Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

حضرت عثمانؓ غنی…مظلومِ مدینہ

18 ذی الحج سیدنا حضرت عثمانؓ کا یوم شہادت ،جی ہاں!وہی حضرت عثمانؓ جنہیں ہم ذوالنورین کہتے ہیں،وہی عثمان جسے ہم داماد مصطفی ؓ کہتے ہیں،وہی عثمانؓ جسے ہم ناشر قرآن کہتے ہیں، وہی عثمان ؓجسے ہم خلیفہ سوئم کہتے ہیں،وہی عثمانؓ جوحضرت علی ؓکی شادی کاساراخرچہ اٹھاتے ہیں،وہی عثمانؓ جس کی حفاظت کیلئے حضرت علیؓ اپنے بیٹے حضرت حسینؓ کوبھیجتے ہیں،وہی عثمان ؓجسے جناب محمد الرسول اللہ ﷺکادوہراداماد اورلقب ’’ذوالنورین‘‘ ہونے کاشرف حاصل ہے۔
یہی نہیں بلکہ خلیفہ سوم سیدناعثمانؓ غنی کاتعلق قریش کے معززقبیلے سے تھا۔سلسلہ نسب عبدالمناف پر رسول اللہ ﷺسے جا ملتاہے۔ سیدناعثمان ذوالنورین کی نانی نبیﷺکی پھوپھی تھیں۔اسلام قبول کرنے والوں میں آپ السابقون الاولو ن کی فہرست میں شامل تھے۔ خلیفہ اوٓل سیدناابوبکر صدیق ؓکی دعوت پر حضورﷺ پرایمان لانے اورکلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدناعثمان ؓغنی کوان کے چچاحکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کرمکہ کی سخت ترین جھلسادینے والی دھوپ میں ڈال کرکئی روزتک علیحدہ مکان میں بندکرکے نئے مذہب(اسلام )کوچھوڑنے پرآزاد کرنے کی شرط رکھی توآپ نے جواب میں انتہائی شجاعت واستقامت کامظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا: چچا! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کوکبھی نہیں چھوڑسکتا اورنہ ہی ایمان کی دولت سے کبھی دستبردارہوں گا۔
سیدناعثمانؓ غنی اعلیٰ سیرت وکردارکے ساتھ ثروت وسخاوت میں بھی مشہورتھے۔رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ جنت میں ہرنبی کاساتھی ورفیق ہوتاہے، میرا ساتھی عثمانؓ ہوگا۔ سیدنا عثمانؓ کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعدنبی اکرمﷺ نے اپنی بیٹی سیدہ رقیہ ؓکا نکاح آپ سے کردیا۔ جب کفارمکہ کی اذیتوں سے تنگ آکرمسلمانوں نے حکم الہٰی اورنبی کریمﷺ کی اجازت سے ہجرت حبشہ کی توسیدناعثمانؓ بھی اپنی اہلیہ حضرت رقیہ ؓکے ساتھ حبشہ ہجرت فرماگئے،جب حضرت رقیہ ؓکاانتقال ہواتونبیﷺنے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم ؓکوآپ کی زوجیت میں دے کرذوالنورین کالقب بھی عطا فرما دیا۔ مدینہ منورہ میں پانی کی قلت پرسیدناعثمان ؓنے اپنے آقا ﷺ کی اجازت سے پانی کاکنواں خریدکر مسلمانوں کیلئے وقف کردیااوراسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺنے مالی اعانت کی اپیل فرمائی توسیدناعثمانؓ غنی نے تیس ہزارفوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺنے زیارت خانہ کعبہ کاارادہ فرمایاتوحدیبیہ کے مقام پریہ علم ہواکہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں۔اس پرآپ ﷺ نے سیدناعثمانؓ غنی کوسفیربناکرمکہ بھیجا۔قریش مکہ نے آپ کوروکے رکھاتوافواہ پھیل گئی کہ سیدناعثمانؓ کوشہید کر دیا گیا ہے۔اس موقع پرچودہ سوصحابہ سے نبیﷺنے بیعت لی کہ سیدناعثمانؓ غنی کاقصاص لیاجائے گا۔یہ بیعت تاریخ اسلام میںبیعت رضوان کے نام سے معروف ہے۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کاعلم ہواتوآمادہ صلح ہوگئے اورسیدنا عثمان ؓ غنی واپس آگئے۔
لیکن آج ہمارے ہاں حضرت حضرت عثمانؓ کی شان اورسیرت تو بیان کی جاتی ہے،حضرت عثمانؓ کی شرم وحیا کے تذکرے کئے جاتے ہیں ان کے قبل ازاسلام اوربعدازاسلام کے واقعات سنائے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ان کی دردناک شہادت اورالمناک مظلومیت کے قصہ کوعوام کے سامنے نہیں لایاجاتا۔یہی وہ سب سے بڑاظلم ہے جوجان بوجھ کر چھپایاجاتاہے۔ میں ایمانداری سے سمجھتاہوں کہ تاریخ کی بھی چیخیں نکل جاتی ہیں اورسیدناحضرت عثمانؓ کی مظلومیت کاذکرسنتے ہی ’’ہائے عثمان‘‘پکاراٹھتی ہے۔
میں اس وقت دل تھام کربیٹھ جاتاہوں جب مجھے پتہ چلتاہے کہ عثمانؓ وہ مظلوم تھاجس کا40دن پانی بندرکھاگیا،میرے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوجاتی ہے جب چشمِ تصورمیں دیکھتاہوں کہ وہ عثمان ؓپانی کوترس رہاہے جوکبھی امت کیلئے پانی کے کنویں خریداکرتاتھا۔ سانس بندہوتی محسوس ہوتی ہے جب یہ پڑھتاہوں کہ جب حضرت عثمانؓ قیدمیں تھے تو پیاس کی شدت سے جب نڈھال ہوئے توآوازلگائی’’ہے کوئی جومجھے پانی پلائے؟‘‘ حضرت علیؓ کوپتہ چلاتومشکیزہ لے کر سیدناعلیؓ المرتضٰی،سیدنا عثمانؓ کا ساقی بن کرپانی پلانے آرہے ہیں!
ہائے…آج کربلامیں علی اصغرپربرسنے والے تیروں کاذکرتوہوتاہے لیکن حضرت علیؓ کے مشکیزہ پربرسنے والے تیروں کاذکرکیوں نہیں ہوتا۔باغیوں نے حضرت علی ؓکے مشکیزہ پرتیر برسانے شروع کئے توحضرت علیؓ نے اپناعمامہ ہوامیں اچھالا،تاکہ سیدنا عثمانؓ کی نظر پڑے اور کل قیامت کے روزعثمانؓ اللہ کوشکایت نہ لگا سکیں کہ اللہ میرے ہونٹ جب پیاسے تھے تو تیری مخلوق سے مجھے کوئی پانی پلانے نہ آیا۔کربلامیں حسینؓ کےساقی اگر سیدنا عباسؓ تھےتومدینہ میں عثمانؓ کے ساقی سیدنا علیؓ تھے۔ ہائے!یہ لکھتے ہوئے قلم بھی کانپ رہاہے کہ اس عثمان کے گھرکے محاصرے کو40دن گزرگئے جو عثمان مسجدنبوی کے لئے جگہ خریدا کرتاتھا۔آج وہ کسی سے ملاقات نہیں کرسکتا جس کی محفل میں بیٹھنے کے لئے صحابہؓ جوق درجوق آیاکرتے تھے۔40دن گزر گئے ،آج وہ عثمانؓ ذوالنورین کسی سے ملاقات نہیں کرسکتا ۔آج نبیﷺکی آنکھوں کی ٹھنڈک حضرت عثمانؓ کو40 دنوں سے کھانانہیں ملاجواناج سے بھرے اونٹ نبیﷺ کی خدمت میں پیش کردیا کرتاتھا۔ چشم فلک نے یہ ظلم ہوتے ہوئے بھی دیکھاکہ آج اس عثمانؓ کی ریش مبارک کھینچی جا رہی ہے جس عثمانؓ سے آسمان کے فرشتے بھی حیاکرتے تھے۔آج اس عثمانؓ پرجوکبھی غزوہ احدمیں حضورنبی کریم ﷺ کامحافظ تھااورنبی اکرمﷺ پربرسنے والوں تیروں کے سامنے سینہ سپرتھا، اس پرظلم کی انتہاکردی گئی جب آج اس عثمانؓ کاہاتھ کاٹ دیاگیاجس ہاتھ سے آپﷺکی بیعت کہ تھی۔ ہائے عثمان…میں نقطہ دان نہیں،میں عالم نہیں جوتیری شہادت کوبیان کروں،ایسافصیح الکلام نہیں کہ آپ کی شہادت کانقشہ کھینچ سکوں کہ سننے اورپڑھنے والوں کے دل پھٹ جائیں اورآنکھیں نم ہوجائیں۔ اس حقیقت کوکیسے بیان کروں کہ آج اس عثمان ؓ کے جسم پرجس بے رحمی سے شقی القلب جہنمی نے برچھی مارکر لہولہان کردیاگیا،جس عثمانؓ ؓنے بیماری کی حالت میں بھی بغیرکپڑوں کے کبھی غسل نہ کیا تھا۔آج آپﷺ کی 2بیٹیوں کے شوہرکوبیدردی سے ٹھوکریں ماری جارہی ہیں۔آئیے چشم تصورمیں اس سارے معاملے کومحسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ18ذی الحج35 ہجری ہے،جمعہ کادن ہے، حضرت عثمانؓ روزہ کی حالت میں قرآن کی تلاوت میں مصروف ہیں،باغی دیوارپھلانگ کرآتے ہیں،ان کوبرابھلا کہتے ہوئے ریش مبارک کھینچناشروع کردیتے ہیں کہ اچانک ایک ناہنجارباغی پیٹھ پربرچھی مارتاہے اوردوسراباغی لوہے کاآہنی ہتھیار سرپرمارتاہے توتیسراایک تلوارسے حضرت عثمان کاہاتھ کاٹ دیتاہے۔وہی ہاتھ جس ہاتھ سے آپ ﷺکی بیعت کی تھی،سامنے قرآن پران کا مبارک خون گرتاہے توقران بھی عثمانؓ کی شہادت کاگواہ بن گیا۔عثمان ؓزمین پرگرپڑے توعثمانؓ کوٹھوکریں مارنے لگے جس سے آپؓکی پسلیاں تک ٹوٹ گئیں۔حضرت عثمانؓ باغیوں کے اس بہیمانہ ظلم سے شہیدہوکرحضرت علیؓ اورنواسہ رسول سے پہلے اپنے آقاﷺکی خدمت میں حاضرہوگئے۔
یہ محسوس کرکے میرے دماغ کی نسیں پھول کر پھٹنے کے قریب ہوجاتی ہیں کہ میرے آقاﷺ کااپنے ذوالنورین حضرت عثمانؓ کایہ خون آغشتہ لاشہ دیکھ کراپنے رب سے کیافریادکی ہو گی؟ حضرت عثمانؓ کواپنے دونوں بازؤں میں لیتے ہوئے دل پرکیا گزری ہوگی؟اگرروزِ جزاکے دن سخت پیاس کے موقع پرحوضِ کوثرپرشہادتِ عثمان ؓکاپوچھ لیاگیاکہ تم توپرسہ دینے والوں میں بھی شامل نہیں تھے توبھلا شہادتِ عثمان کاذکر چھپانے والے کیاجواب دیں گے؟
اسلام وہ شجر نہیں جس نے پانی سے غذا پائی
دیاخونِ جگر صحابہ نے تو گلشن میں بہار آئی

یہ بھی پڑھیں