Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

برصغیر میں ماضی قریب کی دینی جدوجہد پر ایک نظر

نو آبادیاتی دور میں عیسائی ممالک نے دنیا کے مختلف حصوں پر قبضے جمائے اور مسلمان ممالک میں سے کوئی فرانس کے تسلط میں چلا گیا، کوئی برطانیہ، کوئی ہالینڈ، کوئی پرتگال اور کوئی اٹلی کے قبضے میں چلا گیا۔ مجموعی طور پر تقریباً ایک صدی ایسی گزری ہے کہ مسلم ممالک کی اکثریت غیر مسلم مسیحی قوتوں کے تسلط میں تھی۔ اس کو استعماری اور نو آبادیاتی دور کہتے ہیں جس میں اٹلی، فرانس، ہالینڈ، اسپین اور برطانیہ پیش پیش تھے۔ مصر وغیرہ کے علاقے پر فرانس کا زور زیادہ تھا، ہمارے مشرقی ایشیا میں ہندوستان پر برطانیہ کا زور تھا، مشرق بعید انڈونیشیا وغیرہ ہالینڈ کے، اور لیبیا وغیرہ اٹلی کے قبضے میں تھے۔ یہ ہمارا ایک نو آبادیاتی اور استعمار کا دور گزرا ہے جس میں کسی ملک نے دو سو سال، کسی نے ڈیڑھ سو سال، اور ہم نے تقریباً ایک سو نوے سال غلامی کا دور گزارا ہے۔متحدہ ہندوستان جس میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور برما شامل تھے، جو جنوبی ایشیا کہلاتا ہے، یہاں برطانیہ نے بالواسطہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے ایک سو سال حکومت کی ہے اور پھر نوے سال براہ راست برطانیہ کی حکومت رہی ہے۔ ۱۸۵۷ء میں ہمیں آخری فیصلہ کن شکست ہوئی تھی، اس سے پہلے بنگال، میسور، پشاور وغیرہ مختلف علاقوں میں مزاحمت چلتی رہی۔ پنجاب میں ساہیوال وغیرہ کے علاقے میں، اور سندھ میں راشدی سلسلہ نے بھی مزاحمت مسلح کی ۔ ۱۸۵۷ء میں ہم مکمل طور پر پسپا ہو گئے، برطانیہ نے پوری طرح تسلط جما لیا اور ہم زیرو پوائنٹ پر چلے گئے تھے۔
اس کے بعد یہاں کے ہندوؤں کے ساتھ ہمارے معاملات کیسے رہے اس پر بھی ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ بر صغیر جنوبی ایشیا میں ہندوؤں کے ساتھ ہمارا پہلا دور تو وہ تھا جب یہاں محمد بن قاسمؒ آئے اور راجہ داہر سے جنگ ہوئی، محمود غزنویؒ آئے تو سومنات تک ہندوؤں سے لڑائی ہوئی۔ پھر شیر شاہ سوری اور مغلوں کی آپس میں بھی لڑائی ہوئی لیکن وہ دونوں ہندوؤں سے بھی لڑتے رہے، اور باوجود ہندو غالب اکثریت کے ایک ہزار سال تک مسلمان ہی حکومت کرتے رہے ہیں۔ ہم نے طاقت کے زور پر قبضے کیے اور طاقت کے زور پر قبضے قائم رکھے ہیں۔ اس حوالے سے دیکھیں کہ کسی سوسائٹی اور ماحول پر قبضہ کر لینا آسان ہوتا ہے لیکن قبضہ قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ اصولی سی بات ہے کہ قابض قوت کے پاس طاقت کے علاوہ اخلاقی قوت اور عقیدہ و نظریہ بھی ہوگا تو تسلط قائم رہے گا ورنہ قبضہ بس طاقت تک ہی رہے گا۔ اگر پیچھے کوئی فلسفہ، کوئی عقیدہ، کوئی روحانیت، وجدانیات اور کوئی اخلاقیات ہوں گی تو وہ قبضہ آگے چلے گا۔ چنانچہ مسلم حکمرانوں نے اگرچہ یہاں طاقت کے بل پر قبضہ کیا تھا، محمد بن قاسم، محمود غزنوی، ظہیر الدین بابر، ہمایوں اور شیر شاہ سوری رحمہم اللہ ہماری قوت کی علامتیں ہیں، لیکن ہمارے قبضے کا تسلسل اس لیے رہا کہ ہمارے پاس عقیدہ، اخلاقیات اور روحانیات کی قوت بھی تھی جس نے ہمیں ایک ہزار سال تک قبضہ برقرار رکھنے میں مدد دی۔
یہ بات سمجھانے کے لیے اس کی ایک اور مثال دینا چاہوں گا کہ صرف طاقت بس قبضہ کرواتی ہے، اگر طاقت کے ساتھ کوئی عقیدہ، فلسفہ اور نظریہ حیات نہ ہو تو وہ قبضہ زیادہ دیر نہیں رہتا۔ تاتاریوں نے بغداد پر قبضہ کر کے ہم پر تسلط قائم کر لیا تھا اور ہر طرف تباہی پھیر دی تھی، اتنی تباہی شاید کبھی نہ ہوئی ہو جتنی ان کے ہاتھوں ہماری ہوئی ہے۔ انہوں نے شام، مصر اور عراق سب علاقے روند ڈالے تھے، لیکن چونکہ کوئی اخلاقی قدریں، کوئی عقیدے کی قوت ان کے پیچھے نہیں تھی، اس لیے طاقت کے بل پر ہم پر فتح پانے کے باوجود تاتاری عقیدے اور اخلاقی قدروں کے محاذ پر پسپا اور سرنڈر ہوئے بلکہ خود اسلام قبول کر کے پھر انہوں نے خلافت سنبھالی۔ اصل قوت عقیدے اور نظریے کی قوت ہوتی ہے، اصل قوت فلسفہ اور اخلاقی قدریں ہوتی ہیں۔ یہ قوت ہو تو قبضے برقرار رہتے ہیں، ورنہ نہیں۔ تاتاریوں کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ تاتاری اتنے زور سے اٹھے کہ شاید ان کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت نہ ٹھہر سکتی، انہوں نے ہمیں شکست دی لیکن پھر ہم سے شکست کھائی اور اس کے بعد اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے، کیونکہ ان کے پاس کوئی عقیدہ اور فلسفہ نہیں تھا، جب تک قوت تھی تو ٹھیک رہے، جب قوت ختم ہوئی تو خود سرنڈر ہونا پڑا۔
برصغیر میں ہمارے ساتھ قبضے کی قوت کی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس ایمانیات کی قوت بھی تھی اور اخلاقی قدریں بھی تھیں۔ اس بات کو بغور سمجھیں کہ ہمارے ہاں ہندوستان میں قبضہ تو ان جرنیلوں نے کیا لیکن اسلام کے فروغ میں ان سے کہیں زیادہ کردار صوفیاء کرامؒ حضرت سید علی ہجویریؒ اور خواجہ معین الدین چشتیؒ وغیرہم کا ہے۔ ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ ایک بزرگ آ کر بیٹھ گئے اور ان کی اخلاقیات، ایمانی قوت، دیانت و اخلاص، اور ان کی برکات سے متاثر ہو کر لوگ مسلمان ہوتے چلے گئے۔ قبضہ محمود غزنویؒ نے کیا لیکن کلمہ معین الدین چشتیؒ نے پڑھایا۔ یہ ایک حقیقت ہے، ہمیں یہ فرق کرنا ہوگا۔ ان جیسے بزرگ آ کر بیٹھ گئے اور اللہ کا نام لینا شروع کر دیا، لوگوں نے ان کی برکات محسوس کیں، ان کی دیانت اور خلوص کو دیکھا اور ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہونے لگے۔
متحدہ ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ اور دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ صوفیاء کرام بنے، لیکن انڈونیشیا اور ملائشیا وغیرہ میں اسلام کی دعوت کا ذریعہ تاجر بنے۔ انڈونیشیا اور ملائشیا وغیرہ جسے مشرقِ بعید کہتے ہیں، بمبئی سے آگے پوری پٹی جس میں فلپائن، تھائی لینڈ اور ہانگ کانگ ہیں، آپ کو اس وقت شاید دنیا کے مجموعی مسلمانوں کا ایک چوتھائی حصہ فار ایسٹ میں ملے، وہاں کروڑوں مسلمان ہیں، آٹھ نو کروڑ مسلمان تو صرف چین میں ہی ہیں ایک جگہ پر۔ یہ تلوار سے مسلمان نہیں ہوئے بلکہ مسلمان تاجروں کے طرز عمل، اخلاقیات اور دیانت سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے۔ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہندوستان والوں کو صوفیاء نے کلمہ پڑھایا اور فار ایسٹ کی پوری پٹی پر کلمہ پڑھانے کا ذریعہ عرب مسلمان تاجر بنے۔
دعوت کی اصل قوت ایمان و اعمالِ صالحہ، سلوک و احسان، اخلاق اور دیانت ہے۔ میں دعوت کا کام کرنے والے حضرات خواہ علماء ہوں یا کوئی اور، ان سے عرض کیا کرتا ہوں کہ ان صوفیاء کرام اور ان تاجر گروپوں کا مطالعہ کریں جو دنیا کے اس خطے میں تبلیغ اسلام کا ذریعہ بنے۔ اور جتنے لوگ بھی مسلمان ہوئے ان کی اکثریت وہ ہے جو کسی اللہ والے سے متاثر ہوئی۔ تاتاری بھی کسی صوفی سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے کہ ایک اللہ والا وہاں چلا گیا، اس نے جا کر ایسا گھیرا کہ لوگ اسی کے ہو کر رہ گئے۔ اللہ والے بڑے عجیب طریقے سے گھیرتے ہیں۔ ان کا گھیرنے کا طریقہ ڈنڈا نہیں ہوتا بلکہ وہ پیار محبت سے قابو کر لیتے ہیں۔ تاتاری بھی صوفیاء کرام کے ہاتھوں مسلمان ہوئے اور ہندوستان کی اکثریت بھی صوفیاء کے ہاتھ پر مسلمان ہوئی۔ کوئی اللہ والا بزرگ کہیں جا کر بیٹھ جائے تو اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں، اس پر آج کے دور کا ایک حوالہ دینا چاہوں گا۔ ہمارے دور کی بات ہے کہ ڈاکٹر حمید اللہؒ ۱۹۴۸ء میں پیرس جا کر بیٹھے، ابھی چند سال پہلے ان کا انتقال ہوا ہے۔ ان کے ہاتھ پر کلمہ پڑھنے والے فرانسیسیوں کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہ ہمارا آنکھوں دیکھا آج کے دور کا واقعہ ہے۔ ان کا کام یہی تھا کہ میں نے دین کی دعوت دینی ہے، دین سمجھانا ہے، اور اگر کسی کو شک و شبہ ہے تو اسے دور کرنا ہے۔ تقریباً پینتالیس پچاس سال کے عرصے میں ایک آدمی نے مغرب کے دل پیرس میں بیٹھ کر تیس ہزار سے زیادہ لوگوں کو مسلمان کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ معین الدین اجمیریؒ کے ہاتھ پر تیس لاکھ لوگوں نے کلمہ پڑھا تھا۔ پہلے یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آیا کرتی تھی کہ ایک آدمی کتنے لوگوں کو مسلمان کر سکتا ہے، لیکن ڈاکٹر حمید اللہ کی یہ بات پڑھ کر سمجھ میں آتا ہے کہ اس سے زیادہ بھی ممکن ہے۔
بہرحال میں نےیہ بات عرض کی کہ ہندوستان پر ہم نے قبضہ تو تلوار کے زور سے کیا تھا لیکن یہ قبضہ ایمان، دیانت، خلوص، اخلاقیات اور رواداری کے زور سے برقرار رہا۔ چنانچہ دیگر ممالک میں جنہوں نے بھی حکومت طاقت کے زور پر کی، کسی دور میں بھی ہماری اکثریت نہیں رہی، اس دوران حکومت ہماری رہی ہے اور اس کا ذریعہ قبضہ بھی تھا۔ میں طاقت کی نفی نہیں کرتا، لیکن صرف طاقت نہیں تھی، ساتھ عقیدہ، اخلاقیات، دیانت، امانت اور کردار بھی تھا۔ محمد بن قاسمؒ کی سوانح پڑھیں، وہ سندھ کے فاتح ہیں۔ حجاج بن یوسفؒ کے بھتیجے تھے اور انہوں نے ہی محمد بن قاسمؒ کو یہاں بھیجا تھا۔ حجاج کی وہاں سیاسی مخاصمت چل رہی تھی، جب تک وہ اقتدار میں رہے محمد بن قاسمؒ کے ہاتھ مضبوط رہے، لیکن جب مرکز دمشق میں حجاج کے مخالف حکومت آ گئی اور حجاج اور اس کے سارے ساتھی موسٰی بن نصیر اور محمد بن قاسم وغیرہ رحمہم اللہ سمیت عتاب میں آ گئے تو حجاج نے محمد بن قاسمؒ کو واپس بلا لیا۔ پھر جس کسمپرسی میں محمد بن قاسمؒ اور موسٰی بن نصیرؒ نے آخری وقت گزارا، یہ ہماری تاریخ کا بڑا المناک باب ہے۔ ہم تو اس کو فاتح کہتے ہیں لیکن سیاسی مخاصمت کی وجہ سے اس نے بڑی کسمپرسی میں، جیل کے ماحول میں اور بڑی خرابی کے ساتھ آخری وقت گزارا، کیونکہ نئے خلیفہ حجاج بن یوسف کے مخالف تھے تو انہوں نے حجاج کے مقرر کیے ہوئے سارے لوگوں کو معزول کر دیا تھا اور مصیبت کا شکار کر دیا تھا۔
جو بات میں کہنے لگا ہوں وہ یہ ہے کہ محمد بن قاسمؒ جب یہاں سے جانے لگا تو یہاں کے لوگوں نے اسے مشورہ دیا کہ مت جاؤ۔ ہندوؤں نے کہا ہم تمہارے ساتھ ہیں، تم یہاں حکومت کرو۔ لیکن محمد بن قاسمؒ نے کہا کہ میں نے جانا ہے، تو یہاں کی عام آبادی سڑکوں پر نکل آئی اور روتے ہوئے محمد بن قاسمؒ سے کہنے لگے خدا کے لیے واپس نہ جاؤ، تم ہمارے لیے رحمت کا دیوتا ہو۔ یہ کیا تھا؟ یہ تلوار کی طاقت نہیں تھی بلکہ اس کے اخلاق اور دیانت کی قوت تھی، اس کا خلوص اور اس کا طرز عمل تھا، جس نے ان لوگوں کو اتنا متاثر کیا کہ پوری آبادی باہر نکل آئی۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں