بہت عجیب ہیں ہم۔میں توبدنصیب کہنے والا تھا بلکہ سچ تویہ ہے کہ یہی کہناچاہتا ہوں۔ اندرمجھے روکتاہے کہ نہیں اتناآگے نہ جا۔ہمارے رویے، ہمارا برتا،ہماری بودوباش،ہماری خواہشات سب کچھ عجیب ہے۔خواب بھی،ہم تضادات کامجموعہ ہیں۔ جواہم ہے اسے نظراندازکردیتے ہیں،جو ثانوی ہے اسے اولیت دیتے ہیں۔میں بندہ نفس ہوں،مجھے بندہ رب بنناتھااور بندہ رب وہ ہے جواس کی چلتی پھرتی، جیتی جاگتی،ہنستی گاتی تصویروں سے محبت کرے۔لیکن ٹھہرئیے!مشروط محبت نہیں،بس محبت،جس میں اخلاص ہو،طلب نہ ہو۔بس دیناہی دینا،لیناکچھ نہیں،کھلے بازواورکھلا دل، تنگ دلی کاگزربھی نہ ہو۔طمع اورلالچ چھوبھی نہ سکیں،بس خالص محبت۔میرارب تواس سے محبت کرتاہے جو اس کی مخلوق سے محبت کرے۔کتنا عجیب ہے یہ رویہ کہ میں کسی سے محبت کرتاہوں اوراس کی تخلیق سے صرف نظر!
وہ وقت آج بھی مجھے یادہے، حسن مطہرکے ہاں مکہ مکرمہ میں،عمرہ سے ابھی لوٹے تھے اورمدینہ منورہ کی تیاری تھی،بڑاساڈرائنگ روم اورسفید بالوں والے باباجی اورکچھ دوستوں کی بحث پران کی مسکراہٹ۔میں نے انسا نی شکل میں بہت فرشتے دیکھے ہیں،وہ بھی ایسے ہیں،بہت تحمل اور بہت صبروا لے ۔اورمجھے تودونوں چھوکربھی نہیں گزرے۔جب بہت دیرہوگئی توانہوں نے مجھ سے کہا’’توسمجھ گیاہے ناں،ویسے ہی یہ بحث کررہے ہیں‘‘!تومیں بہت ہنسااورکہا’’نہیں باباجی مجھے کچھ کچھ توسمجھ آگیا،پوری طرح نہیں‘‘۔’’اوپگلے جب تجھے کسی کی بری عادتیں بھی اچھی لگیں،اس کے غصے پربھی پیارآئے،تواس کی جھڑکی سن کربھی سرشارہو،اس کی ڈانٹ سنناچاہے بلکہ خودایسی حرکت کرے کہ وہ تجھے ڈانٹ دے،تجھ میں سے’’تو‘‘نکل جائے اور’’وہ‘‘بس جائے،اناصرف دم نہیں توڑے بلکہ فناہو جائے،جب وہ دھتکار دے اورتواورقریب آئے،جب تجھ میں،تیری رگ وپے میں،تیری نس نس میں،لہوکی ہربوندمیں وہ سماجائے توسمجھ لیناہاں!اب ہے محبت،اگر ایسا نہیں توعبث ہے،سب عبث،سب کارعبث ہے۔
ہاں مجھے سمجھ آگیاتھا،تجربہ توکوئی بھی نہیں جھٹلا سکتا۔با لکل ایساہی ہے۔مجھے عجیب لگتاہے۔ ہم سب اللہ کی محبت کے طلبگارہیں اورمخلوق سے بیزار۔ نجانے کیاہے یہ۔میں اسے قید کرنا چاہتا ہوں جبکہ محبت آزادی ہے۔وہ سارے عالم کا رب ہے،ساری کا ئنات کارب ہے اورمیں اسے صرف رب المسلمین سمجھ بیٹھاہوں۔وہ لامحدودہے اورمیں اسے محدودکر کے اپنی بوتل میں بندکرناچاہتا ہوں۔ میں اس کے بندوں کوتقسیم کرتا ہوں خانوں میں،وہ سب کودیتاہواورمیں سب سے روکتا ہوں۔وہ وسیع ہے اورمیں تنگ دل۔میں بندوں کا حساب کتاب اس پرنہیں چھوڑتا،خود کوتوال بن گیاہوں۔میں محبت توکیا کروں نفرت کا بیج بوتا رہتا ہوں۔میں کون ہوتاہوں اس کے اوراس کی مخلوق کے درمیان آنے والا!م!میں ڈنڈے اور بندوقیں لیکرانسان پرٹوٹ پڑاہوں۔ وہ جبرسے منع کرتاہے اورمیں اپنی بات طاقت سے منواناچاہتا ہوں۔میں اس کی کوئی بات نہیں سنتااوراس کاخلیفہ بناپھرتاہوں۔ مجھے میرے نفس نے بربادکردیاہے،میں اس کی مخلوق کے لئے آزاربن چکاہوں اوررب سے تقاضہ کرتاہوں کہ مجھے محبت سے دیکھے!میں خودظالم ہوں اوررب سے طلب کرتاہوں اس کارحم!میں کسی کو بھی معاف کر نے کے لئے تیارنہیں ہوں اورہردم اس کو کہتا ہوں کہ مجھے معاف کردے!میں خودپیٹ بھر کر کھاتا ہوں اوراپنے آس پاس خاک بسر لوگوں سے بے خبر ہوں!میں عجیب ہوں، میرے رب نے جوحقوق دئیے ہیں سب کو،میں وہ سلب کرکے بیٹھ گیاہوں،میں اپنی بات محبت سے نہیں بلکہ دھونس دھاندلی اوردھمکی سے منواتا ہوں۔ میں اتناظالم ہوں کہ میرے گھروالے جنہیں میں نے اتنی محنت کرکے،سچ جھوٹ بول کر، ہلکان ہوکرہر جائزوناجائزکی پرواہ کئے بغیرانہیں پالاہے،جب وہ اپنے حقوق جو میرے رب نے ا نہیں دئیے ہیں،طلب کر بیٹھیں تومیں ڈنڈالیکرکود پڑتاہوں ۔ اس وقت تومجھے رب یادنہیں آتا۔میں بہت ظالم ہوں،جورب نے حقوق دئیے ہیں میں نے وہ بھی چھین لئے ہیں اوردعوی کرتاہوں محبت کا اپنے رب سے!
ہربندے کارب سے ایک خاص تعلق ہے اورایساکوئی آلہ ایجادنہیں ہواجومجھے بتائے کہ کون رب کے کتناقریب ہے وہ جوتسبیح لئے گھوم رہاہے یاوہ جوسڑک پرتارکول بچھارہا ہے،وہ جوموٹرمیں گھوم رہاہے یاوہ جوبرہنہ پاہے،ہاں موٹر توکیاہے جہازمیں بیٹھنے والابھی اس کے قریب ہوسکتا ہے۔ مجھے کیاپڑی ہے کہ میں رب اورمخلوق کے درمیان آؤں! میں خودکوکیوں نہیں دیکھتاکہ میراکیا تعلق ہے رب سے!میں اگرنمازپڑھتاہوں توبے نمازیوں کوحقارت سے دیکھتاہوں۔میں اگرروزہ رکھتاہوں تودوسروں سے خودکواعلیٰ سمجھ بیٹھتا ہوں۔ مجھے کیامعلوم ہے کیامجبوری ہے کسی کی۔وہ جانے اوراس کارب،مجھے تواپناکام کرناہے۔جومجھے کرنا چاہئے وہ نہیں کرتااورجونہیں کرناچاہئے وہ کرتاچلاجارہاہوں۔
میں اپنے رب سے محبت کے جھوٹے وعدے سے کب بازآں گا!مخلوق سے نفرت اوررب سے محبت۔مجھے توکچھ پلے نہیں پڑتا،آپ کوسمجھ آگیاہوتوبراہ مہربانی مجھے بھی سمجھائیے ، میاں شہبازشریف صاحب جب بھی کیمرے اورمائیک کے سامنے آتے ہیں تواب بھی اپوزیشن لیڈربن کرقوم کے غریبوں کے دردکابڑی دلسوزی سے ذکرکرناشروع کردیتے ہیں کہ مہنگائی نے ان کی زندگی اجیرن کردی ہے،بھول جاتے ہیں کہ بطوروزیراعظم انہی کے حکم سے بجٹ میں ٹیکس بڑھائے گئے ہیں جس کے ردعمل میں مہنگائی کے طوفان نے عوام کی چیخیں نکلوادی ہیں،انہی کے حکم سے بجلی اورگیس کے نرخوں میں اس قدراضافہ کردیاگیاہے کہ قوم پرفاقوں کی نوبت آگئی ہے لیکن دوسری طرف انہی کے حکم سے ہمارے ووٹوں سے منتخب ارکانِ اسمبلی کواب سالانہ 20کی جگہ30فری ہوائی جہازکی ٹکٹیں ملا کریں گی اورعوام کواس مدمیں سالانہ ساڑھے بارہ ہزاراضافی ٹیکس دیناپڑے گا۔یہ وہ تمام افرادہیں جنہوں نے ووٹ سے قبل اپنے اپنے حلقے میں عوام کواس مشکل سے نکالنے کی قسمیں کھائیں تھیں۔
ایک طرف عوام کاجینامشکل کردیاگیاہے اوردوسری طرف صدرپاکستان آصف علی زرداری کے پروٹوکول گاڑیوں کے قافلے کے بجٹ کوچارگنابڑھاکر 44ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں۔قوم سرپیٹ رہی ہے کہ ان تمام اشرافیہ نے تو بغیرتنخواہ کام کرنے کااعلان کرکے قوم پراحسان کیاتھالیکن دوسری طرف ایوانِ صدرکے باغ کی آرائش کابجٹ دوگنا کرکے6 کروڑروپے کردیاگیاہے۔اکیلے صدرزرداری کی خدمت کے لئے ایوان صدرمیں 85ملازمین کی فوج موجودہے اورروزانہ کی بنیادپردوسوسے زائدافرادکاکھانابھی تیارکیا جاتاہے جبکہ شنیدتویہ بھی ہے کہ اپنے پچھلے دورِ صدارت میں فرانس میں بیٹھے اچانک بھنڈی کھانے کودل للچایاتوفرانس میں بھنڈی کی عدم دستیابی کی بنا پرخصوصی جہازکو اس خدمت پرمامورکردیاگیالیکن قوم کویہ بتایاجارہاہے کہ آئی ایم ایف کی مرضی سے بجٹ بناناہماری مجبوری ہے لیکن کیاآئی ایم ایف کویہ عیاشیاں نظرنہیں آتیں؟قوم کویہ کیوں نہیں بتایاجاتا کہ ملکی معیشت کابھٹہ بٹھانے کے لئے جوبجلی کے کارخانے آئی پی پی لگے ہیں،ان کے مالکان میں کتنے موجودہ اشرافیہ کے افرادشامل ہیں؟قوم جہاں پل پل تڑپ رہی ہے وہاں ان دوخاندانوں اوراشرافیہ کی شہہ خرچیوں میں دن بدن اضافہ ہورہاہے جس سے خاکم بدہن ملک کے ڈوب رہاہے!
غیرملکی قرضوں کابوجھ اس قدربڑھ گیاہے کہ صرف ان کے سودکی ادائیگی کے لئے قرض جیسی لعنت کاسہارالیناپڑ رہاہے اورملک کے وزیراعظم قوم کویہ نویدسنارہے ہیں کہ اگرہم نے اب بھی آئی ایم ایف سے نجات حاصل نہ کی تو ہمارے لئے شرم سے ڈوب مرنے کامقام ہے۔آپ کوپتہ ہے کہ شرم کس احساس کانام ہے؟یہ تمام قرضے آپ نے لئے ہیں جس سے عوام کاکوئی تعلق نہیں۔وہ وقت بھی جلدآنے والاہے کہ مغرب کے بینکوں میں ملک سے لوٹی ہوئی تمام رقم کوضبط کرکے یہ ملکی قرض اداکیاجائے گا!
آپ سب آبادرہیں،خوشحال رہیں،دلشادر ہیں، ۔سب کوچلے جاناہے یہاں سے،کسی کوبھی نہیں رہنا،بس نام رہے گامیرے رب کا۔
یہ میں تونہیں کہہ رہاناں،بابااقبال کہہ رہے ہیں!
عجب واعظ کی دیں داری ہے یارب
عداوت ہے اسے سارے جہاں سے
کوئی اب تک نہ یہ سمجھاکہ انساں
کہاں جاتا ہے، آتاہے کہاں سے
وہیں سے رات کو ظلمت ملی ہے
چمک تارے نے پائی ہے جہاں سے
ہم اپنی درد مندی کا فسانہ
سنا کرتے ہیں اپنے رازداں سے
بڑی باریک ہیں واعظ کی چالیں
لرز جاتا ہے آواز اذاں سے