Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

اسرائیل آخری سانسیں لے رہاہے

میری انتہائی سادہ دیہاتی،سفید ان پڑھ ماں،عجیب سی باتیں کرتی تھی ’’دل کی آنکھ سے دیکھ،دل کے کان سے سن‘‘میں نے انہی سے سنا تھا۔ بہت جری اوربہادر،اب تونئی نسل کی بچیاں چھپکلی اورمعمولی سے کیڑوں کوسامنے دیکھ کر اپنے اوسان خطاکردیتی ہیں اوراپنی چیخوں سے سے آسمان سرپراٹھالیتی ہیں،لیکن کیا مجال کہ رات کا گھپ اندھیر آیاکبھی بادلوں کی کڑکتی گرج چمک سے انہیں کبھی خوف آیاہو۔یوں معلوم ہوتاتھاکہ خوف جیسی کوئی شئے بھی ان سے خوفزدہ ہے۔سفید موتئے کی کلیوں یاگلاب کے پھولوں کوایک بڑی تھالی میں رکھ کران سے باتیں کرناان کاایک معمول تھا۔میں ان سے کبھی پوچھتاکہ ماں جی! کیا یہ آپ کی باتیں سنتے ہیںتوفوراً مسکراکرفرماتیں کہ یہ نہ صرف سنتے ہیں بلکہ سمجھتے بھی ہیں، تجھے جس دن ان سے کلام کرناآگیاپھر دیکھنا تجھے کسی کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔خفابھی ہوجاتے ہیں یہ تو‘ یہ پودے،درخت اورپھل پھول بہت لاڈلے ہوتے ہیں،بہت پیار چاہتے ہیں،اسی لئے اکثر مائیں اپنی اولاد کوپھول کہہ کرمخاطب ہوتی ہیں۔ میں خاموش رہتا،کچھ سمجھ میں نہ آتالیکن اب کچھ کچھ سمجھنے لگاہوں اورشائدیہ انہی کی دعاؤں کا ثمر ہے۔
شوہرکاانتقال ہوگیاتوسب بچوں کی باپ بھی بن گئیں۔بڑی سی چادرمیں لپٹاہوارعب دار چہرہ، گھرکے تمام امورکوخود اعتمادی کے ساتھ سنبھالا دیا۔ کبھی نہیں جھکیں،سماج کوکئی مرتبہ جھکتے دیکھا۔اپنے شوہرکی طرح مجبوروں کیلئے انکار تو انہوں نے سیکھا ہی نہیں تھا۔جہاں سے گزرتیں، لوگ سرجھکاکرسلام کرتے،لمحہ بھررک کران کی خیریت دریافت کرتیں، ’’بالکل شرم نہ کرنا، کسی چیز کی ضرورت ہوتوبتادینا‘‘ان کی گفتگوکایہ آخری جملہ ہوتااوروہاں سے آگے بڑھ جاتیں۔ سب بچوں کی پڑھائی اور دوسرے معمولات پر مکمل اورگہری نظر ،مجال ہے کوئی عمل ان سے پوشیدہ رہ سکے۔وہ اکژ میرے کپڑے اس انداز اور نزاکت سے دھوتیں کہ ان کوبھی کہیں چوٹ نہ آجائے۔میں اکثران کے پاس بیٹھ جاتا اورکسی کتاب یااخبارسے کوئی کہانی قصہ پڑھ کر ان کوسناتارہتالیکن اس کہانی یاقصہ پران کاتبصرہ سن کریقین نہیں آتاتھاکہ میری ماں بالکل ان پڑھ ہے۔ایک دفعہ میں سامنے بیٹھاکچھ سنارہاتھا کہ اچانک ایک پتھرمیری پشت کی طرف دیوار پر دے مارا۔میں اس اچانک عمل پرخوفزدہ ہوگیا، پیچھے مڑکردیکھاتوایک زہریلا کیڑا تھاجو اس پتھر کی ضرب سے کچلاگیا۔وہ غضب ناک شیرنی لگ رہی تھیں۔ماں جی!اس نے آپ کاکیانقصان کیا تھا کہ آپ نے اس کایہ حشرکردیا۔کچھ نہیں، خاموش رہو میرے اس سوال پرمجھے سینے سے چمٹا کر بولیںیہ اگر میرے پھول کوکاٹ لیتاتب کیا کرتی؟کچھ لوگ بھی بہت معصوم لگتے ہیں لیکن ان میں زہربھراہوتاہے،ڈس لیتے ہیں پھربھی ناآسودہ رہتے ہیںہاں!یہ میں نے انہی سے پہلی دفعہ سنااورسیکھاتھا۔زندگی بھریہی ان کاعمل رہا،بہت مضبوط اعصاب کی مالک تھیں،ہردم نبردآزما ‘ سماج سے،وقت سے،حالات کے جبرسے۔
ہم سب کورات جلد سونے کاحکم تھالیکن خودکب سونے کیلئے جاتی تھیں،کسی کوعلم نہیں تھا۔ یہ پتہ ہے کہ صبح چاربجے اٹھ کر گھرکے کام کاج میں مصروف ہوجاتیں تھیں اورسب کوفجرکی نمازپڑھنے اورقرآن کریم کی تلاوت کااہتمام سختی سے کرواتی تھیں۔ صبح سویرے اٹھ کریوں محسوس ہوتاتھاکہ کوئی سارے گھرکی باقاعدگی کے ساتھ نگرانی کررہاہے۔اپنے پالتوکتے کو ہر روز شاباش دیتی کہ ساری رات تم نے کس قدر ذمہ داری سے اپنی ڈیوٹی نبھائی۔اس سے یوں باتیں کرتیں جیسے وہ اسی ستائش کامنتظر ہے۔ایک فاصلے پر سرجھکائے کھڑا،کیا مجال کہ اپنی حدودسے تجاوز کرے۔ایک مرتبہ اس کوسمجھادیاکہ دہلیز کے اس پاررہنا ہے۔ بس ساری عمرگرمی ہویا سردی،کوئی بہانہ بنائے بغیر،خاموشی کے ساتھ اپنے فرائض بجالاتا رہا اوراپنی مالکہ کے احکام کی تعمیل کی!مجھے آج تک معلوم نہیں ہوسکاکہ سب کچھ میری ماں نے کہاں سے سیکھاہے جس نے آج تک کسی کتاب کوچھواتک نہیں، کسی مکتب کو دیکھا تک نہیں یہ کیااسرارتھا؟
اب اس کی جتنی گہرائی میں جاتا ہوں، عقل ودانش کے نئے نئے پرت کھلتے جاتے ہیں۔ ان کے جملوں کی سادگی میں چھپی حکمت اور حلاوت آج پھرشدت سے محسوس کررہاہوں۔ وہی محبت میں گندھی ہوئی ماں،جب بھی لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑتے ہیں،فوراً اپنی کسی یادکے آنچل سے نمودار ہوکراسی طرح میراہاتھ پکڑکر لکھنا شروع کردیتی ہے جس طرح بچپن میں تختی پر لکھوانے کی مشق کرواتی تھیں۔
ان کی اپنی ایک کابینہ تھی۔اڑوس پڑوس کی کئی عورتیں اپنے دکھوں کاغم ہلکاکرنے کیلئے موجود رہتی تھیں۔ایک دن میں نے ان کویہ کہتے سنا چھوڑوبہن، دفع کرواسے،بے غیرت50 بھی ہوں توکیاکرنا،غیرت مندتوایک بھی بہت ہے، جو اپنے گلے کی حفاظت نہ کرسکے وہ چرواہا کیسا۔ہم سب پچھلی سات دہائیوں سے غزہ پرخوفناک بمباری کے دلدوزمناظر دیکھ ہی رہے تھے لیکن گزشتہ برس 7اکتوبرسے اب تک دل دہلادینے والے قیامت خیزمناظرایک لمحے کیلئے بھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہورہے لیکن عالم اسلام کے کسی حکمران کے کان پرجوں تک نہیں رینگ رہی۔ صابرہ اورشتیلہ بھی مجھے یادہیں،مجھے بوسنیا بھی نہیں بھولا، بھارتی گجرات کااحمد آباداورکشمیربھی دل کی دھڑکنوں کوبندکرنے کیلئے کافی ہے،عراق اور افغانستان کاحشرتوساری دنیا کے سامنے ہے۔ کیسی کیسی لہورنگ تصویریں ہیں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت ..پھول اورکلیاں خوں میں نہائی ہوئی، معصومیت بیدردی سے قتل ہورہی ہے،کڑیل نوجوانوں کودرگورکرنے کاسلسلہ اب بھی جاری ہے،نسل کشی کرنے والے ہنس رہے ہیں،کھیل رہے ہیں انسانیت کے ساتھ۔ مہلک ترین ہتھیاراستعما ل ہورہے ہیں،منوں بارود برساتے ہوئے انہوں نے کچھ نہیں دیکھا،آگ وخون کی ہولی کھیل میں مصروف رہے۔نیتن یاہو کتنے جوش اورتکبرسے کہہ رہاتھاکہ ابھی توشروعات ہیں ، آگے آگے دیکھتاجاؤ،ہم انہیں زمین سے اس طرح مٹادیں گے کہ تاریخ میں بھی ان کاذکرباقی نہیں رہے گالیکن 8ماہ گزرجانے کے باوجوداپنے یرغمالیوں تک نہیں پہنچ سکااور اب امریکااپنی ناجائزاولادکے تحفظ کیلئے اک نئے سفارتی جال کے ساتھ میدان میں اتراہے۔
جوبائیڈن نے اسرائیل،حماس جنگ بندی کا نیا منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ تنازع کو ختم کرنے کابہترین طریقہ اورموقع ہے اورحماس کو اسے فوری قبول کرلیناچاہئے۔یہ مجوزہ منصوبہ تین مراحل پرمشتمل ہے جس میں پہلے چھ ہفتے مکمل جنگ بندی ہوگی اوراسی دوران اسرائیلی فوجوں کاانخلا ہوگا اوریرغمالیوں اورسینکڑوں فلسطینی قیدیوں کاتبادلہ ہوگا ۔ اس منصوبے کے تحت فلسطینی شہری غزہ واپس جائیں گے اورغزہ میں روزانہ600 امدادی ٹرک روزمرہ استعمال کی اشیاء لے کر آئیں گے۔دوسرے مرحلے مں حماس اوراسرائیل جنگ کے مستقل خاتمے کی شرائط طے کریں گے اورجب تک مذاکرات جاری رہیں گے،مکمل جنگ بندی رہے گی۔اور تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیرنوہوگی۔حماس نے فی الحال ان تجاویز کو مثبت قراردیاہے۔
اس سے قبل بھی غزہ میں امدادلانے کے بہانے فلسطینی مزاحمت پر فوری جنگ بندی قبول کرنے کیلئے دباؤ ڈالنے کیلئے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے بعض عرب ممالک بالخصوص مصر اور قطرکے ساتھ گہرے اورفوری رابطے کیے گئے تھے۔ سچ تویہ ہے کہ اس جنگ بندی کی فوری طورپراسرائیل کی طرف سے امریکاسے درخواست کی گئی تھی تاکہ وہ اپنے فوجیوں اور گاڑیوں کواس دلدل سے نکال سکے جوآج غزہ کی گلیوں میں پھنسے ہیں۔سینکڑوں گاڑیوں اورجانوں کے بھاری نقصان کی بناپر سیکڑوں صیہونی فوجی غزہ کی گلیوں میں محصورہو گئے ہیں اورواپسی کے سارے راستے بھی مسدودہوگئے ہیں۔عبرانی چینلز نے کئی اسرائیلی افسران اورفوجیوں کی بڑی تعدادکے مارے جانے کی خبریں نشرکرناشروع کردی ہیں جبکہ آج بھی غزہ کی گلیوں سے آخری سانس تک ’’فتح یاشہادت‘‘کے نعرے سنائی دے رہے ہیں۔ مشہور صہیونی مصنف’’اری شاوٹ‘‘کاعبرانی اخبار ’’ہاریٹیز‘‘میں’’اسرائیل اپنی آخری سانسیں لے رہاہے‘‘کے عنوان سے مضمون شائع ہواہے جس نے ایک تہلکہ مچادیاہے لیکن نجانے مسلم ممالک کے اخبارات میں موت جیسی خاموشی چھائی ہوئی ہے کہ کسی نے ابھی تک اس کاذکرتک نہیں کیا۔
’’اری شاوٹ‘‘اپنے مضمون میں لکھتا ہے: ایسالگتاہے کہ ہم ان مشکل ترین لوگوں کاسامناکر رہے ہیں جن کے بارے میں تاریخ کو معلوم نہیں ہے۔ان کے پاس اپنے حقوق کو حاصل کرنے اورقبضہ ختم کرنے کے سواکوئی حل نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم واپسی کے نقطہ سے گزر چکے ہیں، اوراسرائیل کیلئے قبضہ ختم کرنا، آباد کاری کوروکنااورامن کاحصول ممکن نہیں۔ ایسا لگتاہے کہ صیہونیت کی اصلاح،جمہوریت اوراس ملک میں لوگوں کی تقسیم کوبچانااب ممکن نہیں رہا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں