Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

نہایت اس کی حسینؓ ابتداء ہے اسمٰعیلؑ

(گزشتہ سے پیوستہ)
اب دوبارہ اسلامی فتوحات کی خبریں بہم پہنچارہاتھااوراسلام کی اشاعت وتوسیع جوان خانہ جنگیوں کی وجہ سے رک گئی تھی،اس کابھی بند دروازہ جس نے کھولاوہ حضرت امام حسن ؓہی تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیچھے ہٹناسب سے بڑی بہادری ہے۔اگرچہ بہت کم لوگ ہیں جواس بہادری کیلئے اپنے آپ کوتیار کرسکیں،بظاہرتویہ میدان سے واپسی کافیصلہ تھا،اس سےمسلمانوں کی قوت باہم مقابلہ آرائی سے بچ گئی اوراسی طاقت نے مسلمانوں کی فتوحات کاخارجی میدان میں سکہ بٹھا دیا۔اگراس وقت حضرت امام حسنؓ خلافت پر اصرارکرتے جو ان کاجائزحق بھی تھاتوعجب نہیں مسلمان پہلی صدی ہجری میں آپس کی خانہ جنگیوں میں بربادہوجاتے اوراسلام جوآج ایک عالمگیر مذہب چین سے لیکرمراکش تک اپنی برکات سے ہمیں فیض یاب کررہاہے اس کی شکل کچھ اورہوتی توگویاغیرسرکاری طریق کارسے اختلاف کرنے کی ہمت پیدانہیں ہوتی کیونکہ بعدکے حالات نے حضرت حسن ؓکے اس کردارکو بلاشبہ امت محمدیہﷺپرایک گراں قدراحسان ثابت کیا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ حضرت حسین ؓکے کردار پرنگاہ ڈالیں توان کے بھی طریق کارکوایسی تقویت ملتی ہے کہ جس نے’’خلافت علیٰ منہاج نبوت‘‘کے تحفظ،دفاع اوراس کے احیاء کیلئے قربانیوں کی ایک ایسی پرعزم تاریخ رقم کی ہے جو قیامت تک مظلوموں کیلئے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔ حضرت امام حسین ؓنے خلافت کے ادارے کوبچانے کیلئے کوفہ کے لوگوں کے سخت اصرارپراپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم ؓبن عقیلؓ کو کوفہ روانہ کیا،گوحضرت مسلم ؓبن عقیل ؓ اس منصوبے سے متفق نہ تھے تاہم حضرت حسین ؓ کے اصرارپرکوفہ چلے گئے۔
تاریخی کتابوں سے معلوم ہوتاہے کہ تقریباً اٹھارہ ہزارآدمی نیابتاًان کے ہاتھ پربیعت ہوچکے تھے لیکن جب یزیدکے حکم پرعبیداللہ بن زیادنے حضرت مسلم ؓبن عقیل اوران کے کوفی میزبان ہانی بن عروہ کومحل کی چھت پر کھڑا کرکے قتل کردیاتوکوفہ والوں کوگویا یزید کا پہلا پیغام تھاکہ حضرت حسینؓ کی بیعت کی قیمت کیا ہوگی۔اسی وقت کوفہ والے خاموش اپنے گھروں میں دبک گئے اورحضرت حسین ؓجوکہ ان بے وفالوگوں کی قیادت کیلئے آدھے سے زیادہ سفرطے کرچکے تھے،اپنے سفرسے بالکل واپس نہ لوٹے حالانکہ مکے میں تمام جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ علیہ اجمعین نے ان کواس سفرسے منع کیاتھا۔عبداللہؓ بن عمر،عبداللہؓ بن عباس، عمروؓ بن سعدبن العاص،عبدالرحمٰنؓ بن حارث اور مکہ کے دوسرے بزرگوں نے شدت سے حضرت حسینؓ کومنع فرمایابلکہ حضرت عبداللہؓ بن زبیرنے کہاکہ آپ کوفہ جانے کی بجائے مکہ کی حکومت قبول فرمائیں۔آپ ہاتھ بڑھائیں میں سب سے پہلے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ عبداللہؓ بن جعفرؓبن ابی طالب نے مدینہ سے خط لکھ کربااصرارمنع کیالیکن حضرت امام حسینؓ کی اولوالعزم طبیعت اس پرکسی طورراضی نہ ہوئی، حتیٰ کہ انہوں نے حضرت عبداللہؓ بن عباسؓ کی اس آخری بات کوبھی ماننے سے انکارکر دیا کہ عورتوں اور بچوں کومکہ میں چھوڑکرسفرکریں یاکم ازکم حج کے بعدروانہ ہوں جس میں صرف چنددن باقی ہیں۔
امام حسین ؓذوالحج60ھ کے پہلے ہفتے میں کوفہ کے راستے میں حضرت عبداللہؓ بن مطیہ سے جب ملے توانہوں نے بصداحترام حضرت امام حسینؓ سے کہا:’’میں آپ کوقسم دلاتاہوں کہ آپ واپس مکہ تشریف لے جائیں،اگرآپ خلافت چھیننے کی کوشش کریں گے تووہ ضرور آپ کوقتل کرڈالیں گیاورپھر ہرایک ہاشمی ہر ایک عرب اورہرایک مسلمان کے قتل پر دلیر ہو جائیں گے‘‘۔لیکن حضرت امام حسین ؓنے واضح الفاظ میں اپنے رفقاء کوبتادیاتھاکہ ان کے پیش نظر ’’خلافت علیٰ منہاج نبوت‘‘کے احیاء کے سوا کچھ نہیں۔اسلامی نظام اطاعت میں خلافت کی جواہمیت ہے اس سے حضرت حسینؓ پوری طرح باخبر تھے۔ اسلامی نظام اطاعت کے استحکام کیلئے اولی الامرکے ادارہ کوجس اندازمیں رسول اکرمﷺاور خلفائے راشدین نے قائم فرمایاتھا،اس کے تحفظ اور دفاع کیلئے حضوراکرمﷺنے جوتاکیدفرمائی تھی وہ بھی حضرت حسینؓ کے علم میں تھی۔اس ادارہ کے انہدام سے اسلامی معاشرہ کودینی اور سیاسی نقصان جو پہنچ رہاتھااس کودیکھ کرحضرت حسینؓ جیسی شخصیت کابیٹھ جانابڑامشکل تھا۔
تاہم آخروقت میں کربلاکے میدان میں حضرت حسین ؓکوصورتحال کااندازہ ہوگیا تھا۔ حضرت مسلم ؓ بن عقیل کی شہادت،کوفہ کے لوگوں کی بے وفائی، یزید کے لشکرجرارکے مقابلے میں آپ کامختصرقافلہ بظاہرپہاڑاورچیونٹی کا مقابلہ، لیکن حضرت حسین ؓنہائت بہادر، جرأت مند اورانتہائی شریف النفس تھے۔وہ موت سے بالکل خوفزدہ نہیں تھے مگراپنے ساتھ نیز عورتوں اوربچوں کیلئے اپنے دل میں جذبہ رحم کی پیدائش کو روکناان کیلئے ممکن نہ تھاچنانچہ آخری دن محرم الحرام کی دس تاریخ 61ھ کربلاکے میدان میں یزید کی فوج کے سامنے جو تقریر فرمائی وہ فصاحت وبلاغت کابے نظیرشاہکارہے۔آپ نے دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی فرمایا:عیسیٰ کاگدھااگر باقی ہوتا توتمام عیسائی قوم قیامت تک اس کی پرورش کرتی،تم کیسے مسلمان اورامتی ہوکہ نبیﷺکے نواسے کوقتل کرناچاہتے ہو!
دراصل کوئی دوسری قسم کامسئلہ ہوتا تو کوفی مسلمان شائدعیسائیوں سے چارہاتھ آگے ہوتے لیکن یہاں یزیدکے لشکرکے سامنے نواسہ رسول ﷺان کے سیاسی حریف کے طورپر کھڑے تھے اورسیاسی حریف کونہ مسلمان بخشنے کو تیارہوتے ہیں نہ عیسائی۔وہی یزیدجس نے64ھ میں مدینہ پرچڑھائی کی تھی،اس نے مسلمؓ بن عتبہ کوتاکیدی حکم دیاتھاکہ حضرت امام حسینؓ کے صاحبزادے حضرت زین العابدین کاپوراپوراخیال رکھناکیونکہ وہ مدینے میں سیاسی زندگی سے الگ ہوکرمدینہ کے نواح میں الگ تھلگ زندگی گزار رہے تھے کیونکہ یزیدنے اپنے باپ سے سیاست کاایک اصول ورثے میں جولیاتھااس پربڑی سختی سے کاربندتھا: میں لوگوں اوران کی زبانوں کے درمیان اس وقت تک حائل نہیں ہوتاجب تک وہ ہمارے اورہماری سلطنت کے درمیان حائل نہ ہوں۔ (ابن تاثیر کامل جلد4صفحہ5)
چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ آخروقت میں حضرت حسینؓ بھی اپنے بڑے بھائی حضرت حسن ؓ کے راستے پر آگئے تھے ، انہوں نے یزیدکے نمائندے عبیداللہ بن زیادکے سامنے تجاویز پیش کیں:
1۔میں مکہ واپس چلاجاؤں اوروہاں خاموشی کے ساتھ عبادت الٰہی میں مشغول ہوجاؤں۔
2۔مجھے کسی سرحدکی طرف نکل جانے دوکہ وہاں کفارسے لڑتاہواشہیدہوجاؤں۔
ایک تیسری شرط بھی ہے لیکن امت میں فساد پیداہونے کی بناء پرتحریر کرنے سے گریز کر رہاہوں۔
حضرت حسین ؓکے رویے میں تبدیلی سے یزیدکی فوجوں میں خوشی کی لہردوڑگئی،اگرچہ کربلاکے میدان میں وہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء تھے،اس کے باوجودنواسہ رسول کے احترام کایہ حال تھاکہ دونوں طرف کے لوگ مل کر نمازاداکرتے تھے اوراکثر حضرت حسینؓ ہی کی اقتداء میں نمازاداکرتے تھے۔عبیداللہؓ بن زیادکے پاس جب یہ پیغام پہنچاتو وہ بھی بغیرلڑائی کے اس عمدہ حل پر بہت خوش ہوالیکن اس کا مشیرشمرذی الجوشن جوکہ حضرت حسینؓ کا رشتہ دار اورانتہائی بری طبیعت کامالک تھا،اس نے عین وقت پر عبیداللہؓ بن زیادکا ذہن پھیردیا۔اس نے حضرت حسینؓ کے لوٹنے کے سارے راستے بند کر دیئے اوربالآخر کربلا کاوہ معرکہ جس میں عمرو بن سعد نے پہل کرکے حضرت حسینؓ کے قافلے پرپہلاتیر پھینک کراس کاآغازکیاتھاجس کاانجام حضرت حسینؓ کی شہادت پر منتج ہوا۔یہاں قابل ذکربات یہ ہے کہ عمروبن سعدحضرت حسینؓ کارشتے میں سوتیلاماموں اورشمرذی الجوشن پھوپھا تھا۔
سیدنا حسن ؓ اور حسین ؓان دونوں شخصیات پرملت اسلامیہ قیامت تک جتنابھی فخر کرے کم ہے۔ گوحضرت حسین ؓنے بھی آخری وقت میں حضرت حسن کے غیرسیاسی طریقہ کار کو بھی عمل میں لانے کی کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ کو حضرت حسین ؓ سے’’خلافت علیٰ منہاج نبوت‘‘ کے تحفظ اوردفاع کاکام لیکران سے بے مثال قربانی لینامقصودتھی اوران کی شہادت سے امت مسلمہ تک یہ پیغام پہنچانامقصودتھاکہ حالات کیسے ہی پرآشوب اور دگرگوں ہوں،اسلامی نظام حکومت،اسلامی نظام اطاعت کے قیام ونفوذجوکہ ایمان کے اوّلین تقاضوں میں سرفہرست ہیں،کی کوشش ہروقت، ہر زمانے میں جاری رکھنی چاہئے جب تک خلافت کے ادارہ کومکمل اس کی اصلی شکل میں بحال نہ کرلیاجائے۔اس کے علاوہ بھی ان کرداروں میں بے شماردوسرے اسباق ہمارے لئے موجودہیں، صرف شرط یہ ہے کہ ہم خود مخلص ہوں۔
غریب وسادہ رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ ابتداء ہے اسمٰعیلؑ

یہ بھی پڑھیں