(گزشتہ سے پیوستہ)
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں، ان کے ساتھ ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی، جسے عربی میں ربیب اور ربیبہ کہتے ہیں اور پنجابی میں پچھ لگ کہتے ہیں۔ بیٹے کا نام عمر اور بیٹی کا نام زینب تھا۔ زینب بنت ابی سلمہ حضور ؐ گھر میں بیٹیوں کی طرح پلی ہے۔ جوان لڑکی تھی، اس کے بارے میں کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آپ کے گھر میں ہے، کسی اور جگہ دینے کی بجائے آپ خود نکاح کر لیں۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دو وجہ سے مجھ پر حرام ہے۔ ایک تو یہ میری ربیبہ ہے، میری بیوی کی بیٹی ہے، اس لیے حرام ہے۔ بیوی کے لیے بھی خاوند کی بیٹی بیٹا اس کا بیٹی بیٹا ہوتا ہے، اور خاوند کے لیے بیوی کی بیٹی بیٹا اس کا بیٹی بیٹا ہوتا ہے۔ اور فرمایا دوسری بات یہ ہے کہ اس کے باپ ابو سلمہؓ اور میں نے ثویبہ کا دودھ پیا ہوا ہے، ہم رضاعی بھائی ہیں اور یہ میری بھتیجی لگتی ہےاس لیے بھی حرام ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح مجھ پر رشتے پیش نہ کیا کرو۔
دودھ پینے کے ساتھ حلال حرام کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے اور باقی مسائل بھی متعلق ہو جاتے ہیں۔اس پر بخاری شریف کی روایت ہے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے رضاعی رشتے کے چچا افلح تھے۔ دودھ کے رشتے میں چچا لگتے تھے، وہ ہمارے گھر آیا کرتے تھے جیسے محرم ہوتے ہیں وہ بھی آتے جاتے تھے۔ جب پردے کے احکام آئے کہ غیر محرم کے سامنے نہیں آؤ گی، کسی کے گھر میں نہیں جاؤ گے تو حضرت عائشہؓ نے افلح کو دروازے پر روک دیا کہ ٹھہریں، اب پردے کے احکام آگئے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گی کہ آپ میرے گھر آ سکتے ہیں یا نہیں آ سکتے۔ جناب نبی کریمؐ شام کو تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! افلح آئے تھے، میں نے ان کو گھر نہیں آنے دیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیوں؟ جبکہ وہ تمہارا چچا ہے۔ عرض کیا یا رسول اللہ! وہ چچا کیسے ہے؟ میں نے دودھ اس کی بھابھی کا پیا ہے، عورت کادودھ پیا ہے تو وہ میرا چچا لگ گیا ہے؟ فرمایا ہاں جس عورت کا دودھ پیا ہے، اس کا خاوند تیرا باپ ہے اور اس کا بھائی تیرا چچا ہے۔
یہ وہ باتیں ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی ہیں۔ حضور نبی کریمؐ کے دودھ کے ساتھ حرمت کا رشتہ برقرار رکھا اور عمل کر کے دکھایا کہ دودھ سے جو رشتے قائم ہوتے ہیں ان کا بھی احترام ہوتا ہے۔
بخاری شریف میں ایک اور واقعہ مذکور ہے، حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ معروف صحابی ہیں، خود فرماتے ہیں میرا نکاح ہو گیا، گھر والوں نے کسی خاتون کے ساتھ میری شادی کر دی۔ ہم میاں بیوی کے طور پر بسنا شروع ہو گئے۔ ایک دن ایک عورت آئی اور اس نے کہا میں نے تمہیں بھی دودھ پلایا ہوا ہے اور تمہاری بیوی کو بھی پلایا ہوا ہے، تم کیسے میاں بیوی بن گئے ہو تم تو بہن بھائی ہو۔ فرماتے ہیں مجھے بڑا غصہ آیا ’’امراۃ سوداء‘‘ وہ کالی عورت آئی اور رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ میں نے کہا مجھے پہلے نہ تم نے بتایا نہ گھر والوں نے، خواہ مخواہ کہہ رہی ہو۔ حضرت عقبہ بن حارثؓ ذرا فاصلے پر رہتے تھے، کہتے ہیں میں گھوڑے پر سوار ہوا اور مدینہ منورہ جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! میری شادی ہوئی ہے ، اب ایک عورت کہتی ہے کہ میں نے تمہیں بھی دودھ پلایا ہے اور تمہاری بیوی کو بھی پلایا ہے، تم بہن بھائی ہو، اب میں کیا کروں؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ فرمایا ”کیف وقد قیل“ جب یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ تم بہن بھائی ہو، تو اکٹھے کیسے رہ سکو گے، لہٰذا نکاح ختم کر دیا۔
یہ میں نے اس لیے عرض کیا ہے کہ دودھ کے رشتے بھی نسب کے رشتوں کی طرح حلال حرام اور محرم غیر محرم کے ہوتے ہیں۔ اگر دودھ بینک میں جمع ہے اور بلاتفریق بچوں کو پلایا گیا ہے تو کیسے فرق ہوگا کہ کون کس کی ماں ہے، کون کس کا بیٹا ہے، کون کس کی بہن ہے اور کون کس کا بھائی ہے؟ ہمیں عورت کا دودھ پلانے سے انکار نہیں ہے لیکن دودھ پلانے سے جو نتائج اخذ ہوں گے ان کو کون کنٹرول کرے گا؟ دودھ سے ماں حرام ہوتی ہے، بہن حرام ہوتی ہے، بھتیجی حرام ہے، بھانجی حرام ہے، خالہ حرام ہے۔ دودھ پینے سے یہ سارے رشتے قائم ہو جاتے ہیں، تو اگر کھلا بینک ہوگا کہ جس کا دودھ جسے مرضی پلا دیں تو کون تمیز کرے گا؟
اس لیے ہماری گزارش یہ ہے کہ کسی شرط اور کسی نظم کے بغیر یہ معاملہ درست نہیں ہے۔ اس سے رشتوں کا احترام ختم ہوگا، رشتوں کا امتیاز ختم ہوگا اور حلال حرام کا فرق ختم ہوگا۔ اس لیے جو خبر آئی ہے، اگر یہ خبردرست ہے تو یہ معاملہ بہت غلط ہوا ہے، اس کے خلاف ہمیں آواز اٹھانی چاہیے اور بات کہنی چاہیے کہ یہ قرآن پاک کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ یہ کسی مجتہد کا قول نہیں ہے بلکہ قرآن مجید کا صریح حکم ہے۔ قرآن پاک کے صریح احکام جس سے متاثر ہوتے ہوں ایسے کسی کام کی حمایت نہیں کی جا سکتی اور متعلقہ حکام کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