Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

اقلیتوں کے حقوق اورریاست کی ذمہ داری

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسی طرح حضرت ابوعبیدہ نے بھی شام کے بعض مفتوحہ علاقوں غیرمسلموں کو مکمل مذہبی آزادی کا تحریری معاہدہ کیا جو آج بھی تاریخی کتابوں میں موجود ہے اور خلفائے راشدین کے دورِ حکومت میں ان معاہدوں کی مکمل پاسداری کی گئی اوران معاہدوں میں کسی تبدیلی کا تصور بھی نہیں کیا گیا۔ امام ابو یوسف نے ان معاہدوں کی تصریح کی ہے کہ حضرت ابوبکر، عمر فاروق، عثمان غنی اور علی المرتضی کے ادوار میں ان معاہدوں کی مکمل پاسداری کی گئی بلکہ ان مذہبی خانقاہوں کے پجاری، راہبوں اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ ساتھ ان کے اوقاف کو بھی برقرار رکھا اور ان عہدیداروں کو سرکاری خزانے سے باقاعدہ وظائف جاری کئے گئے۔ اسی طرح مصر میں مفتوحہ علاقوں میں ان مذہبی علاقوں کے ساتھ جس قدر اراضی وقف تھی ،نہ صرف ان کو بحال رکھا بلکہ ان عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش کیلئے باقاعدہ سرکاری معاونت بھی کی گئی۔
مقریزی کے زمانے میں ایک گرجا گھر کے ساتھ ڈیڑھ ہزار فدان اراضی وقف تھی جس کی کاشت پربھی کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا ۔ مسلمانوں کے اس سنہرے ادوارمیں نہ صرف ان کی مذہبی عبادت گاہوں کی مکمل حفاظت کی گئی بلکہ بہت سے نئے گرجا گھر، آتش کدے اور مندر تعمیر ہوئے جس میں بیشتر سرکاری اراضی استعمال کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔ اس طرح اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں اللہ کے ہاں جوابدہی کا خوف بھی ان پرطاری رہا اور عدل وانصاف کی وہ درخشاں مثالیں قائم کیں کہ جس کی مثال آج کے روشن خیال و تہذیب یافتہ ممالک میں بھی نہیں ملتی۔
تاریخ کامشہورواقعہ ہے کہ ولید بن عبدالملک اموی نے دمشق کے کلیسا یوحنا کو زبردستی عیسائیوں سے چھین کر مسجد میں شامل کر لیا۔ بلاذری کے مطابق: جب حضرت عمر بن عبدالعزیز تختِ خلافت پر متمکن ہوئے اور عیسائیوں نے ان سے ولید کے کلیسا پر کیے گئے ظلم کی شکایت کی توانہوں نے اپنے عامل کو حکم دیا کہ مسجد کا جتنا حصہ گرجا کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے اسے منہدم کرکے عیسائیوں کے حوالہ کر دو اور ان کی دل آزاری کا معقول معاوضہ بھی دیا جائے ۔
(فتوح البلدان:150)
راجہ داہر کے ظلم کے خلاف جب محمد بن قاسم نے سندھ کو فتح کیا تو سب سے پہلے تمام ادیان کے پیروکاروں اور ہندوئوں کو مکمل امان اور مذہبی آزادی کا اعلان کیا گیا۔ الغرض اسلام نے اقلیتوں کے جان و مال اور مذہبی اقدار کا نہ صرف تحفظ کیا بلکہ مسلم اخوت و رواداری کا یہ عالم تھا کہ جب محمد بن قاسم کو سندھ سے واپس بلایا گیا تو اس وقت بیشتر ہندوؤں نے اپنے مندروں و عبادت گاہوں اور گھروں میں محمد بن قاسم کے حسنِ سلوک کی وجہ سے اس کے بت سجا رکھے تھے ۔اسلام میں ان کے جان و مال اور مکمل مذہبی آزادی پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اس زمانے میں ہندوؤں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق بڑے بڑے عہدوں پر مامور بھی کیا گیا جہاں ان کے تمام مقدمات ان کے اپنے مذہبی رسوم و رواج کے مطابق طے کئے جاتے تھے ۔ اقلیتوں کے بارے میں بے تعصبی، وسعت قلبی، اعلی ظرفی اورعدل و انصاف کی یہ وہ چند مثالیں ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں اقلیتوں کو کس قدرامان اور تحفظ حاصل تھا لیکن اس کے برعکس آج کے روشن خیال اورمہذب مغرب اور ننگ انسانیت متعصب ہندو بھارت میں کیا ہو رہا ہے اس کی تازہ مثالیں ان دو خبروں میں ملاحظہ فرمالیں۔
یورپی ملک جرمنی کے شہر برلن میں مسلم اور یہودی تنظیمیں ختنے پرپابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں۔ کولون کی ایک عدالت نے حکم دیا تھا کہ صرف مذہبی بنیادوں پر نوزائیدہ بچوں کی ختنہ سنگین جسمانی نقصان کے برابر ہوتی ہے۔ اس فیصلے کے بعد جرمن میڈیکل ایسوسی ایشن نے قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے تمام ڈاکٹروں سے کہا تھا کہ وہ بچوں کی ختنہ نہیں کریں سوائے اس کے کہ جب یہ عمل طبی طور پر ضروری ہو۔اِس سے پہلے یورپ کی یہودی اور مسلمان تنظیمیں اِس ایک معاملے پر متحد ہوگئی تھیں اور انہوں نے مشترکہ طور پر جرمنی کے قانون سازوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بچوں کی ختنہ کے حق کا تحفظ کریں۔بیویریا میں ایک راہب کی جانب سے ختنے کرنے پر ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
ہندوستان کی راجدھانی سے صرف 65 کلومیٹر دور شہر روہتک کے ایک گائوں کٹولی میں ہندو نیتاؤں کے 14 افراد پرمشتمل ایک پنچائت میں ایک تغلقی فرمان کے مطابق مسلمانوں کی مسجد جس میں وہ اجتماعی طور پر نماز پڑھتے تھے، اس کو فوری طور پر مسمار کر دیا گیا ہے، اور یہ پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ گاؤں میں تمام مسلمان فوری طور پر اپنی داڑھی منڈوا دیں ۔ آئندہ کوئی بھی داڑھی والا شخص اس گاؤں میں داخل نہیں ہو سکتا، اگر کسی کو اس گاؤں میں آنا ہے تو اس کو اپنی داڑھی منڈوا کر آنا ہو گا۔ اس ہندو پنچائت نے جن چھ احکام پرمبنی فرمان جاری کئے ہیں ان میں پہلا فرمان یہ ہے کہ گاؤں کے ایک مسلمان نوجوان کے ہاتھوں ایک ہندو کی بکری مر گئی جس کی وجہ سے اسے جیل میں بند کرکے اس پر مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے، حکومت کی طرف سے جیل کی سزا کاٹنے کے باوجود وہ عمر بھرگاؤں میں داخل نہیں ہو سکتا جبکہ مسلمانوں نے اس بکری کی مالیت سے کئی گنا زائد جرمانہ بھی ادا کر دیا ہے۔ دوسرا فرمان یہ کہ دھان کی کٹائی کے فوری بعد مسلمانوں کے قبرستان کو مکمل طور پر صاف کر دیا جائے گا گویا تمام قبروں کو مسمار کرکے میدان بنا دیا جائے گا۔ تیسرا فرمان یہ کہ کسی بھی مسلمان مولوی اس گاؤں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور چوتھا فرمان یہ کہ نہ ہی گاؤں کا کوئی فرد نماز پڑھے گا اور نہ ہی کسی بھی قسم کی اسلامی رسومات پر عملدرآمد کرے گا، پانچواں فرمان یہ کہ کسی بھی نئے مولود بچے یا بچی کو اسلامی نام نہیں دیا جائے گا بلکہ اس کا ہندو طرز پر نام رکھا جائے گا اور گاؤں میں جتنے بھی مسلمان جو صدیوں سے یہاں بس رہے ہیں اپنے اسلامی ناموں کو ختم کرکے سرکاری ریکارڈ میں ہندوؤں کے نام سے ازسرنو اپنی رجسٹریشن کروائیں گے، چھٹا فرمان یہ کہ اگر کسی مسلمان خاندان کا کوئی فرد کسی دوسرے گاؤں یا شہرسے کسی اپنے مسلمان رشتے دار کی وفات پر تعزیت کیلئے آئے گا تو اسے بھی گاؤں میں داخل ہونے سے قبل اپنے چہرے سے داڑھی کو مکمل صاف کرکے آنا ہو گا، اس فرمان کے جاری ہونے کے بعد گاؤں کے وہ تمام افراد جو کئی برس تک بھارت کی فوج میں بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں،ان کے چہروں سے بھی جبراً داڑھی کو صاف کر دیا گیا ہے۔ اس انسانیت سوز فرمان پر عملدرآمد کیلئے وہاں کے مسلمانوں کو ایک مہینے کی مہلت دی گئی ہے جس کے بعد اس فرمان کی خلاف ورزی کرنے والے کے گھر کو جلا دیا جائے گا۔جمہوریت کا چیمپئن بننے والوں کی منافقت کا یہ عالم کہ انہیں اپنی داڑھی کا شہتیرنظرنہیں آتا لیکن مسلمانوں کی آنکھ کاتنکا ان کوگراں گزرتاہے۔

یہ بھی پڑھیں