Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

نیادجال،نیاجنجال

(گزشتہ سے پیوستہ)
بش حکومت نے ورلڈٹریڈسنٹرپرحملے کاکبھی سوچابھی نہ تھایہ توموسادکے120اعلیٰ تربیت یافتہ جاسوسوں کوورلڈٹریڈ سنٹرپر حملے کی منصوبہ بندی کا جو ٹاسک دیاگیاتھا،وہ پوراہوا، اورپھردنیا نے 11ستمبر 2001 ء کادن بھی دیکھاکہ دنیاکا بلند ترین تجارتی مرکزجس کی تکمیل چند ماہ قبل ہی 22 اپریل 2001کوہوئی تھی، جس میں روزانہ ساڑھے آٹھ ارب ڈالرکابزنس ہوتاتھااورجس کو 99سال کے لئے تین ارب بیس ملین ڈالرزکی لیزپرسلوراسٹیشن پراپرٹیزاورویسٹ فیلڈامریکانے حاصل کیاتھا،زمین بوس ہوگیا۔اس حملے سے بش حواس باختہ ہوکراپنی تمام ترانتظامی صلاحیتیں گنوابیٹھااور افغانستان پرچڑھ دوڑااوراس طرح یہودی لابی نے امریکاکونہ ختم ہونے والی طویل جنگ میں جھونک دیا۔ایک طرف بش حکومت پہلے ہی سے غیرمستحکم حالات اورہچکولے کھاتی معیشت کاشکارتھی تودوسری طرف افغان جنگ سے یہودی لابی نے نہ صرف امریکی معیشت کودیوالیہ کردیابلکہ ریکارڈ حد تک ورلڈبینک اورآئی ایم ایس جیسے اداروں کامقروض بھی بنادیا،اوریہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ دونوں ادارے عالمی سودی مالیاتی نظام کی تشکیل کاسرچشمہ ہیں جس کے تحت ممالک کومقروض بناکرجکڑلیاجاتاہے اورآج امریکی محکمہ خزانہ کے اعداد وشمارکے مطابق امریکی تاریخ میں پہلی بارامریکاکا قومی قرض33 ٹریلین ڈالرسے تجاوزکرگیاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہرامریکی شہری ایک لاکھ ڈالرسے زائدکا مقروض ہے۔
اس کے علاوہ عراق امریکاجنگ میں بھی ان 32یہودیوں کے مرکزی کردارکونظراندازنہیں کیا جاسکتا جوورلڈٹریڈسنٹرپرحملے کے بعدبش انتظامیہ اورتمام اہم کلیدی عہدوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔یہی وہ یہودی تھے جواس وقت تمام امریکا کے سیاہ وسفیدکے مالک بن بیٹھے تھے اورتمام پالیسیوں کوتشکیل دیرہے تھے۔ ان میں سے ایک رچرڈپرل تھاجو پینٹاگون کے ڈیفنس پالیسی بورڈکاچیئرمین اورخارجہ پالیسی کے سلسلے میں بش کامشیرتھا۔اس سے قبل رچرڈ اسرائیل کی اسلحہ ساز فیکٹری سولٹم میں ملازم تھا دوسرا شخص پال ولف اوٹس جو امریکا کانائب وزیردفاع اور رچرڈ کے ڈیفنس پالیسی بورڈکا ممبرتھا ۔یہ وہ شخص ہے جس کے اسرائیل سے خفیہ تعلقات کی خبریں متعددبارامریکی اخبارات میں شائع ہوئیں۔ تیسرا شخص ڈگلس فیتھ تھاجودفاع کاانڈرسیکرٹری اور پینٹاگون میں پالیسی ایڈوائزرتھا۔یہ شخص ایک متعصب یہودی تھاجوعرب مخالف پالیسیوں کی بنا پر امریکامیں خاصا مقبول تھااوریہودیوں کی بدنام زمانہ تنظیم زاہانسٹ آرگنائزیشن آف امریکامیں بھی شامل رہا۔
چوتھاشخص ایڈورڈلٹواجوپینٹاگون میں قائم سیکورٹی اسٹڈی گروپ کاممبرتھا۔یہ ایک نظریاتی اور انتہاپسندیہودی تھاجس کی تعلیم وتربیت تل ابیب میں ہوئی اوراخبارات میں مسلسل اسرائیل کی حمائت میں مضامین بھی لکھتارہا۔اگلاشخص ڈوزاخم جودفاع کاانڈر سیکرٹری اورمحکمہ دفاع کاچیف فنانشل آفیسرتھا۔یہ شخص بھی نسلاًیہودی تھااوراورامریکا کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی شہریت بھی رکھتاہے۔ اس کاکہناہے کہ جب تک مسلمانوں کی طاقت ختم نہیں ہوجاتی یہودیوں کا عروج شروع نہیں ہو سکتا۔ کینتھ ایڈولمین پیٹاگون میں مشیرتھا اور ڈیفنس پالیسی بورڈ کا ممبربھی تھا ۔یہ بھی ایک انتہائی متعصب اورانتہا پسندیہودی ہے،جس کا کاکہناہے کہ اگر دنیاامن چاہتی ہے تومسلمانوں کی بیخ کنی کرناہوگی اوراگریہ ممکن نہ ہوتو مسلمانوں کواس جگہ پر رکھنا چاہئے جہاں لوگ پرانے غلاموں کورکھاکرتے تھے۔اس شخص کوآپ ہمیشہ کی طرح بین الاقوامی ٹی وی چینل فاکس نیوزپرعربوں اور مسلمانوں کے خلاف گفتگوکرتاہواپائیں گے۔لیویزلیبی امریکا کے نائب صدرڈک چینی کاچیف آف سٹاف تھا، اس کاکہناہے کہ اگردنیا سے دہشتگردی کوختم کرنا ہے توجہادکے جذبے کومٹاناہوگا ،اس کے لئے مسلمانوں کے اندرایک گروہ احمدی(قادیاانی) کے نام سے جوکام کررہاہے،ان کی ہرموقع پر حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔
رابرٹ سٹالوف امریکی قومی سلامتی کامشیرتھا جواس سے قبل اسرائیل کے تھنک ٹینک، واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فارنیئرایسٹ کا ڈائریکٹرتھا۔اس کاکہناہے کہ عربوں کاتیل بنیادی طورپر یہودیوں کی جاگیرہے لیکن مسلمان اسے استعمال کررہے ہیں،یہ سراسر بے ایمانی ہے اورایک دن یہودی اپناحق لیکرہی رہیں گے۔ایسٹ ابرامزکاشماربھی انتہاپسندیہودیوں میں ہوتاہے اوریہ شخص اس دورمیں نیشنل سیکورٹی کونسل کامشیرتھا۔اس کا کہنا تھا کہ اس وقت تک دنیامیں امن قائم نہیں ہوسکتاجب تک وہ تمام ذرائع مسدودنہ کردیئے جائیں جن سے اسامہ بن لادن جیسے لوگ پیداہوتے ہیں۔ پس منظرکے طورپرعرض کیاجاتاہے کہ بش کوعراق پرحملے کی چنداں ضرورت نہیں تھی کیونکہ عرب حکمرانوں کی تمام دولت امریکامیں ہے اورامریکا کوتیل کی ترسیل روک کروہ اپنے اربوں کھربوں ڈالرزکوخطرہ میں نہیں ڈال سکتے لیکن یہ کیسے ممکن ہوسکتاہے کہ وزارتِ خارجہ اورڈیفبس جیسے حساس اداروں پرانتہاپسند اور متعصب یہودی تعینات ہوں جوبرسوں سے مسلمانوں کے زوال اوربیخ کنی کے منتظر تھے اورجونیئربش کوعراق پرحملہ کرنے کی تجویزنہ دیں بلکہ مجبورنہ کریں۔اس بات کااندازہ لگانابھی مشکل نہیں کہ ان حضرت کے ہوتے ہوئے جونیئربش عراق پرحملہ کرنے سے کیسے انکارکر سکتا تھا جبکہ بش کواپنے آگے اورپیچھے دونوں طرف موت منڈلاتی دکھائی دے رہی تھی اوراسے اس بات کابخوبی علم تھاکہ امریکاکے 16ویں صدرابراہام لنکن اور20ویں صدرچیمزگارفیلڈ عالمی مالیاتی نظام جسے براہِ راست یہودی کنٹرول کرتے ہیں، میں رخنہ ڈالنے کے سبب قتل کئے جاچکے ہیں،اس لئے وہ کسی بھی صورت میں اپنی جان کوخطرے میں نہیں ڈال سکتاتھا۔
یہودی اگرامریکاکوعراق اورشام کے خلاف جنگ کرنے پرابھارتے ہیں اورحملہ کرنے پرمجبور کرتے ہیں توبات سمجھ میں آتی ہے کہ ایساکرنے سے یہودیوں کے گریٹراسرائیل(جو مصرکے نیل سے لے کر فرات تک پھیلا ہو اہے اورجس میں اردن سمیت سعودی عرب کاشمالی علاقہ نصف عراق اور پوراشام شامل ہے) کا خواب تکمیل تک پہنچتاہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہودی لابی نے امریکا کو افغانستان کی دلدل میں کیوں دھکیلا؟ تواس بات کو رسول اکرم ﷺکی حدیث مبارکہ سے باآسانی سمجھاجا سکتاہے۔سنن ابن ماجہ میں حضوراکرم ﷺ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ جب تم دیکھو کہ خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے نکل آئے ہیں تواس لشکرمیں شامل ہوجا ؤ چاہے تمہیں اس کے لئے برف پرگھسٹ کرہی کیوں نہ جاناپڑے کہ اس لشکرمیں اللہ کے آخری خلیفہ مہدی ہوں گے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں