Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

عید الاضحی اورفادرڈے

برسوں بعدساری دنیامیں عیدالاضحی اور فادر ڈے ایک ہی دن منائے جارہے ہیں اورپچھلے کئی دنوں سے قارئین کایہ سوال بھی مجھ پرقرض تھاکہ آپ نے ’’ماں،ممتا‘‘ پربہت لکھالیکن کیا وجہ ہے کہ آپ نے ’’باپ‘‘جیسی شفیق ہستی پر اتنا نہیں لکھاکہ باپ کی خاموش محبت کیاہوتی ہے؟ یہ ہے وہ سوال ،جس کے جواب میں یقیناپوری کتاب بھی باپ کی محبت کے ایک پل کاحق بھی نہیں چکا سکتی۔ نجانے باپ کانام آتے ہی ایک کمزوراورضعیف نورانی چہرہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے لیکن میرے نزدیک باپ کی اہمیت اور شخصیت اس لئے سب سے الگ اورجدا ہے کہ میں نے اپنے تیرہ سال کی عمرمیں ’’بابِ جنت‘‘کو اس دنیاسے رخصت ہوتے دیکھاہے۔ باپ کیا،کیسا اورکیوں اتنااہم ہوتاہے،شائدمجھ سے زیادہ نہ کوئی جان سکاہے اورنہ ہی سمجھ سکتا ہے کیونکہ جس اولاد پر ابھی تک باپ کامبارک سایہ قائم ہے،وہ باپ کی جدائی کے دکھ کونہیں سمجھ سکتے بلکہ میرا دعویٰ ہے کہ’’والد‘‘کوبھی اس کا اندازہ نہیں ہوگا کہ ان کی سرپرستی اولادکیلئے کتنی بڑی رحمت، شفقت اوربے لوث سہاراہے جس کااس دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں لیکن میرے باپ کو اس کا مکمل ادراک تھاکیونکہ وہ بھی کم سنی (9سال) کی عمرمیں یتیم ہوگئے تھے اوربڑے کرب کے ساتھ ان کی جدائی کاتذکرہ فرمایا کرتےتھے۔
باپ اپنے اہل خانہ کی کفالت کیلئے دن رات اپنے آرام اورصحت کی پرواہ کئے بغیر بھرپور محنت میں جتارہتاہے اوراس کی ساری تھکان یہ سوچتے ہی غائب ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا خوش نما مستقبل مضبوط کررہاہے۔ اپنی اولاد کی تمام خواہشات کوپوراکرنااس لئے بھی ضروری سمجھتا ہےکہ وہ خودبچپن میں اپنی خواہشات کادم گھٹنے اورباپ کی مجبوریوں کا تجربہ رکھتاہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ دن کے علاوہ رات کوبھی بچوں کے مستقبل اورفکرمعاش کیلئے بے چین رہتاہے اور خوابوں کے محل تعمیرکرنے کے اپنی کھلی آنکھوں سے خوبصورت اور سہانےخواب دیکھتارہتاہےلیکن کمال درجہ کاضبط کامالک ہوتا ہےکہ کبھی گھر میں اپنی پریشانی یاالجھن نہیں بتاتااوراپنی ذات پر ہر مشکل کوبرداشت کرکے اپنے اہل خانہ کیلئے ایک سیسہ پلائی دیوارکی مانندکھڑارہتاہے۔
چونکہ میں والد صاحب سے زیادہ قریب رہاہوں اس لئے میرے لئے یہ سوال بہت معنی رکھتا ہے لیکن محبت کایہ شاہکارعین جوانی میں اللہ کے حضورحاضر ہوگئے اورمیں بچپن ہی کی یادوں کے سمندرمیں غوطے لگاتارہتاہوں اورہرمشکل گھڑی میں رب کے بعدمیراباپ ہی میری منزل ہے کہ ان کے پندونصائح اورخوبصورت سبق آموز کہانیاں مجھے آج بھی ازبر یادہیں۔جہاں تک بات ماں کی محبت کی ہے تو اس بابت تو تب سے لکھا جارہا ہے جب سے حضرت انسان نے لکھنا سیکھا تھا لیکن باپ ایک ایسی ذات ہے جس بابت شاید باپ نے بھی کبھی کھل کر نہیں لکھا اور بھلا لکھ بھی کیسے سکتا ہے کہ باپ کی محبت کا ہر رنگ نرالا اور مختلف ہے۔ ماں کی محبت تو بچے کی پیدائش سے اس کی آخری عمر تک ایک سی ہی رہتی ہے یعنی اپنے بچے کی ہر برائی کو پس پردہ ڈال کر اسے چاہتے رہنا۔بچپن میں بچہ اگر مٹی کھائے تو ماں اس پر پردہ ڈالتی ہے اور باپ سے بچاتی ہے، نوجوانی میں بچے کی پڑھائی کا نتیجہ آئے تو اس رپورٹ کارڈ کو باپ سے چھپاتی ہے اور اپنے بچے کو بچاتی ہے، جوانی میں بچے کا دیر سے گھر آنا باپ سے چھپاتی ہے اور اپنے بچے کو بچاتی ہے ٹھیک اسی طرح جیسے جیسے بچہ بڑا اور اس کے ’’جرائم ‘‘بڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے ماں اپنے پردے کا دامن پھیلاتی چلی جاتی ہے،اس کے برعکس ’’باپ‘‘ایک ایسی ہستی ہے جو اپنی اولاد کو بے پناہ چاہنے کے باوجود اس پر صرف اس لئے ہاتھ اٹھاتا ہے کہ کہیں بچہ خود کو بڑے نقصان میں مبتلا نہ کر بیٹھے، اس کی پڑھائی پر سختی برتتا ہے کہ کہیں اس کا بچہ کم علم ہونے کے باعث کسی دوسرے کا محتاج نہ بن کر رہ جائے، بچے کا رات دیر سے گھر آنا اس لئے کھٹکتا ہے کہ کہیں کسی بری لت میں مبتلا ہوکر بچہ اپنی صحت اور مستقبل نہ خراب کر بیٹھے۔
باپ شفقت محبت اورایثارکاوہ کوہ ہمالیہ ہے جس کی چوٹی تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔اس کا غصہ وقتی ہوتاہے،اگروہ ہماری کسی بات پر ناراض ہوبھی جائے تو اندرہی اندرانتظارکرتاہےکہ اسے منالیا جائے۔وہ اوپرسےتوسخت ہوتاہےپراندر سے بالکل سادہ ہوتاہے۔صرف اس کی ’’انا اور مان‘‘ اپنی شفقت کا اظہارنہیں کرنے دیتی جوکہ ہمارے معاشرے کی عطا کردہ ہےلیکن جونہی اولاد اس کے سامنے اپنی غلطی کااعتراف کرکے معافی کی طلبگارہوتی ہے تواولادکے منہ سے ابھی فقرہ مکمل نہیں ہوتاکہ وہ دوڑکر آپ کو اپنے سینے سے اس زورسے لگاتاہے کہ محبت کی ساری گرمی جہاں اس کے سارے مصنوعی غصے کا کافورکردیتی ہے وہاں اولادکی غلطیوں اور شرمندگی کووالہانہ محبت سے شرابورکردیتی ہے۔
یعنی بچے کی پیدائش سے لے کر قبر تک باپ کی زندگی کا محور اس کا بچہ اور اس کا مستقبل ہی رہتا ہے، جہاں ماں کی محبت اس کی آنکھوں سے اور عمل سے ہر وقت عیاں ہوتی ہے وہیں باپ کی محبت کا خزانہ سات پردوں میں چھپا رہتا ہے، غصہ ، پابندیاں ، ڈانٹ ، مار ، سختی یہ سب وہ پردے ہیں جن میں باپ اپنی محبتوں کو چھپا کر رکھتا ہے کہ بھلے اس کی اولاد اسے غلط سمجھے پر وہ یہ سب پردے قائم رکھتا ہے کہ اس کی اولاد انہی پردوں کی بدولت کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کرتی ہے۔
میں بڑے اچھے اسکول میں پڑھتا تھا، اوراسی بات پر ہرروز چِڑتا بھی تھا۔ میرے دوست لمبی لمبی گاڑیوں میں آتے اور میری طرح نہیں کہ تانگے سے اتر کر گھر کے بنے ہوئے پراٹھوں والا ٹفن ہاتھ میں تھامے اسکول داخل ہوتا جبکہ میرے سب دوست کینٹین میں بیٹھ کر رنگ برنگے سموسے اور دیگر کھانوں کا لطف اٹھاتے تھے۔ کچھ تو ایسے بھی تھے جو سال میں کسی غیر ملک میں چھٹیاں منانےجاتے تھے۔ کسی کا باپ ڈاکٹر، کسی کا باپ سیاستدان، کوئی کسی بڑی مل یا فیکٹری کے مالک کا بیٹا یا کوئی کسی بڑے سرکاری عہدے دار کا بیٹا ہوتا تھا۔ جبکہ میرے والد بالکل ان پڑھ اور ایک معمولی ہوٹل چلانے والے۔
ایک دن میں اس معاشرہ کے غیر امتیازی سلوک کو دیکھ کر پھٹ پڑا،اور بڑے درد کے ساتھ اپنے والد سے سوال کر دیا:اباجی!یہ کیا ہے؟ آپ سب کی طرح پیسے والے ،امیر شخص کیوں نہیں ہیں؟ میرا اچانک یہ سوال سن کر تھوڑی دیر مجھے دیکھا اور پھر میرے سر پر ہاتھ پھیر کی خاموش ہو گئے، مجھے شدت سے اس سوال کا جواب درکار تھا کہ ابھی اس کے جواب میں کچھ الفاظ میری دماغ کی خلش دور کردیں گے لیکن میں نے ان کی بھرائی آنکھوں میں جو درد دیکھا،وہ میرے دل میں ایک خنجرکی طرح اتر گیا اور دل میں سما گیا۔ آج بھی جب وہ آنکھیں تصور میں نظرآتی ہیں تواپنے اس سوال پر ندامت بھی ہوتی ہے لیکن بچپن کی معصومیت کے پردے میں اسی طرح چھپا لیتا ہوں جس طرح میرے باپ نے اس دن اپنے آنسوؤں کو اندر ہی اندر جذب کرکے چھپا لیاتھا۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں