Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

جرمِ عظیم

خدا سے تجارت کون کرے؟حالانکہ اسلامی تہواربالخصوص عیدین کے ایام خدا سے کاروبار کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں اورایسا کاروبارجس میں غلطیوں اورگناہوں کی میلی گٹھڑی کے عوض ثواب واستغفارکابلاسودپیکیج نہایت آسان اورمعمولی شرائط پردستیاب ہے لیکن لالچ، خودغرضی،ریاکاری،فریب اورہوس کی چیک پوسٹیں اورچنگیاں بندے کو آسمانی یوٹیلیٹی سٹورتک پہنچنے سے پہلے ہی کنگال وکھوکھلاکرچکی ہوتی ہیں۔ ان اسلامی تہواروں میں خدا کے ساتھ اہل زمین عموماًوہی کرتے ہیں جوناخلف اولادماں کے ساتھ کرتی ہے ۔ماں سے کوئی مشورہ نہیں کرتالیکن سب کچھ اسی کے نام پرہوتاہے۔ماں کاعملی مصرف بس یہ ہے کہ کونے میں عزت سے بیٹھی رہے اورہرآتا جاتااس سے دعائیں اور آشیرباد لیتا،سر پرہاتھ پھرواکے آگے بڑھ جائے۔
خداکی مخلوق،خدا کے ہاتھوں فروخت ہونے کی بجائے خداکے نام کوفروخت کرنے میں زیادہ سہولت محسوس کرتی ہے۔ اس کے نام پراربوں روپے کی اشتہار بازی ہوتی ہے،اسی کے نام پراسی کے نام لیوااسی کے نام لیوائوں کوایرکنڈیشنڈاور سادہ عمرہ وحج پیکیجزبیچتے ہیں۔پیسہ اپنی جیب میں، ثواب آپ کی جیب میں ،ہر آڑاٹیڑھاترچھامال جوسال بھربیچنا مشکل ہوتاہے، دوران ِحج اور عیدین کوآسانی سے سرشارعبادت گزاروں کومنہ مانگے دام منڈھاجا سکتا ہے۔ حج کے نام پر ایسی لوٹ اوردھوکہ دہی،الامان والحفیظ!حرمین شریفین میں ہرسال دورانِ رمضان اورحج کے ایام میں سب سے زیادہ بھکاریوں کی تعداد پاکستانیوں کی پائی جاتی ہے اوراب توخودسعودی عرب کی حکومت نے باقاعدہ طورپرپاکستان سے اس سنگین اور شرمناک معاملے کی روک تھام کامطالبہ کیاہے۔ وہاں کے مقامی میڈیانے توپھربھی کچھ لحاظ رکھا لیکن پڑوسی ملک نے اس خبرکوجس قدرمرچ مصالحے کے ساتھ پیش کیا ہے،اس کودیکھ کرشرم سے سرجھک گئے ہیں۔
ادھرپاکستان میں ایک مرتبہ پھرکئی ایجنٹس حج کے نام پرغریب افرادکی عمربھرکی کمائی لوٹ کررفوچکر ہوگئے ہیں جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ان دنوں حج کے آسمان سے باتیں کرتے ہوئے اخراجات جمع کرتے ہوئے ساری عمرخرچ ہوجاتی ہے۔ادھرتمام خوردنی وغیرخوردنی مصنوعاتی برانڈز خصوصی آفرزکی پرکشش تسبیح گھماتے ہوئے سادہ مسلمان کی جیب سے آخری سکہ تک نکالنے کے لئے عیدین کی چراگاہ میں کودپڑتے ہیں۔50 روپے درجن کیلے خدارسول کی قسم کھاکرایک سو بیس روپے درجن بیچنے والادوکانداربھی مسلمان اوراپنے بچوں کے لئے جیب سے کچھ میلے کچیلے نوٹ اورریزگاری نکال کرچھ کیلے بھی دس بارسوچ کرخریدنے والاگاہک بھی مسلمان ہے۔
چاندرات سے عیداوریوم عرفہ اورعیدالاضحی کی شب تک اپنے پیاروں سے بات کیجئے،صرف ایک روپیہ ننانوے پیسے میں۔ثوابِ عید ین کال پیکیج کے لئے ابھی کال کیجیے چاردوصفرپر اورڈان لوڈ کیجئے اپنی پسندیدہ نعت،حمد،حج کی تلبیہ اوراذان کی رنگ ٹونز اورلوٹ لیجیے دونوں ہاتھوں سے ثواب کے مزے، کیاکہا؟رات دیرتک ٹی وی بیہودہ پروگرامز اوراخلاق باختہ فلمیں دیکھنے کے بعدنیند نہیں آتی اورنمازفجرکے لئے بیدارہونے میں دقت ہوتی ہے؟تویہ ہے نیاطاقتور سہراب اسپرے،۔ رمضان اورذوالحج بھرکی ساری راتیں ’’مچھراور پسو‘‘ ابلیس کی طرح آپ سے دوررہنے پر مجبور، رمضان المبارک کے مہینے حج کے خصوصی ایام میں روزہ دار اورحاجی کے منہ سے خوشبوکیوں نہ آئے؟ ہم لائے توہیں آپ کے لئے خصوصی مسواکی ٹوتھ پیسٹ، جوسحرتاافطاراورلاکھوں افرادکے اژدہام حج کے ایام میں آپ کے منہ کو دس طرح کے خطرناک جراثیم سے پاک ومعطررکھتاہے،اوراب آپ کادوران بلڈپریشرکم زیادہ نہیں ہوگا؟دورانِ حج میں تھکن سے بچنے کے لئے حکیم بڈھن کاتیربہدف خمیرہِ زنجباراستعمال کرنامت بھولیں، بوتلوں کی خریداری پرشربتِ روح فرساکی ایک بوتل مفت اورعیدالاضحی پرقربانی کاوافرگوشت ودیگرمرغن کھانے جی بھرکرکھائیے مگربدہضمی، کھٹے ڈکارسے بچنے کے لئے ’’باباچورن‘‘یا”قصوری پھکی‘‘حاضرہے،ہاں! اگر دونوں ہاتھوں سے لوٹی ہوئی قومی دولت کو چھپانا مقصودہے تواس کے لئے دبئی،لندن،سوئٹزرلینڈ ودیگر یورپی بینکوں کی ایک ایک لمبی فہرست توآپ کے پاس پہلے ہی موجودہے اوراس کام میں تعاون کرنے والے بھی ہاتھ باندھ کرآپ کی خدمت میں حاضرہیں۔
ابھی توہمیں رمضان المبارک کے وہ مناظرنہیں بھولے جب ڈیزائنرزشیروانیاں اورٹوپیاں پہن کرمیک اپ زدہ مسخرے خدا کے نام پرکروڑوں روپے کے سیزنل کنٹریکٹ سائن کرکے ٹی وی کے منبرپربیٹھ کرعجزوانکساری، تقوی اورپرہیزگاری کے گیت گارہے تھے،گلوگیریت چہرے پرسجائے ناداروں سے محبت، یتیموں سے شفقت اورمسکینوں سے قربت کی تلقین فرما رہے تھے،جب تازہ پھلوں کے خالص جوس کے ساتھ افطاروسحرٹرانسمیشن کے محل نماسیٹ پرلگے روحانی دربار میں آنسوبیچتے ہوئے خداکے نبیﷺکی تنگی وعسرت بھری حیات مبارکہ کااس اندازمیں تذکرہ ہوتاتھا تو دیکھنے سننے والے روزہ دارکے ہاتھ سے نوالہ گرہی توپڑتا تھا۔اوران دنوں اب سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائشوں سے بھرپور زندگی اوربیٹے کی قربانی کاذکراس اندازمیں کیاجارہاہے کہ ٹی وی دیکھنے والے اسی پروگرام کے وقفے میں قربانی کا اہتمام کرنے والے اداروں کے اشتہارات پران کوفون کرکے اپناحصہ ڈال کرقربانی کافریضہ ادا کرتے ہوئے یہ سنے گئے ہیں کہ اب کون جاکر منڈیوں میں دھکے کھاکرپھراس کوذبح کروانے کے لئے قصائیوں کی منت سماجت کرے ، خود گھر پر گوشت کاتھیلاپہنچ جائے گا،بس اس کے لئے فریج اورفریزرکومکمل خالی کرکے صفائی کر لیں۔میراکریم رب یہ مناظرماہِ رمضان میں تیس روز اورذوالحج کے پہلے عشرے کودلچسپی سے دیکھتارہا، انتظار کرتااور مسکراتارہالیکن رحیم ورحمن رب نے عیدکے روز مہربانیوں کاساراسٹاک اپنے ناشکروں میں اس امید پربانٹ دیاشایداگلی عیدپرہی کوئی بھولابھٹکا مجھ تک پہنچ جائے۔ لیکن یہ کیا؟ہم تواللہ کومنانے کے لئے لاکھوں روپے کی گائے،بیل یابچھڑاگلے میں ہارڈالے میڈیاکی یلغارمیں قربان گاہ تک لے آئے اورکیمروں کوگواہ بنا کر سنت ابراہیمی کی ان اداؤں کوتصاویرکی شکل میں ڈھال کرمعاشرے میں پارسائی کا دعویٰ کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ باقی رہی سہی کسرمیڈیا اپنے عیدکے پروگرامزمیں دکھاکر اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے مصروف رہا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں چھ لاکھ بچے بھوک کی وجہ سے موت کے دہانے پراپنے رب سے ملاقات کے لئے تیاربیٹھے ہیں جہاں وہ یقینااپنے معصوم چہروں سے رب کوہماری منافقت کی شکائت کریں گے۔یہ چھ لاکھ بھوکے ڈھانچے تڑپ رہے ہیں اوربیشتربچوں کے لواحقین کابھی کوئی علم نہیں کہ شائدوہ پہلے ہی اپنے رب کے ہاں پہنچ چکے ہیں اورہزاروں کی تعدادمیں اس خوفناک بمباری سے بچ جانے والے یہ بچے اپنے ماں باپ کی گودمیں تڑپ کرجان دے رہے ہیں۔ہمارا سارا زورسوشل میڈیاپران مجبوروں کی تصاویر اورویڈیو کی تشہیرمیں توگزررہاہے لیکن کتنے ہیں جوان کادرد اپنے بچوں کے چہروں میں ڈھونڈتے ہیں۔اقوام متحدہ کی رپورٹ چیخ چیخ کربتارہی ہے کہ اسرائیلی بمباری سے15ہزارسے زائدبچے قتل کئے جاچکے ہیں،17 ہزارلاوارث ہیں،لیکن خودکوترقی یافتہ اور انسانی حقوق کے چیمپئن ممالک بھی اس کانوٹس نہیں لے رہے۔
ہم ان بچوں کوکیسے بھول جائیں،کبھی نہیں، اس بہیمانہ قتل کے وہ سب مسلمان کہلوانے والے ذمہ دارہیں جوبندآنکھوں اورمردہ ضمیروں کے ساتھ اپنے تعیشات میں غرق ٹس سے مس نہیں ہورہے لیکن یادرکھیں!ہم اس ظلم کوکبھی فراموش نہیں کریں گے،ہم ان کے اس بہیمانہ قتل کونہیں بھولیں گے،ان کے ساتھ ہونے والی ان تمام زیادتیوں کوکبھی نہیں بھولیں گے۔ اس ظلم میں جہاں اسرائیل کے ساتھ امریکا،برطانیہ،اوراس ظلم میں شریک سینکڑوں بھارتی افراد کااسرائیلی فوج کے ساتھ مل کران معصوم بچوں کومارنے کے عمل کے علاوہ مودی کااسرائیل کو اسلحہ سپلائی کرناکبھی نہیں بھولیں گے۔ ان بچوں کے اس بہیمانہ قتل وغارت کونہ روکنے کی وجہ سے’’اوآئی سی‘‘بھی برابر کی ذمہ دارہے،تمام مسلم حکمرانوں، اختیارات رکھنے والے جرنیلوں کے جرمِ عظیم کوبھی کبھی نہیں بھولیں گے!
ماں اورخدا،آج دونوں کے پاس اپنے دنیادار بچوں کے انتظارکے سوااورہے ہی کیا؟
افلاس ہے رقص کناں جن کی ٹوٹی پھوٹی کٹیاؤں میں
تم اپنی عید منا کر ان کو بھول نہ جانا دعاؤں میں
وہ افغانی کہساروں میں جن کے ماں باپ شہید ہوئے
ان معصوموں کی چیخیں ہرسو،پھیل رہی ہیں فضائوں میں
بھارت کے ظلم کی دھوپ میں وہ کشمیری قافلے پاپیادہ
ہے جن کی طلب کہ آکربیٹھیں،پاکستان کی چھائوں میں
وہ بنگلہ دیشی کیمپوں میں جوروزدعائیں کرتے ہیں
اس پاکستان سے الفت کی زنجیرہے جن کے پاؤں میں
اس مسجد اقصی کی چھت پراورصحن میں جن کابسیراہے
وہ سارے کبوترجومحصورہیں،غزہ میں خوں آشام بلاؤں میں
تم اپنی عیدمناکران کوبھول نہ جانادعاؤں میں

یہ بھی پڑھیں