Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

دوست دشمن کی تمیز

(گزشتہ سےپیوستہ)
اس زمانے ہندوستان میں مغلیہ حکومت کے فرمانرواں اورنگ زیب کی حکومت تھی اوراس کے دربار میں تمام مذاہب کے لوگ بلا تفریق مختلف عہدوں پرفائض تھے۔بعض ہندو عہدیداروں نے جب ہندوؤں کی ایک کثیرتعدادکوسکھ دھرم میں داخل ہوتے ہوئے دیکھاتوانہوں نے ایک گہری سازش کرکے اورنگ زیب کوان کے خلاف اکساناشروع کردیا کہ سکھ مغل حکومت کوختم کرنے کے درپے ہیں۔ہندواپنی سازش میں اس لئے بھی کامیاب ہوگئے کہ ان دنوں اورنگ زیب کابھائی دارشکوہ بھی فرارہوکرسکھوں کے ہاں پناہ گزیں تھا،اس لئے انہوں نے اس موقع سے سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے اورنگ زیب کوسکھوں کے خلاف لشکرکشی پرآمادہ کرلیاکہ کوئی بھی حکومت اپنی سلطنت کے خلاف باغیوں کوسر اٹھانے کی اجازت نہیں دیتی جبکہ دوسری طرف سکھ یہ سمجھتے تھے کہ ان مظالم کے خلاف ان غریبوں کی حمائت باباگرونانک کے حکم کے مترادف ہے۔یہی وجہ ہے کہ مغلیہ دورِحکومت میں سکھوں کے خلاف جنگ کوئی مذہبی جنگ قطعانہ تھی۔اگرایسا ہوتا تو سکھوں کی افواج میں ایک کثیرتعدادمسلمانوں کی نہ ہوتی جوگرونانک سے محبت کی بناپراپنی جانیں قربان کرنے کے لئے میدان جنگ میں نہ صرف کودپڑے بلکہ بڑی شجاعت کے ساتھ اپنی جانیں بھی قربان کیں جس کاتذکرہ سکھ بڑے احترام سے آج بھی اپنی تاریخ میں محفوط کئے ہوئے ہیں۔
بالآخریہ مسلم سکھ اتحادجوکہ باباگرونانک کی محبت کی مشترکہ میراث تھی،رنجیت سنگھ کی معیت میں پنجاب پرحکومت بنانے میں کامیاب ہوگیااورتاریخ گواہ ہے کہ رنجیت سنگھ نے اپنے دربارمیں تمام اہم عہدے مسلمانوں کے سپردکئے اورکئی سال مسلمانوں کی وفاداری اورمحبت کے بل بوتے پریہ ایساامن وامان کادورِحکومت تھاجس کاآج بھی سکھ بڑے تفاخر کے ساتھ ذکرکرتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ وہی ہندوعناصرجنہوں نے اورنگ زیب کوسکھوں کے خلاف اکسایا،بعدازاں انگریز کے ساتھ ملی بھگت کرکے پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی کی داغ بیل ڈالی اورایک سازش کے تحت ہندوستان سے مغلیہ دورِحکومت کوختم کرانے میں کامیاب ہوکرانگریزکے دربارمیں رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
رنجیت سنگھ کی پنجاب میں کامیاب حکومت کے پیچھے سکھ مسلم اتحادکی مشترکہ میراث کاطاقتورجذبہ موجود تھااورانگریزاس بات سے واقف تھے کہ اس خطے میں یہی دونوں قومیں جنگجو ہیں اوریہاں اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی تاوقتیکہ ان دونوں قوموں کے درمیان کوئی ایسی منافرت اوردشمنی نہ پیدا کردی جائے جس سے ان دونوں قوموں کے درمیان ایک ایسی خون ریز جنگ شروع ہوجائے جس سے یہ نہ صرف ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جائیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دشمنی اور نفرت کی ایسی دیوارکھڑی ہوجائے کہ اس خطے میں کبھی بھی ان کادوبارہ ایسامثالی اتحادنہ ہوسکے۔
برہمن اورانگریزکی مشترکہ سازشوں نے بالآخر مغلیہ دورِحکومت میں وہ تمام ہندوجوسکھوں کاروپ دھارکران میں شامل ہو گئے تھے،اس تحریک کو لے کر آگے بڑھے اوراس امپیریل جنگ کوسکھوں اورمسلمانوں کے درمیان مذہبی جنگ سے تشبیہ دے کرتاریخ کومسخ کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کے نتیجے میں ایک ایسی نفرت کی آگ پھیلادی جس کے شعلوں نے بالآخررنجیت سنگھ کے پنجاب میں مسلم سکھ اتحادکوجلاکرخاکسترکردیا اورانگریزوں کوپنجاب پرقبضہ کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوئی۔انفرادی طورپربعدازاں سکھ اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ شیروشکرتوہوگئے لیکن انگریزوں نے ہمیشہ حکومت کرنے کے لئے ’’ڈیوائڈاینڈرول‘‘ تقسیم کرنے کی پالیسی پرعمل کرتے ہوئے اس خطے میں سکھوں اورمسلمانوں کو سیاسی طور پر دوررکھنے میں ہمیشہ کامیاب رہے۔یہی وجہ ہے کہ جب برطانیہ کاسورج بھارت میں غروب ہورہاتھا تو قائداعظمؒجوباباگرونانک کی تعلیمات مسلمانوں اور سکھوں کی مشترکہ میراث کی تاریخ سے واقف تھے، انہوں نے سکھوں کے لیڈرماسٹرتاراسنگھ کونہ صرف ہندوؤں کی ذہنیت اورسازشوں سے آگاہ کیابلکہ پاکستاان کے اندر سکھوں کومکمل مذہبی آزادی کے ساتھ تمام بنیادی ومساوی حقوق کی یقین دہانی بھی کروائی لیکن ماسٹر تاراسنگھ نے اپنی کوربصری کی بناپر سکھوں کی آزادی کایہ سنہرا موقع گنوادیاجسے آج حریت پسندسکھ قوم بھی اپنا سب سے بڑامجرم سمجھتی ہے کہ جن کے اس ناعاقبت اندیش فیصلے نے انہیں بے رحم برہمن بھیڑیوں کے سامنے پھینک دیا۔
عیاربرہمن نے ایک گہری سازش کے تحت قیام پاکستان کے موقع پرسکھوں کے ہاتھوں مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے قتل عام،مسلمان خواتین کی بے حرمتی اوربے یارومددگار قافلوں میں لوٹ مار،قتل وغارت گری کاایسابازارگرم کروایاکہ بعض مقامات پر کچھ جذباتی مسلمان بھی اپنے ردِٓعمل پرقابونہ رکھ سکے۔ برہمن کی دوررس سازش کامیاب رہی تاکہ یہ دونوں قومیں مشترکہ سرحدپررہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے خلاف نفرت اورانتقام کی آگ میں جلتے رہیں۔کیا یہ قتل عام بابا گرونانک یاان کے بعد آنے والے سکھ مذہب کے گروں کی تعلیمات کے مطابق تھایااسلام میں اس کی کہاں اجازت تھی؟ اس کے برعکس جس ہندوقوم کوخوش کرنے کیلئے سکھوں نے مسلمان کی ریل گاڑیوں کوتہہ تیغ کیااور لاشوں سے بھرے خون آلود ڈبے پاکستان بھیجے،اس ہندوقوم نے سکھوں کوکون ساانعام دیا؟ پاکستان میں توسکھوں کے سارے مقدس مقامات محفوظ ہیں جبکہ اندراگاندھی نے امرتسرمیں واقع سکھوں کے دربارصاحب کی حرمت کوبھارتی فوج کے ناپاک بوٹوں نے بری طرح پامال کردیااوروقت نے قائداعظم کے دانشمندانہ فیصلے کی تصدیق کردی۔
باباگرونانک کی روشن تعلیمات کواس وقت اورتقویت ملی جب روس کے سرخ ریچھ نے اچانک افغانستان پراپنی ناپاک جارحیت کاارتکاب کیاجس کے نتیجے میں جہاں30 لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستانی قوم نے اپنے گلے لگایاوہاں35ہزارکے لگ بھگ افغان سکھوں کوبھی پاکستانی مسلمانوں نے اپنے سرآنکھوں پر جگہ دی اورتاریخ نے باباگرونانک کی ان اسلامی تعلیمات’’مسلم سکھ اتحادکی مشترکہ میراث‘‘کوسچ ثابت کردکھایا۔پاکستان کے مسلمان آج بھی سکھوں کے ساتھ حسن سلوک کا وہی رویہ رکھتے ہیں جس کیلئے بابا گرو نانک نے بے انتہامحنت کی تھی۔قدرت کاانعام اورفیصلہ دیکھئے کہ نہ صرف بابا گرونانک کی جنم بھومی اورآخری آرام گاہ بلکہ سکھوں کے بیشترمذہبی مقامات سرزمین پاکستان میں واقع ہیں جن کی زیارت کیلئے ہزاروں سکھ ہرسال وطنِ عزیزکی سرزمین پرمہمان بن کرآتے ہیں بلکہ مشرقی پنجاب سے بہنے والے دریائوں کاپانی،سب کارخ پاکستان کی جانب ہے جوسکھوں اورمسلمانوں کوایک دوسرے کی طرف محبت اورالفت کے ساتھ گلے ملنے کااشارہ دیتے ہوئے اپنے مشترکہ دوست اوردشمن میں تمیزکاسبق دے رہے ہیں۔
پاکستان واحد ملک ہے جہاں سکھ مذہب اوراس کے پیروکارسب سے زیادہ احترام کی نظرسے دیکھے جاتے ہیں۔حکومت پاکستان نے سکھوں کے مذہبی مقامات کی دیکھ بھال میں اہم کرداراداکیا ہے۔ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ایک سو تیسویں یومِ پیدائش پرکاکول اکیڈمی کے جن کیڈٹس نے مزارکے گارڈزکے فرائض سنبھالے،ملکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہواکہ قائداعظم کے مزارپرخاتون کیڈٹس یاکسی سکھ کیڈٹ نے سلامی پیش کی ہو۔
بابا ہرنام سنگھ کے تڑپتے وکانپتے ہونٹوں سے نکلاہوا ایک یادگار جملہ بھی تومیں آج تک نہیں بھول سکاجو انہوں نے لاہوربی بی سی کے نمائندے کوانٹرویو دیتے ہوکہا:
یہ وہی لاہوراسٹیشن ہے جب 1947ء میں یہاں ٹرین رکی تھی،میں کہہ رہاتھاکہ یہاں ٹرین کیوں رک گئی ہے اورمارے خوف کے یہ دعاکررہاتھاکہ جلدسے جلدروانہ ہواورآج میں دعا کررہاہوں کہ کاش یہ ٹرین ہمیشہ کیلئے یہاں رک جائے اورزندگی یہیں تمام ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں