Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

دوست دشمن کی تمیز

(گزشتہ سےپیوستہ)
گرو نانک سکھ مذہب کے صرف بانی ہی نہیں بلکہ واحدانیت،تصوف اورروحانیت کاپرچارک بھی ہیں۔آپ مسلمانوں کے عظیم روحانی پیشواحضرت بابافریدگنج شکرکے ہمعصرتھے ۔ اپنے طویل تبلیغی سفروں میں باباگرونانک کوکئی جیدمسلمان عالم مبلغوں کے ساتھ ملاقات اورمکالمے کے کئی مواقع ملے۔ہمیشہ سے صوفی منش مبلغ مسلمان اپنے مدارس اور خانقاہوں پرغریبوں کے مفت کھانے پینے کاخصوصی اہتمام کرتے چلے آئے ہیں جوابھی تک جاری وساری ہے جس کوعرفِ عام میں ’’لنگر‘‘ کانام دیاجاتاہے۔باباگرونانک نے بھی اپنے طویل سفرکرنے کے بعدبقیہ زندگی گزارنے کے لئے 1522ء میں کرتار پور گائوں کی بنیادرکھی (جوبھارت اورپاکستان کی سرحدپرپاکستان میں واقع ہے) جہاں ’’کرتان اور لنگر‘‘کی تقریبات کاآغاز کرتے ہوئے اپنے عقائدکی ترویج وتبلیغ کے ساتھ ساتھ غریبوں کومفت کھانے پینے کی سہولت فراہم کی۔سکھ مورخین کے مطابق اس دھارمک بستی کے لئے جہانگیربادشاہ نے اپنی شہزادگی کے دوران ہی گروارجن صاحب کونذرکردی تھی۔ اس جگہ پرگرو صاحب نے ایک دھرم شالہ بھی بنوائی۔مشہورسکھ سکالرگیانی گیان سنگھ کے مطابق کرتارپورکوآبادکرنے کی تحریک ایک مسلمان میرعظیم خان نے شروع کی تھی اورکرتارپور پنجاب کی ایک مقدس بستی بن گئی تھی۔اکبربادشاہ باباگرونانک سے خصوصی محبت کرتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے کرتارپورکے لئے ساری زمین تحفہ میں دی تھی۔
اسی طرح امرتسرشہرکی ابتداکے بارے میں یہ ذکربھی تاریخ میں ملتاہے کہ مغلیہ سلطنت کے شہنشاہ اکبر نے امرتسرکا علاقہ سکھوں کے چوتھے روحانی پیشوا گرورام داس کودے دیاتھا اور رام داس نے یہاں رام داس پورکی بنیاد ڈالی جس کانام بعدمیں امرتسرہوالیکن یہ بھی کہاجاتاہے کہ شہنشاہ اکبرنے 1565ء میں گروامرداس اورپھر 1579ء میں گرورام داس اور1606 ء میں گروارجن دیوکو علاقے کی پیشکش کی تھیں جنہیں ان تینوں اشخاص نے قبول نہیں کیاتھا۔گروامرداس کی نسبت یہ بھی تاریخ میں آتاہے کہ جاگیرقبول کرنے سے انکار کے بعداکبر نے وہ جاگیرجس پرامرتسرقائم ہوا، امرداس کی بیٹی بی بی بھانی کوشادی کے تحفے کے طورپر دے دی تھی جس سے امرداس انکارنہ سکے، مزیدیہ کہ اکبرنے سکھوں کے تمام علاقوں کو محصول اداکرنے سے آزادکردیاتھا۔امرتسرکے لئے پرانے نام رام داس پورکے علاوہ گروچک اوررام داس چک بھی استعمال ہوتے رہیں ہیں۔کرتارپور (پاکستان ) میں 1539میں اپنے انتقال سے قبل گرونانک نے گروانگددیوکونیاگرونامزدکردیا تھا پھر تیسرے گروامرداس (1479تا1574)کے بعد آنے والے چوتھے گرورام داس 1534 تا 1581نے امرتسرکے پرانے تالاب کی مرمت کاکام شروع کیااوراس کے درمیان میں ایک مندریاگردوارادربارصاحب تعمیرکیاجس کوہری مندربھی کہاجاتاہے۔ شہنشاہ اکبراوراس کے بعدبھی عمومی تعلقات رام داس پور(امرتسر)سے نہ صرف اچھے رہے بلکہ مغلیہ سلطنت میں رام داس پورکی حیثیت نیم خودمختار علاقے کی سی تھی۔
امرتسرمیں واقع دربارصاحب کے لئے زمین بھی اکبربادشاہ نے ہی دی تھی۔1589ء میں لاہور کے نیک سیرت فقیراورمشہور خدارسیدہ بزرگ حضرت میاں میر نے اس کا سنگ بنیادرکھا۔ گوروارجن جی کاپیارسب سے زیادہ میاں میرجی سے تھا۔ یہ مسلمان فقیرتھے،جن کے ہاتھوں گروجی نے ہرمندرصاحب کی بنیادرکھوائی تھی(بحوالہ رسال ہنویاں قیمتاں جنوری 1949)۔ گورو صاحب نے صرف اس پوتراستھان کی بنیادہی ایک پوترمسلمان کے ہاتھوں سے نہیں رکھوائی بلکہ زمین بھی ہرمندر کے لئے وہ چنی جوایک مسلمان بادشاہ اکبرکی طرف سے نذرکی گئی تھی۔(بحوالہ بھارتی راشٹریہ کانگریس امرتسر1956)۔ اس بارے میں ایک سکھ ودوان یوں لکھتے ہیں:1923میں جب تالاب کی سیواکی گئی تومالیرکوٹلہ کے نواب کی جتھے داری کے ماتحت دوسوانتہائی معززمسلمان پوترگارے کی ٹوکریاں اٹھانے کے لئے امرتسر آئے تھے۔بحوالہ رسالہ خالصہ پارلیمنٹ گزٹ اکتوبر1956 بعدازاں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں اس کا سنہری جڑا بھی ایک مسلمان انجینئر محمدیارخان نے تیارکیاتھا۔ایک مشہورسکھ سکالر سردارگوربخش سنگھ شمشیرلکھتے ہیں: ایک مسلمان فقیرحاجی محمدمسکین باباگرونانک کے پیارکی کشش میں امرتسرآئے اور31دسمبر1925ء کودن کے دوبجے انہوں نے ایک بہت قیمتی چندن کاچنور بڑی عقیدت سے بھائی ہیرا سنگھ راگی کی معرفت دربارصاحب کی نذرکیا۔اس نانک پریمی مسلمان نے یہ چندن کاچنورپانچ برس اورسات مہینے کی محنت سے تیارکیا تھاجس کی ایک لاکھ پینتالیس ہزارباریک تاریں ہیں۔ان کو9من14 سیرچندن سے تیارکیاگیاتھا۔آج کل یہ چنور بڑی حفاظت کے ساتھ جلوخانے میں رکھاہواہے۔ جب یہ چندن کاچنور فقیر نے نذرکیاتھاتوسری ہر مندرکی طرف سے ایک سو پونڈکے قیمتی دوشالے ان کوبطورخلعت دیئے گئے تھے۔ بحوالہ رسالہ امرتسرمئی1938سکھوں کی ایک مقدس زیارت پنجہ صاحب پاکستان کے ضمن میں ایک سکھ سکالر گیانی گیان سنگھ یوں لکھتے ہیں:پنجہ صاحب کاتالاب خواجہ شمس الدین صاحب نے بنوایاتھا۔ وہاں پرموجود گوردوارہ کومشہورمسلمان نواب خان آف قلات نے ایک وسیع جاگیر عطاکی تھی۔ (بحوالہ گوردھام سنگرہ ص22)
گوروگوبندسنگھ صاحب کے اپنے زمانے کے مسلمان رئیسوں اورعام لوگوں کے ساتھ نہایت دوستانہ تعلقات تھے چنانچہ میر گامے شاہ،میرحسن شاہ،چودھری پیرعلی،بلونت خان، چودھری پھتو،چودھری سمو،جمال خان وغیرہ آپ کے جگری دوستوں میں سے تھے اورآپ کی سیواکرتے تھے۔سکھ مورخین نے لکھاہے کہ پٹنہ(بہار)میں وہاں کے قاضیوں نے گوروتیغ بہادر صاحب کوایک باغ نذرکیاتھاجسے آج کل گوروکاباغ کہتے ہیں۔ بہادرگڑھ(پٹیالہ)میں گوروتیغ بہادر کئی ماہ ٹھہرے تو وہاں پرایک مسلمان علی خان نے دل وجاں سے آپ کی بہت خدمت وتکریم کی۔متھراکے نواب نے گوروگوبند صاحب کو ایک باغ نذرکیاتھاجسے آج کل نذرباغ کہاجاتاہے۔
بہت سے سکھ مورخین کے علاوہ ایک اور مشہور سکھ سکالرسردارگیان سنگھ لکھتے ہیں:جب پہاڑی راجاؤں اورمہاراجوں نے گروگوبندصاحب کے خلاف مورچہ شروع کیاتوپانچ سو اداسی سادھوجن کی گورو صاحب کی روٹیوں پرپرورش ہوئی تھی ،موقعہ آنے پرمیدان سے بھاگ گئے۔جب بدھوشاہ کومعلوم ہواتووہ دوہزارسپاہی لے کرمیدانِ جنگ میں آیااور اس لڑائی میں بدھوشاہ کے دوبیٹے بھی گوروصاحب کی طرف لڑتے ہوئے مارے گئے جس کے نتیجہ میں گوروگوبند کو آنندپور چھوڑناپڑا، اورآپ ماچھی واڑہ کے جنگلوں میں چلے گئے اور مسلمان حاجیوں کاجیسالباس پہنناپڑا۔اس موقعہ پرسب سے پہلے غنی خان اورنبی خان نے گورو صاحب کی سیوا کے لئے خودکوپیش کیااورانہوں نے گورو صاحب کوپالکی میں بٹھا کرانہیں اپنے کندھوں پراٹھالیا۔اس طرح ان دوبھائیوں نے گورو گوبند سنگھ صاحب کودشمنوں سے بچاکرکے محفوظ مقام پرلے گئے۔غنی خان اورنبی خان کی اس خدمت پرگوروصاحب نے ایک حکم نامہ لکھاکہ’’نبی خان اورغنی خان مجھے اپنے بیٹوں سے بھی زیادہ پیارے ہیں‘‘۔اس واقعہ کاحوالہ سکھوں کی مختلف کتابوں میں درج ہے جن میں گورپرتاپ سورج گرنتھ ورت، ظفرنامہ سٹیک،جیون کتھااورسکھ اتہاس نامی کتابیں قابل ذکرہیں۔(بحوالہ تواریخ گوروخالصہ اردوص158)سکھ مورخین لکھتے ہیں کہ گوروگوبند صاحب کی پہاڑی راجاؤں کے ساتھ جتنی بھی لڑائیاں ہوئیں ان میں گوروصاحب کی طرف سے بہت سے مسلمان کمانڈربھی شامل رہے اوران لڑائیوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ ان کمانڈروں میں یدبیگ،الف خان،صیاد خان، صیادبیگ، میمون خان وغیرہ شامل تھے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں