(گزشتہ سےپیوستہ)
کسی پرشک ہوتوقانون موجودہے،اسے حرکت میں لایاجاسکتاہے،اس کے خلاف شواہد جمع کرکے اسے عدالتی عمل سے گزارا جا سکتاہے،اسے صفائی کاموقع دینے کے بعدجرم ثابت ہونے پرکڑی سزادی جاسکتی ہے لیکن یہ عجیب دستورچل نکلاہے کہ کسی کوغائب کردیاجائے اورپھر مہینوں بلکہ سالوں تک اس کے عزیزوں کوانتظارکی سولی پرلٹکا دیاجائے کہ ان کے پیارے عزیز کہاں اورکس حال میں ہیں اوران پرکیاگزررہی ہے؟ایساکرنے سے ایک مہذب ملک کی ساکھ پرانتہائی منفی اثر پڑتاہے جودنیابھرکی سب سے بڑی جمہوریت کا جعلی ڈھنڈورابھی پیٹ رہاہو۔ کیاوہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح ان کی’’روشن خیال جمہوریت ‘‘محض ایک سراب دکھائی دینے لگی ہے؟ہم نے تویہ جرم عظیم سب کچھ امریکی کروسیڈ سے عہدِوفانبھانے کے لئے کیا لیکن بھارت تو امریکا اور مغرب کی دوستی کادم بھررہاہے۔وہ اپنے انہی دوستوں کے کندھے استعمال کرکے ایک مرتبہ پھراقوام متحدہ کی مستقل نشست (ویٹوپاور)کے خواب دیکھ رہاہے تاکہ اس طاقت کے نشے میں وہ مہابھارت کی تکمیل کرسکے۔پھرکیاوجہ ہے کہ انسانی حقوق کی ایسی پامالی پرایک امریکی ہندو پروفیسرکوبھی اجتماعی قبروں جیسے ہولناک مظالم پراحتجاج کی آوازاٹھانا ناگزیرہوگیا اورانسانی حقوق کے چیمپئن ممالک کوکشمیرمیں اس ہولناک مظالم سے آگاہ کرناپڑا۔
ہم نصیبوں جلے توایسے ہیں کہ آج تک کشمیرمیں ان اجتماعی قبروں کے انکشاف کے بعد قصر ِسفیدکے فرعون سے کوئی اعلامیہ جاری نہ کرواسکے بلکہ مغربی ممالک توبھارت کی بلائیں لے رہے ہیں اورایٹمی توانائی کی مددکے لئے دل وجاں فرشِ راہ کردیئے لیکن ماورائے عدالت ہلاکتوں سے لے کراغوا تشدد،ریاستی جبر اورقانون وعدل کی رسوائی تک ہروہ الزام ہمارے دامن کاداغ بنا دیا گیاجس کاتصورکیاجاسکتاہے،اس کے باوجودامریکا کی دلداری ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے جس کے لئے ہم نے اچھے بھلے ملک کوجنگل بنادیااور ڈھٹائی کی حدتو یہ ہے کہ اب بھی اسی عطارکے لونڈے سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں اورسیکورٹی مشیر امریکاسے گلہ کررہے ہیں کہ پاکستان کوکیوں فراموش کردیاگیا۔
زینب کے شوہرکاجرم صرف یہی ہے کہ وہ دنیاکے انسانی حقوق کے اداروں کوکشمیر میں ہونے والے مظالم کی اصلی تصویرسے آگاہ کرتاتھا۔ کشمیر میں ’’ماورائے قانون ‘‘کی آڑمیں ہونے والے مظالم کی نشاندہی کرتاتھا۔’’غیراعلانیہ کرفیو جیسا ماورائے قانون‘‘ جیسی منحوس اصطلاح کا استعمال سب سے پہلے 2008ء میں امرناتھ اراضی ایجی ٹیشن کے دوران گورنراین این وہرانے شروع کیا تھالیکن اس سے بھی پہلے شیخ محمدعبداللہ نے 1975ء میں پبلک سیفٹی ایکٹ یہ کہہ کرمتعارف کروایاتھاکہ یہ صرف اسمگلروں کے خلاف استعمال کیاجائے گا۔ اس ایکٹ کے تحت بغیرکسی عدالتی کاروائی کے کسی بھی شخص کودوسال کے لئے زنداں کی تاریکی میں پھینکاجاسکتاہے لیکن آج تک اسی غیرانسانی اورظالمانہ قانون کوبے دریغ بے گناہ کشمیریوں کے خلاف استعمال کیاجارہاہے اور بیشتر کشمیری اسی تعذیبی قانون کے تحت چودہ چودہ سال سے بھی زیادہ بھارت کی جیلوں میں گل سڑرہے ہیں۔
