Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

آخر زمانہ کے فتنوں سے بچنے کا اور ہر پریشانی کا حل اور ضمانت ، استغفار

آج انسانیت نئے نئے فتنوں اور آزمائشوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ان فتنوں سے بچنے کے لیے قرآن و سنت میں کئی اہم ہدایات موجود ہیں، جن میں سے ایک اہم اور مئوثر طریقہ ’’کثرت استغفار‘‘ ہے۔
استغفار، یعنی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا، اسلامی تعلیمات میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’فقلت استغفِروا ربکم اِنہ کان غفارا ‘‘ (سورۃ نوح: 10)
’’پھر میں نے کہا: اپنے رب سے بخشش مانگو، وہ بڑا بخشنے والا ہے۔‘‘
استغفار نہ صرف گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے بلکہ یہ انسان کو آنے والے فتنوں سے بھی بچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا:
’’وما کان اللہ لِیعذِبہم وانت فِیہِم وما کان اللہ معذِبہم وہم یستغفِرون‘‘(سورۃ النفال: 33)
’’اور اللہ ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے جبکہ آپ(ﷺ) ان کے درمیان ہیں اور اللہ ایسا نہیں کہ انہیں عذاب دے جبکہ وہ حالت استغفار میں ہوں۔
قرآن کریم کی چند مزید آیات اور احادیث پیش ہیں جو استغفار کی اہمیت اور فضیلت پر روشنی ڈالتی ہیں۔سورۃ ہود، آیت 52)
’’یا قومِ استغفِروا ربکم ثم توبوا ِلیہِ یرسِلِ السماۃ علیکم مِدرارا ویزِدکم قوۃ اِلی قوتِکم ولا تتولوا مجرِمِین‘‘
’’اے میری قوم، اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو، وہ تم پر آسمان سے بارش برسائے گا اور تمہاری قوت میں اضافہ کرے گا، اور مجرم بن کر روگردانی نہ کرو۔‘‘(سورۃ آل عمران، آیت 135)
’’والذِین ِذا فعلوا فاحِشۃ و ظلموا انفسہم ذکروا اللہ فاستغفروا لِذنوبِہِم ومن یغفِر الذنوب اِلا اللہ ولم یصِروا علی ما فعلوا وہم یعلمون‘‘
’’اور وہ لوگ کہ جب کوئی فحش کام کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر لیتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون گناہ بخش سکتا ہے؟ اور وہ جانتے بوجھتے ہوئے اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے۔‘‘(سورۃ النساء ، آیت 110)
’’ومن یعمل سوء ا و یظلِم نفسہ ثم یستغفِرِ اللہ یجِدِ اللہ غفوراً رحِیما‘‘
’’اور جو شخص کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ کو بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’اللہ کی قسم! میں دن میں ستر بار سے زیادہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! جب تک تم مجھے پکارتے رہو گے اور مجھ سے امید رکھو گے، میں تمہارے گناہوں کو معاف کرتا رہوں گا، اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ (ترمذی)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’جو شخص استغفار کو لازم پکڑ لے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘ (ابو دائود)
استغفار نہ صرف گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، برکتوں اور فتنوں سے نجات کا بھی باعث بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کثرت سے استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائے۔ آمین
استغفار دل کو صاف کرتا ہے اور روحانی بیماریوں سے بچاتا ہے۔
استغفار کے ذریعے اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔
استغفار کے ذریعے مشکلات حل ہوتی ہیں اور انسان کو سکون ملتا ہے۔پریشانیاں کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔
استغفار کرنے سے رزق میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔
استغفار کرنے والے انسان کو امن اور سکون حاصل ہوتا ہے۔
ہر نماز کے بعد کم از کم تین مرتبہ ’’استغفر اللہ‘‘کہنا۔
سونے سے پہلے چند منٹ کے لیے استغفار کرنا۔
اپنی روزانہ کی دعا میں استغفار کو شامل کرنا۔
کثرت استغفار انسان کو نہ صرف گناہوں سے پاک کرتا ہے بلکہ آنے والے فتنوں اور حادثات و مصایب سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کثرت سے استغفار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں آخر زمانہ کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔اور ایمان پر استقامت کے ساتھ ۔
قائم و دائم رکھے۔ آمین یارب۔

یہ بھی پڑھیں