(گزشتہ سےپیوستہ)
سکھ مورخین نے دعویٰ کیاہے کہ مغلوں کے آخری فرمانروابہادرشاہ ظفرنے گوروگوبندصاحب کواسلام کی ایک برگزیدہ شخصیت کی ایک یادگاراور متبرک تلوارنذرکی تھی،جوآج بھی سری کیس گڑھ آنندپورمیں موجودہے۔مذکورہ ایک سکھ وِدوان نے رسالہ سنت پاہی(اگست1951)میں تحریرکیاہے کہ سکھ ودوان سردارکاہن سنگھ کے مطابق اس تلوارکے ایک طرف کلمہ شریف اوردوسری طرف’’نصرمِن اللہِ وفتح قرِیب‘‘لکھاہے۔الغرض مسلمانوں نے اپنی نہایت مقدس اورلاثانی چیزبھی گوروصاحب کوعطاکی تھی ۔ اس سے اس بات کااندازہ بخوبی لگایاجاسکتاہے کہ مسلمان آپ کی کتنی عزت کرتے تھے اورمسلمانوں اورسکھوں کے درمیان کس قدرخوشگوارتعلقات رہے ہیں۔مغل بادشاہوں کے ساتھ گوروصاحبان کے کس قسم کے خوشگوار تعلقات تھے،اس کااندازہ لگانے کے لئے اوپردرج کئے گئے واقعات نہایت چشم کشاہیں۔جہاں مسلمان بادشاہوں،نوابوں،رئیسوں، ،فقیروں اور صوفیوں نے گوروصاحبان کے ساتھ نہایت دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم کئے تھے وہاں سکھ صاحبان نے بھی مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ دوستانہ اورخوشگوارتعلقات قائم رکھے ہیں۔چنانچہ گوروصاحب نے اپنے خرچے سے کرتارپور ہرگوبندپوراورامرتسروغیرہ جگہوں پرعالی شان مسجدیں بنائی ہیں۔
باباکے جانشین گوروانگدنے ان کی تعلیمات کوعام کرنے کے لئے قدیم کلاسیکی پنجابی زبان میں گرمکھی رسم الخط کومتعارف کرایا۔1551ء میں امرداس تیسرے گرومنتخب ہوئے،ان کی 1574ء میں وفات کے بعدچوتھے گورورام داس نے امرتسرکی بستی آبادکی،جس کے لئے شہنشاہ اکبرنے اخراجات اداکرنے کے علاوہ500 بیگھے زمین بھی وقف کی۔رام داس کی وفات کے بعد 1581ء میں ان کابیٹاگروارجن جانشین منتخب ہوئے۔گروارجن دیونے ہی سکھوں کی مقدس کتاب’’گوروگرنتھ‘‘مرتب کی جس میں پہلے پانچ گروں کی(1469ء سے لے کر 1708ء تک239سال پرمحیط تعلیمات)کوگرمکھی زبان میں ہی تحریرکیاگیاہے۔یہ 3381اشعارپرمشتمل ہے جوکہ ہندوں کی مقدس کتاب’’رگ وید‘‘سے تقریباتین گنابڑی ہے۔اس میں باباگورونانک، بھگت کبیر اوربابافریدکے اشعارشامل ہیں۔
سکھوں کے تمام مذہبی مقامات گوردواروں میں یہ کتاب موجودرہتی ہے اورمذہبی تہواروں کے مواقع پراس کتاب کے مندرجات پڑھ کراور گاکر سامعین کوسنائے جاتے ہیں۔اس کتاب میں سکھوں کے خداکی جوپہچان بتائی گئی ہے وہ بعینہ قرآن مجیدکی دی ہوئی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔آج سکھ مذہب کے تمام افرادکثرت سے ’’ست سری اکال‘‘ (سچا،بڑا،خدا)کا دعائیہ جملہ استعمال کرتے ہیں جس کاترجمہ حیرت انگیزطورپر ’’اللہ اکبر‘‘ہے اورسکھوں کاسب سے بڑانعرہ ’’واہگوروکاخالصہ واہگورو کی فتح‘‘بھی قرآن کریم کی مشہور آئت۔۔۔۔کہوکہ اے خدا(اے) بادشاہی کے مالک توجس کوچاہے بادشاہی بخشے)کا لفظ بہ لفظ ترجمہ ہے۔چنانچہ دنیاکے دو مذاہب اسلام اورسکھ مذہب ایسے مذاہب ہیں جن کے ہاں خدائی کاتصورشرک سے پاک ہے۔
بالآخرکرتارپورمیں ہی پیر22ستمبر1539 (9جمادی الاول 946 ھ)کوصوفی منش باباگرونانک اپنے ہزاروں عقیدت مندوں کوداغِ مفارقت دے کراسی رب ِکائنات کی طرف لوٹ گئے جس کاوہ دنیامیں پرچارکیاکرتے تھے۔ان کے جسدِ خاکی کی آخری رسومات کے لئے ہندوؤں اورمسلمانوں میں ٹھن گئی توباباگرونانک کی وصیت کے مطابق یہ فیصلہ کیاگیا کہ باباکے جسدِخاکی کے گردپھول رکھ دیئے جائیں،اگلے دن جن کے پھول تازہ ہوں گے وہی ان کی آخری رسومات کے حق دارہوں گے۔اگلے دن جب چادرہٹائی گئی تولاش غائب تھی اوردونوں اطراف کے پھول تروتازہ تھے۔چنانچہ ہندوؤں نے اپنے حصے کے پھولوں کونذرآتش جبکہ مسلمانوں نے اپنے حصے کے پھولوں کودفن کردیا،آج کرتارپورمیں دونوں کے مقامات موجودہیں۔
بابا گرونانک کی اہلیہ محترمہ سلاخانی سے ان کے دوبیٹے’’سری چند)اور’’لکشمی چند‘‘تھے۔سکھ روایات کے مطابق سری چندبہت عابد اورزاہد انسان تھے جن کی لمبی داڑھی اورسرکے طویل بال تھے۔سکھ مذہب کی تعلیمات کے مطابق ہماراجسم خدا(اللہ،بھگوان، جسے بھی آپ خدا مانتے ہیں)کی دین ہے اورہمیں اِسے ویساہی رکھنا چاہئے جیسا خدانے عطاکیا ہے ۔اس میں غیرفطری طریقوں سے کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کرناچاہئے،یہ خداکی ناشکری کے مترادف ہے۔اسی حکم کی وجہ سے پختہ عقیدے کے مالک سکھ اپنے جسم کے بال نہیں کٹواتے جبکہ لکشمی چندنے شادی کی اوران کے بھی دوبیٹے ہوئے۔ بابا گرونانک نے اپنی تعلیمات سے ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان مشترکہ مذہبی ہم آہنگی کی بے حد کوشش کی لیکن توحیدتو نام ہی بت شکنی کاہے اسی لئے ایک اورنیاسکھ مذہب وجودمیں آگیا۔مسلمانوں کے لئے باباگرونانک کی تعلیمات قطعاًنئی نہیں کیونکہ یہ وہی تعلیمات ہیں جواس سے قبل آسمانی صحائف،قرآن کریم اورخاتم النبیین ﷺکی سیرتِ مبارکہ میں موجودہیں۔
لیکن کیاوجہ ہے کہ مسلمانوں اورسکھوں کے درمیان اس قدرمحبت واخوت کارشتہ استوارکرنے والے باباگرونانک کی تعلیمات کوپس پشت ڈال کرسکھوں اورمسلمانوں کے درمیان دشمنی اورنفرت کی ایسی فصیل کھڑی کردی گئی کہ آج کی نوجوان نسل کوآمنے سامنے کھڑاکردیاگیالیکن کیاوقت نے ان تمام سازشوں کوبے نقاب کردیاہے؟وہ کیاوجوہات تھیں کہ جن کی بدولت مسلم سکھ دوستی اوربرادرانہ تعلقات دشمنی اورنفرت میں تبدیل ہوگئے۔باباگرونانک سے مسلمانوں کی محبت اور عقیدت کایہ عالم کہ ان کی آخری رسومات کے لئے میدان میں اترآئے اوربالآخرباباکی وصیت کے مطابق ان کے حصہ میں جو تازہ پھول آئے ان کودفن کیاگیااورآج تک وہ جگہ مرجع خلائق ہے اوریہی وہ مقام ہے جس نے ابھی تک سکھوں اور مسلمانوں کومضبوط رشتے میں جکڑرکھاہے۔
باباگرونانک کی بنیادی تعلیمات میں غریبوں، مسکینوں اورکمزورلوگوں کی حمائت کاسبق موجود ہے جس کااسلام بھی بڑی سختی سے حکم دیتاہے۔بابا گرونانک نے جب کرتارپورکواپنی تعلیمات وتبلیغ کاذریعہ بنایاتووہاں ہرخاص وعام کے لئے لنگر کاانتظام بھی اسی لئے کیاتاکہ وہاں غریبوں مسکینوں اورمحتاجوں کوکھانے پینے کی سہولت میسرآسکے اور ان میں اکثریت ایسے افرادکی تھی جواپنے علاقے میں ہونے والے مظالم سے تنگ آکریہاں مقیم ہوگئے تھے جن کی حفاظت کابیڑہ خودبابا گرونانک اوران کے مریدوں نے اٹھایا۔اس طرح باباجی کی تعلیمات کاشہرہ دوردرازتک پھیل گیااوردن بدن ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔بالآخرسکھوں کے دسویں گروگوبندنے غریبوں میں سے اپنے پانچ ساتھیوں کاچناؤ کرکے ان کوپانچ پیاروں کالقب عطاکیااوراس طرح پہلی مرتبہ سکھ مذہب میں باقاعدہ طورپرخالصہ تحریک نے جنم لیا۔
(جاری ہے)