اگرآپ کویادہوتو29اور30مئی 2009 ء کی درمیانی رات کوکشمیر کی دومجبور بیٹیوں نیلوفراور آسیہ کواجتماعی عصمت دری کے بعد قتل کردیاگیا تھا جس سے اہل شوپیاں کے علاوہ سارے کشمیریوں کے دل دہل گئے تھے۔پوری وادی میں اس پر بھرپوراحتجاج ہوالیکن شوپیاں کے غیورعوام نے47دن کی مسلسل ہڑتال سے اس سانحے کوامرکر دیاکہ وہ اپنی ان بیٹیوں کے صدمے کوکبھی نہیں بھول سکتے۔مجھے یادہے کہ تین سالہ سوزین جوایک سال بعداپنی ماں اور پھوپھی کی اجتماعی عصمت دری کے خلاف احتجاج کررہاتھا اس کوغمزدہ لواحقین کے ساتھ انصاف مانگنے کی پاداش میں مجرم ٹھہراکرگرفتارکرلیا گیاتھا۔ کیایہ ممکن تھا کہ تین سالہ بچہ جواپنے پاؤں پراچھی طرح چل بھی نہیں سکتا وہ بھارت کے وزیراعظم کے لئے کوئی خطرہ بن سکتاتھا؟دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے محافظ اس بلکتے تڑپتے شیرخوارسوزین جس کے آنسوکئی دلوں کوگھائل کر رہے تھے،مردہ خورگدھوں کی طرح ٹوٹ پڑے تھے ۔مجبورومقہورکشمیریوں کے سرقلم کرنے کیلئے ’’غیراعلانیہ کرفیو‘‘ کے دوران’’پبلک سیفٹی ایکٹ‘‘ کی بے لگام تلوارہی کافی تھی کہ اب کشمیرمیں تعینات 8 لاکھ افواج کو ’’آرمڈفورسزسپیشل پاورایکٹ‘‘ اور’’ڈسٹرب ایریاایکٹ‘‘جیسے ظالمانہ قوانین کے تحت بے پناہ اختیارات حاصل کرنے کے بعدکسی کوجوابدہ نہیں،جس کی وجہ سے اب یہ قانون عوام کے محافظین کہلانے والوں کے لئے ایک نفع بخش تجارت کی شکل اختیارکرگیاہے جس میں لین دین انسانی سروں اورسستے انسانی خون سے ہوتاہے۔ میں توابھی تک زاہد، وامق،عنائت اللہ اورطفیل متو کی ہلاکتوں سے لے کر مژھل فرضی جھڑپوں میں کشمیریوں کے سرِعام قتل کونہیں بھول سکا،اے میری مظلوم ومجبوربیٹی زینب!کیا تجھے معلوم نہیں کہ اسلام کاایک درخشندہ ستارے کانام بھی زینب تھاجن کی کنیت’’ام المصائب ‘‘تھی جن کے خطبات آج بھی مسلم امہ کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔
میراوجدان اس بات کی گواہی دیتاہے کہ ظلم وستم کایہ دورایسے عوامی انقلابی ریلے کودعوت دے رہاہے جس کے سامنے توپ وتفنگ ناکارہ اوربے بہرہ ہو جاتی ہیں۔انقلابِ فرانس بھی ایک پتھر مارنے سے شروع ہواتھاپھراس کے بعدبادشاہ کے محافظین اپنے تمام اسلحے کے ساتھ نہ توبادشاہ کی حفاظت کرسکے اور نہ خودکوبچاسکے۔اس طوفانی ریلے کے سامنے تمام ظالمانہ قوتیں اپنے اتحاد کے باوجودتنکوں کی طرح خس وخاشاک کی طرح بہہ گئیں۔جونرم ہاتھ یا سفید کالر والی گردن نظرآئی اس کاشانوں سے تعلق ختم کردیاگیا۔ کشمیرکے موجودہ حالات میں امرناتھ جیسی ایجی ٹیشن سے بھی کہیں شدیدمزاحمتی تحریک کے لئے میدان گرم ہے،جہاں سات دہائیوں سے کشمیریوں کابہنے والامقدس خون اب ضروررنگ لائے گااوراب کوئی نیامیرجعفر یامیرصادق ظالموں کومیسرنہ آ سکے گاانشا اللہ۔
لیکن ٹھہریئے مجھے کچھ ان افرادکے ضمیر کوبھی جگاناہے جن کی یہ مجبورومقہوربیٹیاں ان کے نام کی دہائی ان شہدا کے قبرستانوں میں دیتی نظرآرہی ہیں جو ہمارے ہاں کے مفادپرستوں کی چیرہ دستوں کاشکارہوگئے جن کوہرقیمت پراپنااقتدارعزیزہے اوراپنے دورِ حکومت میں سفاک مودی سے ملاقات کے لئے بے چین تھے اورسلامتی کونسل میں اپناووٹ دے کراس کو ممبر بنانے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں کی تھی۔اب مودی کی کامیابی پرانہیں مبارکبادکاجوپیغام بھیجا،اس کاتکبرآمیزجواب پڑھ کرہمیں کس سطح پرلاکھڑاکیاہے؟دنیاکی بڑی جمہوریت کادعویٰ کرنے والے کومبارکباددینے کی بجائے اسے اپنے گریبان کی طرف نگاہ دوڑانے کاپیغام دیاجاتااوراس طرف اقوام عالم کی توجہ مبذول کروائی جاتی کہ آخریہ روتی بلکتی مائیں، دربدربھٹکتے بوڑھے باپ ،بال بکھرائے دہائی دیتی بیویاں کہاں جائیں؟کون سی زنجیرعدل ہلائیں، کس دیوارسے سر پھوڑیں؟میں سوچتے سوچتے تھک گیا ہوں لیکن کوئی جواب سجھائی نہیں دیتا۔آج بھی تین سالہ سوزین کے آنسو اور بائیس سالہ نوبیاہتازینب کی آوازیں مسلسل میرا تعاقب کررہیں ہیں اور میرے لئے کرب کاایک اضافی پہلویہ ہے کہ دل چیر دینے والی آواز میری پوتی کی آوازسے ہوبہوملتی ہے!