Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

ماتھے کاجھومر،سیدناحضرت عمرؓ

(گزشتہ سے پیوستہ)
ہنگامی طورپرلیکن پائیداراورمستقل بنیادوں پر ایک نیاادارہ وجودمیں آگیا۔وظائف کاسلسلہ شروع ہواتو محتاجوں،کمسن بچوں کے والدین ، اصحاب کباراوراہلِ بیت کوان کے گھروں میں خاموشی کے ساتھ وظائف کی رقوم پہنچادی جاتیں۔ اہل بیت کوزیادہ وظیفہ دیاجاتالیکن وہ تو ایک ہاتھ سے وصول کرتے تودوسرے ہاتھ بانٹ دیتے۔ آمدن بڑھی تو دودھ چھڑانے کے بعدنہیں، بچوں کی فوری پیدائش کے بعد وظیفہ شروع کردیا جاتا۔پھربیروزگاروں کواورایک بےنوا یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا تو مفلس غیرمسلموں کی فہرست بنانے کاحکم جاری کر دیاگیاکہ مستقل طور پران کی احتیاج کودورکرنے کی سبیل ہوسکے۔ ایک سفرمیں معلوم ہوا کہ ریگزارکے فرزند بیمار،مرتے ہوئےاوربوڑھے جانوروں کاچارہ بندکردیتے ہیں توسرکاری خزانے سے چارہ فراہم کرنے کاحکم جاری کردیاگیا۔
حضرت عمرؓکی مومنانہ مخلصی کی قوت، بہادری وجانبازی،مجاہدفی سبیل اللہ کی الوالعزمی، جہاندیدہ رہنما کی تجربہ کاری، فطری قابلیت کی بنا پر دیکھتے ہی دیکھتے اس زمانے کی سپرپاورکا نعرہ لگانے والی طاقتوں کواسلام کے زیرنگیں کردیا۔ حضرت عمرؓنے قیصروکسری کواپنے جوتے کی نوک پرایسے اڑادیاجیسے چٹیل میدان میں فٹ بال کھیلاجاتاہے انہوں نے اپنی انفرادی صلاحیتوں سے عرب کی اس وادی کے اندررہ کروہ کارہائے نمایاں انجام دیےجوبڑی بڑی حکومتوں اور مجلسوں کیلئے بھی انتہائی دشوارتھے۔گورنروں کا تقرر، ججوں کا انتخاب ،فوجی افسروں کا چناؤ، لشکروں کی تربیت وتنظیم،فوجی نقل وحرکت اور کمک کے احکام بھیجنا،نقشے بنانا،شہروں کی حدیں کھینچنا، قانون سازی،تقسیم مال غنیمت، حدودو تعزیرات کااجراء وغیرہ،الغرض یہ تمام خدمات آپ اپنی صوابدید،اصابت رائے، تیزی ذہن، دوربینی وعزیمت سے انجام دیتے رہے۔ان جلیل القدر خدمات کے ساتھ آپ خاک نشین اورعوام کےساتھ مل جل کررہتے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی خلافت کازمانہ آج تک عدل وامن اور انتظام کے لحاظ سے دنیاکا اعلی ترین مثالی دورماناگیاہے۔
محاسن بےشمارہیں لیکن بنیادیہ کہ ایک درد بھرادل رکھتے تھے۔قرآن قراردیتاہے کہ حکمران کوصاحبِ علم،توانااوراجلاہوناچاہئے۔ وہ ایسےہی تھے،فیصلہ کبھی مخرنہیں کرتے،کوئی علمی نکتہ سامنے آتاتواصحاب کبارسے کریدکرید کر پوچھتے۔عبداللہ بن عباس اورعبداللہ بن مسعود کو اسی لئے عزیز رکھتے کہ صاحبانِ علم تھے۔عدل اوّلین ترجیحات میں سب سے بڑی ترجیح تھا۔اصحاب بدرتک سے رعائت نہیں کرتے۔اپنے آقاﷺ اور صدیقؓ اکبرکویہی کرتے دیکھاتھااوروہ ساری عمراس پرقائم رہے۔اپنی کسی رائے کوغلط پاتے توعلی الاعلان تسلیم ہی نہیں کرتے بلکہ معذرت کرلیتے،زعم کاروگ کبھی نہیں پالا۔ہمیشہ بلال ؓحبشی کے احترام میں کھڑے ہوجاتے اورعلی ؓابن طالب کے بارے میں ایک باریہ کہا’’اگرعلیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ برباد ہو جاتا‘‘۔دمشق میں امیر الامت کی سادگی اور درویشی دیکھ کررودیئے۔معمولی لباس پہنتے،کچے گھر میں رہتے اورعام مسلمانوں میں نہ صرف گھل مل کربلکہ ان میں سے ہرایک کوسوال اور اعتراض کی کھلی اجازت دیتے۔معاشرے کوسنوارنےکا نسخہ ان کے نزدیک یہ تھاکہ حکمران طبقہ درست رہےاوراس کاکردار ،عامیوں کا رہنما ہو، لہٰذا حکام،گورنروں حتی کہ اصولی معاملات میں اصحاب کبار تک سے سختی برتتے۔ جناب خالدؓ بن ولیدکامعاملہ یہی تھا۔حکمرانی طاقتوروں کے گٹھ جوڑاوراہل رسوخ کورعائتیں دے کرچلائی جاتی ہیں۔اسلام نے اس طرزکوبدل ڈالاتھا اورعمرؓاس روش کے نگہبان تھے۔تعلیم کو فروغ دیا۔عدل کے معاملے میں انتہادرجہ کی سختی برتی۔ بیمارکے علاج اورمحتاج کے رزق کی ریاست ذمہ دارٹھہرایا۔امن کوہرحال میں قائم رکھا اور ہرچندامیرمعاویہ اورعمروبن العاص جیسے بارسوخ گورنروں پرسخت تھے مگرسیاسی استحکام کیلئے گاہے تلخ گھونٹ پی لیتے لہٰذا ان دونوں کو ڈانٹا مگر معزول نہیں کیا کہ امن کیلئے استحکام لازم ہوتا ہے۔
دنیامیں جس قدرحکمران گزرےہیں ہر ایک کی حکومت کی تہہ میں کوئی نہ کوئی مشہور مدبر یا سپہ سالارمخفی تھا۔یہاں تک کہ اگر اتفاق سے وہ مدبریاسپہ سالارنہ رہاتودفعتاً فتوحات بھی رک گئیں یانظام حکومت کاڈھانچہ بگڑگیالیکن سیدنا عمرؓکواللہ پر بھروسہ اور اپنے دست وبازو کایقین تھاکہ حضرت خالدؓبن ولیدکی عجیب وغریب معرکہ آرائیوں کودیکھ کرلوگوں کوخیال پیدا ہو گیاکہ فتح وظفر کی کلیدانہی کے ہاتھ میں ہے لیکن جب سیدناعمرؓنے ان کومعزول کردیاتوکسی کو احساس تک نہ ہواکہ کل میں سے کون ساپرزہ نکل گیاہے۔حضرت سعدؓبن ابی وقاص فاتح ایران کی نسبت بھی لوگوں کوایساوہم ہو چلاتھا،وہ بھی الگ کردیئےگئےاورکسی کےکان پرجوں تک نہ رینگی۔ یہ سچ ہے کہ سیدناعمرؓایک بہترین منتظم کے ناطے حکومت کواس طرح چلایاکہ جس پرزے کو جہاں چاہانکال لیااورجہاں چاہالگادیا،مصلحت ہوئی تو کسی پرزے کوسرے سے نکال دیااورضرورت ہوئی تونئے پرزے تیارکرلیے۔
رعایاکوایک ایسی شریفانہ ،پرامن ،مطمئن اور بامقصدزندگی گزارنے کاموقع ملاجس کی ماضی وحال میں مثال ڈھونڈنا،جوئے شیر لانےکے مترادف ہے۔احساسِ جوابدہی اور محاسبہ نفس نے ان کے دورِعہدمیں زمین کواللہ کے نورسے معمور کر دیا۔دنیاکی ہزارہاسالہ تاریخ کے سامنےبظاہر ایک بہت ہی مختصرعہدِ فاروقی کی تاریخ میں کشورکشائی، سیاست، حکومت، جمہوریت، اخوت، آزادی، مساوات،عدل اورفلاحِ انسانی کایہ درخشاں ترین باب قوموں اورملکوں کیلئے روشنی کامنبع اورایک بہترین آئیڈیل ہے۔نیکی وسعادت،حرکت وعمل کایہ ایک ایساسنہری دورتھاجس کا سوفیصداعادہ خوداسلام کی تاریخ میں بھی نہ ہوسکا۔ دراصل عمرؓفاروق اعظم بن کر تاریخ کے سٹیج پرنمودارہونادعاونگاہِ محمدی ﷺ کافیضان تھا۔تمام انسانوں سے گہری ہمدردی ان کے طرز حکمرانی کی اساس تھی اورظاہرہے کہ یہ رحمتہ للعالمینﷺکی تعلیم کاثمرتھااورجناب ابوبکر کاورثہ بھی جنہیں وقت کم ملا ۔ عظیم اوصاف کےحامل ہیں۔غصہ تھالیکن اگرذراسی زیادتی بھی ہوتی تومعافی مانگنے میں ذرا بھی تاخیر نہ کرتے۔اول اول عورتوں کواہمیت نہ دیاکرتے۔خودفرمایا:ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھاکہ عورتیں بھی کوئی چیزہیں،یہ تو ہم نے آنجناب ﷺسے سیکھا… درازقد، گورے چٹے، انتہائی بارعب اورفصیح،ہمیشہ غوروفکر میں منہمک رہتے،ہمیشہ سیکھتے رہنے والے،انتہائی سادہ، بہت منکسر،خوبیوں پرکبھی نازنہ کرتے، ہمیشہ کوتاہیوں کی فہرست اور خودکوسنوارنے کی فکر میں مبتلارہتے۔
آخری ایامِ حیات میں آپؓ نے خواب دیکھاکہ ایک سرخ مرغ نے آپ کے شکم مبارک میں تین چونچیں ماریں،آپ نے یہ خواب لوگوں سے بیان کیااورفرمایاکہ میری موت کاوقت قریب ہے۔ایک روزاپنے معمول کے مطابق نمازکیلئے مسجدمیں تشریف لے گئے،مسجد میں پہنچ کر نمازیوں کی صفیں درست کرنےکا حکم دیا۔صرف تکبیرتحریمہ کہنے پائے تھے کہ حضرت مغیرہ ؓکامجوسی غلام ابولولو(فیروز)جوایک زہرآلود خنجر لیے ہوئے مسجدکی محراب میں چھپا ہوا بیٹھا تھا،اس نے آپؓکے شکم مبارک میں تین زخم کاری اس خنجرسے لگائے،آپ بے ہوش ہوکر گرگئے اورحضرت عبدالرحمنؓ بن عوف نے آگے بڑھ کرامامت کی، مختصرنمازپڑھ کرسلام پھیرا، ابولولو نےچاہاکہ کسی طرح مسجدسے باہرنکل کر بھاگ جائے،مگرنمازیوں کی دیوارنماحائل صفوں سے نکل جاناآسان نہ تھا،اس نے اورتیرہ صحابیوں کو زخمی کردیاجن میں سے سات جاںبرنہ ہوسکے، اتنے میں نمازختم ہوگئی اورابولولو پکڑلیاگیا،جب اس نے دیکھاکہ وہ گرفتارہوگیاتواسی خنجر سے اس نے اپنے آپ کوہلاک کردیا۔بالآخرحق تعالیٰ نے آپ کی دعائے شہادت کوقبول فرمایا اورمصلائے رسولﷺ پرآپ کو27ذوالحجہ بروز (بدھ)زخمی کیاگیااوریکم محرم (اتوار)آپ نے 63 سال کی عمرمیں شہادت پائی۔حضرت صہیبؓ نے نمازجنازہ پڑھائی اورخاص روضہ نبوی میں حضرت ابوبکرؓصدیق کے پہلومیں آپ کی تدفین ہوئی۔
ہم نے یہ پاکستان حاصل کرتےہوئے اپنے رب سے یہ وعدہ توکئی بارکیاکہ ہم ان بندوں کو جو بندوں نے اپنے غلام بنالئے ہیں،ان کو ان بندوں کی غلامی سے نکال کررب کی غلامی میں دے دیں گے،لیکن ہم نے اب تک ساری عمروعدہ خلافی میں گزاردی اب یہ سوچتے ہیں کہ ہم پرایسے حکمران کیوں مسلط کردیئے گئےجوہم سے غلام درغلام ہونے کامطالبہ کرتے ہیں اور خود ملک کا کھربوں روپیہ لوٹ کر بھی خود کوبے گناہ اور معصوم ظاہرکرتے ہیں۔آج ہم اپنے اسلاف کاتذکرہ توبڑی محبت، تفاخراورتعظیم سے کرتے ہیں لیکن صد افسوس! ہم ان سے کچھ سیکھتے نہیں۔اگرہم اب بھی اس عہدجدیدمیں قرآن وسیرت کی اساس پر زندگی بسرکرنے کاارادہ باندھ لیں توتب اسلام کے ماتھے کاجھومرجناب سیدناعمرؓبن خطاب کی تعلیمات ہمارے کردارکومعتبراورمنورکرسکتی ہیں۔ فاروقؓ اعظم کی حکومت مسلمانوں کی حکمرانی کی مسلمان معاشرے کی وہ بہترین تصویر،نمونہ اورآئیڈیل مثال ہے جس کو تاریخ نے اپنے اندرمحفوظ کرلیاہے۔اس آئیڈیل کی طرف سفر کا آغازکئے بغیر اسلامی نظام کے دعوے خواہ کس قدردلفریب ہوں، درحقیقت کھوکھلے ہیں۔
تمہیں جو ناز ہے آزادئ سوال پہ آج
خبربھی ہے یہ اجازت عمرؓکے ساتھ آئی
خدا نے یوں بھی دیا ان کے مشوروں کو مقام
کبھی تو یوں کہ شریعت عمرؓکے ساتھ آئی
وہ جس کا عدل’’عمر ؓلاز‘‘ بن کے جاری ہے
وہ باوقار عدالت عمرؓ کے ساتھ آئی

یہ بھی پڑھیں