Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

نہایت اس کی حسینؓ ابتداء ہے اسمٰعیلؑ

(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرت عثمانؓ نے بھی مسلمانوں کوباہم خانہ جنگی سے بچانے کیلئے اپنی جان قربان کردی حالانکہ اس وقت مدینے کے وفادارمسلمانوں کی جماعت آپ کے مکان پرموجودتھی اوربنو ہاشم کی تو ایک بڑی جماعت ان کی معاون ومددگاربھی تھی لیکن حضرت عثمان ؓنے ان سب کوقسم دلاکراپنے مسلمان بھائیوں پرحملہ سے روک رکھاتھااوراپنے گھر بیٹھ کرقرآن کریم کی تلاوت فرماتے رہے۔ دراصل وہ بھی شریعت کے حکم کی تعمیل کررہے تھے :کہ اوراللہ کی راہ میں ان سے لڑوجوتم سے لڑیں اورزیادتی نہ کرو بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کوپسند نہیں کرتا۔(بقرہ۔190)
اپنی طرف سےجارحیت کاآغازبندہ مومن کیلئےکسی طورپربھی جائزنہیں کہ مسلمان دعوت ونصیحت کے ذریعےکوئی خیرکی راہ نکالتاہےنہ کہ قتال کاراستہ اختیارکرکے،اگر دوسروں کی طرف سے جارحیت کاآغازہوتودوصورتیں ہیں، جارحیت کاآغاز اگرکفارکی طرف سےہوتو پھربھی مخصوص شرائط کےتحت اس کےدفاع کاحکم ہےلیکن اگرجارحیت کا آغازمسلمان کی طرف سے ہوتوایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ دفاع کے طورپربھی اپنے دینی بھائی پر وار نہ کیا جائے: اگرتونے مجھے مارنے کیلئے اپنے ہاتھ کوبڑھایاتومیں تجھے مارنے کیلئے اپنے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔(المائدہ۔28)
ابوموسیٰؓ سےروایت ہےکہ رسول اکرمﷺ نے آنے والے فتنے سے جب ڈرایاتو لوگوں نے پوچھاکہ ہم کوآپﷺکاکیاحکم ہے؟ توآپﷺ نے فرمایا:اس میں اپنی کمانوں کو توڑ ڈالو،اپنی تانت کوکاٹ ڈالو،اپنی تلواروں کو پتھرپرپٹک دو،اپنے گھروں کے اندربیٹھے رہو، اگرتم کومارنے کیلئے کوئی تمہارے گھرمیں گھس آئے توتم آدم علیہ السلام کے دو لڑکوں میں سے بہترلڑکابنو،قتل ہوجاؤمگرقتل نہ کرو۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت عثمانؓ بن عفان نے اصول شریعت کی اتنی بڑی عملی مثال قائم کردی اوروہ حضرت آدم علیہ السلام کے بہتر بیٹا بن گئے لیکن حضرت امام حسینؓ کے سامنے اس عظیم المرتبت کارنامے کے بعدآنے والے واقعات نے یہ بات روزِروشن کی طرح واضح کردی کہ اگر حضرت عثمانؓ’’خلافت علیٰ منہاج نبوت‘‘ کا دفاع کرتے( خلافت کی حفاظت کی خاطرچندہزارنفوس شہیدبھی ہوجاتےتویقیناً خلافت کاادارہ انتشاراورانارکی سےمحفوظ رہتااورحضرت علیؓ جوساری توانائیوں کے باوجوداپنے دورخلافت کے پانچ سال ان شورشوں اورباہمی جنگ وجدل پرقابونہ پاسکے اوربالآخران منہ زورفتنوں نے ان کی جان لے لی)توآج خلافت کیلئے مسلمانوں میں آپس میں ایسی خونریزی نہ ہوتی اورتاریخ اسلام میں جنگ جمل اورجنگ صفین اوربعدکے سانحات کیلئے کوئی جگہ نہ ہوتی۔
حضرت حسینؓ نے اپنے والدگرامی حضرت علیؓ کوبھی خلافت کے ادارے کی حفاظت کی خاطر شہیدہوتے دیکھاتھا۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت حسنؓ نےان تمام حالات کاعملی مشاہدہ کرتے ہوئے اپنے لئے غیرسیاسی طریق کار کا انتخاب کیا،اس پرنہ صرف عمل کیابلکہ اپنے بھائی کوبھی اس کی وصیت کی لیکن حضرت حسینؓ نے اپنے لئے سیاسی طریق کارکا راستہ منتخب کرکے اپنے والد حضرت علیؓ کی سنت پر عمل کیا۔
یہاں امام حسنؓ کے غیرسیاسی طریق کار کی وضاحت ازحدضروری ہے۔اس کیلئے پہلے ہمیں مستنداحادیث اوراسلامی تاریخ کی بے شمار مستندکتابوں سے مدد لیناہوگی۔یزید کے مقابلے میں جوصورتحال حضرت حسین ؓکوپیش آئی اس سے کہیں زیادہ مشکل حضرت حسنؓ کوحضرت معاویہ کے مقابلے میں پیش آچکی تھی مگرآپ نے اس سے مختلف ردعمل کااظہارکیا جس کانمونہ ہمیں حضرت حسین ؓکے آخری خطبہ سے بھی ملتا ہے جہاں حضرت حسینؓ نے بھی جنگ وجدل سے بچنے کیلئے تین شرائط پیش کی تھیں۔
(طبری جلد4صفحہ313)
احادیث کی کتب میں حسنین کے بارے میں بہت سے روائتیں ملتی ہیں جن میں حضرت حسینؓ کیلئے زیادہ تر’’محبت‘‘کاذکرہے جو نواسہ ہونے کی حیثیت سے آپ کیلئے بالکل فطری ہے اور دوسری طرف امام حسن ؓکے بارے میں جو روایات نہ صرف سنداًزیادہ قوی ہیں بلکہ فطری محبت سے آگے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔مثلاً حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ:حسن ؓبن علیؓ سے زیادہ کوئی شخص نبی اکرمﷺسے مشابہ نہ تھا۔طبعی مشابہت کے علاوہ یہ ایک واقعہ بھی ہے کہ صحیح روایات میںنبی اکرمﷺنے امام حسنؓ کے بارے میں ایک عظیم کردار کرنے کی پیشین گوئی ارشادفرمائی تھی۔
حضرت ابوبکرؓصدیق فرماتے ہیں کہ ’’میں نے رسول اکرمﷺکومنبرپردیکھاجہاں حسن ؓبن علیؓ آپ کے پہلومیں تھے۔ایک بار آپﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور دوسری باران کی طرف،اورفرماتے تھے یہ میرا لڑکاہے،ہوسکتاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دوبڑے گروہوں میں صلح کروا دے۔ (بخاری)
رسول کریم ﷺ کی یہ پیش گوئی امام حسنؓ کی زندگی میں حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں