اگرحالات ایسے ہی رہے تواس ملک میں رہنے کاکوئی ذائقہ اور ’’ہارٹز‘‘ میں لکھنے اورپڑھنے کاقطعا ًکوئی ذوق نہیں بچاہے،اورہمیں وہی کرناچاہیے جوروجیل الفرنےدوسال قبل تجویز کیا تھاکہ جس خواب کی تعبیرکیلئے اسرائیل میں قیام کیلئے آئے تھے،اسی عجلت میں واپسی کا سفرکرناہوگا۔ اگر ’’اسرائیلیت اوریہودیت‘‘ شناخت کاایک اہم عنصرنہیں ہیں،اوراگرہراسرائیلی شہری کےپاس غیرملکی پاسپورٹ ہے،نہ صرف تکنیکی لحاظ سے،بلکہ نفسیاتی لحاظ سے بھی،تومعاملہ ختم ہوجاتاہے۔ آپ کودوستوں کوالوداع کہناہوگااورسان فرانسسکو، برلن یا پیرس جاناہوگا۔ وہاں سے،نئی جرمن انتہا پسندقوم پرستی کی سرزمین،یانئی امریکی انتہا پسندقوم پرستی کی سرزمین سے،کسی کوسکون سےدیکھناچاہیے اور ’’ریاست اسرائیل‘‘ کو اپنی آخری سانسیں لیتے دیکھناچاہیے۔ ہمیں تین قدم پیچھے ہٹ کریہودی جمہوری ریاست کوڈوبتے دیکھناچاہیے۔ ہوسکتاہے کہ یہ مسئلہ ابھی تک حل نہ ہوا ہو۔ عین ممکن ہے کہ ہم ابھی تک پوائنٹ آف نوریٹرن سےنہیں گزرے ہوں۔یہ ممکن ہےکہ قبضےکاخاتمہ،آبادکاری روکنا، صہیونیت کی اصلاح،جمہوریت کوبچانااورملک کوتقسیم کرنااب بھی ممکن ہے۔
’’اری شاوٹ‘‘ مزید تحریرکرتےہیں:میں نے نیتن یاہو،لائبرمین اورنونازیوں کی آنکھ میں انگلی ڈالی تاکہ انہیں صہیونی فریب سےبیدارکیاجاسکے۔ ٹرمپ،کشنر،بائیڈن،اوبامااورہلیری کلنٹن وہ نہیں جوقبضے کوختم کریں گے۔یہ اقوام متحدہ اوریورپی یونین نہیں ہے جوبستیوں کوروکے گی۔ دنیاکی وہ واحد طاقت جواسرائیل کوخودسے بچانے کی صلاحیت رکھتی ہے وہ خوداسرائیلی ہیں،جوایک نئی سیاسی حقیقت کوتسلیم کرے اوریہ کہ فلسطینیوں کی جڑیں ہزاروں سال سے اس سرزمین میں ہیں۔ میں آپ سے گزارش کرتاہوں کہ آپ زندہ رہنے کیلئے تیسراراستہ تلاش کریں اورنہ مریں۔
’’اری شاوٹ‘‘نے تصدیق کی ہے:جب سےوہ فلسطین آئے ہیں،اسرائیلیوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ صہیونی تحریک کی طرف سے پیداکردہ جھوٹ کانتیجہ ہیں،جس کے دوران اس نے پوری تاریخ میں یہودیوں کےکردارمیں تمام دھوکےکا استعمال کیا۔ہٹلرنےجس چیزکوہولوکاسٹ کہاتھااس کااستحصال اورمبالغہ آرائی کرتےہوئے،تحریک دنیاکویہ باور کرانےمیں کامیاب رہی کہ فلسطین ’’وعدہ شدہ سرزمین‘‘ہے اوریہ کہ مبینہ ہیکل مسجد اقصی کے نیچے واقع ہے۔اس طرح، بھیڑیا ایک بھیڑکےبچے میں تبدیل ہوگیاجسے امریکی اور یورپی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے دودھ پلایاگیا، یہاں تک کہ وہ ایٹمی عفریت بن گیا۔
مصنف نےمغربی اوریہودی ماہرینِ آثارقدیمہ سےمددطلب کی،جن میں سے سب سے مشہور تل ابیب یونیورسٹی کے’’اسرائیل فلنٹسٹائن‘‘ ہیں، جنہوں نےاس بات کی تصدیق کی کہ’’ہیکل بھی ایک جھوٹ اورپریوں کی کہانی ہے جس کاکوئی وجود نہیں،اورتمام کھدائیوں نے یہ ثابت کردیاہے۔یہ ہزاروں سال پہلےمکمل طورپرغائب ہوگیاتھا،اوریہ واضح طورپریہودی حوالوں کی ایک بڑی تعدادمیں بیان کیاگیاتھا،اوربہت سے مغربی ماہرین آثار قدیمہ نے اس کی تصدیق کی ہے۔ان میں سے آخری1968ء میں برطانوی ماہرآثار قدیمہ ڈاکٹر کیٹلن کابینوس تھیں،جب وہ یروشلم کے برٹش سکول آف آرکیالوجی میں کھدائی کی ڈائریکٹر تھیں ۔اس نے یروشلم میں کھدائی کی،اورمسجد اقصی کے نیچے ہیکل سلیمانی کے آثارکی موجودگی کو ’’اسرائیلی خرافات‘‘کانام دیاجس کی وجہ سے اسےفلسطین سےنکال دیاگیا۔
جہاں میں نے فیصلہ کیاکہ ہیکل سلیمانی کا کوئی نشان نہیں ہے،اور اسرائیلی’’سلیمان کے اصطبل کی عمارت‘‘کاسلیمان یااصطبل سےکوئی تعلق نہیں ہے،بلکہ یہ ایک محل کا آرکیٹیکچرل ماڈل ہےجوعام طورپرفلسطین کے کئی خطوں میں تعمیر کیا گیا۔اس حقیقت کے باوجودکہ’’کیتھلین کینیون‘‘ فلسطین ایکسپلوریشن فنڈایسوسی ایشن کی طرف سے آئی تھی ،کیونکہ اس نے’’قریب مشرق‘‘کی تاریخ کے بائبل کےبیانات کےحوالے سےبرطانیہ میں 19ویں صدی کے وسط میں زبردست سرگرمی دکھائی تھی۔
یہودی مصنف نےیہ کہتے ہوئے زور دیا: جھوٹ کی لعنت وہ ہےجو’’اسرائیلیوں‘‘کوپریشان کرتی ہے،اوریہ دن بہ دن ایک یروشلم، خلیلی اور نابلسی کے ہاتھ میں چھری کی شکل میں ان کے منہ پرتھپڑمارتاہے۔اسرائیلیوں کواحساس ہےکہ فلسطین میں ان کاکوئی مستقبل نہیں ہے،یہ ایسی سرزمین نہیں ہےجہاں لوگوں نےجھوٹ بولاتھا۔ بائیں بازو کےصہیونی مصنف’’جیڈون لیوی‘‘جو فلسطینی عوام کےوجودکونہیں بلکہ اسرائیلیوں پران کی برتری کو تسلیم کرتا ہے ،وہ کہتاہےکہ فلسطینیوں کی باقی دنیا سےفطرت مختلف ہے،ہم نےانکی زمینوں پرقبضہ کیا اور ان کےنوجوانوں کوقاتل،دہشت گرداور ان کی عورتوں کوطوائف کہا۔اورمنشیات کامکرہ دھندہ بھی کیاگیا،اورہم نےکہاکہ چندسال گزرجائیں گے، اوروہ اپنےوطن اوراپنی سرزمین کو بھول جائیں گے،اورپھران کی نوجوان نسل1987ء کی بغاوت کی شکل میں ہمارے مقابلے کیلئے آن موجودتھی۔
ہم نے انہیں جیلوں میں ڈالااورہم نے کہاکہ ہم انہیں جیلوں میں اٹھائیں گے، برسوں بعد،جب ہم نےسوچاکہ انہوں نےسبق سیکھ لیاہے، وہ 2000ء میں مسلح بغاوت کے ساتھ واپس ہمارے مقابلے کیلئے آگئے۔اورہم نے کہا:ہم ان کے گھروں کوگرادیں گے اورکئی سالوں تک ان کا محاصرہ کریں گے،اوردیکھو،وہ محاصرے اورتباہی کےباوجودہم پرحملہ کرنے کیلئے ناممکن سےمیزائل نکال لائے ہیں۔چنانچہ ہم نے ان کیلئے علیحدگی کی دیواراورخاردارتاروں سےمنصوبہ بندی شروع کی،اوردیکھو،وہ زمین کےاندرسرنگوں کے ذریعے ہم پرحملہ آور ہوکربڑی قتل وغارت کی،یہاں تک کہ آخری جنگ کے طور پرہم نے اپنے دماغ سے ان کامقابلہ کیا،اورپھرانہوں نےاسرائیلی سیٹلائٹ (آموس)پرقبضہ کرلیااوراسرائیل کے ہرگھرمیں دھمکیاں نشرکرکےدہشت پھیلادی،جیساکہ اس وقت ہواجب انکےنوجوان اسرائیلی چینل2پرمکمل کنٹرول حاصل کرنےمیں کامیاب ہوگئے۔ مصنف کے مطابق بین السطوریہ ہے کہ ایسالگتاہے کہ ہم تاریخ کےمشکل ترین لوگوں کاسامناکررہے ہیں،اوران کیلئےاپنےحقوق کوپہچاننے اور قبضے کو ختم کرنے کے سواکوئی حل نہیں ہے۔
ادھردوسری طرف فلسطین کےحق میں مظاہرہ کرنےوالوں نےنیو یارک کے بروکلین میوزیم پر قبضہ کرکے اس پرفلسطین کاپرچم لہرا دیا۔ مظاہرین کومیوزیم سے نکالنے کی کوشش کے دوران پولیس اورمظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں۔ متعددافرادزخمی ہوئےجبکہ پولیس نے چند مظاہرین کو گرفتاربھی کرلیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بروکلین میوزیم کے باہرلگے ہوئےایک مجسمے پر مظاہرین نےاسپرے بھی کردیا۔ ہاں!قصرسفیداورمغربی آقائوں کی لونڈی اقوام متحدہ نےتوہلکی سی مذمت بھی کرناچھوڑدی ہے۔دنیا بھرمیں ہونے والے مظاہروں کی بھی کسی کی پرواہ نہیں۔ وہ کوئی اصول اورکوئی ضابطہ نہیں مانتے۔ دنیا بھر کے اصول وضابطے صرف امت مسلمہ کیلئے ہیں۔
ناروے،آئرلینڈاوراسپین نےرسمی طورپرفلسطین کوبطورریاست تسلیم کرلیاہےجس کے جواب میں اسرائیل نے بطوراحتجاج تینوں ملکوں سے اپنے سفیروں کوواپس بلالیاہے۔ شنید یہ بھی ہے کہ یورپی یونین کی دیگرریاستیں بھی عنقریب اپنے تین یورپی ممالک کی تائیدمیں فلسطین کوتسلیم کرنےکااعلان کرنےوالی ہیں جس کیلئےفی الحال مشاورت جاری ہےلیکن کیا وجہ ہے کہ ابھی تک اوآئی سی کےممالک نےفلسطین کوباقاعدہ بطور ریاست تسلیم نہیں کیا۔ دنیابھرمیں ایک دونہیں پورے ستاون ممالک ہیں لیکن کتنے پرسکون ہیں، سو رہے ہیں ان کے حکمران،ان کی افواج،ان کے گولہ بارود کے خزانوں کوزنگ لگ رہاہے، سب دادِ عیش دیتے ہوئے اوردنیابھرکی عیاشی کاساماں لئے ہوئے، بےحسی کاشکاراورسفاکی کی تصویر ہمارے مسلم حکمران۔
مجھے آج پھراپنی ماں یادآتی ہے،چٹی ان پڑھ،جوکہتی تھی کہ بےغیرت پچاس بھی ہوں توکیاکرنا،ہاں غیرت مندایک بھی بہت ہےمجھے آج پچاس میں سات کا اضافہ کرناہے لیکن وہ غیرت مندہےکہاں؟کیاایک بھی غیرت مندنہیں رہا۔سب کےسب !!مجھے آپ سے کچھ نہیں کہنا۔
قارئین!مجھے توآپ نے پہلے ہی اپنی محبت کی سولی پرلٹکارکھاہے۔میں ان سے کیاکہوں،وہ بھی نہیں رہیں گےاورہم بھی،کوئی بھی تونہیں رہےگا، بس یہی سوچ کرندامت سے خاموش ہوجاتاہوں کہ شائد یہی حق کے علم بردارہوں جو اپنے ہاتھوں میں اپنےمعصوم بچوں کے لاشےبطورعلم اٹھائے ہوئےاٹھ کھڑے ہوئے ہیں،کوئی بھی توعلم سرنگوں کرنے کو تیارنہیں۔اب تو لاکھوں علم راہ گزاروں میں عزاداراٹھائے نکل آئے ہیں،یہ منیرنیازی کیوں تڑپ اٹھے!
سن بستیوں کاحال جوحدسے گزرگئیں
ان امتوں کاذکرجورستوں میں مرگئیں
کریادان دنوں کوکہ آبادتھیں یہاں
گلیاں جوخاک وخون کی دہشت سے بھرگئیں
صرصرکی زدمیں آئے ہوئے بام ودرکودیکھ
کیسی ہوائیں کیسا نگر سرد کرگئیں
کیاباب تھے یہاں جوصداسے نہیں کھلے
کیسی دعائیں تھیں جویہاں بے اثرگئیں
تنہا اجاڑ برجوں میں پھرتاہے تومنیر
وہ زرفشانیاں ترے رخ کی کدھرگئیں