Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

نہایت اس کی حسینؓ ابتداء ہے اسمٰعیلؑ

اسلامی سال کاآغاز ماہ محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ امم سابقہ میں بھی اس کوماہ معظم سمجھاجاتاتھا اورآج بھی ماہ ِمحرم کی عظمتوں سے کسی کوانکارنہیں اورخصوصاً یوم عاشورہ توملت اسلامیہ کا ناقابل فراموش دن ہے۔بعض کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے جو بزرگیاں دنوں کے اعتبارسے امت محمدیہ کوعطا کی ہیں،اس میں یہ دن دسویں بزرگی کاہے اور بعض کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب انبیاء پرمختلف انعامات اسی دن فرمائے!سیدناابی عباس رسول اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عاشورہ کے دن آسمانوں زمینوں اور پہاڑوں کوپیدافرمایا،حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق بھی اسی دن فرمائی، حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ بھی اسی دن باریاب ہوئی،اسی دن ان کوجنت میں داخل فرمایا گیا۔سیدنا ابراہیم خلیل اللہ بھی اسی دن پیدا ہوئے،ان کے بیٹے کافدیہ قربانی بھی عاشورہ کے دن دیاگیا۔فرعون کوبھی اسی دن دریائے نیل میں غرق کیاگیااورحضرت ایوب علیہ السلام کی تکلیف بھی اسی دن دورفرمائی گئی۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی لغزش بھی یوم عاشورکومعاف فرمائی گئی اورحضرت عیسیٰ علیہ لسلام ابن مریم کی ولادت بھی اسی دن ہوئی اورقیامت بھی یوم عاشورہ کے دن ہی واقع ہوگی۔(غنیۃ الطالبین)
لیکن ان تمام عظمتوں کی وجہ تسمیہ شہادتِ حسینؓ کے عظیم واقعہ کی چھاپ ہماری اسلامی تاریخ پراس قدرزیادہ ہے کہ اب عملاً ہمارے لئے کسی اورواقعے کی اتنی اہمیت ہی نہیں رہی اور نہ ہی ہم اس سے واقف ہیں۔ شہادت حسینؓ حق کے مقابلے میں ہم دوسری عظمتوں کانہ توہم ذکرکرتے ہیں اورنہ ہی اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
اسلام کی روح یہ ہے کہ وہ ناحق اورباطل کے سامنے سرکٹادے لیکن ہرگزاس کوجھکنے نہ دے،اس عظیم عمل کوشہادت کہتے ہیں اوراس شہادت کی اعلیٰ ترین مثال اورتکمیل کانام بلاشبہ ’’شہادتِ حسین‘‘ہے جنہوں نے چھ ہزارکے لشکر کے سامنے عام روایت کے مطابق بہتر(72) مجاہدوں کے ساتھ ٹکرلی اوران ظالم حکمرانوں کے سامنے سرجھکانے کی بجائے لڑ کراپنی جاں جانِ آفریں کے سپرد کردی۔یہی وہ کردارہے جس کی بناء پرہم یوم عاشورہ کی یادمناتے ہیں لیکن تاریخ کے جھروکوں کوبغوردیکھیں توہمیں حضرت حسن اور حضرت حسین علیہم السلام دومختلف قسم کے طریقہ کار کی علامت نظرآتے ہیں۔ہمیں جہاں حضرت حسینؓ سیاسی طریقہ کارکے علمبردار نظرآتے ہیں وہاں حضرت حسن ؓغیرسیاسی طریقہ کار کی حکمت کے میناردکھائی دیتے ہیں۔حضرت حسین ؓنے حاکم وقت کے ساتھ جنگ کرکے جوسیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی وہاں یہی مقاصد حضرت حسن ؓ نے جنگ کے میدان سے واپسی کے ذریعے حاصل کئے۔ اس اہم اورلطیف فرق کوسمجھنے کیلئے ہمیں تاریخ کی اس تصویرکے ہرپہلوکوبڑی ایمانداری سے دیکھنا ہوگااوران تاریخی واقعات کوسامنے رکھ کران عظمتوں کے مینارہ ہدائت کواپنی قوموں کی زندگی کیلئے مشعلِ راہ بناناہوگا۔
حضرت علی ؓکی شہادت کے بعدآپ کے لختِ جگرحضرت حسن ؓکے ہاتھ پرخلافت کی بیعت ہوئی۔اس وقت صورتحال یہ تھی کہ صرف عراق اورخراسان کی خلافت امام حسنؓ کے حصے میں آئی جبکہ شام،فلسطین،یمن،حجازاورمصروغیرہ حضرت معاویہؓ بن ابی سفیان کے زیرقبضہ تھے جنہوں نے خونِ عثمان ؓکے مسئلے کی بناء پرحضرت علیؓ کی بیعت سے انکارکردیا تھا ۔وہ بھلااب حضرت امام حسنؓ کوخلیفہ کیسے تسلیم کرلیتے؟ربیع الاوّل 41ھ کوصورتحال اس نوبت کوآن پہنچی کہ امام حسنؓ کے ساتھ چالیس ہزارسے زائدمسلح افراد تھے اوردوسری طرف حضرت امیرمعاویہ ؓکے جھنڈے تلے ساٹھ ہزارکالشکرمرنے مارنے کیلئے ایک اشارے کامنتظرتھا۔یہاں پرحضرت امام حسنؓ کاوہ تاریخی،غیرسیاسی کردارسامنے نظر آتا ہے جس کے متعلق عام قاری توکجا ہمارے دانشور اورعلماء حضرات بھی بے خبرنظرآتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ امام حسن ؓکایہ عظیم کردارلوگوں کے سامنے ابھی تک کھل کرسامنے نہیں آسکا جس طرح امام حسین ؓکی شہادت کاواقعہ ہے۔
حضرت حسنؓ نے اپنے والدکے پانچ سالہ خلافت کے پرآشوب زمانے میں مسلمانوں کو خود بھائیوں کی تلواروں سے ذبح ہوتے دیکھا تھااس لئے باہمی خون خرابہ اورنہ ختم ہونے والے سلسلے کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے خودمیدان سے ہٹ گئے اورخلافت کا عہدہ حضرت امیرمعاویہؓ کے حوالے کردیااگرچہ حضرت حسنؓ حق پرتھے اورامت کے جائزخلیفہ تھے۔ اس کے بعد دو عشرے (41ھ تا60ھ)تک حالات پرسکون رہے اوراسلامی سلطنت کی سرحدوں میں بھی خاصی توسیع ہوئی۔
حضرت معاویہؓ کے انتقال (رجب60ھ) تک حالات بڑے پرسکون رہے لیکن جب خلافت کامسئلہ دوبارہ کھڑاہواتوامام حسینؓ جواپنے باپ کی شہادت اور بھائی کی خلافت سے دستبرداری سے خوش نہ تھے،انہوں نے یزید کی خلافت سے اسی طرح انکارکیاجس طرح اس سے پہلے حضرت معاویہ ؓنے ان کے والدمحترم حضرت علی ؓکی خلافت تسلیم کرنے سے انکارکردیاتھا۔یہیں سے امام حسینؓ(4ھ تا61 ھ )کا وہ کردارشروع ہوتاہے جس کی یاد اب یوم عاشورہ کومنائی جاتی ہے۔
عتبہ بن ابی سفیان نے جب مدینے میں یزید بن معاویہ کیلئے لوگوں سے بیعت لینے کاسلسلہ شروع کیاتوامام حسین ؓنے معذوری کا اظہار کر دیا اورخاموشی کے ساتھ اپنے اہل وعیال کولیکرمکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔یہاں آپ کی آمدسے قبل مکہ کے لوگ عبداللہ بن زبیرپربیعت کرچکے تھے اوریہ صورتحال حضرت حسین ؓکوقابل قبول نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت حسینؓ اورآپ کے اہل خانہ ان کے پیچھے نمازنہیں پڑھتے تھے جوعملاًاس وقت مکہ کے حاکم تھے۔
شہادت حضرت عثمانؓ کے بعدحضرت علی کرم اللہ وجہہ کیلئے مکہ ومدینہ کے حالات سازگار نہیں تھے جس کی بناء پراسلامی ریاست کا دارالخلافہ36ھ میں مدینہ سے کوفہ منتقل ہوگیا تھا۔ اس طرح امام حسن ؓنے بھی خلافت سے دستبرداری کے بعد41ھ میں کوفہ کوخیربادکہہ دیاتھااورمدینہ میں مستقل رہائش اختیارکرلی تھی۔ اب جب یزیدکوخلافت ملی تواہل کوفہ کی محبت اہل بیت کیلئے جوش میں آئی اورانہوں نے خطوط کے ذریعے امام حسینؓ کوخلافت کیلئے مجبور کرنا شروع کردیا۔ امام حسن اہل کوفہ کی نفسیات اور صورتحال کی نزاکت کواچھی طرح جان چکے تھے، اسی لئے اپنے بھائی کووصیت میں اہل کوفہ کے بارے میں اپنی آراء سے آگاہ کرچکے تھے کہ: کوفہ والوں کے فریب میں مت آنااورمیں اچھی طرح جان چکاہوں کہ نبوت اورخلافت دونوں ہمارے خاندان میں جمع نہیں ہوسکتیں اس لئے تمہارے حق میں بہتریہی ہے کہ تم اس معاملے میں خاموش رہو۔
لیکن حضرت حسینؓ اپنے لئے ایک کردارکاانتخاب کرچکے تھے وہ تھا’’خلافت منہاج نبوت کاتحفظ’’اوراس ادارے کے انہدام سے اہل اسلام کوجن مصائب کاسامنا کرناپڑرہاتھا اس سے بھی امت مسلمہ کے اعصاب پربہت برا اثر پڑ رہا تھا۔ان کے سامنے شہادتِ عثمان ؓ کا واقعہ رونما ہوا، ان شورشوں نے حضرت حسینؓ کے اعصاب پربھی بہت گہرااثرچھوڑاتھا ۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں