اس وقت قوم بالخصوص نوجوان نسل اورحساس افرادبڑے مایوس اوردل شکستہ نظرآتے ہیں لیکن میں سمجھتاہوں کہ دل کاٹوٹنا بھلاکوئی آسان بات تھوڑی ہے؟کیایونہی اس کی قیمت چکائی جاسکتی ہے؟دل دنیاکی واحدشے ہے جس کی قیمت ٹوٹنے کے بعدکئی گنابڑھ جاتی ہے،قیمت بڑھ جائے اورایسی بڑھے کہ آوازآئے ’’کہ ہم ٹوٹے ہوئے دلوں میں رہتے ہیں۔کیااس مقام کوحاصل کرنے والاکوئی للوپنجوہوسکتاہے ؟‘‘
دل ٹوٹے،کئی حصوں میں تقسیم ہواورتقسیم شدہ یہ پارچے تخت الہی بن جائیں،کیایہ یونہی ہوجائے گا؟ دردنہ دکھ؟تکلیف نہ کوفت؟ پیڑنہ پنچائت؟غم نہ گھٹن؟ آلام نہ مصائب؟ واہ واہ واہ۔مقام اور عہدے بھلایونہی مل جاتے ہیں؟اورپھریوں ملے عہدوں کی وقعت ہی کیا؟خواہ مخواہ ملے مرتبے کی حیثیت ہی کیا؟مل بھی جائے توایسے مقام کی اہمیت ہی کیا؟ مقام کی وقعت، حیثیت،اہمیت حتی کہ افادیت کااندازہ ہوتاہی نہیں، ہوہی نہیں سکتاجب تک کہ دردکی نیلی نیلی آگ میں تپ کرمحبت کامجسمہ عشق کے راستے سے ہوتے ہوئے دل کے ٹوٹنے تک کی منزل پرنہ پہنچ جائے۔دل ٹوٹنا ضروری ہے، لازمی ہے،ناگزیرہے،کہ ٹوٹے دل ہی میں تو ’’اناعِند المنکسِرِ قلوبھم‘‘کی صدائیں بلند ہوتی ہیں،تخت لگتا ہے،بادشاہ بیٹھتاہے،فیصلے ہوتے ہیں،کتنوں کی قسمتوں کے فیصلے،مقدرکے فیصلے۔ لہذادل ٹوٹتاہے توٹوٹنے دیجیے،ہنستے مسکراتے ٹوٹنے دیجیے۔ ٹوٹاہوادل جوڑناسکھادے گا اور جس دن آپ کو جوڑنا آگیانہ تو کچھ ایسا نہیں رہے گاجوآپ نہ کرسکیں،ٹوٹنے دیجیے دل،ٹوٹنے دیجیے۔
ہم نے ایسی حکومت کو بھی بھگتاہے جوکھلے عام عوام کے سامنے یہ دعویٰ کرتے تھے کہ حکومت کے پہلے 100دنوں میں آئی ایم ایف کے منہ پر200ارب ڈالرمارکران سے نجات حاصل کر لیں گے لیکن جب حکومت سنبھالی تواپنی کابینہ سے نیاترمیمی ایکٹ 2021 برائے سٹیٹ بینک پاس کرکے سارا سٹیٹ بینک ہی آئی ایم ایف کے منہ پرماردیا گیا جوابھی تک غلامی کی چادرتلے کام کرنے پرمجبورہے۔اس حکومت نے ملک میں سائنسی،علمی،زرعی اوردیگر علوم کی ترویج کے لئے کام کرنے کاوعدہ کیاتھالیکن کیااپنے دورِ حکومت کے پہلے یوم پاکستان 23مارچ کوتقسیم ہونے والے ایوارڈ میں ان ترجیحات کومدنظررکھاگیا۔ کیا کوئی ایک ایوارڈبھی علمی، سائنسی ، زرعی یادیگرکسی ادارے کے لئے کام کرنے والے کسی ریسرچ اسکالرکوملا؟ہماری قوم نے توصدرِپاکستان عارف علوی کوریشم اورمہوش کواچھانا چنے گانے پراپنے دستِ مبارک سے صدارتی ایوارڈ سے نوازتے دیکھا۔اسی طرح درجن سے زائدڈوم میراثی افرادمیں ایوارڈ تقسیم کرکے قومی ایوارڈوں کی بے توقیری کردی گئی۔ یادرہے کپتان نے عوام سے وعدہ کیاتھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کوریاست مدینہ بناؤں گا۔ انہوں نے مولانا طارق جمیل کویہ ایوارڈ دے کر مدینہ کادامن نہیں چھوڑا۔ مولانا طارق جمیل کاکم ازکم یہ فائدہ تو ضرورہے کہ ایوان اقتدارمیں لاہوری قادیانی شوکت عزیزہو، فاسق کمانڈوپرویزمشرف یا عمران خان،یہ سب کوتبلیغ کے نام پرسلام کرنے ضرورتشریف لے جاتے ہیں اورجب ملاقات کے بعد ایوان اقتدارسے باہر تشریف لاتے ہیں توانہیں اسلام اورپاکستان کے سچے خادم کاسرٹیفکیٹ دینااپنافرض منصبی سمجھتے ہیں ۔ اِنا لِلہِ واِنآ اِلیہِ راجِعون
جن سیاسی رہنمائوں کی گاڑیوں کے آگے پیچھے دوڑدوڑکر اس پرپھولوں کی پتیاں نچھاورکرتے تھے حالانکہ وہ عدالتوں میں اپنی بدعنوانی اورقومی دولت کوبے رحمی سے لوٹنے کے جرم میں پیش ہونے جارہے ہوتے تھے،وہ جب اقتدارمیں پہنچے تو انہوں نے بھی ’’مارے کوماریں شاہ مدار‘‘کے ہتھیار سے قوم کوذبح کر دیا ۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں مہنگائی کے ہاتھوں بلبلانے والی کروڑوں افرادکے لئے قومی خزانے سے رمضان پیکج کااعلان ہوا توفوری طورپرآٹے کے تھیلے پرمیاں نوازشریف کی تصویرپرنٹ کرکے اسے آج کے دورکا ’’حاتم طائی‘‘پینٹ کرنے کی کوشش کی گئی تومجبورومقہورعوام کواس تذلیل سے بچانے کے لئے عدالت کواس میں مداخلت کرناپڑگئی لیکن اس کے باوجوداپنے مہربان کومحض کروڑوں روپے اس پراجیکٹ کی تشہیرکے لئے عطاکردیئے گئے۔جب متعلقہ محکمہ کی ایماندارخاتون افسر نے اس حکم کوماننے سے انکارکیا تواس خاتون سمیت مزیددس افسرن کو’’ او ایس ڈی‘‘ کا پروانہ تھما دیاگیااورآنے والے متعلقہ افسرنے کروڑوں روپے کی واگزاری میں ایک لمحے کی تاخیرنہیں کی۔
ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی
دردبے چارہ پریشاں ہے کہاں سے نکلے
حاجیوں کی تعدادکے لحاظ سے پاکستان دنیا میں دوسرے نمبرپراورعمرہ کرنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے پہلے نمبرپرہے جبکہ دنیابھرمیں ایمانداری کے انڈکس کے مطابق پاکستان کا160نمبر ہے، ورلڈجسٹس پراجیکٹ کی سالانہ رپورٹ میں پاکستانی عدالتی نظام کوقانون کی حکمرانی کی پابندی کرنے والے ممالک میں سب سے نچلے نمبر139 ممالک میں سے130ویں نمبرپر رکھا گیاہے۔ 1500 یونٹ کو500یونٹ لکھنے والارشوت خورمیٹرریڈر، خالص گوشت کے پیسے وصول کرکہ ہڈیاں بھی ساتھ تول دینے والا قصائی،خالص دودھ کانعرہ لگاکر ملاوٹ کرنے والا دودھ فروش،بے گناہ کی ایف آئی آرمیں دومزید ہیروئین کی پڑیاں لکھنے والا انصاف پسندایس ایچ او،گھربیٹھ کرحاضری لگواکرحکومت سے تنخواہ لینے والامستقبل کی نسل کامعماراستاد،کم ناپ تول کرپورے دام لینے والادوکاندار،100 روپے کی رشوت لینے والاعام معمولی ساسپاہی، معمولی سی رقم کے لئے سچ کوجھوٹ اورجھوٹ کو سچ ثابت کرنے والا وکیل، سوروپے کے سودے میں دس روپے غائب کر دینے والا بچہ، آفیسرکے لئے رشوت میں سے اپنا حصہ لے جانے والامعمولی ساچپڑاسی،کھیل کے بین الاقوامی مقابلوں میچ فکسنگ کرکے ملک کا نام بدنام کرنیوالا کھلاڑی، ساری رات فلمیں دیکھ کرسوشل میڈیاپرواہیات اورجھوٹ پرمبنی پروپیگنڈے کوآگے بڑھانے والا اورفجرکواللہ اکبر سنتے ہی سونے والانوجوان، کروڑوں کے بجٹ میں غبن کرکے دس لاکھ کی سڑک بنانے والاایم پی اے اورایم این اے، لاکھوں غبن کرکے دس ہزار کے ہینڈ پمپ لگانے والاجابر ٹھیکیدار،ہزاروں کاغبن کرکے چندسومیں ایک نالی پکی کرنے والاضمیر فروش کونسلر،غلہ اگانے کے لئے بھاری بھرکم سود پہ قرض دینے والا ظالم چودھری، زمین کے حساب کتاب وپیمائش میں کمی بیشی کرکے اپنے بیٹے کوحرام مال کامالک بنانے والا پٹواری اور ریونیو آفیسر، ادویات اورلیبارٹری ٹیسٹ پرکمیشن کے طورپرعمرہ کرنے والے ڈاکٹر،اپنے قلم کوبیچ کرپیسہ کمانے والا صحافی،منبررسول پربیٹھ کردین کے نام پر چندے اور نذرانے والے مولوی اورپیر صاحبان اورہر کوئی سوشل میڈیاکوبغیرتحقیق کے بے تحاشہ استعمال کرکے خودکوبری الذمہ سمجھتاشہری،اگر اس دورمیں اگرہم پرنئے اور پرانے پاکستان کی گردان کرنے والے سیاستدان مسلط ہیں،تویہ ہمارے اعمال کی سزانہیں تواورکیاہے؟
لاس اینجلس کے ڈاکٹر ابراہام نے انسانی روح کاوزن معلوم کرنے کے لئے نزع کے شکار لوگوں پرپانچ سال میں بارہ سوتجربے کیے۔اس سلسلے میں اس نے شیشے کے باکس کا ایک انتہائی حساس ترازوبنایا،وہ مریض کواس ترازوپرلٹاتا،مریض کی پھیپھڑوں کی آکسیجن کاوزن کرتا،ان کے جسم کاوزن کرتااوراس کے مرنے کاانتظارکرتاتھا- مرنےکے فورابعد اس کاوزن نوٹ کرتا۔ڈاکٹر ابراہام نے سینکڑوں تجربات کے بعد اعلان کیاکہ انسانی روح کاوزن21گرام ہے۔گویاانسانی روح اس21 گرام آکسیجن کا نام ہے جو پھیپھڑوں کے کونوں، کھدروں، درزوں اور لکیروں میں چھپی رہتی ہے، موت ہچکی کی صورت میں انسانی جسم پروارکرتی ہے اور پھیپھڑوں کی تہوں میں چھپی اس21گرام آکسیجن کوباہردھکیل دیتی ہے۔اس کے بعدانسانی جسم کے سارے سیل مرجاتے ہیں اور انسان فوت ہوجاتا ہے۔ ہم نے کبھی سوچاہے کہ یہ21گرام کتنے ہوتے ہیں؟ 21گرام مکئی کے 14 چھوٹے سے دانے ہوتے ہیں، ایک ٹماٹر،پیازکی ایک پرت،ریت کی6چٹکیاں اورپانچ ٹشوپیپرہوتے ہیں لیکن ہم بھی کیا لوگ ہیں کہ21گرام کاانسان خودکوکھربوں ٹن وزنی کائنات کاخدا سمجھتا ہے۔ یہ ہے مجھ سمیت سب انسانوں کی اوقات ۔
یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ اگرروح کا وزن21گرام ہے توان21گراموں میں ہماری خواہشوں کاوزن کتناہے؟اس میں ہماری نفرتیں ،لالچ، ہیراپھیری،چالاکی، سازشیں، ہماری گردن کی اکڑ، ہمارے لہجے کے غرورکاوزن کتناہے؟ یہ 21 گرام کاانسان جوخودکو21گرام کے کروڑوں انسانوں کاحاکم سمجھتاہے،وقت کواپنا غلام اورزمانے کواپناملازم سمجھتاہے اوریہ بھول جاتا ہے کہ بس ذرا سی تپش،بس ذراسی ایک ہچکی ہمارے اختیارہمارے اقتدارہماری اکڑ،غروراور چالاکی کی موم کوپگھلادے گی اورجب یہ21 گرام ہوا ہمارے جسم سے باہرنکل جائے گی توہم تاریخ کی سلوں تلے دفن ہوجائیں گے اور21گرام کاکوئی دوسراانسان ہماری جگہ لے لے گا۔
ہائے یہ انسان جومڑکراپنی ہی کمرکاتل تودیکھ نہیں سکتااوردعویٰ کرتاہے کہ میں زمین پرچلنے والے ہرکیڑے کودیکھنے کی صلاحیت رکھتاہوں۔یہ ہے ہماری اوقات!