Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

عمران خان کی احتجاجی تحریک ناکام کیوں ہے؟

احتجاجی تحریک کے کچھ لوازمات ہوتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ان کو سمجھا جائے‘ خاص طور پر ان کامیاب احتجاجی تحریکیوں کی حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے جوحکومتیں الٹانے کا سبب بنتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں احتجاجی تحریکیں دو صورتوں میں کامیاب ہوتی ہیں۔ اول ‘ احتجاجی تحریک کو داخلی طور پر پس پردہ قوتوں یعنی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہو۔ دوم‘ خارجی قوتیں دبائو اور حمایت کے ذریعے آپ کی مددگار بن جائیں۔ تیسری صورت بھی ہے اور وہ یہ کہ اچانک کوئی موقع مل جائے جو پہلے سے جاری تحریک کیلئے مہمیز کا کام کرے جیسا کہ 2007 ء میں جنرل مشرف کے خلاف عدلیہ بحالی تحریک‘ مارچ2007 ء تک جنرل پرویز مشرف کی حکومت مستحکم تھی اور ان کے جانے کا دور دور تک کوئی امکان دکھائی نہ دیتا تھا۔ اچانک حالات نے پلٹا کھایا اور جنرل صاحب چیف جسٹس افتخار چوہدری سے الجھ پڑے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی جلاوطن قیادت کیلئے یہ ایک سنہری موقع بن گیا جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سات آٹھ ماہ میں حالات جنرل پرویز مشرف اور ان کے حواری ٹولے کے قابو سے باہر ہوگئے۔ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی واپسی نہ صرف ممکن ہوئی بلکہ جنرل صاحب کو بےنظیر بھٹو کے ساتھ شراکت اقتدار کرنے کیلئے اپنی وردی بھی اتارنی پڑی اور این آر او بھی دینا پڑا۔
قبل ازیں امریکی دبائو پر بے نظیر بھٹو کے ساتھ جنرل پرویز مشرف کے شراکت اقتدار کا جو بندوبست ترتیب پارہا تھا اس میں جنرل صاحب کا ہاتھ اوپر تھا۔ یہ خارجی دبائو کی ایک نرم صورت تھی۔ امریکہ جنرل مشرف کی اقتدار سے رخصتی نہ چاہتا تھا ‘ اس کی ضرورت محض اس قدر تھی کہ بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی سے وہ کام لیا جائے جو جنرل صاحب بوجوہ نہ کر سکے تھے۔ امریکی پاکستان کی دوغلی پالیسی سے نالاں تھے‘ حقیقت یہ ہے کہ یہ بینظیر بھٹو تھیں جنہوں نے امریکہ جاجاکر انہیں باور کروایا کہ جنرل تمہیں دھوکا دے رہاہے یعنی ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور ہیں اور کھانے کے اور۔ امریکیوں کی اپنی رپورٹیں بھی کچھ اس طرح کی تھیں چنانچہ جارج ڈبلیو بش مارچ2006 ء میں پاکستان آئے تو انہوں نے جنرل پرویز مشرف سے اپنی ملاقات میں کھل کر بے نظیر بھٹو کو شریک اقتدار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ باقی تاریخ ہے۔ کونڈو لیزا رائس کی کتاب میں یہ سب کہانی درج ہے۔
خارجی دبائو پر پاکستان میں حکومتیں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ تازہ ترین مثال عمران خان کی حکومت ہے جس نے “Absolutly Not” کا خمیازہ بھگتا۔ اندرون ملک تمام عمران مخالف قوتیں یکجا ہوگئیں‘ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت ان کے ساتھ تھی۔ دوچار مہینوں میں تخت سے تختہ ہوگیا۔ اسٹیبلشمنٹ ساتھ نہ ہو تو پاکستان میں نہ تو کوئی احتجاجی تحریک کامیاب ہوسکتی ہے اور نہ ہی عدم اعتماد کی تحریک۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نظام مصطفی کی تحریک ہو یا نواز شریف کے خلاف بے نظیر بھٹو کا لانگ مارچ‘ سیاسی جماعتوں کو پس پردہ قوتوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے تب جاکر کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے۔
اب آئیے عمران خان کی احتجاجی تحریک پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ عمران خان کی احتجاجی تحریک اس لحاظ سے جینوئن کہی جاسکتی ہے کہ اس میں داخلی و خارجی سازش نظر نہیں آرہی۔ عمران خان جب سے اقتدار سے نکالے گئے ہیں انہوں نے اپنے زور بازو پر عوامی حمایت پر انحصار کرتے ہوئے حکومت گرانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے حقیقی آزادی کی جدوجہد میں عوامی شعور بیدار کرنے پر کام کیا‘ ان کا خیال تھا کہ عوام تک ان کا پیغام پہنچے گا تو عوام ان کا ساتھ دینے کیلئے اٹھ کھڑی ہوگی۔ دو مواقع پر وہ توقع کررہے تھے کہ عوام اتنی بڑی تعداد میں باہر نکلے گی کہ حکومت کا ٹھہرنا ممکن نہ رہے گا۔25مئی2022 ء وہ پہلا موقع تھا جو انہوں نے اسلام آباد کی کال دی۔ خود وہ پشاور سے ایک بڑے کارواں کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے۔ اسلام آباد کا ڈی چوک اورجناح ایونیو اگرچہ تحریک انصاف کے ورکرز کے زیر کنٹرول تھا مگر یہ عوامی اجتماع عمران خان کی توقع سے بہت کم تھا۔ عمران خان اگر دھرنا دیتے تو اس دھرنے کا انجام 2014 ء والے دھرنے سے مختلف نہ ہوتا۔ شائد یہی سوچ کر عمران خان نے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔ دوسری کال26 نومبر2022 ء کی تھی۔ اس کیلئے عمران خان نے بہت محنت کی۔ گھر گھر حقیقی آزادی کا پیغام پہنچانے کیلئے انہوں نے ایم این ایز اور ایم پی ایز کی ڈیوٹیاں لگائیں۔ تنظیموں کو فعال کیا‘ عوامی بیداری کیلئے کیمپ لگوائے‘لسٹیں تیار کروائیں ‘ ایک ایک شخص کا فون نمبر نوٹ کیا گیا جس کو باضابطہ کال کرکے پوچھا جاتا کہ کیا انہوں نے عمران خان کی کال پر لبیک کہنے کے لئے اپنا نام نوٹ کروایا ہے؟ دریں اثنا عمران خان نے جلسے بھی کئے‘ لاہور سے لانگ مارچ کا آغاز بھی کیا جس پر فائرنگ بھی ہوئی اور عمران خان کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ عوام کو اٹھانے کیلئے اس سے زیادہ ایک لیڈر اور کیا کرسکتا تھا۔26 نومبر کو راولپنڈی میں ایک بڑا جلسہ عام عمران خان کا منتظر تھا مگر عوام کی وہ تعداد نہ تھی جس کے سامنے حکومتیں لرز جاتی ہیں۔ عمران خان کے ہیلی کاپٹر نے مری روڈ کے اوپر دو چکر لگائے۔ سنا ہے کہ عمران خان نے اپنے رفقا سے پوچھا کہ لوگ کہاں ہیں‘ جواب دیا گیا کہ مختلف سمتوں سے قافلے راولپنڈی پہنچ رہے ہیں۔ عمران خان نے ہیلی پیڈ پر ایک آدھ گھنٹہ اور انتظار کیا۔ عمران خان پنڈال پہنچے تو مایوسی ان کے ہم قدم تھی۔ چھ ماہ کی بھرپور منصوبہ بندی اور جدوجہد کے باوجود عوام کی حاضری وہ نہ تھی جس کی عمران خان توقع کررہے تھے۔ یہ وہ لمحات تھے جب عمران خان نے حکمت عملی بدلی اور پنجاب ‘ پختونخوا کی حکومتیں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ حکومتیں برقرار رہتیں تو شائد9 مئی کا سانحہ نہ ہوتا لیکن عمران خان کی مقبولیت بھی شائد پھر اس انتہا کو نہ پہنچتی جس کا مظاہر8 فروری2024 ء کو چشم فلک نے دیکھا۔ عمران خان نے فیض احمد فیض کے شعر ’’یہ بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا‘‘ کے مصداق اپنی جدوجہد کی کامیابی کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ قوم نے ووٹ کی پرچی کے ذریعے عمران خان کی حقیقی آزادی کی کال پر لبیک کہا اور اپنے ذمہ واجب الادا حق کو اس طرح ادا کیا جس طرح ادا کرنے کا حق تھا لیکن فارم47 کے ذریعے عوام کا مینڈیٹ چوری کرلیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس ڈاکہ زنی کا حساب مانگنے کیلئے عوام سڑکوں پر نکل آتے لیکن لوگ گھروں سے نہ نکلے۔ پاکستانی قوم کا مزاج احتجاجی تحریک کانہیں ہے‘ ان میں احتجاجی تحریک کا ایندھن بننے کا نہ حوصلہ ہے‘ نہ ہمت ہے اور نہ ہی استطاعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں احتجاجی تحریکوں کے ذریعے کبھی حکومتیں نہیں بدلیں‘ نام نہاد احتجاجی تحریکیں فقط اس وقت کامیاب ہوتی ہیں جب داخلی یا خارجی قوتیں ان کی پشت پر کھڑی ہوں۔ عمران خان کی احتجاجی تحریک میں یہ دونوں عوامل مفقود ہیں اس لئے بھی کامیابی کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے۔ اس کے باوجود عمران خان نے ابھی تک استقامت سے حالات کا مقابلہ کیا ہے اور یہ بات ان کے مخالفین کو پریشان کئے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں