(گزشتہ سےپیوستہ)
’’(میاں محمود احمد خلیفہ قادیان نے) فرمایا جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔‘‘(خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ج۱۰، نمبر۳۲، ص۶ مورخہ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۲۲ء)
’’پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اﷲ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔‘‘ (مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی کلمۃ الفصل ص۱۵۸)دس نتائج ان قادیانی د س حوالہ جات سے یہ دس باتیں ثابت ہوئیں کہ:
قادیانیوں کے نزدیک اﷲ تعالی کی ذات، حضور سرور کائنات علیہ السلام کی ذات، قرآن، نماز، روزہ، حج،زکوۃ میں مسلمانوں سے اختلاف ہے۔
قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں کی شادی ، غمی، جنازہ، میں شرکت جائز نہیں۔
قادیانیوں کے نزدیک تمام مسلمان جو مرزا کو نبی نہیں مانتے سب نان مسلم ہیں۔ مرزا کونہ ماننے والا جہنمی ہے ۔ مرزا کو نہ ماننے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں سے اختلاف فروعی نہیں اصولی ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک مرزا کا نہ ماننے والا صرف کافر نہیں بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں کو مسلمان نہ سمجھنا فرض ہے۔مسلمانوں کا نمازجنازہ حتی کہ مسلمانوں کے بچوں کا بھی جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ظفراﷲ قادیانی نے قائد اعظم بانی پاکستان کا نماز جنازہ نہیں پڑھا تھا ۔ مرزا قادیانی معاذاﷲ محمد رسول اﷲ ہے۔ان قادیانی دس حوالہ جات سے دس نتائج برآمد ہوئے، ان کے ہوتے ہوئے شامی صاحب سے عقل، تدبر و فکر کی درخواست ہے۔ ان حوالہ جات سے شامی صاحب کو سمجھ جانا چاہئے کہ وہ آپ کو کیا سمجھتے ہیں اور آپ ان کے متعلق کیا وکالت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں؟ یہ بات واضح ہے کہ قادیانی مسلمانوں کی شناخت پر غاصبانہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے باوجود شامی صاحب فرماتے ہیں کہ’’مسلمان خدا خوفی کریں‘‘۔ شامی صاحب سے بصد ادب و احترام درخواست ہے کہ :
۱…مسلمانوں کے نزدیک حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں قادیانیوں کے نزدیک حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزا قادیانی بھی اﷲ کا رسول اور نبی تھا۔ ۲…مسلمانوں کے نزدیک رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایمان کی حالت میں دیکھنے والے صحابہ کرام ہیں جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے زمانہ میں اس کو قبول کرنے والے بھی صحابی ہیں۔ ۳…مسلمانوں کے نزدیک رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان اہل بیت ہے۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کا خاندان بھی اہل بیت ہے۔ ۴…مسلمانوں کے نزدیک رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج امہات المؤمنین ہیں جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی بیوی بھی ام المؤمنین ہے۔۵… مسلمانوں کے نزدیک مدینہ منورہ میں جنت البقیع کا قبرستان مقدس ہے، قادیانیوں کے نزدیک قادیان کا بہشتی مقبرہ بھی مقدس ہے۔۶…مسلمانوں کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ماننے والا مسلمان نہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک عالم اسلام کے کل مسلمان جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں یہ سب مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہیں۔ ۷…مسلمانوں کے نزدیک آخرت کی نجات رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی تصدیق و اتباع میں منحصر ہے۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزاقادیانی کو مانے بغیر آخرت کی نجات ممکن نہیں۔ ۸…مسلمانوں کے نزدیک مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ قابل احترام ہیں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود دوسرا قادیانی خلیفہ کہتا ہے کہ مکہ مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہوگیا ہے اب اسلام اور روحانیت مرزاقادیانی سے وابستہ ہے اور وہ برکات قادیان میں ہیں۔ ۹…مسلمانوں کے نزدیک قرآن مجید اﷲ تعالیٰ کا آخری کلام ہے۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی پر بھی کلام اﷲ نازل ہوا اور وہ اﷲ تعالیٰ کا آخری کلام ہے۔ ۱۰…مسلمانوں کے نزدیک حدیث رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مشعل راہ ہے۔ جبکہ قادیانیوںکے نزدیک جو حدیث، مرزا قادیانی کے کلام کے خلاف ہے وہ ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے لائق ہے۔ یہاں اپنی معروضات کو ختم کرتے ہوئے شامی صاحب سے درخواست ہے کہ آپ کن کی وکالت پر نکلے ہیں؟ اس پر تنہائی میں غور فرمالیں تو آپ سمیت بہتوں کا بھلا ہوگا۔ قومی ڈائجسٹ کے قادیانیت نمبر کو فروخت کرکے حج پر گئے تھے۔ ایک بار اب بھی سوچ لیں ایمانی ضمیر اور خوف خدا کی شرط کے ساتھ کہ آپ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے مواجہہ شریف پر حاضری کا حوصلہ رکھتے ہیں؟