Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

فرقان حمید اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ اعلان امیر المؤمنین کا تھا، خلیفہ راشد کا تھا اور قانون کا درجہ رکھتا تھا، مگر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے بعد مسجد سے نکل کر گھر جانے لگے تو راستہ میں ایک عورت نے روک لیا۔ عورت کا نام روایت میں نہیں ہے، البتہ یہ ذکر ہے کہ وہ قریشی خاتون تھی۔ اس نے راستے میں روک کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو توجہ دلائی کہ ان کا یہ حکم قرآن کریم کی منشا کے خلاف ہے۔ قرآن کریم کا سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہیں کھڑے ہو گئے اور اس خاتون سے تفصیل دریافت کی۔ اس نے کہا کہ قرآن کریم نے جہاں بیویوں کو خاوندوں کی طرف سے ملنے والی دولت اور رقم کا ذکر کیا ہے، وہاں کہا ہے:
”واتيتم احداہن قنطارا فلا تأخذوا منہن شيئا“
’’اور اگر تم نے ان میں سے کسی کو ”قنطار“ برابر دولت بھی دے دی ہے تو پھر ان سے واپس نہ لو۔‘‘
اس خاتون نے کہا کہ قرآن کریم ہمیں خاوندوں سے ”قنطار“ کے حساب سے دلواتا ہے۔ قنطار خزانے کو کہتے ہیں اور ڈھیر پر یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر پھر مسجد میں گئے اور دوبارہ اعلان فرمایا کہ
”میں نے مہر کی رقم کے بارے میں جو اعلان کیا تھا، ایک خاتون نے اس سلسلہ میں قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ کی طرف مجھے توجہ دلائی ہے، میرا اس آیت کی طرف دھیان نہیں تھا۔ وہ عورت ٹھیک کہہ رہی ہے، اس لیے میں اپنا حکم اور اعلان واپس لیتا ہوں۔“
یہ قرآن کریم کا حکم اور حوالہ سامنے آنے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے رک جانے کا اظہار تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس وصف کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ”كان وقافا عند كتاب اللہ“، مگر اس واقعہ میں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ چونکہ اس مجلس میں میری بہنیں اور بیٹیاں بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں، اس لیے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اسلام عورت کو رائے کا حق نہیں دیتا اور اس کی تعلیم پر قدغن عائد کرتا ہے، مگر یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام میں عورت کا رائے کا یہ حق ہے کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے امیر المؤمنین کو ان کے فیصلے پر ٹوک کر اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کر سکتی ہے اور اس کی تعلیم کا معیار یہ ہے کہ قرآن کریم سے استدلال کر کے خلیفہ راشد کے فیصلے پر تنقید کر رہی ہے۔
قرآن کریم پر رک جانے کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک اور دلچسپ واقعہ بھی مؤرخین نے ذکر کیا ہے، جن میں مصر کے محمد حسین ہیکل مرحوم بھی ہیں، جنہوں نے اپنی معروف کتاب ”عمر فاروق اعظمؓ“ میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے دور میں لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لیے رات کے وقت گلیوں اور محلوں میں گشت کیا کرتے تھے۔ ایک رات گشت کے دوران ایک گھر کے اندر سے گانے بجانے کی آواز آئی، توجہ کی تو اندازہ ہوا کہ گانے بجانے کی کوئی محفل بپا ہے۔ مکان کے عقب میں گئے اور دیوار پھلانگ کر اندر کود گئے۔ محفل بپا تھی، آپ رضی اللہ عنہ نے آواز دی کہ ”کیا تمہارا خیال ہے کہ تمہیں کوئی دیکھ نہیں رہا؟“ صاحبِ محفل نے اس طرح اچانک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو محفل میں دیکھا تو گھبرایا نہیں، اوسان بحال رکھے اور کہا کہ ”امیر المومنین! یقیناً ہم گناہ کی محفل میں بیٹھے ہیں، لیکن آپ نے بھی تو قرآن کریم کے تین حکموں کی خلاف ورزی کی ہے ۔“ قرآن کریم کا نام سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ چونکے اور فرمایا کہ وہ کیا؟ اس نے کہا
”قرآن کریم کا حکم ہے کہ ”ولا تجسسوا“ لوگوں کے اندرونی حالات کا تجسس نہ کرو، اور آپ نے اس کا لحاظ نہیں رکھا۔
قرآن کریم کا حکم ہے کہ کسی کے گھر جاؤ تو داخل ہونے سے پہلے اجازت لو، آپ نے کوئی اجازت نہیں لی۔
اور قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ ”وأتوا البيوت من أبوابہا“ گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہوا کرو، مگر آپ عقب سے دیوار پھلانگ کر اندر آئے ہیں۔“
روایت میں ہے کہ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مزید کسی کارروائی سے رک گئے اور صاحب خانہ سے آئندہ اس قسم کی حرکت نہ کرنے کا وعدہ لے کر واپس پلٹ گئے۔
قرآن کریم کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفاداری، کمٹمنٹ اور اطاعت آج ہمارے لیے سبق ہے، اسوہ ہے اور آج کی اس محفل میں اسی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں