Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

اقلیتوں کے حقوق اورریاست کی ذمہ داری

(گزشتہ سے پیوستہ)
(1)ان کی جان ہرحال میں محفوظ رہے گی۔ )2) ان کی زمین وجائیداداورتمام مال واسباب ان کے اپنے قبضے میں رہے گا۔(3)ان کو مکمل مذہبی آزادی ہوگی اوران کے مذہبی عہدیدار بدستور اپنے اپنے عہدوں پرقائم رہیں گے اوران کو معزول کرنے کااختیاربھی ان کے اپنے پاس ہوگا ۔ 4)) ان کی عبادت گاہوں،صلیبوں،عورتوں اور بچوں کوکوئی نقصان نہیں پہنچایاجائے گا۔ (5)ان کی کسی بھی چیز پرہرگزقبضہ نہیں کیاجائے گا۔ (6) مسلمانوں کویہ حکم ہے کہ ریاست جب بھی جہاد کااعلان کرےگی توتمام مسلمانوں پراس کی تعمیل فرض ہوگی،تاہم ان سے کسی بھی قسم کی کوئی بھی فوجی خدمت نہیں لی جائےگی۔ (7) پیداوار کا عشربھی نہیں لیاجائے گا۔ (8)ان کے ملک میں فوج بھی نہ بھیجی جائے گی۔ (9)ان کے مقدمات کافیصلہ انہی کے قوانین کے مطابق کیاجائے گا۔ (10)ان پر کسی قسم کاکوئی ظلم بھی نہ ہونےپائے گا۔ (11) کسی ناکردہ گناہ کی پاداش میں کسی اور کو گرفتارنہ کیاجائے گااور (12)ان پرکسی بھی قسم کاکوئی بھی ظلم روارکھنے کی قطعاً اجازت نہ ہوگی۔
غیرمسلموں کوان کے مذہب ومسلک پر برقراررہنے کی پوری آزادی ہوگی۔اسلامی مملکت ان کے عقیدہ وعبادت سے تعرض نہ کرے گی۔ اہلِ نجران کوحضورنبی اکرمﷺنے جوخط لکھا تھا اس میں یہ جملہ بھی درج تھا:نجران اوران کے حلیفوں کواللہ اوراس کے رسول محمدﷺکی پناہ حاصل ہے۔ان کی جانیں،ان کی شریعت، زمین، اموال،حاضروغائب اشخاص ،ان کی عبادت گاہوں اوران کے گرجاگھروں کی حفاظت کی جائے گی۔کسی پادری کواس کے مذہبی مرتبے،کسی راہب کواس کی رہبانیت اورکسی صاحب منصب کواس کے منصب سے ہٹایانہیں جائے گااوران کی زیرملکیت ہرچیزکی حفاظت کی جائے گی۔(طبقات ابن سعد )اس معاہدے میں اقلیتوں کووہ تمام حقوق عطاکردیئے گئے جوان کے جان ومال کے تحفظ کیلئے ضروری تھے اورجس کاانہوں نے اپنے ہم مذہب حکومتوں میں کبھی تصوربھی نہیں کیاتھا ۔
ان بارہ شرائط سے اسلام کااپنی اقلیتوں سے اخوت ورواداری اورعدل و انصاف کے اس سنہری دورکاپتہ چلتاہےجوصدیوں تک نافذ العمل رہا جس سے متاثرہوکربغیرکسی جبر کے ہزاروں افراد اسلام کے دائرہ کارمیں نہ صرف داخل ہوئے بلکہ ان میں کئی افرادنے اسلام کی بے مثال خدمت بھی کی۔اسلام میں ذمیوں کی جان مسلمانوں کی جان کے برابر قراردی گئی۔اس زمانے میں یہ عام دستورتھا کہ قاتل کومقتول کے بدلے میں قتل کر دیا جاتالیکن اگرمقتول کے ورثاراضی ہوجاتے توقصاص کی بجائے خون بہااداکر دیاجاتا اوریہی دستور (یعنی قصاص وخون بہا)رسول اکرم ﷺ اور خلفاراشدین کے زمانے کے بعدبھی عرصہ درازتک رائج رہا۔ مشہورتاریخی کتاب بیقہی میں یہ روایت ملتی ہے کہ رسول اکرمﷺکے دور میں ایک مسلمان نے ایک ذمی اہل کتاب کوقتل کر دیا، رسول اکرمﷺکے سامنے جب یہ معاملہ پیش ہواتوآپﷺنے فرمایاکہ مجھ پرذمی کے ساتھ کئے گئے عہدپوراکرنے کی زیادہ ذمہ داری ہے اورقصاص میں مسلمان کوقتل کرنے کاحکم دےدیاگیا۔اس بات سے پتہ چلتاہے کہ ذمیوں کی جان ومال بھی مسلمانوں کےجان ومال کے برابرسمجھی جاتی تھی اورقصاص وخون بہا اور دیت کاجوقانون مسلمانوں کیلئے رائج تھاوہی قانون غیرمسلم اقلیتوں کیلئے بھی تھااوراسی طرح غیر مسلم اقلیتوں کی جائیداداوراملاک کی مکمل ذمہ داری بھی اسلامی ریاست پرعائدہوتی تھی ۔خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق ؓنے مفتوحہ علاقوں میں وہی قانون نافذ کئے جوخودمسلمان علاقوں میں رائج تھے۔کسی قسم کے قانون میں کوئی تفریق روا نہ رکھی گئی تھی۔
آج بھی تاریخی کتب میں شام وعراق اور مصرمیں اقلیتوں کے ساتھ اخوت و رواداری اور عدل و انصاف کاذکر ملتا ہے اوراس سے دوسرے مفتوحہ ملکوں کے بارے میں قیاس بھی کیا جا سکتا ہے۔ جب عراق فتح ہوا تواس وقت بڑے بڑے صحابہ کی رائے تھی کہ یہاں کی اراضی مسلمانوں میں تقسیم کر دی جائے لیکن حضرت عمرفاروقؓ کی رائے اس سے بالکل مختلف تھی اوران کا اصرار تھا کہ اس زمین پر انہی کاشتکاروں اور زمینداروں کا قبضہ برقرار رہنا چاہئے جو اس کو پہلے سے کاشت کر رہے ہیں بلکہ آئندہ بھی ان کی نسلیں اس زمین پرکاشت جاری رکھیں اوراس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ کئی دن کے بحث و مباحثے کے بعد صحابہ کرام کوحضرت عمر فاروق ؓکی رائے سےاتفاق کرنا پڑا اور اس طرح مفتوحہ علاقوں کی تمام اراضی سابقہ مالکان کےپاس رہنے کاقانون تشکیل پا گیا کہ یہ اراضی نسل درنسل منتقل ہوتی رہے گی اوروہ اپنی مرضی سے اس کی خرید و فروخت بھی کر سکتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ان کو مالکانہ حقوق دیئے گئے اورحکومت کو بھی ان اراضی کو واپس لینے کا کوئی اختیار نہیں تھا تاوقتیکہ متعلقہ فریق کو اس کی مرضی کے مطابق اس کا معاوضہ ادا کر دیا جائے۔
حضرت عمرفاروقؓ کے زمانے میں جب کوفہ آباد ہوا تو شہرمیں ایک جامع مسجد کی تعمیر میں حیرہ کے خستہ و کھنڈر محلات کا ملبہ استعمال کیا گیا۔ ان محلات کا کوئی وارث نہ تھا لیکن زمین ذمیوں کی تھی جس کیلئے اس ملبے کی قیمت ذمیوں کےجزیہ سے منہا کرکے عدل و انصاف کی ایک اعلیٰ مثال قائم کی گئی۔ تاریخ میں مفتوحہ اقوام سے جو معاہدے نقل کئےگئے ہیں ان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی کی سرکاری ضمانت دی گئی تھی۔ جس طرح اسلامی بیت المال کسی مسلمان کے معذورہوجانےیا بوجہ عمر رسیدگی اور غربت کے محتاج ہو جانے پر کفالت کی ذمہ داری لیتا ہے اسی طرح اسلامی بیت المال پر ایک غیر مسلم کے معذور ہونے یا عاجز ہونے کی صورت میں اس کی کفالت لازم ہے۔ کتاب الاموال میں ابوعبید نےحضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سےایک روایت نقل کی ہے:رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کے ایک گھرانہ کو صدقہ دیا اور حضورﷺ کے وصال کے بعد بھی وہ انہیں دیا جا رہا ہے۔
عہد صدیقی میں شام کے مفتوحہ علاقوں میں معاہدے کی ایک مثال حضرت خالد بن ولید نے اہل حیرہ کو جو امان نامہ لکھ کر دیا تھا اور شام کے پادری کو ایک تحریری معاہدے میں اس کی مکمل ضمانت دی گئی: کسی بھی حال میں ان کی خانقاہیں یا گرجا گھر قطعاً مسمار نہیں کئے جائیں گے اوران کو تہواروں پرناقوص بجانے اورصلیبیں اٹھا کر جلوس نکالنے کی بھی مکمل آزادی ہو گی اور ایک دوسری روایت کے مطابق نماز کے اوقات کا لحاظ کرتے ہوئے وہ جب چاہیں ناقوص بجا سکتے ہیں۔ ان کیلئے یہ حق بھی رکھا ہے کہ جو کوئی شخص بڑھاپے کے سبب ازکار رفتہ ہو جائے یا اس پر کوئی آفت نازل ہو جائے، یا وہ پہلے مال دار تھا پھر فقیر ہو گیا یہاں تک کہ اس کے ہم مذہب لوگ اس کو صدقہ وخیرات دینے لگے، تو اس کا جزیہ معاف کردیا جائے گا اوراسے اور اس کے بال بچوں کو ریاست کے بیت المال سے خرچ دیا جائے گا۔ اگرکوئی ذمی مر جائے اور اس کے حساب میں مکمل جزیہ یا جزیہ کا بقایا واجب الادا ہو تو وہ اس کے ترکہ سے وصول نہیں کیا جائے گا اور نہ اس کے ورثا پر اس کابوجھ ڈالا جائے گا کیونکہ یہ اس پرقرض نہیں ہے۔ امام ابو یوسف لکھتے ہیں: اگر اس پر جزیہ واجب ہو تو اس کی کل یا کچھ ادائیگی سے قبل وہ مرجائے تو اس پربقیہ واجب الادا جزیہ وارثوں سے وصول نہیں کیاجائے گا کیونکہ یہ اس پرقرض نہیں ہے(کتاب الخراج :32 )
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں