Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

وزیراعظم کا دورہ تاجکستان

جمہوریہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمن کی دعوت پر وزیر اعظم شہباز شریف نے 2تا 3 جولائی 2024ء کو تاجکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ملاقاتوں کے دوران دونوں فریقوں نے تاجکستان اور پاکستان کے درمیان کثیر جہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ دورے کے دوران تاجک پارلیمنٹ کے چیئرمین مجلسی نموینداگان مجلس اولی جمہوریہ تاجکستان ذوکرزادہ محمدتویر زویر اور جمہوریہ تاجکستان کے وزیر اعظم جناب قاہر رسول زادہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔ تاجکستان کے صدر اور وزیر اعظم پاکستان کے درمیان ملاقات میں، دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پربھی تبادلہ خیال کیا اور موجودہ برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا، جو مشترکہ تاریخ، ثقافت، جغرافیائی مناسبت اور مشترکہ عقیدے پر مبنی ہے اور سٹریٹجک پارٹنرشپ کے معاہدے پر دستخط کیے جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی اعتماد اور شراکت داری کا حقیقی عکاس ہے اور اس سے دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے کی راہیں ہموار ہوں گی۔دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ، ایس سی او، او آئی سی، ای سی او اور سی آئی سی اے سمیت کثیرالجہتی فورمز پر بہترین دو طرفہ تعاون کو سراہا۔ عالمی اور علاقائی امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے کثیر الجہتی تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے 2028-2029 ء کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر تاجکستان کی نامزدگی کی حمایت کی اور-26 2025 ء کے لیے اسی ادارے میں پاکستان کی امیدواری کے لیے تاجکستان کی قابل قدر حمایت کو سراہا۔وزیراعظم پاکستان نے تاجکستان کے صدر کو مارچ 2023 ء میں تاجکستان اور نیدرلینڈکی جانب سے نیویارک میں اقوام متحدہ کی 2023 ء واٹر کانفرنس اور 10-13 جون 2024ء کو تیسرے دوشنبہ واٹر کانفرنس سمیت بین الاقوامی تقریبات کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے دوشنبہ میں SCO انسداد منشیات مرکز کے قیام کے لیے تاجکستان کے اقدام کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔ تاجکستان کے صدر کی جانب سے 2025 ء کو گلیشیئرز کے تحفظ کا بین الاقوامی سال قرار دینے اور گلیشیئرز کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی فاؤنڈیشن کے قیام کے اقدام کو بھی سراہا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی متعلقہ قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی ’’وژن سنٹرل ایشیاء‘‘ پالیسی کے تحت تاجکستان کے ساتھ روابط کی اہمیت پر زور دیا جو دو طرفہ تعاون کے پانچ ستونوں یعنی سیاست، تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی اور روابط، سلامتی اور دفاع اور عوامی تعلقات پر مبنی ہے۔ وزیر اعظم نے پاکستان کی طرف سے تاجکستان کی کواڈریلیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ (QTTA) میں رکنیت کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔دونوں فریقوں نے پارلیمانی وفود کے دوروں کی تعداد میں اضافے کی حمایت کی۔تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، توانائی، ثقافت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں موجودہ جوائنٹ ورکنگ گروپس (JWGs) کی طرف سے حاصل ہونے والی پیش رفت کابھی جائزہ لیاگیا۔دوطرفہ تجارت کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے دونوں فریقوں نے نئی راہوں، مواقع اور منصوبوں کی تلاش کے ذریعے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو بڑھانے پر اتفاق کیااور دونوں ممالک کے درمیان سڑک، ریل اور ہوائی رابطے کو فروغ دینے کے لیے ماہرین کی سطح پر مشاورت کی اہمیت پر زور دیا۔تجارت، اقتصادی اور سائنسی تکنیکی تعاون پرپاکستان اورتاجکستان کے مشترکہ کمیشن کی اہمیت کو نوٹ کرتے ہوئے دونوں فریقوں نے جلد از جلد اسلام آباد میں مشترکہ کمیشن کے ساتویں اجلاس کے انعقاد کے لیے آمادگی ظاہر کی۔پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فلیگ شپ پاور پروجیکٹ CASA-1000 کی جلد تکمیل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے تاجکستان کے صدر کو گوادر بندرگاہ کے آپریشنل ہونے کے بارے میں آگاہ کیا اور تاجکستان کو پاکستانی بندرگاہوں کی سہولیات سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ پاکستانی بندرگاہیں وسطی ایشیائی ممالک بشمول تاجکستان کے لیے مشرق وسطیٰ اور اس سے باہر کی منڈیوں کے لیے انتہائی مؤثر، مختصر اور اقتصادی راستہ پیش کرتی ہیں۔ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں پیش رفت پربھی تبادلہ خیال کیاگیاجس پر دسمبر 2022 ء میں تاجک صدر کے دورہ پاکستان کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔وزیر اعظم پاکستان نے سی پیک کو پاکستان کے رابطے اور مستقبل کی ترقی کے ایک اہم مرکز کے طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح سی پیک کے پہلے مرحلے نے پاکستان کو ایک مضبوط انفراسٹرکچر نیٹ ورک قائم کرنے میں مدد کی، جبکہ فیز IIمیں گرین ڈولپمنٹ، آئی سی ٹی، صنعت کاری اور زراعت کی جدید کاری شامل ہے۔سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان کی مہارت اور صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں فریقوں نے تجارتی وفود کے تبادلے اور تاجکستان پاکستان مشترکہ بزنس کونسل کی میٹنگ کے ذریعے کاروباری تعلقات کو بڑھانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انسداد دہشت گردی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون پرخصوصی توجہ دی اور خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز پر قابو پانے کے لیے اس شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کے اندر انسداد دہشت گردی، بین الاقوامی منظم جرائم، انسانی اور منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے میں جاری تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم پاکستان نے وسطی ایشیائی خطے میں دہشت گردی اور اس کی مالی معاونت کے انسداد کے لیے کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینے اور دوشنبہ میں اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنسوں کے انعقاد کے لیے جمہوریہ تاجکستان کی کوششوں کو سراہا۔افغانستان کے بارے میں دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ ایک پرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان علاقائی خوشحالی اور ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے افغانستان کے لیے ایک جامع حکومت کا ہونا ضروری سمجھا۔دونوں فریقوں نے نسل پرستی، بنیاد پرستی، اور عدم برداشت کی دیگر اقسام، مذہب یا عقیدے کے نام پر دہشت گردانہ حملوں میں اضافے سے پیدا ہونے والے نئے اور ابھرتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کیااوردنیا بھر میں اسلامو فوبیا میں اضافے پر تبادلہ خیال کیا اور اس لعنت سے نمٹنے کے لیے او آئی سی کے مشترکہ اقدامات اور اجتماعی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے 15 مارچ کو عالمی دن کے طور پر منانے کا خیرمقدم کیا۔پاکستان کے وزیر اعظم نے اگست 2022 ء میں سیلاب متاثرین کو امداد فراہم کرنے پر تاجکستان کے صدر کا شکریہ ادا کیا۔دونوں فریقوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ایک وجودی خطرہ قرار دیا اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے اور ان کے مطابق ڈھالنے کے لیے ٹھوس اور سخت کوششیں کرنے کی دوبارہ تصدیق کی۔ دونوں فریقین نے دونوں ممالک کے طلباء کو وظائف کے تبادلے اور انعامات کے ذریعے تعلیمی تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیااور عوام کے روابط کے فروغ میں اسکالرز، دانشوروں اور ادیبوں کے تعاون کو تسلیم کرتے ہوئے متعلقہ دارالحکومتوں میں ایک سڑک کا نام دونوں ممالک کی معروف ادبی شخصیات کے نام پر رکھنے پربھی اتفاق کیا۔وزیر اعظم پاکستان نے تاجکستان کے صدر کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی اور ان کے وفد کی دلجوئی اور گرمجوشی سے مہمان نوازی کی گئی اور ان کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

یہ بھی پڑھیں