عمران خان سے میری جیل میں ملاقات ہو تو میں انہیں تین مشورے دوں۔
پہلا مشورہ‘ ابھی جیل سے باہر نکلنے کی جلدی نہ کریں۔ جیل سے اس وقت باہر نکلیں جب آپ کی جدوجہد حتمی مرحلے میں داخل ہو جائے۔ نیلسن منڈیلا کی طرح ایک فاتح بن کر جو ظلم‘ استحصال اور غلامی کے خلاف جنگ میں سرخرو ہوکر نکلا۔ اگر جیل سے باہر نکل کر آپ نے زمان پارک اور بنی گالا کے گھر میں مقید ہوکر رہ جانا ہے تو پھر اس سے اڈیالہ جیل کی قید تنہائی زیادہ بہتر ہے۔ اس قید میں رہ کر آپ نے 2024 ء کا الیکشن جیتا ہے اور ایسا جیتا ہے کہ جس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی اور مثال نہیں ملتی ہے۔ پاکستان میں پہلی بار ایسا ہوا کہ لوگوں نے عمران خان کے امیدواروں کے نشانوں کو ڈھونڈا اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر مہریں لگائیں۔ الیکشن میں امیدوار دکھائی دیئے نہ ان کی کمپیئن‘ نہ بینر لگے اور نہ ہی پولنگ کیمپ‘ اس کے باوجود عوام کی اکثریت نے عمران خان کے امیدواروں کاخود سے کھوج لگایا اور ان کے حق میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ ’’قیدی نمبر804 ‘‘ اڈیالہ جیل میں تھا اور عوام اپنے ووٹ کی پرچی کو عمران خان کی رہائی کا مچلکہ سمجھ رہے تھے۔ عمران خان جیل میں رہیں گے تو ہرگزرتے دن کے ساتھ وہ سیاسی طور پر طاقتور ہوتے جائیں گے جبکہ ان کے حریف کمزور سے کمزور تر۔ دریں اثنا وہ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کی تدبیر کریں ‘ بڑے مسائل کی نشاندہی اور ان پر قابو پانے کا لائحہ عمل ان کی ترجیح ہونی چاہیے۔ عمران خان کی جیل سے رہائی کوئی بڑا ایشو نہیں ہے اصل بڑا امتحان ان کی جیل سے رہائی کے بعد کا ہے‘ میرا عمران خان کو مشورہ ہوگا کہ آپ اپنے آپ کو اپنی پارٹی کو اس بڑے امتحان کیلئے تیار کریں۔
دوسرا مشورہ میں عمران خان کو یہ دوں گا کہ تحریک انصاف کو پاکستان کی ایک مثالی جماعت بنائیں۔ انہوں نے 2012-13 ء میں جماعتی انتخابات کے ذریعے ایک سنجیدہ کوشش کی مگر بعد ازا ں وہ دیگر جماعتوں کی طرح روایت پسندی کا شکار ہوگئے۔ عمران خان ہمیشہ سے تحریک انصاف کو ادارہ بنانے کی بات کرتے آئے ہیں لیکن وہ ابھی تک یہ کام نہیں کر پائے۔ میرا ان کو مشورہ ہوگا کہ تحریک انصاف کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کا یہ بہترین وقت ہے۔ پارٹی کو ریمورٹ کنٹرول سیاست سے آزاد کر دیں اور اس میں خودکار نظام کو پنپنے دیں۔ جماعت ہر فیصلے کیلئے عمران خان کی جانب نہ دیکھے بلکہ وسیع تر مشاورت کے ذریعے عمران خان کی رہنمائی میں بہترین فیصلے کرے۔ اس وقت تحریک انصاف کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی عضو معطل ہے اور تمام فیصلے کور کمیٹی میں ہوتے ہیں حالانکہ کور کمیٹی کا 2019 ء کے آئین کے مطابق ایک محدود رول ہے۔ پارٹی میں نامزدگیوں کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے کیونکہ نامزدگیوں سے پارٹیوں کا بیڑا غرق ہوتا ہے۔ خوشامدی اور چاپلوس کلچر انہی ’’نامزدگیوں‘‘ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تحریک انصاف میں فری اینڈ فیئر جماعتی انتخابات کا انعقاد کروایا جائے جیسا کہ 2012-13 ء میں ہوا تھا۔
تحریک انصاف کے پاس 2019 ء کے آئین کی صورت میں ایک ایسا بہترین آئین موجود ہے جو جامعیت اور جمہوری روح کے اعتبار سے ایسی زبردست دستاویز ہے کہ اگر اس پر من و عن عمل کیا جائے تو تحریک انصاف صحیح معنوں میں ایک ادارہ بن جائے۔ انٹرا پارٹی الیکشنز کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ گر اس روٹ لیول تک کارکن موبلائز ہو جائیں گے اور پارٹی منظم ہو جائے گی۔ عمران خان حقیقی آزادی کیلئے جس قسم کی جدوجہد چاہتے ہیں وہ منظم جماعت کے بغیر ممکن نہیں ہے اور جماعت اس وقت تک منظم نہیں ہوگی جب تک کہ جماعت میں نامزدگیوں کا کلچر ختم کرکے صاف شفاف اور آزادانہ انتخابات کاانعقاد نہ کروایا جائے۔ پارٹی کارکنان کو یہ موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ وارڈ ‘ یونین کونسلز‘ شہروں‘ اضلاع ‘ ڈویژنوں‘ صوبوں اور مرکزی سطح پر اپنے لیڈرز خود منتخب کریں جو پارٹی امور کو عمران خان کے ویژن اور نظریات کے مطابق چلائیں۔ پارٹی میں اتنی جان ہونی چاہیے کہ جہاں عمران خان غلطی کریں وہاں پارٹی کی ورکنگ کمیٹی (ایگزیکٹو کمیٹی) یا کور کمیٹی کے اراکین اختلاف رائے کا اظہار کریں اورباہمی مشاورت سے بہترین فیصلے ہوں۔ عمران خان کو میرا مشورہ ہوگا کہ وہ فوری طور پر جماعتی انتخابات کا اعلان کریں‘ تحریک انصاف میں جان پڑ جائے گی۔
تیسرا مشورہ میں بانی چیئرمین تحریک انصاف کو یہ دوں گا کہ وہ اپنے جیل کے ایام کو یادگار بنائیں اور ایک دوکتابیں لکھیں۔
نیلسن منڈیلا نے اپنی کتاب ’’لانگ واک ٹو فریڈم‘‘1974 ء میں اس وقت لکھنی شروع کی جب وہ رابن آئی لینڈ میں اپنی قید کاٹ رہا تھا۔ مہاتما گاندھی نے مہاراشٹر جیل میں اپنی آپ بیتی لکھنی شروع کی ۔ جواہر لعل نہرو نے اپنی کتاب ’’دی ڈسکوری آف انڈیا‘‘ احمد نگر میں اپنی قید کے دوران لکھی۔ احمد نگر فورٹ کی جیل میں ہی مولانا ابو الکلام آزاد کو بھی ’’غبار خاطر‘‘ لکھنے کا وقت میسر آیا۔ غبار خاطر مولانا آزاد کی آپ بیتی نہیں ہے‘ یہ وہ کتاب ہے جو مختلف موضوعات پر ابو الکلام آزاد کے نظریات اور فلسفے پر مشتمل ہے۔ میرا عمران خان کو مشورہ ہوگا کہ وہ بھی اسی قسم کی کتاب لکھیں‘ خاص طور پر ان مسائل کو اپنا موضوع بنائیں جنہوں نے پاکستان کو بری طرح جکڑا ہوا ہے۔ وسیع تر اصلاحات تجویز کریں اور ان مسائل کا حل پیش کریں۔ عمران خان ایک ویژنری رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں ‘ ان کی جانب سے نظریات اور فلسفے پر مشتمل اس قسم کی کتاب ایک شاہکار تصنیف ہوگی۔ عمران خان کے ملاقاتیوں کی فہرست آج تک ان کے سیاسی رفقا پر مشتمل رہی‘ میرا عمران خان کو مشورہ ہوگا کہ ان ملاقاتوں کو کم کیا جائے تاکہ عمران خان اپنا زیادہ تر وقت تحقیق‘ تدبر‘ تفکر اور تحریر کیلئے وقف کرسکیں۔