Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

نیادجال،نیاجنجال

(گزشتہ سے پیوستہ)
تمام کمپنیوں کے سربراہان نے ہاتھ کھڑے کردیئے۔مذاکرات ابھی حتمی شکل اختیارنہیں کرپائے تھے کہ سنیئربش کی حکومت ختم ہوگئی تاہم مذاکرات پھربھی جاری رہے۔اسی دوران اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موسادکوان تمام سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں اوروہ بھی متحرک ہوگئی۔ اب موسادکویہاں دوچیلنجزکاسامنا تھا، ایک نئے منتخب ہونے امریکاکے42 ویں صدرکو حصارمیں لینا،کابینہ اوراردگردتمام سرکاری اورحساس اداروں تک رسائی حاصل کرنااوردوسرادنیابھرکے تیل کے ذخائرپرقبضہ کرنا۔آپ یہ جان کرچونک اٹھیں گےکہ تقریباً ایک سال سے بھی کم عرصے کے دوران یہودیوں نے بل کلنٹن کے گردایک مضبوط حصارقائم کردیامثلا کلنٹن کی وزیرخارجہ میڈلین البرائٹ،نائب وزیرخارجہ سٹینلے ارتھ، وزیر دفاع ولیم کوہن،وزیر خزانہ لارسن سمرز،نائب وزیرخزانہ اسٹورن آنزن ٹیسٹ،اقوام متحدہ میں امریکی سفیررچرڈہال بروک،نیشنل سیکورٹی کا سربراہ سینڈل برگر،چیف آف سوشل سیکورٹی کینتھ ایفل،ٹریڈکا نمائندہ چارلس برشینکی،ڈائریکٹرسی آئی اے ڈیوڈکوہل، آئی بی ڈائریکٹرہال آئزنر،کیمونیکشن ڈائریکٹررابی امونیل راہم،نیشنل ہیلتھ کئیر ایڈوائزر ٹھامس ریپٹن، ڈائریکٹرمینجمنٹ آف بجٹ ایلیس ریولن،اکنامک پالیسی ایڈوائزرصتیلے پوسکن، یہاں تک خودکلنٹن اورہیلری کاذاتی سٹاف تک یہودی تھالہٰذاصدراورخاتون اول کی ذاتی اور کاروباری مصروفیات کا تمام ترشیڈول یہی لوگ بناتے تھے۔یہ دوریہودیوں کے لئے انتہائی سنہری دورتھاجس میں خوب کھل کرامریکی انتظامیہ،مقننہ اورعدلیہ کے ذریعے اپنی پالییسیوں کوعملی جامہ پہناتے رہے۔یوں محسوس ہوتاتھاکہ تین فیصد امریکی یہودی97 فیصدامریکیوں اورسوفیصد دنیاکےمالک بنےبیٹھےہیں اوریہ تمام یہودی انتہائی درجہ کے متعصب،بنیادپرست اورنظریاتی تھے۔
دوسری طرف دنیابھرکے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لئے موسادنے یوسف اے میمن کوترکمانستان میں تعینات کیا۔یوسف اے میمن موسادسے ریٹائرڈہونے کے بعداسرائیل کی ایک کمپنی مہیروگروپ کاصدربن گیا۔اس وقت ترکمانستان کے صدرنیازوف نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے یوسف اے میمن کونہ صرف ترکمانستان کی شہریت دی بلکہ اسے آئل وگیس کا مشیراورخصوصی سفیربنادیااوریوں ترکمانستان کے تیل پراسرائیل کاقبضہ ہوگیا۔اس کے ساتھ ساتھ تیل کے دیگرتجارتی معاہدوں کے ذریعے یوسف اے میمن نے آذربائیجان کے تیل کے ذخائرتک بھی رسائی حاصل کرلی۔ادھرسنیئربش کے تیل کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں امریکاکی دیگر آئل کمپنیوں نے بھی ترکمانستان اورقازقستان میں مجموی طورپر33 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی اورپاکستان سے افغانستان اورافغانستان سے ترکمانستان گیس پائپ لائنزبچھانے کی سرمایہ کاری اس کے علاوہ تھی۔اس صورتحال نے اسرائیل اوربش خاندان کوایک دوسرے کے مدمقابل کھڑاکردیاکیونکہ تیل کے ذخائر پرقبضہ کرنادونوں کامقصدتھا۔
بش خاندان نے جب سینٹرل ایشیاکے تیل کو یورپ اورامریکاپہنچانے کے بارے میں سوچاتواس کے صرف تین راستے تھے۔ پہلا راستہ ترکمانستان ، قاقستان، ازبکستان اورآذر بائیجان سے روس اورروس سے یورپ،دوسراچارممالک سے براستہ ایران سے بحیرہ عرب اوروہاں سے یورپ اورامریکا،اورتیسراان چارممالک سے افغانستان براستہ پاکستان، بھارت اوروہاں سے بحرہندسے یورپ اورامریکا،روس کے صاف انکارکر دینے پرصرف دوآخری آپشن تھے لیکن چونکہ امریکاایران پراعتمادکرنے کے لئے تیار نہیں تھا ،اس لئے ان جھولی میں ڈالنے کے لئے تیارہیں۔ کمپنیوں کے مالکان نے جب گارنٹی مانگی توبش نے انہیں پیشکش کی کہ حکومت تشکیل پاتے ہی آپ تمام کو کابینہ کے ارکان کے طورپرلے لیاجائے گا۔بس پھرکیاتھاتیل کمپنیوں کے مالکان نے ڈالروں کی بارش کردی اورہرطرف بش خاندان کاڈنکا بجنے لگا۔ٹی وی،ریڈیواخبارات، رسائل وجرائد میں اشتہارات کی بھرمارہوگئی یہاں تک کہ پانامااور ایتھوپیا جیسے بدحال ممالک کے اخبارات میں بھی بش کی حمائت میں مضامین چھپنے لگے اوراس مہم کے نتیجے میں بش خاندان ایک بارپھروائٹ ہائوس میں داخل ہوگیا۔ وعدے کے مطابق تیل کمپنیوں کے مالکان کووزیر داخلہ ، وزیرخارجہ،وزیرتوانائی اوردیگرحساس نوعیت کے سرکاری عہدے سونپ دیئے گئے۔الیکشن مہم میں سب سے زیادہ چندہ دینے والی آئل کمپنی ایزون کے وائش چیئرمین تھامس وائٹ کوامریکا کی سب سے مضبوط وزارتِ فوج کاسربراہ مقررکردیاگیا۔
بش خاندان چونکہ مذہباًکٹرعیسائی تھااوریہ لوگ ہراتوارکوباقاعدگی کے ساتھ چرچ بھی جایا کرتے تھے بلکہ سینئر بش کے بارے میں تو یہاں تک بیان کیاجاتاہے کہ یہ یہودیوں کا سخت مخالف اورفلسطین کے معاملے پرعربوں کاحامی تھا۔اس لئے عربوں کاخیال تھا کہ جونیئربش صدرمنتخب ہونے کے بعدفلسطین کے مسئلے میں ہماری حمائت کرے گااورمشرقِ وسطیٰ میں امن قائم ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جارج ڈبلیوبش کی الیکشن مہم کے لئے عربوں نے ڈیڑھ بلین ڈالرچندہ دیاتھاجو الیکشن مہم کے اخراجات کاتقریبا نصف بنتاتھا۔کامیاب مہم کے نتیجے میں جب جارج ڈبلیوبش امریکا کا 43واں صدرمنتخب ہوااوراس نے اپنی کابینہ کا اعلان کیاتواس میں یہودیوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابرتھی اوریہ یہودیوں کے لئے شدید جھٹکا تھا۔اس سے قبل چونکہ امریکی معیشت وحکومت پریہودی مکمل طورپرقابض ہوچکے تھے لہٰذا بش حکومت کے لئے مشکلات پیداکرنا ان کے لئے کوئی مشکل کام نہ تھا چنانچہ تمام یہودیوں نے شٹرڈان کرکے بش حکومت کوگھٹنے ٹیکنے پرمجبورکردیا اوراسٹاک ایکسچینج اپنی آخری حدتک گرگیا۔ کارخانوں کے لئے آتش بازی کاسامان تک چین سے منگواناپڑگیاجس کی وجہ سے بش حکومت کو 125ملین ڈالرکایومیہ خسارہ برداشت کرنا پڑگیا۔
یہودیوں نے اسی پراکتفانہیں کیابلکہ موساد نے اپنے120اعلیٰ تربیت یافتہ افرادکو ورلڈ ٹریڈ سینٹرپرحملے کی منصوبہ بندی میں لگا دیاجوبعد میں امریکی تحقیقات کے خفیہ ادارے سی آئی اے کی تفتیشی کارروائیوں کے نتیجے میں گرفتار بھی ہوئے لیکن تاریخ مزید اس حوالے سے خاموش ہے۔ دوسری جانب امریکاکی الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا کی تمام بڑی کمپنیاں جن کے مالکان کٹر متعصب یہودی تھے،نے اپنی توپوں کارخ بش کی طرف پھیردیا۔ میڈیاپراسامہ بن لادن کوبنیاد بناکر افغان طالبان اور اسلامی سزائوں کے خلاف پرزور پروپیگنڈہ کاآغاز کردیاجس کے نتیجے میں امریکی عوام کے دلوں میں طالبان کوانسانیت اور امریکی تہذیب کا بدترین دشمن بناکرپیش کیاگیااور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت امریکی عوام کی طرف سے یہ مطالبہ کیاجانے لگاکہ طالبان کوجلدازجلدسبق سکھاناچاہئے۔
طالبان حکومت کے بعض لوگ اس منصوبے کے پیچھے خفیہ عزائم کوبھانپ گئے تھے لہنداانہوں نے تعلقات عامہ کی ماہرخاتون اورسی آئی اے کے سابق سربراہ رچرڈ ہیلمزکی بھتیجی لیلیٰ ہیلمز نامی خاتون کوباقاعدہ معاوضہ دے کرخدمات حاصل کیں۔لیلٰی ہیلمزکی کوششوں سے امریکاانتظامیہ طالبان کے نمائندوں سے گفتگوکے لئے تیارہوگئی اورمارچ 2001کوطالبان حکومت کے مشیر سیدرحمت اللہ ہاشمی پانچ روزہ دورے پرواشنگٹن پہنچ گئے جہاں ان کے سامنے صلح کی صرف ایک ہی شرط رکھی گئی کہ افغانستان میں لبرل اورماڈریٹ حکومت تشکیل دی جانی چاہئے بصورت دیگرامریکا طالبان پر حملہ کردے گا۔6اگست کواسلام آباد میں موجودافغان سفیرکے ذریعے طالبان کوآخری وارننگ دی گئی لیکن طالبان نے امریکی دھمکیوں کونظر اندازکر دیا۔ جونیئر بش افغانستان پرحملے کااس لئے بھی خواہشمند تھاکہ ایک طرف تواس کے والدسنیئربش کے منصوبے کے تحت تیل کے ذخائرپرقبضہ کرلیاجائے گا تو دوسری طرف بش جونیئرکی حکومت کی پذیرائی ہوگی اور امریکی صنعت وحرفت کاپہیہ چلناشروع ہوجائے گا۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں