تحریک انصاف کو عدالتوں سے اتنا بڑا ریلیف ملنے کی توقع نہیں تھی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کی بریت یقینی طور پر اس بات کی غماز ہے کہ پاکستان میں تمام تر دبائو اور منفی ہتھکنڈوں کے باوجود معزز جج صاحبان نے انصاف کے علم کو گرنے نہیں دیا۔ عدالت عظمیٰ میں مخصوص نشستوں کے مقدمہ میں تو صحیح معنوں میں انصاف ہوتا دکھائی دیا۔ عدالت عظمیٰ کے معزز جج قانونی موشگافیوں میں الجھنے کی بجائے معاملے کی تہہ تک گئے اور انہوں نے سمجھا کہ الیکشن پراسس میں تحریک انصاف کے امیدواروں کے ساتھ سخت ناانصافی ہوئی، عدالت عظمیٰ کے فیصلے نے درحقیقت اس ناانصافی کا ازالہ انصاف دے کر کیا۔ یہ کون نہیں جانتا کہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے اراکین کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس کے باوجود انہیں آزاد امیدوار ڈکلیئر کیا اور یوں الیکشن جیتنے کے بعد وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے پر مجبور ہوئے کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ آزاد رہتے تو انہیں جبر کے تحت پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ (ن) یا مسلم لیگ (ق) و استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا جاتا، بعض امیدواروں کے ساتھ ایسا ہوا۔ وہ اغوا کئے گئے اور ان کا سیاسی کیرئیر داغدار کر دیا گیا۔ سرائے عالمگیر سے جیتنے والے چوہدری الیاس اغوا ہوئے، اس دوران انہیں سیاسی وابستگی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ سنی اتحاد کونسل کا حصہ بننا اگرچہ سیاسی و قانونی اعتبار سے اچھا نہیں تھا، مجھ جیسے کئی لوگ ہوں گے جنہوں نے اس اقدام کی مخالفت کی، میری دلیل یہ تھی کہ اپنی شناخت کون ختم کرتا ہے۔ میں نے پارٹی کے بعض سینئر رہنمائوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ الیکشن سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کریں اور اس پر اصرار کریں کہ انہیں تحریک انصاف کا امیدوار قرار دیا جائے، اس اندیشے کی بابت بھی پٹیشن داخل کی جاسکتی تھی کہ الیکشن کے بعد ہارس ٹریڈنگ کا دروازہ کھل جائے گا لہٰذا اس کا سدباب کیا جائے۔ یہ استدلال وقت کے لحاظ سے اچھا تھا یا برا تھا یہ الگ الگ بحث ہے لیکن پاکستان کے معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریک انصاف کے اراکین کو حفاظت میں رکھنے کا راستہ یہی بچتا تھا کہ انہیں کسی جماعت کا حصہ بنا دیا جائے تاکہ اسمبلیوں میں یہ باہم متحد رہ کر اپنا کردار ادا کر سکیں۔
عدالت عظمیٰ نے اس سارے معاملے کو مدنظر رکھا اور وہی کیا جو انصاف کا تقاضا تھا۔ آج حکومت والے سراپا احتجاج ہیں کہ یہ کیا فیصلہ آگیا ہے، خواجہ آصف جیسے جنہوں نے قانونی پیچیدگیوں کا سہارا لے کر وہی باتیں کی ہیں جو ظاہری طور پر کی جاسکتی ہیں لیکن دراصل اس مقدمہ کا ایک پس منظر تھا جس کو عدالت نے ملحوظ خاطر رکھا۔، یہ انصاف کا تقاضا تھا کہ تحریک انصاف کا مینڈیٹ تحریک انصاف کو ہی ملتا، سنی اتحاد کونسل کو نشستیں دینے کا مطلب تھا کہ ہر کسی سے غلطی در غلطی کا ارتکاب ہوتا چلا جارہا ہے، عدالت عظمیٰ نے غلطی کو مزید بچے دینے سے روکا ہے، جہاں سے غلط کام کی ابتدا ہوئی معزز عدالت کے جج صاحبان نے اس کی اصلاح کی یعنی خشت اول کو درست کیا ورنہ آسمان تک اس دیوار نے ٹیڑھا ہی جانا تھا۔
خشت اول گرہند معمار کج
تا ’’ثریا‘‘ میورد دیوار کج
معمار اگر پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھے تو آسمان کی بلندیوں تک دیوار ٹیڑھی ہی جاتی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس حقیقت کا ادراک کیا اور بنیاد کو ٹھیک کیا۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ یہ فیصلہ ہائی کورٹس اور لوئر کورٹس کے لئے بھی ایک نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ جج صاحبان محض حقائق کی بنیاد پر فیصلے نہ دیں بلکہ سچ کی کھوج کریں اور سچائی کو سامنے لے کر آئیں۔ سچائی سامنے آئے گی تو انصاف پر مبنی ججمنٹس دیکھنے کو ملیں گی ورنہ روٹیں کی عدالتی کارروائی کے نتیجے میں عدالتیں فیصلے تو کرتی رہیں گی لیکن انصاف نہیں ہوگا۔
ایک واقعہ مشہور ہے کہ جسٹس ایم آر کیانی کی عدالت میں فیصلے کے وقت جب ایک خاتون سراپا احتجاج بنی اور اس نے کہا کہ ’’جج صاحب یہ ہے آپ کا انصاف‘‘ تو عدلیہ کے بہترین ججوں میں سے گوہر نایاب سمجھا جانے والا جج اپنے اندر کا کرب زبان پر لے آیا۔ جسٹس کیانی کا لہو دکھ سے بھر گیا جب انہوں نے خاتون سے کہا ’’آپ کیا سمجھتی ہیں کہ ان عدالتوں میں ’’انصاف‘‘ ہوتا ہے؟ جج صاحب نے کہا۔ یہاں ’’انصاف‘‘ نہیں ہوتا۔ یہاں تو ’’فیصلے‘‘ ہوتے ہیں۔ یہ ہے ہمارا عدالتی نظام اور اس کی حقیقت۔ اس نظام عدل کو ان لوگوں نے یرغمال بنا رکھا ہے جو حقائق کو مسخ کرنا جانتے ہیں، چنانچہ وہ بوقت ضرورت حقائق کو اپنے حق میں توڑ مروڑ لیتے ہیں اور مظلوم حسرت کی تصویر بن جاتا ہے۔
آج اگر عدالت عظمیٰ مخصوص نشستوں کے مقدمہ میں ’’فیصلہ‘‘ سناتی تو یقینی طور پر اس کا فیصلہ کچھ اور ہوتا لیکن سلام ہے معزز جج صاحبان پر جنہوں نے معاملہ کو سچ کی کسوٹی پر رکھا اور انصاف کیا۔ انصاف پر مبنی اس فیصلے کے بعد پاکستانیوں میں امید کی ایک نئی کرن پھوٹی ہے۔ ہماری عدالتیں الحمداللہ آزاد ہیں، جبر کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود انہوں نے جیوڈیشل ایکٹوازم کا وہ راستہ نہیں چھوڑا جس کی شروعات چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے 90کی دہائی میں کی۔ حاکم وقت اپنی مرضی کا انصاف چاہتا ہے اور وہ ایسا ہر قیمت پر چاہتا ہے لیکن آفرین ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کے ان معزز ججوں پر جنہوں نے حاکم وقت کی خواہشات کے آگے جھکنے سے انکار کیا۔ پاکستان میں جیوڈیشل ایکٹوازم کی بھی اپنی ایک تاریک ہے، وہ زمانے لد گئے جب وقت کے فرعون ججوں کو اپنی مرضی کے آگے جھکنے پر مجبور کر دیا کرتے تھے، ہمارے ججوں نے ایمرجنسی لگانے والے جنرل مشرف کے پی سی او کا حلف لینے سے انکار کیا اور جہاں ایک تاریخ رقم کی وہیں ایک ایسی تحریک بھی برپا کی جس نے وطن عزیز کی مقدس سرزمین سے آمریت کا خاتمہ کیا۔ آج بھی جج کھڑے ہیں اور ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ تمام تر دبائو کے باوجود حاکم وقت کی خواہشات کی مزاحمت کرنے والے ان ججوں کو سرخ سلام۔