Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

ماتھے کاجھومر،سیدناحضرت عمرؓ

اقبالؒ نے توکہا تھاکہ گہری تاریکیوں میں مرنے والوں کے ماتھے ستاروں کی طرح راہ دکھاتے ہیں،پھریہ کیاہواکہ جلیل القدرہستیوں کی یادصرف خراجِ تحسین کاعنوان بن کررہ گئی ہے۔ ہرسال عمر ؓفاروق اعظم کادن گزرجاتاہے لیکن ہمارے حکمرانوں کویہ سوچنے کی بھی توفیق نہ ملی کہ ہماراکل ان کی یادسے منور اور معتبر ہوسکتا ہے اوران کی شخصیت آج بھی رہنما ہوسکتی ہے! کچھ سال پہلے ایک نوجوان سیاستدان ہمسفر تھے، ان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہوتی ہے کہ ساتھ بیٹھا ہوا فردان سے بے نیازہو جائے تویہ خود ہی بڑے پرجوش انداز میں اپنے تعارف کے بعد گفتگوکا بڑے پرجوش اور عالمانہ اندازمیں سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔تعارف کے بعدکہنے لگے کہ ’’آج کل ماؤزئے تنگ اورامام خمینی کوپڑھ رہا ہوں‘‘۔ عرض کیا’’ضرورپڑھئے،یہ ہمارے عہد کے اہم ترین لوگ ہیں،تاریخ پہ جن کاگہرانقش ہے اوراپنی اقوام کی تقدیرکوجنہوں نے بدل ڈالا لیکن اگرسیاست سیکھنی ہو،اگرقوت فیصلہ کو بہتر بنانا ہو اوراگریہ سمجھناہوکہ بہترحکمرانی کن اوصاف اورکن اصولوں کاتقاضہ کرتی ہے تو حضرت عمرؓ بن خطاب کوضرور پڑھئے‘‘۔
کیامسلمان سیدناعمرؓبن خطاب کوپڑھتے ہیں؟ جواب ہوگاکہ نہیں!وہ ان پرفخرکرتے ہیں، ان سے محبت کرتے ہیں،ان کی عظمت و شوکت کو یاد کرکے خودکوتھامتے اورسہاراپکڑتے ہیں لیکن پڑھتے نہیں ہیں۔حزب المجاہدین کے سربراہ محمد صلاح الدین کوان کے ساتھی نے بہت براطعنہ دیا تو آنکھیں آنسوئوں سے بھرگئیں اوریہ جواب دے کرخاموش ہوگئے کہ ’’رہنما سیرت نہیں پڑھتے، وہ نہیں جانتے کہ ہمدردی،حسنِ ظن اورخیر خواہی کے بغیرزندگی ادھوری ہے‘‘۔
ماضی میں رہنے والے قدامت پسندی کے مارے مسلمان اگرسیدناعمرؓفاروق کی حیات کا مطالعہ کریں توان پرکھلے کہ آئین نوسے ڈرنا اور طرزِکہن پراڑناجہالت کی ایک قسم ہے۔ غیرمسلم مؤرخ بھی تحقیق اورعرق ریزی کے بعدیہ لکھنے پر مجبورہوگئے کہ خلیفہ ثانی سیدنافاروق ؓاعظم ہی ایسی عظیم الشان ہستی ہیں جواسلام کوایک جیتے جاگتے نظامِ حیات کی شکل میں سامنے لائے جوآج بھی دنیا کی رہنمائی کیلئے کافی ہے اوراگر مسلمانوں کو ایک اور عمرؓمیسرہوتے تواس وقت ساری دنیامیں اسلام کا غلبہ ہوتا۔یقیناحضرت عمر ؓفاروق کی شخصیت اتنی عظیم اوران کامقام اتنابلندہے کہ عمرؓ کا نام سنتے ہی کوئی شخص ابہام کاشکارنہیں ہوتا۔جب بھی اسلام کے عملی فلاحی نظام کی بات ہوتوہرسننے والافوراًسمجھ جاتاہے کہ حضرت عمرؓبن خطاب کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے۔سوال ہی پیدانہیں ہوتاکہ کوئی شخص سیدناعمرؓفاروق کوتوجانتاہومگران کے دس برس چھ ماہ چاردن پرمشتمل دورخلافت میں ہونے والی حیرت انگیزکامیابیوں سے واقف نہ ہو۔
جمادی الآخر13ہجری میں خلیفہ اوّل سیدنا ابوبکرؓصدیق نے اپنی مرض الوفات میں سیدنا عمرؓ کو خلیفہ مقررکرنے کاعہدنامہ لکھوانے کے فوری بعد اپنے مکان میں جمع لوگوں سے مخاطب ہوئے اورکہا:میں نے اپنے کسی بھائی بندکوخلیفہ مقرر نہیں کیا بلکہ عمرؓکو مقررکیا، کیاتم اس پرراضی ہو؟ توسب نے ’’سمعناواطعنا‘‘کہا۔22جمادی الآخر13 ہجری میں خلیفہ اوّل سیدناابوبکرؓ صدیق کی وفات کے بعد، مسلمانوں کے متفقہ طورپرسیدنا عمرؓ فاروق کے ہاتھ پربیعت خلافت کرنے کے بعدسیدنا عمرؓ مسندآراخلافت ہوئے۔
خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے کے پہلے ہی دن آپ نے لوگوں کے سامنے اس بات کی وضاحت کردی کہ لوگوں سے حکومت کس طرح معاملہ کرے گی۔آپ نے کہا:لوگو!وحی کا سلسلہ تومنقطع ہوچکاہے،اب ہمارے ساتھ جوبھی معاملہ ہوگا،ظاہری حالات اوراعمال کے مطابق ہوگا۔ ظاہراًجس نے خیروبھلائی کارویہ اپنایا، ہماری طرف سے اسے امن و امان کی ضمانت ہے۔ باطنی اور چھپے ہوئے رازکی ٹوہ ہم نہیں لگائیں گے، یہ اللہ اوربندے کے درمیان ہے،اللہ باطن کے مطابق اورنیتوں کے لحاظ سے بندوں سے حساب لے گا۔ اسی طرح جس شخص سے شر اور فساد ظاہر ہو،ہم اس کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے۔ اگروہ کہتابھی رہے کہ دل اورنیت سے اس کا ارادہ فتنہ وفتورکانہ تھاتوہم اس کے ظاہری عمل کے مقابلے پراس کے اس دعوے کوقبول نہ کریں گے۔
اس بنیادی اصول کے مطابق سیدناعمرؓنے خلافت کی ذمہ داریاں نبھائیں۔وحی فی الحقیقت منقطع ہوچکی تھی اوراس کے اصول قرآن وسنت کی صورت میں واضح اورمحکم تھے،پس مخلوق کیلئے اگرچہ حاکم وقت ہی کیوں نہ ہو،یہ حق نہ تھاکہ وہ ظاہری اعمال سے صرف نظر کرکے یہ فیصلہ دینا شروع کردے کہ لوگوں کے دلوں میں کیا ہے۔ اسی مضمون کوخود صاحب وحیﷺنے بیان فرمایاہے مجھے یہ حکم نہیں دیاگیاکہ لوگوں کے دل چھیدکردیکھوں یاان کے پیٹ چاک کرکے راز معلوم کروں۔ (بخاری)14صدیاں قبل حضرت عمرنے ایک صالح معاشرہ کیلئے حکمران اوررعایاکے حقوق وفرائض کے بنیادی اصول وضع کردیئے۔
تنظیم خیرخواہی اوراطاعت کے ستونوں پر قائم ہوتی ہے۔بقول حضرت عمرؓ اطاعت ہوگی توجماعت قائم رہے گی، اطاعت کے بغیر جماعت قائم نہ رہ سکے گی۔سچی بات یہ کہ اطاعت کے بغیر نہ کوئی جماعت قائم رہ سکتی ہے،نہ ادارہ،نہ خاندان، نہ تنظیم۔ سیدنا عمرؓنے اپنے دورِخلافت میں اپنے فرائض ادا کرنے کے بعد،رعایاسے ان کے فرائض سے متعلق بازپرس کی،جس سے ایسا مثالی معاشرہ قائم ہواجس میں ہرفرداپنے دینی، معاشرتی وسماجی فرائض اور قانونی واجتماعی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے اداکرنے لگا۔اسی لئے قابل رشک فاروقی دورکواپنے مسائل کا حل گردانتے ہوئے آج بھی یاد کرتے ہیں۔
حضرت ابوبکرؓنے اوآخرجمادی الثانی وفات پائی، اورحضرت عمرؓمسند آرائے خلافت ہوئے۔ سابق خلیفہ کے عہدمیں جھوٹے مدعیان نبوت، مرتدین، اورمنکرین زکوٰۃکے خاتمے کے بعد فتوحات کا آغازہوچکاتھا۔12ہجری میں عراق پر لشکر کشی کے نتیجے میں حیرہ کے تمام اضلاع فتح ہو گئے تھے۔ اسی طرح13ہجری میں شام پرحملہ ہوا، اور اسلامی فوجیں سرحدی اضلاع میں پھیل گئیں۔ ان مہمات کا آغازہی تھا کہ خلیفہ وقت کاانتقال ہوا، اورسیدناعمرؓنے عنان حکومت سنبھالتے ہی پوری توجہ ان اہم مہمات کی تکمیل پرمبذول کردی ۔ آپ کے عہدخلافت میں ہونے والی فتوحات کاحال بہت طویل ہے۔حضرت عمرکے وصال کے وقت اسلامی مملکت کارقبہ2511665مربع میل تھا۔ اس رقبہ میں تقریباً 1309501 مربع میل خود سیدنافاروقؓ اعظم کے حسنِ تدبرکی بدولت اسلامی قلمرو میں شامل ہوا۔ سیدناعمرؓکی عدیم النظیرحکمت عملی اورخوبی مہارت کااندازہ اس بات سے لگایاجا سکتاہے کہ ان کے دورحکومت میں اسلامی فوجیں روزانہ300مربع میل رقبہ اسلامی حکومت میں شامل کرتی تھیں۔23ہجری کے اختتام پرفتوحات فاروقی کی حدیں،شمال میں بحرخزر کے مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ مقام دربندسے تقریباً سومیل آگے شمال تک(کوہ قاف کے آگے تک)، جنوب میں اردن اوراس کے جنوب میں واقع جزائرتک،مشرق میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مکران تک،مغرب میں لیبا کے شہر طرابلس تک تھیں۔
سیدناعمرؓفاروق نے اپنے دورخلافت میں اتنے بڑے بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں کہ انسان اپنی تمام ترشعوری کوششوں کے باوجود یہ فیصلہ نہیں کرسکتاکہ آپ کے کس کارنامے کو سب سے بڑااوراصل کارنامہ سمجھے۔ سیدنا عمرؓ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ،آپ نے دینی شورائی بنیادوں پرایساآئینِ حکومت وضع اورعادلانہ نظام قائم کیاجو مسلمانوں کی جملہ سعادتوں اور ترقیوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کے بنیادی حقوق، بلاتفریق مذہب اوررنگ ونسل کاضامن تھا۔اس نظام حکومت نے افرادکی ایسی تربیت کردی جس کی مثال آج ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔
بحرین سے طویل مسافت طے کرکے ابوہریرہ پانچ لاکھ دیناراٹھائے مدینہ میں داخل ہوئے توعمربن خطاب کواپنے کانوں پریقین نہ آیا۔ تمہارادماغ تودرست ہے،کیاتم گنتی جانتے ہو؟ حضرت ابوہریرہ ؓنے کہاکہ ان کادماغ بھی درست ہے اوروہ گنتی بھی خوب جانتے ہیں۔فراغت نہ دینے والے ہنگاموں کے سبب ٹیکس کامال جمع ہوتا رہا،ایسے میں مشاورت ہوتی اوربحث کی جاتی۔ سیدنا علیؓ ابن طالب نے فرمایا’’بانٹ دیجئے‘‘، فرمایا: محتاج کوبقدرضرورت دیاجاچکا۔پھرپلٹ کرسوال کیا، شاہانِ عجم ایسے میں کیاکرتے تھے؟ عمارت بنائی،حساب کتاب کے رجسٹرتیارہوئے،قبطی منشیوں کوملازم رکھااوراسلام میں پہلی بار خزانہ وجود میں آیا۔ چھبیس ادارے…جی ہاں مستقل طور پر 26نئے ادارے قائم کئے،مثلاً ملٹری انٹیلی جنس اورسوشل سیکورٹی کوتوایساعروج بخشاکہ 14 صدیوں کی مجموعی انسانی ذہانت بھی اس میں کوئی اضافہ نہیں کرسکی۔سیکنڈیا نیویا میں اسی لئے سوشل سیکورٹی کوعمرلا ء کہاجاتاہے اوربرطانیہ میں اس تصو رکے معمارنے کہاتھاکہ اس نے یہ سب مسلمان عبقری کی سوانح سے اخذکیا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں