Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

شدید تشنج میں مبتلا

’’میں کل خصوصی طورپرآپ سے ملنے چاہتا ہوں،لندن میں میراقیام صرف آٹھ گھنٹے کاہوگا،کیا آپ کے پاس وقت ہوگا کہ چند گھنٹہ ہم اکٹھے مگراکیلے گزارسکیں‘‘۔میں اس آواز کولاکھوں میں پہچان سکتاتھا۔’’یوں نہیں،میں آپ کوخود لینے کے لئے ائیرپورٹ پہنچ جائوں گا۔میں نے اس کی فلائٹ کی تفصیلات ایک کاغذکے ٹکڑے پرلکھ کر محفوظ کرلیں۔اس کا بچپن اورجوانی امریکی ریاست ایریزونامیں بسر ہوئی۔یہ ریاست بے آب وگیاہ پہاڑوں، ریگستانوں اورتھوڑے سے باغات کی وجہ سے بالکل ایسے لگتی ہے جیسے بلوچستان ہے۔اگران وادیوں کے درمیان ایک شاندار موٹروے نہ گزررہی ہواورجگہ جگہ خوبصورت ہوٹل اورپٹرول پمپ نہ ہوں توایسے لگے جیسے سوراب سے پنجگورجارہے ہیں یاپھرکاکڑ خراسان سے لورالائی جارہے ہیں۔
میساچوسٹس یونیورسٹی سے اس نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اورایک عام امریکی کی طرح زندگی گزارنے لگا۔چونکہ ایک ایسی ریاست سے اس کا تعلق تھاجہاں پانی کی کمی کامسئلہ تھا،اس لئے اس نے اپنے علم کوپانی کی تلاش اورترسیل کے لئے مخصوص کرلیا۔ اکثرپڑھے لکھے امریکیوں کی طرح اسے بھی عالمی اداروں اوربڑی بڑی عالمی کمپنیوں میں ملازمت ملنا مشکل نہیں تھی۔اسے بھی ایک ایسی ہی ایک انٹرنیشنل کمپنی میں ملازمت مل گئی جس کی وجہ سے اسے افریقہ کے ایسے ممالک میں کام کرنے کا موقع ملاجہاں قحط ،خشک سالی،غربت اورمحکومیت ہرجگہ نظرآتی تھی۔یہاں اس امریکی کے سامنے اس کے اپنے ملک اوراپنے ہم مذہب لوگوں کادہرامعیارپہلی دفعہ نظرآیا۔صومالیہ میں اس کی پوسٹنگ نے جلتی پرتیل کاکام کیا۔ اس نے قحط زدہ لوگوں کی امدادکے نام پرآئے ہوئے امریکیوں کوایک خاص تعصب کے ساتھ مسلمانوں پرگولیاں برساتے دیکھا ۔اس نے سوڈان میں کیمیائی ہتھیار تباہ کرنے کے نام پروہاں کی سب سے بڑی دوائیوں کی فیکٹری تباہ ہوتے دیکھی،جس کے بعد وہاں کے مسلمان عام اسپرین کی گولی کے لئے بھی ترسنے لگے اوریہاں تک کہ9 جولائی2011 ء کواس ملک کے دوٹکڑے کرکے ایک حصہ پرعیسائی حکومت قائم کردی گئی،اس کے ساتھ ہی براعظم افریقہ کااب تک کاسب سے بڑا معدنیات سے مالامال ملک دوحصوں میں یعنی شمالی اورجنوبی سوڈان میں تقسیم کردیاگیاجبکہ مئی 2011ء کے آخرمیں شمالی افریقاکی حکومت نے تیل سے مالامال علاقے ’’ابئی‘‘ پر استعمارکی درپردہ مددسے قبضہ کرلیا تھاجس پراب تک شمال اورجنوب دونوں اپنادعویٰ کررہے ہیں۔
میری اس سے ملاقات آج سے25سال پہلے جنوری1999ء میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ہیڈکوارٹر’’ماندایولونگ منیلا‘‘میں ہوئی۔ مجھے وہ اپنے مسلمان ہونے کے انتہائی دلچسپ واقعہ سے بھی آگاہ کرچکاتھا۔ہزاروں کمروں کی اس عمارت میں اس صرف اس کے کمرے کے باہربسم اللہ الرحمن الرحیم کی خوبصورت گولڈن تختی لگی ہوئی تھی۔ یوں تومنیلاکے شہرمیں ہزاروں مسلمان رہتے ہیں اور ایشین بینک میں بھی کئی مسلمان کام کرتے ہیں جن میں پاکستانی بھی ہیں لیکن جس کمرے کے دروازے سے اس بات کا اظہارہوکہ وہ مسلمان ہے،وہ جوزف کاکمرہ تھاجواب اپنے آپ کویوسف کہتاتھا۔ایک قدآورگوراامریکی جسے اللہ تعالی نے ہدائت دی تواس نے صومالیہ کی ایک کالی مسلمان لڑکی سے شادی کرلی۔ہدائت کانوربھی عجب ہے،آدمی کے اردگرداپناہالہ بنالیتاہے۔ منیلاکے مسلمان بھی اس ہالے سے متاثرہوئے بغیرنہیں رہ سکے۔وہ دیکھتے تھے کیاعجیب امریکن ہے، انگریزی بول رہاہوتو ہمیشہ اللہ کے ذکرپر’’اللہ سبحانہ تعالیٰ‘‘پڑھتا ہے ’’گاڈ‘‘کالفظ قطعا استعمال نہیں کرتااورپیارے محمدﷺکانام آئے توپورادرود شریف پڑھتاہے۔وہ تمام الفاظ جومسلمان کی پہچان ہیں،جیسے اسلام علیکم،بسم اللہ،سبحان اللہ اورالحمد اللہ،سب اسی طرح بولتا ہے۔ کبھی اس نے ’’ہائے،تھینکس گاڈ،گڈلک‘‘ نہیں کہا۔ اتنے بڑے ادارے میں کام کے دوران ہزاروں تقریبات ہوتی ہیں،کسی کی بات پسندآ جائے توتالی نہیں بجاتا،زورسے اللہ اکبرکہہ دیتاہے۔
اس کے گھرمیں ایک عجیب عالم تھاجومیں نے دیکھا۔حجاب میں ملبوس ایک بیوی اورایک سات سالہ بیٹی فاطمہ،میں جس دن اس کے گھرگیاتو یوسف نے بتایاآج کے دن یہ پیدا ہوئی تھی لیکن اس گھرمیں کوئی سالگرہ کاسماں نہیں تھا۔میں نے پوچھاتوفاطمہ نے خودکہامیں سالگرہ نہیں مناتی۔میں نے کہا:اس میں دوست آتے ہیں،تمہیں تحفے ملتے ہیں۔اس نے بڑی معصومیت سے کہا’’میرے ماں باپ ہی میرے بڑے گہرے اوراچھے دوست ہیں اورمیری اچھی باتوں سے خوش ہوکرتحفے دیتے ہیں،پھراس رسم کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے تحفے کی تفصیلات پوچھیں تواس نے بڑی سادگی سے جواب دیاکہ’’آپ کو شائد علم نہیں کہ میری والدہ حافظِ قرآن ہیں اورمیں نے بھی اپنی والدہ کی مددسے پچھلے ہفتے مکمل قرآن کریم حفظ کیا ہے،بھلااس سے بڑاتحفہ اورکیا ہو سکتا ہے‘‘۔ یوسف کی بیوی نے کہا’’ہم لوگ یہاں کسی کلب وغیرہ میں نہیں جاتے،ڈانس نہیں کرتے لیکن ایک دفعہ ہم تینوں بے اختیارخوشی سے ناچ اٹھے جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیاتھا‘‘۔
لیکن جس بات نے مجھے حیرت اورشرمندگی میں ڈال دیاوہ شائدہم سب کوبحیثیت مسلمان حیرت میں ڈال دے۔میں اس کے ساتھ ایشین بینک کے ایک کمرے میں جسے لوگوں نے نمازپڑھنے کے لئے مخصوص کیاتھا،نمازپڑھنے گیا۔میں قصرکی آدھی نمازپڑھ کرتھوڑی دیرمیں باہرآگیا،لیکن اسے وہاں سے باہرآنے میں پون گھنٹہ لگ گیا۔میں حیران تھاکہ یہ شخص میرااتنابھی خیال نہیں کرتاکہ میں باہر کھڑااس کا انتظار کر رہا ہوں۔میں یہ سوچ رہا تھااور کڑھ بھی رہاتھاکہ وہ میرے پاس آیااوربڑی شرمندگی اورانتہائی عاجزی سے کہنے لگا کہ’’اصل میں تم لوگوں نے بچپن سے رب کریم کاذکرسناہوتا ہے، مسلمان گھرمیں پیداہوتے ہو،اس لئے تم نماز پڑھتے ہوئے اللہ تعالی کاتصورذہن میں لانے میں کتنی آسانی ہوتی ہے،مجھے اس کیفیت کوخودپر طاری کرنے میں اورذہن کویکسو کرنے میں توآدھ گھنٹہ لگ جاتاہے کہ میں رب ذوالجلال کے حضور کھڑا ہوں جومیرے دل ودماغ کے چھپے ہوئے خیالات سے بھی واقف ہے۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں