(گزشتہ سے پیوستہ)
سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی سیاسی قابلیت کے نتیجے میں پہلی بار فوجی دفتر قائم ہوئے اور والنٹیروں کی تنخواہیں مقرر ہوئی،سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے حکم و مشورے سے ’’دفتر مال‘‘قائم ہوا، پیمائش کا طریقہ جاری ہوا،سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے رموز سلطنت سے تجربہ کاری کی برکت سے پہلی بار ’’مردم شماری‘‘کی ترویج ہوئی،سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے اپنی حکومت میں مفلوک الحال عیسائیوں اور یہودیوں کے بھی وظیفے مقرر کیے۔سیدنا فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے مکہ معظمہ سے لے کر مدینہ منورہ تک مسافروں کے آرام کے لئے چوکیاں اور سرائیں بنائیں،فاروقِ اعظم ؓ وہ تھے جنہوں نے شوکتِ اسلام اور رعبِ حکومت کے پیشِ نظر ’’فوجی چھانیاں‘‘مقرر فرمائیں۔ فاروقِ اعظم ؓ وہ تھے جنہوں نے تحفظِ قرآن کی غرض سے ’’نمازِ تراویح کی جماعت کا‘‘باجماعِ صحابہ کرام فیصلہ فرما کر قیامت تک کے لئے امتِ مسلمہ پر احسانِ عظیم کیا۔فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے تراویح کو بہئیتِ کذائیہ جاری فرما کر امتِ رسولِ مقبولﷺ کو حفاظتِ قرآن کا ذریعہ فراہم کیا۔ فاروقِ اعظم ؓ وہ تھے جن کی برکت سے محلے کا محلہ آگ کی زد سے بچ گیا تھا۔ فاروقِ اعظم ؓ وہ تھے جن کے قدم کی ٹھوکر کی برکت سے مدینہ پاک زلزلے سے قیامت تک کیلئے محفوظ ہوگیا۔ فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے خوفِ خدا کے پیشِ نظر بیت المال سے راشن کندھوں پر اٹھا کر یتیموں تک پہنچایا۔فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے انسدادِ رشوت کے لئے عمال (حکومتی گورنرز)کی تنخواہیں زیادہ سے زیادہ مقرر فرمائیں۔فاروقِ اعظم ؓ وہ تھے جو امیر المومنین ہونے کے باوجود یزید بن ثابت کے سامنے مدعا علیہ بن کر پیش ہوئے۔فاروقِ اعظم ؓ وہ تھے جنہوں نے ’’قضا‘‘ کا سلسلہ جاری فرما کر مسافروں کے لئے ایک آسانی پیدا فرمائی۔فاروقِ اعظم ؓ وہ تھے جنہوں نے تجویدِ قرآن کے سلسلے میں عرب جو عربیت کی تاکید فرمائی۔ فاروقِ اعظم ؓ وہ تھے جنہوں نے اشاعتِ قرآن کی غرض سے شام،حمص، فلسطین کے علاوہ کئی مقامات پر قرآنی مدرسے قائم کیے۔فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے احکاماتِ خداوندی کے حفظ کیلئے سورہ بقرہ،سورہ نساء سورہ مائدہ،سورہ حج،سورہ نور کا یاد کرنا ضروری قرار دیا۔ فاروقِ اعظم ؓ وہ تھے جنہوں نے ملک کی سیاست کے پیشِ نظر فوج کا سٹاف، افسر خانہ،مترجم،طبیب و جراح پر مشتمل قائم فرمایا۔
فاروقِ اعظم ؓ وہ تھے جن کے وجودِ مسعود کی برکت سے یزدگرد مقدم الجیش کا افسر کئی سو بہادروں سمیت مسلمان ہوگیا تھا۔فاروقِ اعظمؓ وہ تھے جن کے اسلامی دبدبے کی وجہ سے قادسیہ ، جلولہ ، حلوان ، تکریت ، خوزستان، ایران ، عراق، شام، اصفہان، طبرستان، آذربائجان، آرمینا، فارس، سیستان، مکران، خراسان، اردن، حمص، یرموک، بیت المقدس، اسکندریہ، طرابلس اور الغرب وغیرہ فتح ہوئے۔ فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے سیدنا امام حسین کو شہزادی سیدہ شہر بانو نکاح میں عطا فرمائیں۔فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہیں سیدنا علی المرتضیؓ اور حسین ابن علی سے پیار تھا،اور انہیں فاروق اعظمؓ سے محبت تھی،فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے حضرت علی المرتضی ؓکے بیٹے کو اپنے بیٹے پر ترجیح دے کر حق اخوت ادا کیا،فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی فتح کامرانی پر آسمان بھی نازاں تھا، فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے کئے ہوئے عقد کو سیدنا علیؓ اور سیدنا حسینؓ نے برقرار رکھا،فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے حواریین اور گوشہ نوشینوں کی گواہی سے سیدنا امام حسینؓ کا عقد نکاح منعقد ہوا،فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے دور خلافت میں فقہ کو تکمیل و ترقی نصیب ہوئی،فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی عدالت کا چرچا دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گیا.اور ’’عدل فاروقی‘‘ ضرب المثل بنا۔ فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی مجلس شوریٰ کے رکن اکابر صحابہ ہی ہوا کرتے تھے۔
فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی مساعی جمیلہ کی برکت سے صرف دور فاروقی میں چار ہزار مسجدیں تعمیر ہوئیں،فاروق اعظمؓ وہ تھے جو سادگی کے پیش نظر کسی درخت کے نیچے بغیر کچھ بچھائے کچی زمین پر سو جانے سے بھی نہیں گھبراتے تھے،فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے بیت اللہ کے غلاف کو اعلیٰ قسم کے غلاف سے بدلا اور مستقل اسکو رواج مل گیا،فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے حرم محترم کی عمارت کو وسیع کر کے اردگرد دیوار بنا کر عام آبادی سے ممتاز کر دیا،فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے قحط سالی کے علاج میں 99 میل نہر پہاڑوں میں سے کھدوا کر دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملا دیا،فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے بڑے بڑے شہروں میں مسافر خانے تعمیر کروائے،فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے نہر ابو موسیً کھدوا کر پیاسوں کی پیاس بجھا دی،فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے مکہ اور مدینہ کے راستے میں چوکیاں،حوض اور سرائیں تعمیر کروائیں، فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے اپنے گورنروں کو عدل و انصاف اور سادگی و خوف خدا کی تلقین فرما کر اور اس پر عمل کو یقینی بنا کر رعایا پر احسان عظیم فرمایا،فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے متعلق تفسیر فہمی میں’’غلب المسلمون فارس فی امارات عمر‘‘تسلیم کیا گیا۔ فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کو داماد سیدنا علیؓ ہونے کا شرف حاصل ہو،فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے قاضیوں کو یہ آرڈر دیدیا کہ فیصلوں کے لیے پہلے قرآن بعدہ حدیث، بعدہ اجماع، بعدہ قیاس کو قبول کیا جائے،فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی جلال بھری نگاہ کو دیکھ کر والیان تاج و تخت بھی مرعوب ہو جاتے تھے،فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے فتح بیت المقدس کے موقع پر باری باری چلنا تو منظور فرمایا مگر نہ اونٹنی کو تکلیف دی اور نہ ہی اپنے خادم کا حق تلف کیا۔ فاروق اعظمؓ وہ تھے جنہوں نے ’’رسول کا عمل ہی اصل دین ہے‘‘عقیدہ کو یوں ثابت کیا کہ حجرا اسود کو چومنے سے پہلے یہ کہہ دیا ’’تجھے ہم نافع و ضار نہیں مانتے، ہاں تجھے ہم بوسہ صرف حضورﷺ کے بوسہ دینے کی وجہ سے دیتے ہیں۔فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کی شکل کو دیکھ کر عیسائی عالم پہچان جاتے تھے،فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کے بہشتی محل کو خواب میں حضور ﷺ نے مشاہدہ کیا،فاروق اعظمؓ وہ تھے جن کو حضور ﷺ نے زندگی میں کئی بار جنتی ہونے کی بشارت اپنی زبان مبارک سے سنائی۔