آئے روزمسلمانوں کے خون کی بڑھتی ہوئی ارزانی سے دل ڈوب جاتاہے،ایسے لگتاہے جیسے میں مرگیاہوں،بس میراجسم لوگوں کے ہجوم میں ایک تنکے کی طرح معلوم ہوتاہے۔ کبھی کبھی ایسے لگتاہے کہ یہ جو سارا لہو بہہ رہاہے،یہ مسلمانوں کانہیںبلکہ یہ لہوہی نہیں، لہوکیایہ کچھ بھی نہیں۔مجھے لگتاہے یہ خواب ہے،یہ دنیابھی کچھ نہیں۔اگراس دنیاپہ کسی کوجینے کاحق ہے توبس ظالم کوہے۔مولوی اورزاہدانِ دین بھی مجھے موردالزام ٹھہراتے ہیں کہ یہ سب تیری وجہ سے ہے لیکن افسوس وہ یہ کیوں نہیں جانتے کہ میں تومراہواہوں،میں توایک لاش کی ماننداس دھرتی پہ پڑاہوں،کوئی مجھے اس دھرتی میں دفن کردے تومیں احسان مندرہوں گا۔میری روح بس ہوامیں اڑتی رہتی ہے اوراسی کی وجہ سے مجھے تکلیف پہنچتی ہے۔
میں ایک لکھاری ہوں،بکاہوایامرا ہوا یاجو مرضی سمجھیں،آپ کوحق حاصل ہے۔لوگو!میں بھی خوش رہناچاہتاہوں،میں اپنے حکمرانوں اور سیاستدانوں کی طرح بے حس رہناچاہتا ہوں۔کتنی سکون والی زندگی ہوگی حکمرانی والی زندگی،جس میں اپنے سوا، اپنے خاندان کے سواکچھ دکھائی اورسنائی نہیں دیتامگرمیں تنگ ہوں،آپ کی وجہ سے نہیں،مجھے اپنی روح سے پریشانی ہے،کاش کہ میری روح کوکوئی قتل کردے۔
آپ کومعلوم ہوگاکہ انسان کبھی کبھی مرنے سے پہلے مرجاتاہے،اسی طرح جب ایک فردمرتاہے تواسی کی وجہ سے پوراسماج مرنے لگتاہے اوریوں ایک بے حس معاشرہ بن جاتاہے اورکبھی کبھی میں خودکومضبوط کرلیتاہوں اورایک سنگدل ساانسان بن جاتاہوں۔تب مجھے لگتاہے،میں زندہ ہوں لیکن پھرمیرے زندہ ہونے سے مجھے لگتاہے، معاشرہ مراہواہے، یعنی میرادل نرم ہو جائے یاپتھر بن جائے دونوں صورتوں میں معاشرے کونقصان پہنچتاہے۔آپ ہی دیکھ لیں،ہم بطورمسلمان کیامسلمان ہیں؟کتنی حقیر سوچ ہے میری کہ میں آج کے مسلمان کے ایمان کوشک وشبہ کی نظرسے دیکھتاہوں،اس وجہ سے بھی معاشرے کویعنی مسلم معاشرہ کوتکلیف ہوگی۔
ہم نے ٹوپی،تسبیح کے منکوں،مسجدکے میناروں، عیدکی مٹھائی،قربانی کے گوشت،لمبے لمبے جبوں میں اسلام کوچھپانے کی کوشش کی ہے اورمزید دفنانے کی کوشش میں ہم سب عالم، استاد،ڈاکٹرز، مفتی،امام، سکالرزسب غیروں کی مددکررہے ہیں، اتناکچھ ہورہاہے مسلمان کی عزت کی ہرروزطرح طرح سے تذلیل جاری ہے اورمسلمان کی غیرت کوسلایااور سہلایاجارہاہے،آج ہے ہمت کسی کے پاس کہ جہادکانام لے کردکھائے؟اسے دہشت گردیااورانتہا پسندکہہ کرماردیاجائے گایعنی ہمارا دشمن کامیاب ہوگیا،وہ جہادکودہشتگردی کہلوانے میں کامیاب ہوچکا۔مسلمان کوامن کاسبق دے کرمحبت کے جال میں پھنساکران گنت نعشیں گرائی جارہی ہیں۔
کون ہے دہشت گرد؟کیایہ جوڈراموں اور چینلزپہ داڑھی والوں کودہشت گردکہاجاتاہے،وہ ہیں دہشت گرد؟ اوئے مت ماری گئی اے تیری! رب کی قسم!تیری سوچ ہی یہی بنائی جارہی ہے کہ یہ داڑھیوں والے ہی دہشت گردہیں۔ذرااپنے کلین شیو،کالاکولالگائے ہوئے حکم رانوں میں بھی دیکھ اگروقت ملے تواپنے لکھاریو ں میں بھی دیکھ، اگروقت ملے توصحافیوں اور ڈاکٹرزمیں بھی دیکھ۔
دہشت گردی،غزہ فلسطین میں،بغدادعراق میں روہنگیابرمامیں کی جائے تووہ کیاہے؟غوطہ شام میں یامقبوضہ کشمیرمیں مسلمان حواکی بیٹی لوٹی جائے، بوسنیا مسلمان کے بچوں کومشینوں میں کاٹ کرچارہ بنادیا جائے توکیاہے؟اوراگریورپ میں ایک پٹاخہ بھی پھٹ جائے تومورد الزام مجھے ٹھہرایا جاتاہے کیوں؟ ہمارے خون کی کوئی قدرومنزلت نہیں؟ان کی سڑکوں ،کتوں بلیوں کی ،ہمارے جسموں سے بھی زیادہ قدرہے۔ مسلمان کہاں ہیں؟کیامسلمان ایسے ہوتے ہیں،جیسے میں اورہم ہیں؟مسئلہ کہاں ہے،مسئلہ ختم کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہمارے تمام اسلامی ممالک کی افواج اسلام کی کارکردگی اور ایمان پررب العزت کی قسم ایک سوالیہ نشان ہے؟مجھے تولگتاہے،میں لاش ہوں،کھاتی پیتی،چلتی پھرتی لاش کیونکہ زندگی تووہ ہے جس میں زندہ رہاجائے اورزندہ ہونے کاثبوت دیاجائے۔شائدمجھے اس لیے لگتاہے کہ میں ایک بے حس لاش ہوں جس کے ساتھ جومرضی چاہے رویہ رکھے ۔سوال ایک آپ سے بھی ہے کہ کیامیں تنہالاش ہوں یاآپ پربھی یہی گزررہی ہے مجھے توخوف آتاہے ایسی زندگی سے۔
اگرآپ پریہی گزررہی ہے توآؤمرجائیں۔ روہنگیا،غزہ،غوطہ،یمن،مقبوضہ کشمیرکے مظلوم ومقہوراور معصوم بچوں،بہنوں اوربھائیوں کوبچانے کے لئے وگرنہ ان کی چیخوں،فریادوں کی دہلادینے والی آواز آسمانوں تک پہنچ چکی ہے،جس کے جواب میں ہی یہ ان دیکھاجرثومہ کروناکی شکل میں ہمارے تعاقب میں آیا تھا۔ وقتی طورپرسب ہی دبل کربیٹھ گئے، خوف کی ایسی لہرچلی کہ نیویارک، ، پیرس، لندن کی مصروف ترین سڑکیں ویران ہو گئیں، مساجداوردیگرتمام عبادت گاہیں اپنے ہاتھوں بندکرنی پڑگئیں،حرمین شریفین میں داخلہ ممنوع ہوگیا،سالانہ حج پرپابندی لگ گئی کیونکہ سامنے موت نظرآرہی تھی۔خوب گڑگڑاکردعائیں کیں لیکن جونہی اس وباپرقابوپایاتوہمارے لچھن پہلے سے زیادہ نافرمانی کی طرف مائل ہوگئے۔غزہ میں جاری قیامت خیزمناظرابھی تک بند نہیں ہوئے لیکن ہمارے مقتدر اشرافیہ نے سارے ملک میں چھٹی کرکے آگاہ کیاکہ ہم آج ہی کے دن ایٹمی قوت کے حامل بن گئے تھے لیکن کیاکروں جب قرآن کے اس پیغام کی طرف نگاہ دوڑاتا ہوں توبدن میں جھرجھری پیداہوجاتی ہے کہ مرے رب کا توفرمان ہے:
آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبالیے گئے ہیں اور فریاد کررہے ہیں کہ خدا یا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے۔
لیکن ہم توزمینی حقائق سے نظریں چرانے میں عافیت سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت تویہ ہے کہ غیبی امدادنہ اسپین پہنچی،نہ خلافت عثمانیہ کوبچانے کے لئے آئی،نہ اسرائیل کاقیام روکنے کے لئے آئی اورنہ ہی اب ہماری آنکھوں کے سامنے غزہ کے پرخچے اڑتے ہوئی آئی،نہ بابری مسجدکے وقت آئی،نہ عراق اورشام کے وقت آئی,نہ روہنگیامیں اللہ کے نام لینے والے بے بس مسلمانوں کے ذبح ہوتے وقت آئی،نہ گجرات کے وقت آئی،نہ مقبوضہ کشمیر کے لئے آئی لیکن عجب وقت ہے کہ پھربھی گھروں اور مسجدوں میں بیٹھ کرغیبی مددکی صدائیں دی جارہی ہیں ؟کوئی انہیں سمجھائے کہ غیبی مددجنگ بدرمیں آئی جب1000کے مقابلے میں 313میدانِ جنگ میں اترے۔غیبی مدد جنگ خندق میں آئی جب اللہ کے محبوب ﷺنے پیٹ پر2پتھر باندھے اورخودخندق کھودی اور میدانِ جنگ میں اترے۔غیبی مددافغانستان میں آئی جب بھوکے پیاسے مسلمان بے سروسامانی کے عالم میں میدانِ جنگ میں اترے۔
دنیاکاقیمتی لباس پہن کر،مال وزرجمع کرکے، لگژری ایئرکنڈیشنڈگاڑیوں میں بیٹھ کر(انہی کافروں کی بنائی ہوئی مصنوعات زیر استعمال لاکر) جھک جھک کرلوگوں کے ہاتھ چومنے کی خواہش لے کر،لوگوں کی واہ واہ کی ہنکارکی خواہشات لئے مسجدوں کے منبروں پر بیٹھ کربددعائیں کرکے غیبی مددکے منتظرہیں؟ طاغوت کے نظام پرراضی اورپھرغیبی مددکے منتظر ؟
اللہ کی زمین پراللہ اوراس کے محبوب ﷺ کے نظام کے نفاذکی جدوجہدکی بجائے صرف نعت خوانی،محفلِ میلادیاتسبیح کے دانوں کودس لاکھ بیس لاکھ گھماکرغیبی مددکے منتظرہیں؟ آفاقی دین کو چند جزئیاتِ عبادت میں محصورومقیدکرکے غیبی مددکے منتظر ہیں؟ خود کواوردوسرے مسلمانوں کومجاہدبنانے کی بجائے مجاوربنا کر، خوب پیٹ بھرکرفربہ جسم لئے غیبی مدد کے منتظرہیں؟ جہادفی سبیل اللہ اورجذبہ شہادت سے دوررہ کراوردوررکھ کرمسلمانوں پر ہونے والے ظلم وجبراورمصائب ومشکلات دیکھ کراللہ دشمن کوغرق کردے۔ اللہ دشمن کوتباہ و برباد کر دے،یااللہ مظلوموں کی مددفرما۔یااللہ دشمنوں کو ہدایت عطافرمادے اوراگران کے نصیب میں ہدایت نہیں توانہیں غرق کردے جیسی بددعاں پر اکتفاکرکے سکوت اختیار کرلینے اورسکون سے نوالہ ترحلق سے نیچے اتارکرپھردوبارہ پیٹ بھرکرگہری نیند سونے والے غیبی مدد کے منتظرہیں؟یعنی سب کچھ اللہ کے ذمہ لگاکراورخودکنارہ کشی اختیارکرکے غیبی مددکے منتظرہیں؟
میدان جہادمیں اترنے سے ڈرتے اور کتراتے ہوئے آسمانوں سے فرشتوں کے نازل ہوکر مسلمانوں کی غیبی مددکے منتظرہیں؟ایسی صورت میں غیبی مددنہیں صرف عذاب ہی آئے گا جوہم ناعاقبت اندیش حکمران،بداندیش افسران، ذخیرہ اندوزی، ناجائزمنافع خوری،جھوٹ،کم تولنا، ملاوٹ،خود غرضی ودیگرمعاشی ومعاشرتی برائیوں کی شکل میں بھگت بھی رہے ہیں!خواب غفلت سے بیدار ہوں، علم، کرداروجہد مسلسل سے اپنے مہربان رب سے رجوع کریں اور مددطلب کریں۔میری آپ سے گزارش ہے کہ میری یہ فریاد بغور پڑھیں تاکہ آپ بھی میری اس فریادمیں شامل ہوسکیں۔میرے مضطرب دل کے لئے دعابھی فرمائیں کہ میرارب روزقیامت مجھے رسول اکرم ﷺ کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچا لے! آمین

یہ بھی پڑھیں