Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

عید الاضحی اورفادرڈے

(گزشتہ سے پیوستہ)
میں نے یہ بھی سناہے کہ عرب کا ایک امیر حکمران ایک ایسی گاڑی کا مالک ہے جو سونے (گولڈ)سے تیارکی گئی ہے۔دنیا میں اب درجنوں افراد ایسے ہیں جن کی دولت کے تخمینے کھربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، اوران میں کئی افراد ایسے ہیں کہ ان کی دولت کرمحفوظ کرنے کیلئے بینکوں کے پاس بھی جگہ نہیں رہی اور اب وہ دیگرذرائع سے اپنی دولت کو محفوظ کرکے اک خاص نشے میں مبتلا ہیں لیکن یقین کریں کہ دنیا کے امیرترین فہرست پر آج بھی میرا باپ سرفہرست ہے۔ میرے بابا جیسا عالی شان اورکون ہو گا جو اپنے کرتے کی پھٹی جیب میں ہاتھ ڈال کر مجھے یقین دلاتا رہا کہ جو مانگے گا، ملےگا…آپ خود بتائیں بھلا اس سے بڑا دولت مند اور کون ہو سکتا ہے۔
میرے ابا جی انتہائی رعب دار شخصیت کے مالک تھے لیکن کبھی بھی انہوں نے مارا نہیں۔ بظاہر انتہائی سخت معلوم ہوتے تھے لیکن یہ اس ڈسپلن کا تقاضہ تھاجوبچوں کی تربیت کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ ہم بھائیوں پربہت سخت پابندیاں تھیں اوریہی کچھ ہراولاد کو محسوس ہوتاہے کہ شاید ان کا باپ دنیا کا سب سے برا اور ظالم باپ ہے کہ جو نہ ہی دوستوں کے ساتھ رات گئے تک بیٹھنے دیتا ہے اور نہ ہی جیب خرچ اتنی زیادہ دیتا ہے کہ اولاد فضول عیاشیاں کرسکیں۔ باقی بھائیوں نے تو شائد اتنی سخت پابندیوں کاسامنانہ کیاہو لیکن میرے ساتھ بے انتہا پیارہونے کے باوجودکبھی میری بےجا ضدکونہیں مانا گیاکیونکہ ان کاکہناتھاکہ بڑا بیٹاگاڑی کاانجن ہوتاہے اورباقی بہن بھائی اس کے ساتھ منسلک بوگیوں کی مانندہوتے ہیں۔ آج جب اپنے بچپن کے دوستوں کو نشے یا دیگر خرافات میں مبتلا دیکھتا ہوں تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ ہمارے والد صاحب نے ہم پر سختیاں برتیں جس کی بدولت آج کسی بھی طرح کے نشے سے خود کو بچائے رکھا ہے، اور آج اس مقام پر کھڑے ہیں کہ اپنے والدین کا سر فخر سے بلند رکھ سکیں۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ باپ سانسیں لیتے ہوئے بھی مرجاتے ہیں، جیسے جیسے اولاد کا اختیار بڑھتا اور والد کا اختیار گھٹتاجاتا ہے ویسے ویسے ہی باپ ’’مرنا ‘‘شروع ہوجاتا ہے۔ جب بچہ طاقتورجوان ہونے لگتا ہے تو باپ کا ہاتھ بعض اوقات اس خوف سے بھی اٹھنے سے رک جاتا ہے کہ کہیں بیٹے نےبھی پلٹ کر جواب دے دیا تو اس قیامت کو میں کیسے سہوں گا ؟جب بچے اپنےفیصلےخود لینےلگیں اورفیصلے لینے کے بعد باپ کو آگاہ کر کے ’’حجت‘‘پوری کی جانے لگے تو بوڑھا شخص تو زندہ رہتا ہے پر اس کے اندر کا ’’باپ ‘‘مرنا شروع ہو جاتاہے۔باپ اس وقت تک زندہ ہےجب تک اس اولادپراس کاحق ہےجس اولاد سے اس نے اتنی محبت کی کہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر اس کی سرزنش بھی کی ہو، اولاد کے آنسو بھلے کلیجہ چیر رہے ہوں پھر بھی اس لئے ڈانٹا کہ کہیں نا سمجھ اولاد خود کو بڑی تکلیف میں مبتلا نہ کر بیٹھے، ماں کی محبت تو یہ ہے کہ پیاس لگی (پیار آیا)تو پانی پی لیا پر باپ کی محبت یہ ہے کہ پیاس لگی تو خود کواور اتنا زیادہ تھکایا کہ پیاس لگتے لگتے اپنی موت آپ مر گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ ’’والد‘‘کااولاد کی زندگی پر ہمیشہ اختیار رہناضروری ہے لہٰذا اولاد کو عمر کے ہرحصے میں باپ کویہ یقین دلاناضروری ہے کہ اسے کبھی احساس نہ ہو کہ اب ہم ’’بڑے‘‘ ہوگئے ہیں یا ان کی اہمیت گھٹ چکی ہےلہٰذا پیسے ہونے کے باوجود اپنے ہر کام کے لئے باپ سے پیسے مانگنا اپنی عادت بنالوچاہے وہ تمہاری اپنی ہی کمائی ہوئی دولت کیوں نہ ہو، رات اگر کسی پروگرام سے واپسی پر دیر ہوجانے کا خدشہ ہو تو آدھا گھنٹے پہلے باپ کی منتیں کرنی شروع کردو کہ پلیز جانے دیں ،جلدواپس آجاؤں گا ۔آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ روڈ کراس کرتے ہوئے بوڑھااپ آج بھی جوان اورتوانا بچے کاہاتھ پکڑ کر رکھتے ہیں جبکہ آپ کے بچے بھی شادی شدہ ہوگئے ہیں اور یقیناتمام اولاد دل ہی دل میں ہنستے ہوئے اور آس پاس کھڑے لوگوں کی نظروں کو نظرانداز کرتے ہوئے باپ کا ہاتھ پکڑ کر روڈ کراس کرتے ہوئے دیکھتے ہوں گے لیکن اس کی کوئی پرواہ نہ کریں۔
باپ کی محبت اولاد سے ماسوائے اس کے اور کچھ نہیں مانگتی کہ ’’باپ ‘‘کو زندہ رکھا جائے ، پھر چاہے وہ چارپائی پر پڑا کوئی بہت ہی بیمار اور کمزور انسان ہی کیوں نہ ہو ، اگر اس کے اندر کا ’’باپ ‘‘زندہ ہے تو یقین جانئے اسے زندگی میں اور کسی شے کی خواہش اور ضرورت نہیں ہے۔اگرآپ کے والدصاحب سلامت ہیں تو خدارا اس کے اندر کا ’’باپ ‘‘زندہ رکھئے یہ اس ’’بوڑھے شخص‘‘کا آپ پرحق بھی ہے اور آپ کا فرض بھی ہے۔
یقیناً ہم سب جنت کے امیدوارہیں تو پھر دیرکس بات کی ہے۔اپنی ماں جس کے قدموں کے نیچے جنت ہے توباپ کوجنت کادروازہ تعبیرکیاگیاہے اورداخلہ کیلئے دروازہ کی کیا قدر اوراہمیت ہے،ہم سب جانتے ہیں لیکن میرے رب کایہ فرمان کہ جس کے ساتھ باپ ناراض ہوتومیرارب بھی اس سے منہ موڑلیتاہے۔اس لئے ان دونوں کو راضی رکھنا ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح رحم کرناہوگا جس طرح انہوں نے ہم پررحم کیاجب ہم محض گوشت کے اک لوتھڑے کے سواکچھ نہ تھے۔وہ بڑے خوش نصیب ہیں جن کے والدین یاان میں کوئی ایک زندہ ہے۔اللہ نہ کرے کہ دیر ہو جائے، ان کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کی دعاؤں میں اولاد ہی سرفہرست ہوتی ہے،اپنے لئے تومانگنے کاانہیں یادبھی نہیں ہوتا۔والدین بالخصوص والد کی اہمیت ہم جیسے ہی بتاسکتے ہیں کہ جن کے کان ہر عید اورخاص تہوارپروہ رس بھری آوازکے منتظررہتے ہیں کہ کاش کوئی آگے بڑھ کرویسے ہی گلے لگاکرعیدمبارک کہے جس طرح بچپن میں منہ چوم کرہاتھ میں عیدی ملتی تھی۔
بابا!آپ کےجانے کےبعد پتہ چلا کہ میرے رب نے آپ کوجنت کادروازہ کیوں کہا۔ باپ ایک ایسابے داغ آئینہ ہوتا ہے جس پرکبھی بھی کسی قسم کی دھول ٹھہر نہیں سکتی اور اس آئینے میں اسے اپنی اولاد سے زیادہ کوئی اورخوبصورت دکھائی ہی نہیں دیتا۔ میرے نبی ﷺکافرمان ہے کہ دعاعبادات کامغزہے،اس لئے اپنے رب سے کثرت کے ساتھ دعاکرنی چاہئے اورمیرے رب کافرمان ہے کہ میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں،اس لئے میری گزارش ہے کہ اپنے رب سے ہمیشہ خوش گمان ہوکرمانگیں۔
دعاایک امیدہے۔
دعاایک یقین ہے۔
دعاایک بھروسہ ہے۔
دعاایک وسیلہ ہے۔
دعاایک حوصلہ ہے
دعاایک محبت ہے۔
میری سب دعاؤں کامرکز میراباپ!
میری دعا ہے کہ یاکریم ورحیم رب!جن کے والدین اس دنیامیں نہیں رہے،ان کی بخشش فرما اورجن کے والدین زندہ ہیں،ان کی خدمت کرنے کی توفیق عنائت فرماکہ توہی ہماری دعاؤں کو سننے اورقبول کرنے والاہے۔ آپ ہمیشہ خوش ، آباد،سلامت رہیں اور میرا کریم رب آپ کو کسی کا محتاج نہ کرے ۔ آمین!
تاریک ہوگئی مری کائنات ِ حیات جن کے بغیر

یہ بھی پڑھیں