Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

شدید تشنج میں مبتلا

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس کے گھرمیں ایک عجیب عالم تھاجومیں نے دیکھا۔حجاب میں ملبوس ایک بیوی اورایک سات سالہ بیٹی فاطمہ،میں جس دن اس کے گھرگیاتو یوسف نے بتایاآج کے دن یہ پیدا ہوئی تھی لیکن اس گھرمیں کوئی سالگرہ کاسماں نہیں تھا۔میں نے پوچھاتوفاطمہ نے خودکہامیں سالگرہ نہیں مناتی۔میں نے کہا:اس میں دوست آتے ہیں،تمہیں تحفے ملتے ہیں۔اس نے بڑی معصومیت سے کہا’’میرے ماں باپ ہی میرے بڑے گہرے اوراچھے دوست ہیں اورمیری اچھی باتوں سے خوش ہوکرتحفے دیتے ہیں،پھراس رسم کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے تحفے کی تفصیلات پوچھیں تواس نے بڑی سادگی سے جواب دیاکہ’’آپ کو شائد علم نہیں کہ میری والدہ حافظِ قرآن ہیں اورمیں نے بھی اپنی والدہ کی مددسے پچھلے ہفتے مکمل قرآن کریم حفظ کیا ہے،بھلااس سے بڑاتحفہ اورکیا ہو سکتا ہے‘‘۔ یوسف کی بیوی نے کہا’’ہم لوگ یہاں کسی کلب وغیرہ میں نہیں جاتے،ڈانس نہیں کرتے لیکن ایک دفعہ ہم تینوں بے اختیارخوشی سے ناچ اٹھے جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیاتھا‘‘۔
لیکن جس بات نے مجھے حیرت اورشرمندگی میں ڈال دیاوہ شائدہم سب کوبحیثیت مسلمان حیرت میں ڈال دے۔میں اس کے ساتھ ایشین بینک کے ایک کمرے میں جسے لوگوں نے نمازپڑھنے کے لئے مخصوص کیاتھا،نمازپڑھنے گیا۔میں قصرکی آدھی نمازپڑھ کرتھوڑی دیرمیں باہرآگیا،لیکن اسے وہاں سے باہرآنے میں پون گھنٹہ لگ گیا۔میں حیران تھاکہ یہ شخص میرااتنابھی خیال نہیں کرتاکہ میں باہرکھڑااس کا انتظار کر رہا ہوں۔میں یہ سوچ رہا تھااورکڑھ بھی رہاتھاکہ وہ میرے پاس آیااوربڑی شرمندگی اورانتہائی عاجزی سے کہنے لگا کہ’’اصل میں تم لوگوں نے بچپن سے رب کریم کاذکرسناہوتاہے،مسلمان گھرمیں پیداہوتے ہو،اس لئے تم نمازپڑھتے ہوئے اللہ تعالی کاتصورذہن میں لانے میں کتنی آسانی ہوتی ہے،مجھے اس کیفیت کوخودپرطاری کرنے میں اورذہن کویکسو کرنے میں توآدھ گھنٹہ لگ جاتاہے کہ میں رب ذوالجلال کے حضور کھڑا ہوں جومیرے دل ودماغ کے چھپے ہوئے خیالات سے بھی واقف ہے۔آپ مہربانی کرکے کوئی ایسا طریقہ بتائوکہ میں جلدی سے اللہ تعالیٰ کے تصورمیں اپنے آپ کویکسوکرسکوں‘‘۔اس جملے کوسن کرمیں لرزاٹھااور میری آنکھوں سے یک دم آنسو چھلک پڑے،شرم سے میرا سر جھک گیا۔میرے دامن میں ایمان کی کمتری کے سوا کچھ نہ تھااورچندمنٹ قبل میں بلڈنگ کی جس بلندی پرکھڑانیچے گاڑیوں اورانسانوں کے اژدھام جو معمولی نقطوں کی طرح نظرآرہے تھے، یوں محسوس ہواکہ کسی نے مجھے یہاں سے نیچے دھکادے دیاہے۔یوسف میری یہ حالت دیکھ کرپریشانی میں افسوس کااظہار کر رہا تھا کہ اس نے نجانے کوئی دل دکھانے والی بات کہہ دی ہے لیکن وہ اب تک نہیں جان سکاکہ مجھے جوآئینہ اس نے دکھایا،میں اس میں خودکودیکھ کرنڈھال ہو گیاہوں۔
میں شرمندہ کیوں نہ ہوتا،ہم تواپنے رب کے سامنے جاتے ہوئے اتنابھی خوف نہیں کھاتے جتناایک پٹواری یاتھانیدارکے سامنے جاتے ہوئے کھاتے ہیں۔ہم انگلش میڈیم میں چارجماعت پڑھ لیں توہمیں اتنی دیرتک سکون نہیں ملتاجب تک تھوڑامنہ ٹیڑھاکرکے ’’وش یوگڈلک،اوہ گاڈ‘‘نہ کہہ لیں۔میری آنکھوں میں آنسوئوں کی جھڑی دیکھ کریوسف مجھ سے متاثرہورہاتھاکہ میں اللہ تعالی کے خوف اورخشیت کی وجہ سے رو رہاہوں،حالانکہ میں تو اپنے ایمان کی کمزوری،اپنے عمل کی کمتری اورشرمندگی کی وجہ سے رورہاتھا۔صحیح تھا، تھانیدار ، پٹواری،وزیر،چیف سیکرٹری،گورنراور وزیراعلیٰ ایسے کئی خداؤں کے سامنے خوف سے کانپنے والے مجھ جیسے مسلمان ایک ان دیکھے اللہ کے سامنے کیسے خوف سے کانپ سکتے ہیں؟
قارئین!مجھے اس کی آمدکاسن کرایک خوف طاری ہوگیاہے کہ اگراس نے اپنایہ سوال دہرادیاکہ آخرمسلمان اس قدرذلیل ورسوا کیوں ہورہے ہیں تواس کامیں کیاجواب دوں گا؟ تمہارے کہنے پرمیں نے اکتوبر2007ء میں اپنے کیریئرکوداؤپرلگاکراس وقت کے فوجی آمر پرویزمشرف سے ملاقات کرکے ان کی خواہش پرپانچ نکاتی فارمولہ دیاتھااورساتھ ہی یہ کہاتھاکہ اگرآپ اپنے موجودہ وزیراعظم(شوکت عزیز)کی مالیاتی پالیسیوں پرعملدرآمدفوری طورپرروک دیں تویہ ملک کے حق میں بہترہوگا،اس نے بلا جھجک یہ مشورہ بھی دیا کہ اگراس پرعمل نہ کیا گیاتواگلے بیس سال میں ایٹمی پاکستان کاکیا حشرہوگا۔میں جب آج کاپاکستان دیکھتاہوں تواس کے بتائے ہوئے سارے خدشات کوسامنے دیکھ کردل بیٹھنے لگتاہے۔
رہے نام میرے رب کا جو دلوں کے بھید جانتا ہے!
بہت شدید تشنج میں مبتلالوگو!
یہیں قریب،محبت کاایک قریہ ہے
یہاں دھوئیں نے مناظرچھپارکھے ہیں
مگرافق بقاکاوہاں سے دکھائی دیتاہے
یہاں تواپنی صداکان میں نہیں پڑتی
وہاں خداکاتنفس دکھائی دیتاہے

یہ بھی پڑھیں