(گزشتہ سے پیوستہ)
گھرمیں جو آگ لگی ہوئی ہے اورخلقِ خدا کو دن دیہاڑے کندچھری سے جوذبح کیاجارہاہے، آپ کے پیش کردہ بجٹ میں آپ نے کون سی رعائت دی ہے۔ایک عام شہری اپنے درداورکرب کوکس کے سامنے جاکربیان کرے کہ آپ کے شاہانہ پروٹوکول کودیکھ کر آپ سب مقتدر اشرافیہ توکسی اورسیارے کی مخلوق لگتے ہیں جویہاں صرف ہم پرحکومت کرنے کے لئے آتے ہیں،اپنی باری لے کر اپنی راہ لیتے ہیں اورآپ کادوسرا ساتھی ایک خاص ایجنڈے پرکام کرنے کے لئے آجاتا ہے۔ابھی کل ہی ایک عالمی شہرت یافتہ میرے ایک انگریز پروفیسرنے مجھے ایک ویڈیوارسال کی جس میں ہمارے صدرآصف زرداری اپنے علاقے میں 42 گاڑیوں کے حفاظتی حصارمیں عیدکی نمازکے لئے تشریف لے جارہے تھے۔ میر ا سر شرم سے اس لئے جھک گیاکہ ایک طرف توہم بھکاریوں کی طرح عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے گڑگڑارہے ہیں اوردوسری طرف تعیشات کایہ عالم ہے۔جس جمہوریت کا نعرہ آپ الاپ رہے ہیں آپ توسال میں برطانیہ کے کئی چکر لگاتے ہیں،یہاں کے وزیراعظم کاکوئی پروٹوکول دیکھا ہے، اس کی کارپرتوجھنڈا بھی نہیں ہوتااور10ڈاؤننگ سٹریٹ میں وزیر اعظم کافلیٹ تین بیڈروم پرمشتمل ہے اورگھرکے کام کے لئے کوئی ملازم نہیں اوریہاں کے وزرااوردیگرعہدیدارعام شہریوں کی طرح پبلک ٹرانسپورٹ پرسفرکرتے ہیں۔معاملہ صرف یہاں تک نہیں بلکہ برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کوچلتی کارمیں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پرجرمانہ عائدکردیاگیااورجرمانے سے قبل انہوں نے اپنی اس غلطی پر ساری قوم سے معافی مانگی اورپولیس نے باقاعدہ اس سارے واقعہ کی تصدیق بھی کی۔کیاآپ نے اپنے بجٹ میں اس طرف کوئی توجہ فرمائی ہے کہ سالانہ کروڑوں روپے پروٹوکول پراٹھنے والے اخراجات سے کیسے نجات حاصل کی جائے۔ آخرجب آپ حکومت میں نہیں ہوتے توتب آپ کے ساتھ ایساشاہانہ پروٹوکول نہیں ہوتا۔
لیکن مجھ جیسا ایک عام انسان اپنے درد اورکرب کووہ لفظ بھی عطا نہیں کرسکتاجوآپ کے شاہانہ اندازکوتبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتاہواورآپ کی طرح میڈیا پر قوم کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے ایسالاجواب خطاب بھی کرسکے حالانکہ برسہا برس سے صحافت کی صحرانوردی میں عمرگزری ہے۔بیان کاسلیقہ بھی موجود اور میڈیاسے بھی پرانارشتہ ہے لیکن کیاکروں،۔ دردتودردہے ناں، جوہرانسان کے دل اورسینے میں ہوتاہے، پھروہ یہ درد لے کرکہاں جائے،کس سے بیان کرے،کس کو دکھائے یہ زخم؟وزیر اعظم !میں آپ سے جوبات کروں گا،آپ کہیں گے،نیاکیاہے اس میں؟لیکن ظل الہٰی! ہردرددوسرے سے جداہے، ہرایک اپنے غم میں تنہا ہے۔سناہے کہ دردبانٹنے سے کم ہوجاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں تویہ معاملہ بالکل الٹ ہے۔
پچھلی کئی دہائیاں میں نے بہت کرب میں گزاری ہیں۔یوں لگتاہے کہ اب میرے قلم میں بھی اتنی طاقت نہیں رہی اس کا سہارالے کر یہ بوجھ ہلکاکرلوں۔ اب توہرروزٹی وی پرایسے دل دہلادینے والے مناظردیکھنے کوملتے ہیں کہ سوچتاہوں کہ اگررب کے محبوب پیغمبرﷺکی دعاؤں کاسہارانہ ہوتاتو یقینا ہماری قوم کایہ مخصوص گروہ ہرروزطوفانِ نوح اورپتھروں کی بارش کاشکاررہتامگرمجھ جیسے ہزاروں یہ سوچنے پرمجبورہیں کہ یہ سلسلہ کب تک یونہی چلے گا؟رزقِ حلال کمانے والوں کی دن بدن سانس کی ڈوری ساتھ چھوڑتی نظرآرہی ہے۔
دوسری طرف تپتی جھلسادینے والی دھوپ میں ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اپنے لاپتہ پیاروں کی بڑی بڑی تصاویراٹھائے درجن سے زائدعورتیں،معصوم بچے اوران کے لواحقین مارچ کرنے بعد اب اقوام متحدہ کو اس معاملے میں ملوث کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں کہ انہیں اب یہاں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں،اس کے ساتھ ساتھ ان سینکڑوں تارکین وطن جن کی جائیدادوں پرقبضہ مافیا اپنے خونی پنجے گاڑچکاہے،اب وہ بھی اپنی درخواستیں لیکراقوام متحدہ کے دروازہ پرنوحہ سنانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
میں سوچاکرتاتھاکہ سقوطِ مشرقی پاکستان کا صدمہ کیسے برداشت کیاہوگااہل وطن نے۔اتنابڑا صدمہ سہہ کربھی وہ زندہ بچ گئے، کیسے مرمرکے جئے ہوں گے وہ،میں توان کے حوصلوں کوہمیشہ رشک کی نظرسے دیکھاکرتاتھا۔مشرقی پاکستان کے بنگالی بھی توہم کوقبضہ مافیاکانام دیتے تھے۔اب تک رہ رہ کرسینے میں جودرداٹھتاہے توسوچتاہوں کہ1971ء میں یہی درد محسوس کیاہوگااہل وطن نے۔یہ کسک،یہ چبھن یہ ڈپریشن،مرمرکرجیناکہیں گے اسے آپ یاجی جی کے مرنا۔آپ اسے جوبھی کہہ لیں۔ہم توزندہ ہیں، ہمیں تواپنے حصے کاقرض چکاناہے۔اس پاکستان کوبچانے کے لئے پہلے بھی قربانیاں دیتے آئے ہیں لیکن اس مرتبہ بڑی قربانی کے آثاردکھائی دے رہے ہیں اوروہ قربانی اس تمام اشرافیہ کی ہوگی جس کے لئے قوم کی قوت برداشت کبھی بھی ختم ہوسکتی ہے!یاد رکھیں کہ فرانس کے خونی انقلاب نے بھی بے بس نڈھال عوام کی ختم ہوتی ہوئی قوت برداشت کی کوکھ سے جنم لیاتھااور پھرہر اس فردکاسردھڑسے الگ کردیاگیاتھاجس کے نرم ہاتھ اور کالر سفیدتھے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اہل قلم بھی قوموں کی تقدیر کا رخ بدل دیتے ہیں،اوران اہل قلم کوغنیمت جانیں جو آج بھی ایسے خطرناک سیلابوں کے آگے بندھ باندھنے کی کوشش کررہے ہیں وگرنہ ہم جیسے تارکین وطن نے احتجاج کے طورپرصرف زرمبادلہ بھیجنے سے ہاتھ روک لیاتوپھرکیاہوگا؟آگ کے شعلے بہت تیزی سے بلندہو رہے ہیں۔خطرے سے آگاہ کرنا توخطرے سے بچنے کی تیاری کرناہے ناں۔آپ کوان خطرات سے آگاہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتاہوں کہ یہ اشرافیہ،قبضہ مافیاجومختلف عہدوں پربراجمان مقتدرلوگوں کی ملی بھگت سے قوم کولوٹ رہاہے،یہ پاکستانی طالبان،بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث وطن دشمن افراد، اجرتی قاتلوں اوربھتہ خوروں سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں جنہوں نے ملک کے ہرادارے کواپنے گھر کی لونڈی بنا رکھاہے۔ وزیراعظم !اٹھئے خدارا، اپنے پاکستان کومزید تباہی سے بچالیں،بس آپ کی ذمہ داری اورصرف آپ کی ذمہ داری ہے۔کسی مبلغ یااسکول ہیڈ ماسٹرکی طرح قوم کونصیحتیں کرنے کاوقت نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اوریہ سلسلہ خود آپ کو اپنے گھرسے شروع کرناہوگا۔
کیا وزیراعظم کواس بات کاعلم ہے جب وہ امریکا کے ایک ہسپتال میں انتہائی نازک حالت میں دنیاومافیہاسے بے خبراپنے رب سے یہ عہدکررہے تھے کہ اگرمجھے اللہ نے زندگی دی تومیں پاکستان میں حق داروں کی داد رسی کے لئے اپنی جان تک قربان کردوں گا۔میں یہاں اللہ سے کئے گئے اس عہد کی یاد دہانی کروارہاہوں۔
میں نہیں سمجھتاکہ آپ کویہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جناب آپ اب وزیراعظم ہیں، آپ کے حکم سے ملک کاکاروبارچل رہاہے،آپ خودکہتے ہیں کہ ہمیں عوام نے اس منصب کے لئے منتخب کیاہے توکیایہ بھی ہم بتائیں گے کہ آپ کوکس نے اورکیوں منتخب کیاہے۔ یقین مانیں کہ قوم آپ کے خطاب پرمزیدبیوقوف بننے کے لئے تیار نہیں!وزیراعظم آپ نے اپنی تقریرکوجس شعرپرختم کیا تھا،اس سے اگلے دواشعارمیں آپ کوسنادیتاہوں!
کہیں نہ سب کو سمندر بہا کے لے جائے
یہ کھیل ختم کرو کشتیاں بدلنے کا
بگڑ گیا جو یہ نقشہ ہوس کے ہاتھوں سے
تو پھر کسی کے سنبھالے نہیں سنبھلنے کا