Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

یکم محرم الحرام ، سیدنا عمر فاروق اعظم ؓ کون؟

سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کو محبوب خداﷺ نے غلبہ دین اور سطوت اسلام کے لئے دربار ربوبیت سے خود طلب کیا،سیدنا فاروق اعظم ؓ وہ تھے جن کو پروردگار عالم نے دینی ترقی کے لئے چن کر بھیجا،سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کے ایمان لانے سے پہلے جبرائیل امین نے ان کی تشریف آوری کا مژدہ پیغمبر اسلامﷺ کو دیا،سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے جن کی تشریف آوری پر حضورﷺ نے ’’مرحبا‘‘کی آواز بلند فرمائی،سیدنا عمر فاروق ؓوہ تھے جن کے ایمان سے جملہ صحابہ کرامﷺ کو تقویت پہنچی،سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے جن کی آمد سے مسلمانوں کو خدا کے گھر میں خدا کی عبادت کرنا نصیب ہوئی،سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے جن کے ایمان کی خوشی میں زمین نے اظہار مسرت کیا،سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے جن کی ایمان کی خوشی میں فلک نیلی فام رقص میں آیا،سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کو کعبہ میں جاتے وقت سب صحابہ کرام ؓسے آگے جانے کا شرف حاصل ہوا،سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے جن کی تشریف آوری کی خوشی میں دیوار حرم نے بوجہ افتخار اپنا سر تا بعرش کردگار پہنچایا،سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے جن کے قدوم میمنت لزوم سے زمزم کے آب شیریں نے سلسبیل کو ذائقہ حل اور بخشا،سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کے کعبہ میں داخل ہونے کے بعد جناب محمدﷺ کے تکبیر کہنے سے بت منہ کے بل گر گئے،سیدنا عمر فاروق ؓوہ تھے جن کو ’’فاروق‘‘ کا لقب دربار رسالتﷺ سے عطا ہوا، سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے کہ ’’منھا خلقنکم‘‘ کے پیش نظر جن کی مٹی کا خمیر بہشت بریں کی مٹی سے بنایا گیا۔سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جنہوں نے کفر کو چیلنج کر کے بیت اللہ کے اندر مشرکین کے روبرو نماز ادا کی،سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے جنہوں نے جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں قتل کا مشورہ دیا اور پھر بعد میں اس رائے کی تائید میں قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی۔ سیدنا عمر فاروق وہ تھے جنہوں نے غزوہ تبوک کے موقع پر اپنے مال کا نصف حصہ پیش کر کے صاحب نبوتﷺ کی خوشنودی حاصل کی۔
سیدنا عمر فاروق ؓوہ تھے جن کے حق میں خاتم النبیینﷺ نے ’’لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب‘‘ فرمایا،سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی تقریر دل پذیر اور جرات نے سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین وانصار کا اختلاف مٹا دیا۔ سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی حکومت عدالت سیاست کو دیکھ کر سیدنا علیؓ نے آپ کو مسلمانوں کا ملجا و ماوی قرار دیا۔ سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی ذات بابرکات کو سیدنا علی ؓنے ’’فرحاں و شاداں قیم بالامر‘‘ فرمایا،سیدنا عمر فاروق ؓوہ تھے جن کے لشکر کو دیکھ کر سیدنا علیؓ نے جنداللہ کا لقب عطا کیا،سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے جن کے مذہب کو شیر جلی سیدنا علی نے ’’دین اللہ‘‘ سے تعبیر کیا ،سیدنا عمر فاروقؓ وہ تھے جن کی ’’یا ساری الجبل‘‘والی آواز نے نہاوند میں غافل فوج کو جگا دیا اور مسلمانوں کی فتح کا باعث بنی۔سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے جن کے مکتوب کی برکت سے دریائے نیل جاری اور مشرکانہ رسم کا خاتمہ ہو گیا۔سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے جن کی مبارک رائے کے مطابق آیت ’’واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی ‘ ‘نازل ہوئی،سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے جن کی غیرت کی حمایت میں عورتوں کے لئے پردہ کا حکم ملا۔ اور پردے کی آیات نازل ہوئیں۔سیدنا عمر فاروق ؓوہ تھے جن کے لفظ ’’مولا‘‘کو حضور ﷺ کے لئے استعمال کرنے سے آیت ’’ان اللہ ھو مولاہ وجبریل وصالح المومنین‘‘نازل ہوئی،سیدناعمر فاروق ؓوہ تھے جن کی دعا پر ’’حرمت شراب‘‘کا تصریحی حکم نازل ہوا،سیدنا عمر فاروق ؓ وہ تھے جن کی رائے کی تائید میں منافق کا جنازہ نہ پڑھنے کے سلسلے میں وحی نازل ہوئی،سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے ’’افک سیدہ عائشہ صدیقہ‘‘کے سلسلے میں ’’سبحانک ھذا بھتان عظیم‘‘کہنے پر موافقت قرآن نے انہی الفاظ کے ساتھ فرمائی،سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے مقبوضات اسلام کا رقبہ (225103)مربع میل تک پہنچ گیا،سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے ’’حسبنا کتاب اللہ‘‘کہہ کر مراد نبوتﷺ پوری فرمائی، سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے جواب نے ’’من یھدہ اللہ فلا مضل لہ‘‘کی ترجمانی کی،سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی ہم نوائی اور تصدیق صاحب نبوتﷺ نے سکوت فرما کر کی، تو اہل بیت نے عملی طور پر فرمائی،سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی غیرت چہار دانگ عالم میں مشہور ہوئی،سیدنا فاروق اعظم ؓ وہ تھے جن کا صدیق اکبر ؓکے بعد بلا اختلاف خلافت کے لیے انتخاب ہوا بلکہ ’’افضل الخلق بعدالرسل‘‘نے جن کا انتخاب فرمایا،سیدنا فاروق اعظم ؓ وہ تھے جو اپنے دور خلافت میں اگر ایک طرف ایران پر فوجیں بھیج رہے ہیں قیصر و کسریٰ کے سفیروں سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں ایران مصر کے فاتحین کے نام فرامین جاری کر رہے ہیں۔ حضرت خالد بن ولید اور امیر معاویہ سے باز پرس کر رہے ہیں،یعنی اتنے عالی شان اور دبدبے والے حکمران، تو دوسری طرف سادگی کا یہ عالم ہے کہ بدن پر پیوند لگا کر تہبند پہن رہے ہیں۔ سر پر پھٹا ہوا عمامہ اور پاں میں بوسیدہ چپل ہے۔
سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جو کسی وقت ممبر پر چڑھ کر خدائی احکام سنا رہے ہیں۔ تو کسی وقت مشکیزہ کندھوں پر رکھ کر محتاجوں بیکسوں اور بیوائوں کو پانی پلا رہے ہیں،سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جو دن کو خلافت کے امور سر انجام دیتے ہیں تو رات کو مدینہ کی گلیوں میں پہرہ دیتے نظر آتے ہیں۔سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جو غنی اتنے ہیں کہ شاہوں کے تاج آپ کے قدموں پر نثار ہیں۔ لیکن سادہ اس قدر ہیں کہ بادشاہوں کے سفیر آپ کی سادگی کی وجہ سے پہچانتے بھی نہیں اور بھول جاتے تھے کہ کیا یہ شخص مسلمانوں کا خلیفہ ہے۔سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جو باطنی اقتدار کے مقابلہ میں ظاہری وجاہت کو ہیچ سمجھتے تھے،سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے کہ دینی معاملات میں جس قدر سخت تھے ذاتی معاملات میں اسی قدر زیادہ نرم تھے،سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے پہلی بار حکومت سطح پر تحفظ مال کے لیے ’’بیت المال کا ادارہ‘‘قائم کیا۔ سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے حسن تدبیر کی برکت سے پہلی بار باقاعدہ عدالتیں قائم ہوئی قاضی مقرر ہوئے۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں